وَ اصۡبِرۡ نَفۡسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ وَ لَا تَعۡدُ عَیۡنٰکَ عَنۡہُمۡ ۚ تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَہٗ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَ کَانَ اَمۡرُہٗ فُرُطًا ﴿۲۸﴾
اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روکے رکھ جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں، اس کا چہرہ چاہتے ہیں اور تیری آنکھیں ان سے آگے نہ بڑھیں کہ تو دنیا کی زندگی کی زینت چاہتا ہو اور اس شخص کا کہنا مت مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام ہمیشہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔
En
اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں۔ ان کے ساتھ صبر کرتے رہو۔ اور تمہاری نگاہیں ان میں (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائشِ زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ۔ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا
En
اور اپنے آپ کو انہیں کے ساتھ رکھا کر جو اپنے پروردگار کو صبح شام پکارتے ہیں اور اسی کے چہرے کے ارادے رکھتے ہیں (رضامندی چاہتے ہیں)، خبردار! تیری نگاہیں ان سے نہ ہٹنے پائیں کہ دنیوی زندگی کے ٹھاٹھ کے ارادے میں لگ جا۔ دیکھ اس کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جس کا کام حد سے گزر چکا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 28){وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ: ” وَ لَا تَعْدُ عَيْنٰكَ “ ”عَدَا يَعْدُوْ“} (ن) سے نہی کا صیغہ ہے، تجاوز نہ کریں تیری آنکھیں۔ یہ وہی حکم ہے جو اس سے پہلے سورۂ انعام (۵۲) میں گزر چکا ہے۔ مراد وہ کمزور مسلمان ہیں جن کے پاس قریش کے چودھریوں کو بیٹھنا گوارا نہ تھا۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ آدمی تھے تو مشرکین نے آپ سے کہا، ان لوگوں کو دور ہٹا دیں کہ یہ لوگ ہم پر جرأت نہ کریں۔ میں تھا، ابن مسعود، قبیلہ ہذیل کا ایک آدمی، بلال اور دو آدمی اور جن کا میں نام نہیں لیتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں آیا جو اللہ نے چاہا کہ آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل میں کوئی بات سوچی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» [الأنعام: ۵۲] ”اور ان لوگوں کو دور نہ ہٹا جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں، اس کا چہرہ چاہتے ہیں۔“ [مسلم، فضائل الصحابۃ، باب في فضل سعد بن أبي وقاص رضی اللہ عنہ: 2413/46] اس آیت میں بھی آپ کو ایسے لوگوں کے ساتھ اپنے آپ کو روک کر رکھنے کا حکم ہے جن میں مذکورہ صفات پائی جاتی ہیں، کیونکہ ان صفات کی وجہ سے وہی اس قابل ہیں کہ آپ ان کے ساتھ رہیں۔ ان کو چھوڑ کر آپ کی نگاہیں آگے مت بڑھیں کہ آپ دنیا کی زندگی کی زینت کا ارادہ رکھتے ہوں اور ایسے لوگوں کی بات مت مانیں جن کے دلوں کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چل رہے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
28۔ 1 یہ وہی حکم ہے جو اس کے قبل سورة الا نعام۔ 52 میں گزر چکا ہے۔ مراد ان سے وہ صحابہ کرام ہیں جو غریب اور کمزور تھے۔ جن کے ساتھ بیٹھنا اشراف قریش کو گوارا نہ تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ ہم چھ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، میرے علاوہ بلال، ابن مسعود، ایک ہذلی اور دو صحابی اور تھے۔ قریش مکہ نے خواہش ظاہر کی کہ ان لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹا دو تاکہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کی بات سنیں، نبی کے دل میں آیا کہ چلو شاید میری بات سننے سے ان کے دلوں کی دنیا بدل جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سختی کے ساتھ ایسا کرنے سے منع فرما دیا (صحیح مسلم) 28۔ 2 یعنی ان کو دور کر کے آپ اصحاب شرف و اہل غنی کو اپنے قریب کرنا چاہتے ہیں۔ 28۔ 3 فرطا، اگر افراط سے ہو تو معنی ہوں گے حد سے متجاوز اور اگر تفریط سے ہو تو معنی ہوں گے کہ ان کا کام تفریط پر مبنی ہے جس کا نتیجہ ضیاع اور ہلاکت ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
28۔ اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ ہی مطمئن رکھئے جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اس کی رضا [28] چاہتے ہیں، آپ کی آنکھیں ان سے ہٹنے نہ پائیں کہ دنیوی زندگی کی زینت چاہنے لگیں۔ نہ ہی آپ ایسے شخص کی باتیں مانئے جس کا دل ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے، وہ اپنی خواہش [29] پر چلتا ہے اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔
[28] غریب اور مخلص مومنوں سے آپ کو وابستہ رہنے کی ہدایت:۔
یہ صبح و شام اللہ کے ذکر میں مشغول رہنے والے اور اللہ کی رضا چاہنے والے لوگ بموجب روایات سیدنا بلال بن رباحؓ، سیدنا صہیب رومیؓ، سیدنا خباب بن الارتؓ، سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ اور سیدنا عمار بن یاسرؓ تھے جو سب کے سب غریب طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان میں سے اکثر سرداران قریش کے غلام یا آزاد کردہ غلام تھے جو اکثر اوقات آپ کی صحبت میں رہا کرتے تھے اب اونچی ناک والے قریشی سرداروں مثلاً عیینہ بن بدر اوراقرع بن حابس وغیرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا کرتے تھے کہ ہر وقت یہ رذیل قسم کے لوگ آپ کے پاس بیٹھے ہوتے ہیں تو ان کی موجودگی میں ہم کیسے ان کے ساتھ آپ کے پاس بیٹھیں۔ ممکن ہے آپ کے دل میں کچھ ایسا خیال آ بھی گیا ہو کہ یہ لوگ تو بہرحال خالص مومن ہیں۔ سرداروں کے آنے پر کچھ دیر انھیں الگ کر دینے سے اگر یہ قریشی سردار میری بات غور سے سن لینے اور ایمان لانے پر تیار ہو جائیں تو کیا حرج ہے؟ خصوصاً اس صورت میں کہ آپ ان قریشی سرداروں کے ایمان لانے پر حریص بھی تھے کہ اس طرح اسلام کو تقویت حاصل ہو گی لیکن اللہ تعالیٰ نے بروقت ہدایت فرما دی کہ ایسا خیال بھی دل میں نہ لائیے اپنا دل انہی غریب اور مخلص مومنوں کے ساتھ وابستہ رکھیے یہی لوگ قیمتی سرمایہ ہیں۔ قریشی سرداروں کے مطالبہ اور ان کی ٹھاٹھ باٹھ کی طرف مت دیکھئے کیونکہ ان کے اس مطالبہ سے ہی یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ ایمان لانے میں کس حد تک مخلص ہیں۔
[29] یعنی جو شخص آخرت میں اللہ کے سامنے جوابدہی پر ایمان ہی نہیں رکھتا وہ تو جدھر اور جس طرح اپنا ذاتی مفاد دیکھے گا فوراً ادھر جھک جائے گا اور جو کچھ اس کا جی چاہے گا وہی کچھ وہ کرے گا اس کا کوئی کام اصول کے تحت یا حد اعتدال تک محدود نہ رہے گا لہٰذا ایسے لوگوں کی بات ہرگز نہ مانیے۔
[29] یعنی جو شخص آخرت میں اللہ کے سامنے جوابدہی پر ایمان ہی نہیں رکھتا وہ تو جدھر اور جس طرح اپنا ذاتی مفاد دیکھے گا فوراً ادھر جھک جائے گا اور جو کچھ اس کا جی چاہے گا وہی کچھ وہ کرے گا اس کا کوئی کام اصول کے تحت یا حد اعتدال تک محدود نہ رہے گا لہٰذا ایسے لوگوں کی بات ہرگز نہ مانیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تلاوت و تبلیغ ٭٭
اللہ کریم اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کلام کی تلاوت اور اس کی تبلیغ کی ہدایت کرتا ہے، اس کے کلمات کو نہ کوئی بدل سکے نہ ٹال سکے، نہ ادھر ادھر کر سکے، سمجھ لے کہ اس کے سوائے جائے پناہ نہیں، اگر تلاوت و تبلیغ چھوڑ دی تو پھر بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدة: 67] اے رسول جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے اس کی تبلیغ کرتا رہ اگر نہ کی تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا لوگوں کے شر سے اللہ تجھے بچائے رکھے گا۔ اور آیت میں ہے «اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَادُّكَ اِلٰى مَعَادٍ قُلْ رَّبِّيْٓ اَعْلَمُ مَنْ جَاءَ بالْهُدٰى وَمَنْ هُوَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» [28- القص: 85] یعنی اللہ تعالیٰ تجھ سے تیرے منصب کی بابت قیامت کے دن ضرور سوال کرے گا۔ اللہ کا ذکر، اس کی تسبیح، حمد، بڑائ اور بزرگی بیان کرنے والوں کے پاس بیٹھا رہا کر جو صبح شام یاد الٰہی میں لگے رہتے ہیں، خواہ وہ فقیر ہوں خواہ امیر، خواہ رزیل ہوں خواہ شریف، خواہ قوی ہوں خواہ ضعیف۔
قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ آپ چھوٹے لوگوں کی مجلس میں نہ بیٹھا کریں جیسے بلال، عمار، صہیب، خباب، ابن مسعود رضی اللہ عنہم وغیرہ۔ اور ہماری مجلسوں میں بیٹھا کریں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی درخواست رد کرنے کا حکم فرمایا جیسے اور آیت میں ہے «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» [6- الانعام: 52] یعنی صبح شام یاد الٰہی کرنے والوں کو اپنی مجلس سے نہ ہٹا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ ہم چھ شخص غریب غرباء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، سعد بن ابی وقاص، ابن مسعود، قبیلہ ہذیل کا ایک شخص، بلال اور دو آدمی اور رضی اللہ عنہم اتنے میں معزز مشرکین آئے اور کہنے لگے انہیں اپنی مجلس میں اس جرات کے ساتھ نہ بیٹھنے دو۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جی میں کیا آیا؟ جو اس وقت آیت «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» اتری۔ [صحیح مسلم:2413]
مسند احمد میں ہے کہ ایک واعظ قصہ گوئی کر رہا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، وہ خاموش ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بیان کئے چلے جاؤ۔ میں تو صبح کی نماز سے لے کر آفتاب کے نکلنے تک اسی مجلس میں بیٹھا رہوں، تو اپنے لئے چار غلام آزاد کرنے سے بہتر سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد:261/5:ضعیف] اور حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں ایسی مجلس میں بیٹھ جاؤں، یہ مجھے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ [مسند احمد:474/3:ضعیف]۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ ذکر اللہ کرنے والوں کے ساتھ صبح کی نماز سے سورج نکلنے تک بیٹھ جانا مجھے تو تمام دنیا سے زیادہ پیارا ہے، اور نماز عصر کے بعد سے سورج کے غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کرنا مجھے آٹھ غلاموں کے آزاد کرنے سے زیادہ پیارا ہے، گو وہ غلام اولاد اسماعیل سے گراں قدر اور قیمتی کیوں نہ ہوں، گو ان میں سے ایک ایک کی دیت بارہ بارہ ہزار کی ہو تو مجموعی قیمت چھیانوے ہزار کی ہوئی۔ بعض لوگ چار غلام بتاتے ہیں لیکن انس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، واللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ غلام فرمائے ہیں۔ [مسند طیالسی،2104:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ ایک واعظ قصہ گوئی کر رہا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، وہ خاموش ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بیان کئے چلے جاؤ۔ میں تو صبح کی نماز سے لے کر آفتاب کے نکلنے تک اسی مجلس میں بیٹھا رہوں، تو اپنے لئے چار غلام آزاد کرنے سے بہتر سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد:261/5:ضعیف] اور حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں ایسی مجلس میں بیٹھ جاؤں، یہ مجھے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ [مسند احمد:474/3:ضعیف]۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ ذکر اللہ کرنے والوں کے ساتھ صبح کی نماز سے سورج نکلنے تک بیٹھ جانا مجھے تو تمام دنیا سے زیادہ پیارا ہے، اور نماز عصر کے بعد سے سورج کے غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کرنا مجھے آٹھ غلاموں کے آزاد کرنے سے زیادہ پیارا ہے، گو وہ غلام اولاد اسماعیل سے گراں قدر اور قیمتی کیوں نہ ہوں، گو ان میں سے ایک ایک کی دیت بارہ بارہ ہزار کی ہو تو مجموعی قیمت چھیانوے ہزار کی ہوئی۔ بعض لوگ چار غلام بتاتے ہیں لیکن انس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، واللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ غلام فرمائے ہیں۔ [مسند طیالسی،2104:ضعیف]
بزار میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے ایک صاحب سورۃ الکہف کی قرأت کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر خاموش ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی ان لوگوں کی مجلس ہے جہاں اپنے نفس کو روک کر رکھنے کا مجھے حکم الٰہی ہوا ہے۔ [مجمع الزوائد،167/7:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ یا تو سورۃ الحج کی وہ تلاوت کر رہے تھے یا سورۃ الکہف کی۔ [مسند بزار،2636:ضعیف]
مسند احمد میں ہے فرماتے ہیں ذکر اللہ کے لیے جو مجلس جمع ہو، نیت بھی ان کی بخیر ہو تو آسمان سے منادی ندا کرتا ہے کہ اٹھو اللہ نے تمہیں بخش دیا، تمہاری برائیاں بھلائیوں سے بدل گئیں۔ [مسند احمد:142/3:صحیح لغیرہ] طبرانی میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو آپ اپنے کسی گھر میں تھے، اسی وقت ایسے لوگوں کی تلاش میں نکلے۔ کچھ لوگوں کو ذکر اللہ میں پایا، جن کے بال بکھرے ہوئے تھے، کھالیں خشک تھیں، بمشکل ایک ایک کپڑا انہیں حاصل تھا، فوراً ان کی مجلس میں بیٹھ گئے اور کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسے لوگ رکھے ہیں، جن کے ساتھ بیٹھنے کا مجھے حکم ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23017:ضعیف] پھر فرماتا ہے ان سے تیری آنکھیں تجاوز نہ کریں، ان یاد اللہ کرنے والوں کو چھوڑ کر مالداروں کی تلاش میں نہ لگ جانا جو دین سے برگشتہ ہیں، جو عبادت سے دور ہیں، جن کی برائیاں بڑھ گئی ہیں، جن کے اعمال حماقت کے ہیں، تو ان کی پیروی نہ کرنا، ان کے طریقے کو پسند نہ کرنا، ان پر رشک بھری نگاہیں نہ ڈالنا، ان کی نعمتیں للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھنا۔ جیسے فرمان ہے «وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [20- طه: 131]، ہم نے انہیں جو دنیوی عیش و عشرت دے رکھی ہے یہ صرف ان کی آزمائش کے لیے ہے۔ تو للچائی ہوئی نگاہوں سے انہیں نہ دیکھنا، دراصل تیرے رب کے پاس کی روزی بہتر اور بہت باقی ہے۔
مسند احمد میں ہے فرماتے ہیں ذکر اللہ کے لیے جو مجلس جمع ہو، نیت بھی ان کی بخیر ہو تو آسمان سے منادی ندا کرتا ہے کہ اٹھو اللہ نے تمہیں بخش دیا، تمہاری برائیاں بھلائیوں سے بدل گئیں۔ [مسند احمد:142/3:صحیح لغیرہ] طبرانی میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو آپ اپنے کسی گھر میں تھے، اسی وقت ایسے لوگوں کی تلاش میں نکلے۔ کچھ لوگوں کو ذکر اللہ میں پایا، جن کے بال بکھرے ہوئے تھے، کھالیں خشک تھیں، بمشکل ایک ایک کپڑا انہیں حاصل تھا، فوراً ان کی مجلس میں بیٹھ گئے اور کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسے لوگ رکھے ہیں، جن کے ساتھ بیٹھنے کا مجھے حکم ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23017:ضعیف] پھر فرماتا ہے ان سے تیری آنکھیں تجاوز نہ کریں، ان یاد اللہ کرنے والوں کو چھوڑ کر مالداروں کی تلاش میں نہ لگ جانا جو دین سے برگشتہ ہیں، جو عبادت سے دور ہیں، جن کی برائیاں بڑھ گئی ہیں، جن کے اعمال حماقت کے ہیں، تو ان کی پیروی نہ کرنا، ان کے طریقے کو پسند نہ کرنا، ان پر رشک بھری نگاہیں نہ ڈالنا، ان کی نعمتیں للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھنا۔ جیسے فرمان ہے «وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [20- طه: 131]، ہم نے انہیں جو دنیوی عیش و عشرت دے رکھی ہے یہ صرف ان کی آزمائش کے لیے ہے۔ تو للچائی ہوئی نگاہوں سے انہیں نہ دیکھنا، دراصل تیرے رب کے پاس کی روزی بہتر اور بہت باقی ہے۔