اس آیت کی تفسیر آیت 71 میں تا آیت 73 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
72۔ (خضر نے) کہا: ”میں نے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
شرائط طے ہو گئیں ٭٭
دونوں میں جب شرط طے ہو گئی کہ تو سوال نہ کرنا جب تک میں خود ہی اس کی حکمت تجھ پر ظاہر نہ کروں تو دونوں ایک ساتھ چلے۔ پہلے مفصل روایتیں گزر چکی ہیں کہ کشتی والوں نے انہیں پہچان کر بغیر کرایہ لیے سوار کر لیا تھا۔ جب کشتی چلی اور بیچ سمندر میں پہنچی تو خضر علیہ السلام نے ایک تختہ اکھیڑ ڈالا پھر اسے اوپر سے ہی جوڑ دیا۔ یہ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سے صبر نہ ہو سکا، شرط کو بھول گئے اور جھٹ سے کہنے لگے کہ یہ کیا واہیات ہے؟ [لِتُغْرِقَ] کا لام لام عاقبت ہے، لام تعلیل نہیں ہے، جیسے شاعر کے اس قول میں [لدوا للموت وبنوا للحزاب] یعنی ہر پیدا شدہ جان دار کا انجام موت ہے اور ہر بنائی ہوئی عمارت کا انجام اجڑنا ہے۔ امرا کے معنی منکر اور عجیب کے ہیں۔ یہ سن کر خضر علیہ السلام نے انہیں ان کا وعدہ یاد دلایا کہ تم نے اپنی شرط کا خلاف کیا۔ میں تو تم سے پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ تمہیں ان باتوں کا علم نہیں، تم خاموش رہنا، مجھ سے نہ کچھ کہنا نہ سوال کرنا۔ ان کاموں کی مصلحت و حکمت اللہ مجھے معلوم کراتا ہے اور تم سے یہ چیزیں مخفی ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے معذرت کی کہ اس بھول کو معاف کرو اور مجھ پر سختی نہ کرو، پہلے جو لمبی حدیث مفصل واقعہ کی بیان ہوئی ہے، اس میں ہے کہ یہ پہلا سوال فی الواقع بھول چوک سے ہی تھا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
خضر علیہ السلام نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمْاَقُ٘لْاِنَّكَلَ٘نْتَ٘سْتَطِیْعَمَعِیَصَبْرًا ﴾”کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے“ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال له الخضر: {ألم أقُلْ إنَّك لن تستطيعَ معي صبراً}؛ أي: فوقع كما أخبرتك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔