وَ رَبُّکَ الۡغَفُوۡرُ ذُو الرَّحۡمَۃِ ؕ لَوۡ یُؤَاخِذُہُمۡ بِمَا کَسَبُوۡا لَعَجَّلَ لَہُمُ الۡعَذَابَ ؕ بَلۡ لَّہُمۡ مَّوۡعِدٌ لَّنۡ یَّجِدُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖ مَوۡئِلًا ﴿۵۸﴾
اور تیرا رب نہایت بخشنے والا، خاص رحمت والا ہے، اگر وہ انھیں اس کی وجہ سے پکڑے جو انھوں نے کمایا ہے تو یقینا ان کے لیے جلد عذاب بھیج دے، بلکہ ان کے لیے وعدے کا ایک وقت ہے جس سے بچنے کی وہ ہرگز کوئی پناہ گاہ نہ پائیں گے۔
En
اور تمہارا پروردگار بخشنے والا صاحب رحمت ہے۔ اگر وہ ان کے کرتوتوں پر ان کو پکڑنے لگے تو ان پر جھٹ عذاب بھیج دے۔ مگر ان کے لئے ایک وقت (مقرر کر رکھا) ہے کہ اس کے عذاب سے کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے
En
تیرا پروردگار بہت ہی بخشش واﻻ اور مہربانی واﻻ ہے وه اگر ان کے اعمال کی سزا میں پکڑے تو بےشک انہیں جلد ہی عذاب کردے، بلکہ ان کے لئے ایک وعده کی گھڑی مقرر ہے جس سے وه سرکنے کی ہرگز جگہ نہیں پائیں گے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 58) ➊ {وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۵۶)، سورۂ نجم (۳۲) اور زمر(۵۳)۔
➋ { لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نحل (۶۱) اور فاطر (۴۵)۔
➌ {بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ يَّجِدُوْا …: ”مَوْىِٕلًا “ ”وَأَلَ يَئِلُ اِلٰي مَكَانٍ “} کسی جگہ کی طرف پناہ لینا۔ {” مَوْىِٕلًا “} پناہ کی جگہ، یعنی ان کے عذاب کے وعدے کا ایک وقت ہے، دنیا میں ہو یا آخرت میں۔ جب ان کی گرفت ہو گی تو اس سے بچنے کے لیے وہ کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے۔ تو اے کفار قریش! تمھیں بھی ڈرتے رہنا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ آخر کار تمھارا بھی وہی حشر ہو جو ان بستیوں کا ہوا۔
➋ { لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نحل (۶۱) اور فاطر (۴۵)۔
➌ {بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ يَّجِدُوْا …: ”مَوْىِٕلًا “ ”وَأَلَ يَئِلُ اِلٰي مَكَانٍ “} کسی جگہ کی طرف پناہ لینا۔ {” مَوْىِٕلًا “} پناہ کی جگہ، یعنی ان کے عذاب کے وعدے کا ایک وقت ہے، دنیا میں ہو یا آخرت میں۔ جب ان کی گرفت ہو گی تو اس سے بچنے کے لیے وہ کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے۔ تو اے کفار قریش! تمھیں بھی ڈرتے رہنا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ آخر کار تمھارا بھی وہی حشر ہو جو ان بستیوں کا ہوا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
58۔ 1 یعنی یہ تو رب غفور کی رحمت ہے کہ وہ گناہ پر فوراً گرفت نہیں فرماتا، بلکہ مہلت دیتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پاداش عمل میں ہر شخص ہی عذاب الٰہی کے شکنجے میں کسا ہوتا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ جب مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے اور ہلاکت کا وقت آجاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ مقرر کئے ہوتا ہے تو پھر فرار کا کوئی راستہ اور بچاؤ کی کوئی سبیل ان کے لئے نہیں رہتی۔ موئل۔ کے معنی ہیں جائے پناہ راہ فرار۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
58۔ اور آپ کا پروردگار بہت بخشنے والا اور رحمت والا ہے ورنہ جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں اگر ان پر گرفت کرتا تو جلد ہی ان پر عذاب لے آتا۔ بلکہ ان کے لئے وعدہ کا وقت [56] مقرر ہے جس سے یہ لوگ کوئی پناہ کی جگہ نہ پا سکیں گے۔
[56] اللہ کا قانون امھال و تدریج ہر بات میں حتی کہ عذاب میں بھی جاری وساری ہے:۔
جس طرح اللہ کا قانون امہال و تدریج ہر کام میں جاری وساری ہے۔ رات آتی ہے تو یکدم مکمل تاریکی نہیں چھا جاتی۔ دن آتا ہے تو یکدم تیز دھوپ اور روشنی نہیں ہوتی۔ اسی طرح اس کے عذاب کا قانون ایسا نہیں کہ ادھر کسی نے کوئی جرم کیا تو ادھر فوراً اسے سزا دے دی جائے بلکہ اس معاملہ میں اللہ کا وہی قانون امہال و تدریج کام کرتا ہے اگر اس دوران بھی مجرم اپنے جرم سے باز آجائے تو پھر سزا ٹل جاتی ہے کیونکہ اللہ بخشنے والا بھی ہے اور مہربان بھی اور اگر باز نہ آئے تو عذاب اللہ کے مقرر کردہ قانون کے مطابق اپنے مقررہ وقت پر آئے گا خواہ لوگ اس کے لیے جلدی مچائیں یا نہ مچائیں اور جب وہ وقت آجائے گا تو پھر نہ وہ مؤخر ہو گا اور نہ ہی مجرم اس سے کہیں بچ کے جا سکیں گے۔ علاوہ ازیں سب مجرموں پر عذاب نہیں آیا کرتا۔ صرف ان پر آتا ہے جو حد سے بڑھ جاتے ہیں سب پر اس لیے نہیں آتا کہ یہ دنیا دار الجزاء نہیں ہے بلکہ دار العمل ہے نیز اگر سب پر آتا تو دنیا کبھی آباد ہی نہ رہ سکتی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بدترین شخص کون ہے ؟ ٭٭
فی الحقیقت اس سے بڑھ کر پاپی کون ہے؟ جس کے سامنے اس کے پالنے پوسنے والے کا کلام پڑھا جائے اور وہ اس کی طرف التفات تک نہ کرے، اس سے مانوس نہ ہو بلکہ منہ پھیر کر انکار کر جائے اور بدعملیاں اور سیاہ کاریاں اس سے پہلے کی ہیں، انہیں بھی فراموش کر جائے۔ اس ڈھٹائی کی سزا یہ ہوتی ہے کہ دلوں پر پردے پڑ جاتے ہیں، پھر قرآن و بیان کا سمجھنا نصیب نہیں ہوتا، کانوں میں گرانی ہو جاتی ہے، بھلی بات کی طرف توجہ نہیں رہتی۔ اب لاکھ دعوت ہدایت دو لیکن راہ یابی مشکل و محال ہے۔ اے نبی تیرا رب بڑا ہی مہربان بہت اعلیٰ رحمت والا ہے، اگر وہ گنہگاروں کی سزا جلدی ہی کر ڈالا کرتا، تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ بچتا، وہ لوگوں کے ظلم سے درگزر کر رہا ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ پکڑے گا ہی نہیں۔ یاد رکھو وہ سخت عذابوں والا ہے، یہ تو اس کا حلم ہے، پردہ پوشی ہے، معافی ہے تاکہ گمراہی والے راہ راست پر آ جائیں، گناہوں والے توبہ کر لیں اور اس کے دامن رحمت کو تھام لیں۔ لیکن جس نے اس حلم سے فائدہ نہ اٹھایا اور اپنی سرکشی پر جما رہا تو اس کی پکڑ کا دن قریب ہے، جو اتنا سخت دن ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے، حمل گر جائیں گے، اس دن کوئی جائے پناہ نہ ہو گی، کوئی چھٹکارے کی صورت نہ ہو گی۔ یہ ہیں تم سے پہلے کی امتیں کہ وہ بھی تمہاری طرح کفر و انکار میں پڑ گئیں اور آخر مٹا دی گئیں۔ ان کی ہلاکت کا مقررہ وقت آ پہنچا اور وہ تباہ برباد ہو گئیں۔ پس اے منکرو! تم بھی ڈرتے رہو، تم اشرف الرسل اعظم ہی کو ستا رہے ہو اور انہیں جھٹلا رہے ہو حالانکہ اگلے کفار سے تم قوت و طاقت میں، سامان و اسباب میں بہت کم ہو۔ میرے عذابوں سے ڈرو، میری باتوں سے نصیحت پکڑو۔