ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 22

سَیَقُوۡلُوۡنَ ثَلٰثَۃٌ رَّابِعُہُمۡ کَلۡبُہُمۡ ۚ وَ یَقُوۡلُوۡنَ خَمۡسَۃٌ سَادِسُہُمۡ کَلۡبُہُمۡ رَجۡمًۢا بِالۡغَیۡبِ ۚ وَ یَقُوۡلُوۡنَ سَبۡعَۃٌ وَّ ثَامِنُہُمۡ کَلۡبُہُمۡ ؕ قُلۡ رَّبِّیۡۤ اَعۡلَمُ بِعِدَّتِہِمۡ مَّا یَعۡلَمُہُمۡ اِلَّا قَلِیۡلٌ ۬۟ فَلَا تُمَارِ فِیۡہِمۡ اِلَّا مِرَآءً ظَاہِرًا ۪ وَّ لَا تَسۡتَفۡتِ فِیۡہِمۡ مِّنۡہُمۡ اَحَدًا ﴿٪۲۲﴾
عنقریب وہ کہیں گے تین ہیں، ان کا چوتھا ان کا کتا ہے اور کہیں گے پانچ ہیں، ان کا چھٹا ان کا کتا ہے، بن دیکھے پتھر پھینکتے ہوئے اور کہیں گے سات ہیں، ان کا آٹھواں ان کا کتا ہے۔ کہہ دے میرا رب ان کی تعداد سے زیادہ واقف ہے، انھیں بہت تھوڑے لوگوں کے سوا کوئی نہیں جانتا، سو تو ان کے بارے میں سرسری بحث کے سوابحث نہ کر اور ان لوگوں میں سے کسی سے ان کے بارے میں فیصلہ طلب نہ کر۔ En
(بعض لوگ) اٹکل پچو کہیں گے کہ وہ تین تھے (اور) چوتھا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتّا تھا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار ہی ان کے شمار سے خوب واقف ہے ان کو جانتے بھی ہیں تو تھوڑے ہی لوگ (جانتے ہیں) تو تم ان (کے معاملے) میں گفتگو نہ کرنا مگر سرسری سی گفتگو۔ اور نہ ان کے بارے میں ان میں کسی سے کچھ دریافت ہی کرنا
En
کچھ لوگ تو کہیں گے کہ اصحاب کہف تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ کچھ کہیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا، غیب کی باتوں میں اٹکل (کے تیر تکے) چلاتے ہیں، کچھ کہیں گے کہ وه سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا ہے۔ آپ کہہ دیجیئے کہ میرا پروردگار ان کی تعداد کو بخوبی جاننے واﻻ ہے، انہیں بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں۔ پس آپ ان کے مقدمے میں صرف سرسری گفتگو کریں اور ان میں سے کسی سے ان کے بارے میں پوچھ گچھ بھی نہ کریں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 22) ➊ {سَيَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ …:} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول قرآن کے وقت اہل کتاب میں اور ان کے ذریعے سے مشرکین عرب میں اصحابِ کہف سے متعلق طرح طرح کی باتیں موجود تھیں، مگر مستند معلومات کسی کے پاس نہ تھیں۔
اصحابِ کہف کے ناموں کے بارے میں کوئی صحیح مرفوع روایت نہیں ہے۔ ناموں کی صراحت غالباً اسرائیلی کتب تواریخ سے ماخوذ ہے اور ان اسماء کے تلفظ میں بھی بہت اختلاف ہے، کسی قول پر بھی اعتماد نہیں ہو سکتا۔ (فتح الباری) پھر بعض لوگ ان ناموں کے خواص اور فائدے بیان کرتے ہیں اور مختلف بیماریوں کے لیے ان کو لکھتے ہیں جو کسی صورت بھی صحیح نہیں، بلکہ اگر یا حرف ندا کے ساتھ لکھے جائیں، یا ان ناموں میں نفع پہنچانے یا نقصان سے بچانے کی تاثیر کا عقیدہ رکھا جائے تو صاف شرک ہے۔ عجیب بات ہے کہ اس بارے میں بعض روایات بھی گھڑ لی گئی ہیں جو ابن عباس اور دیگر اصحاب رضی اللہ عنھم کی طرف منسوب ہیں، مگر ان میں سے کوئی روایت بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما یا سلف صالحین سے ثابت نہیں۔ نواب صدیق حسن خاں رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں ان ناموں کے ساتھ علاج کی تردید کی ہے۔
➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے اہل کتاب یہ تو جانتے تھے کہ کسی زمانے میں یہ واقعہ ہوا ہے، مگر وہ اس کی حقیقت سے بے خبر تھے۔ اس لیے محض اٹکل سے اس کی تفصیلات بیان کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعداد کے متعلق ان کے دو قول ذکر فرما کر ان کی تردید فرمائی، البتہ تیسرے قول کا ذکر فرما کر کہ وہ سات تھے، اس کی تردید نہیں فرمائی، بلکہ فرمایا، کہہ دے میرا رب ان کی تعداد سے متعلق زیادہ جانتا ہے اور انھیں بہت تھوڑے لوگوں کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر اس بحث کے بے فائدہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان لوگوں سے سرسری بحث کے سوا کوئی بحث کریں، نہ ان کے متعلق ان میں سے کسی سے کچھ پوچھیں، کیونکہ ان کے پاس اس کا کچھ علم نہیں۔ اکثر اہل علم نے، جن میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی ہیں، آخری قول کو صحیح قرار دیا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس بات میں مختلف اقوال ہوں اسے بیان کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تمام اقوال ذکر کیے جائیں اور صحیح قول کی طرف اشارہ کر دیا جائے اور بحث کا فائدہ بھی بیان کیا جائے کہ اس سے کیا حاصل ہوا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے تینوں باتیں بیان فرما دیں۔ (قاسمی ملخصاً)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

22۔ 1 یہ کہنے والے اور ان کی مختلف تعداد بتلانے والے عہد رسالت کے مؤمن اور کافر تھے، خصوصاً اہل کتاب جو کتب آسمانی سے آگاہی اور علم کا دعویٰ رکھتے تھے۔ 22۔ 2 یعنی علم ان میں سے کسی کے پاس نہیں، جس طرح بغیر دیکھے کوئی پتھر مارے، یہ بھی اس طرح اٹکل پچو باتیں کر رہے ہیں۔ 22۔ 3 اللہ تعالیٰ نے صرف تین قول بیان فرمائے، پہلے وہ دو قولوں کو رَجْمَا بالْغَیْبِ (ظن وتخمین) کہہ کر ان کو کمزور رائے قرار دیا اور اس تیسرے قول کا ذکر اس کے بعد کیا، جس سے اہل تفسیر نے استدلال کیا ہے کہ یہ انداز اس قول کی صحت کی دلیل ہے اور فی الواقع ان کی اتنی ہی تعداد تھی (ابن کثیر) 22۔ 4 بعض صحابہ سے مروی ہے کہ وہ کہتے تھے میں بھی ان کم لوگوں میں سے ہوں جو یہ جانتے ہیں کہ اصحاب کہف کی تعداد کتنی تھی؟ وہ صرف سات تھے جیسا کہ تیسرے قول میں بتلایا گیا ہے (ابن کثیر) 22۔ 5 یعنی صرف ان ہی باتوں پر اکتفا کریں جن کی اطلاع آپ کو وحی کے ذریعے سے کردی گئی ہے۔ یا تعین عدد میں بحث و تکرار نہ کریں، صرف یہ کہہ دیں کہ اس تعین کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ 22۔ 6 یعنی بحث کرنے والوں سے ان کی بابت کچھ نہ پوچھیں، اس لئے کہ جس سے پوچھا جائے، اس کو پوچھنے والے سے زیادہ علم ہونا چاہئے، جب کہ یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ آپ کے پاس تو پھر بھی یقینی علم کا ایک ذریعہ وحی، موجود ہے، جب کہ دوسروں کے پاس ذہنی تصور کے سوا کچھ بھی نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ نوجوان تین تھے، چوتھا ان کا کتا تھا، اور کچھ یہ کہتے ہیں کہ وہ پانچ تھے، چھٹا ان کا کتا تھا۔ یہ سب بے تکی ہانکتے ہیں۔ اور کچھ کہتے ہیں کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ آپ ان سے کہئے کہ میرا پروردگار ہی ان کی ٹھیک تعداد جانتا ہے جسے چند لوگوں کے سوا دوسرے نہیں جانتے۔ لہذا آپ سرسری سی بات کے علاوہ ان سے بحث میں نہ پڑئیے اور ان کے بارے میں کسی سے کچھ [22] پوچھئے نہیں۔
[22] اصحاب کہف کی تعداد اور بیکار بحثوں سے اجتناب کا حکم:۔
اصحاب کہف سے متعلق ایک بحث یہ بھی چھڑی ہوئی تھی کہ ان کی تعداد کتنی تھی۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں ان قلیل لوگوں میں سے ہوں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ اصحاب کہف کی صحیح تعداد جانتے ہیں اور وہ سات تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تین یا پانچ کہنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد رجماً بالغیب کا لفظ فرمایا ہے مگر سات کہنے والوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا، بعض علماء نے اور بھی کئی وجوہ سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ فی الواقع سات ہی تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس بحث میں دلچسپی لینے سے منع فرما دیا اور یہ بھی فرما دیا کہ یہ بات کسی اور سے بھی پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ بحث اس لحاظ سے بالکل بیکار ہے کہ اس پر کسی عمل کی بنیاد نہیں اٹھتی۔ اسی طرح کی بیکار بحثوں کی ایک مثال یہ ہے کہ جس درخت سے اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم کو منع کیا تھا وہ کون سا درخت تھا؟ یا یہ کہ سیدنا موسیٰؑ کی ماں کا نام کیا تھا؟ یا یہ کہ نماز وسطی کون سی ہے؟ اور اس بات پر بعض مفسرین نے صفحوں کے صفحے سیاہ کر دیئے ہیں جن کا ماحصل یہ نکلتا ہے کہ پانچوں نمازیں ہی مختلف ترتیب سے نماز وسطی بن سکتی ہیں حالانکہ احادیث میں یہ صراحت موجود ہے کہ نماز وسطی سے مراد نماز عصر ہے یا یہ بحث کہ آیا کوا حلال ہے یا حرام؟ حالانکہ اگر یہ حلال ثابت ہو بھی جائے تو کوئی اسے کھانا گوارا نہیں کرے گا۔ اسی طرح کی ایک بحث گوہ کے حلال یا حرام ہونے کی ہے جس پر بحث و تکرار اور مناظرے بھی ہو چکے ہیں حالانکہ عملی زندگی سے ان باتوں کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
معتزلہ اور مسئلہ خلق قرآن:۔
اور جب ایسی باتیں صفات الٰہی کے بارے میں چھڑ جاتی ہیں تو فرقہ بازی تک نوبت جا پہنچتی ہے اور اپنے ایمان تک کو سلامت رکھنا غیر محفوظ ہو جاتا ہے جیسے کچھ مدت پیشتر یہ بحث چھڑ گئی کہ اللہ تعالیٰ تو ہر بات پر قادر ہے تو کیا وہ جھوٹ بھی بول سکتا ہے اور اسی مسئلہ پر دو متحارب فریق بن گئے۔ ایسی ہی ایک بحث یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ جو ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو کیا وہ جادو کا علم بھی جانتا ہے؟ اور اس کی سب سے واضح مثال مسئلہ خلق قرآن ہے جو معتزلہ نے پیدا کیا تھا اور وہ قرآن کو غیر مخلوق سمجھنے والوں کو مشرک قرار دیتے تھے۔ خلفائے بنو عباس بالخصوص مامون الرشید معتزلہ کے عقائد سے شدید متاثر تھا۔ اس نے بہت سے علماء کو محض اس بنا پر قتل کر دیا تھا کہ وہ قرآن کو غیر مخلوق سمجھتے تھے اور امام احمد بن حنبل نے اسی مسئلہ کی خاطر مدتوں قید و بند اور مار پیٹ کی سختیاں جھیلی تھیں۔ بالآخر خلیفہ واثق باللہ کے عہد میں ایک سفید ریش بزرگ خلیفہ کے پاس آیا اور درباری معتزلی عالم ابن ابی دؤاد سے مناظرہ کی اجازت طلب کی۔ خلیفہ نے اجازت دے دی تو اس بزرگ نے ابن ابی داؤد سے کہا: میں ایک سادہ سی بات کہتا ہوں جس بات کی طرف نہ اللہ کے رسول نے دعوت دی اور نہ خلفائے راشدین نے، تم اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہو اور اسے منوانے کے لیے زبردستی سے کام لیتے ہو تو اب دو ہی باتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ان جلیل القدر ہستیوں کو اس مسئلہ کا علم تھا لیکن انہوں نے سکوت اختیار فرمایا تو تمہیں بھی سکوت اختیار کرنا چاہیے۔ اور اگر تم کہتے ہو کہ ان کو علم نہ تھا تو اے گستاخ ابن گستاخ! ذرا سوچ جس بات کا علم نہ اللہ کے رسول کو تھا اور نہ خلفائے راشدین کو ہوا تو تمہیں کیسے اس کا علم ہو گیا؟ ابن ابی دؤاد سے اس کا کچھ جواب نہ بن پڑا۔ واثق باللہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور دوسرے کمرہ میں چلا گیا وہ زبان سے بار بار یہ فقرہ دہراتا تھا کہ جس بات کا علم نہ اللہ کے رسول کو ہوا نہ خلفائے راشدین کو ہوا اس کا علم تجھے کیسے ہو گیا؟ مجلس برخاست کر دی گئی خلیفہ نے اس بزرگ کو عزت و احترام سے رخصت کیا اور اس کے بعد امام احمد بن حنبل پر سختیاں بند کر دیں اور حالات کا پانسا پلٹ گیا اور آہستہ آہستہ مسئلہ خلق قرآن کا فتنہ جس نے بے شمار مسلمانوں کی ناحق جان لی تھی، ختم ہو گیا۔ غور فرمائیے کہ اس مسئلہ کا انسان کی عملی زندگی سے کچھ تعلق ہے؟ بفرض محال اس کے مخلوق ثابت ہو جانے کے بعد اس کے احکام میں کوئی فرق پڑ سکتا ہے؟ بس ایسی بیکار بحثوں میں پڑنے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ایسی بحثوں میں پڑنے کا ہدایت سے کچھ تعلق نہیں ہوتا بلکہ شیطانی راہیں بے شمار کھل جاتی ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اصحاف کہف کی تعداد ٭٭
لوگ اصحاف کہف کی گنتی میں کچھ کا کچھ کہا کرتے تھے۔ تین قسم کے لوگ تھے۔ چوتھی گنتی بیان نہیں فرمائی۔ پہلے دو کے اقوال کو تو ضعیف کر دیا کہ یہ اٹکل کے تکے ہیں، بے نشانے کے پتھر ہیں کہ اگر کہیں لگ جائیں تو کمال نہیں، نہ لگیں تو زوال نہیں۔ ہاں تیسرا قول بیان فرما کر سکوت اختیار فرمایا تردید نہیں کی۔ یعنی سات وہ آٹھواں ان کا کتا۔ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی بات صحیح اور واقع میں یونہی ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ایسے موقع پر بہتر یہی ہے کہ علم اللہ کی طرف اسے لوٹا دیا جائے۔ ایسی باتوں میں کوئی صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے غور و خوض کرنا عبث ہے۔ جس بات کا علم ہو جائے، منہ سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔
اس گنتی کا صحیح علم بہت کم لوگوں کو ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں انہیں میں سے ہوں، میں جانتا ہوں وہ سات تھے۔ حضرت عطا خراسانی رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور یہی ہم نے پہلے لکھا تھا۔ ان میں سے بعض تو بہت ہی کم عمر تھے۔ عنفوان شباب میں تھے۔ یہ لوگ دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے تھے، روتے رہتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے رہتے تھے۔ مروی ہے کہ یہ نو تھے۔ ان میں سے جو سب سے بڑے تھے ان کا نام مکسلمین تھا۔ اسی نے بادشاہ سے باتیں کی تھیں اور اسے اللہ واحد کی عبادت کی دعوت دی تھی۔ باقی کے نام یہ ہیں فحستلمین، تملیخ، مطونس، کشطونس، بیرونس، دنیموس، بطونس اور قابوس۔ ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی صحیح روایت یہی ہے کہ یہ سات شخص تھے آیت کے ظاہری الفاظ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔
شعیب جبائی کہتے ہیں ان کے کتے کا نام حمران تھا لیکن ان ناموں کی صحت میں نظر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ان میں کی بہت سی چیزیں اہل کتاب سے لی ہوئی ہیں۔ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرمایا کہ آپ ان کے بارے میں زیادہ بحث مباحثہ نہ کریں۔ یہ ایک نہایت ہی ہلکا کام ہے جس میں کوئی بڑا فائدہ نہیں اور نہ ان کے بارے میں کسی سے دریافت کیجئے، کیونکہ عموماً وہ اپنے دل سے جوڑ کر کہتے ہیں، کوئی صحیح اور سچی دلیل ان کے ہاتھوں میں نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کے سامنے بیان فرمایا ہے، یہ جھوٹ سے پاک ہے، شک شبہ سے دور ہے، قابل ایمان و یقین ہے، بس یہی حق ہے اور سب سے مقدم ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں اہل کتاب کے اختلاف کا ذکر فرماتا ہے ان کا اختلاف محض اٹکل پچو اور بے تکی باتیں تھیں۔ انھوں نے بغیر کسی علم کے یہ باتیں گھڑ لی تھیں۔ ان کی تعداد کے متعلق اہل کتاب کے تین اقوال تھے:
(۱) ان میں سے بعض کا خیال تھا کہ اصحاب کہف تین آدمی تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔
(۲) بعض کی رائے تھی کہ وہ پانچ آدمی تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا… یہ دو قول ہیں جن کو ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو ﴿ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ان دونوں اقوال کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔
(۳) بعض کہتے ہیں کہ وہ تعداد میں سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا اور یہی قرین صواب ہے۔ (واللہ اعلم) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے دو اقوال کا ابطال کیا ہے مگر اس قول کا ابطال نہیں کیا جو اس کی صحت کی دلیل ہے۔
تاہم یہ ایسا اختلاف ہے جس کے تحت کوئی فائدہ نہیں، نہ ان کے عدد کی معرفت سے لوگوں کو کوئی دینی یا دنیاوی مصلحت حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُ٘لْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌکہہ دیجیے! میرا رب ہی خوب جانتا ہے ان کی تعداد کو، تھوڑے لوگ ہی ان کا علم رکھتے ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو صواب تک پہنچ گئے اور انھیں اپنی اصابت کا علم بھی ہو گیا۔ ﴿ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ لہٰذا ان کے بارے میں جھگڑا نہ کیجیے ﴿ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا مگر سرسری گفتگو یعنی ایسی بحث جو علم و یقین پر مبنی ہو اس میں فائدہ بھی ہو۔ رہی وہ بحث اور مجادلہ جو جہالت اور اٹکل پچو دلائل پر مبنی ہو یا اس بحث میں کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو یا مدمقابل عناد رکھتا ہو یا زیربحث مسئلہ کی کوئی اہمیت نہ ہو، اس کی معرفت سے کوئی دینی فائدہ حاصل نہ ہوتا ہو، مثلاً:اصحاب کہف کی تعداد وغیرہ… تو اس قسم کے امور میں کثرت سے بحث مباحثہ کرنا تضییع اوقات ہے اور یہ بحث مباحثہ باہمی مودت و محبت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ﴿ وَّلَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ اور نہ پوچھیے ان کے بارے میں یعنی اصحاب کہف کے بارے میں ﴿ مِّؔنْهُمْ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اَحَدًا کسی سے بھی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا کلام محض اندازوں اور وہم و گمان پر مبنی ہے جو حق کے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جو فتویٰ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس سے استفتاء نہ کیا جائے، خواہ اس کی وجہ یہ ہو کہ جس امر کے بارے میں فتویٰ پوچھا جا رہا ہے وہ اس میں کوتاہ علم ہے یا اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ بولتے وقت اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ وہ کیا بول رہا ہے اور وہ ورع سے بھی خالی ہے جو اسے لایعنی کلام سے روک دے۔ جب اس قسم کے امور میں استفتاء ممنوع ہے تو فتویٰ دینا تو بدرجہ اولی ممنوع ہے۔
اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ انسان کو بسا اوقات کسی ایک امر میں استفتاء کرنے سے روکا گیا مگر کسی دوسرے معاملے میں استفتاء کی اجازت ہوتی ہے۔ پس وہ ایسے شخص سے فتویٰ طلب کرے جو فتویٰ دینے کا اہل ہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فتویٰ پوچھنے سے علی الاطلاق منع نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے صرف اصحاب کہف کے قصے میں اور اس قسم کے دیگر واقعات میں فتویٰ پوچھنے سے روکا ہے۔(صحیح البخاري، کتاب الجنائز، باب مایکرہ من اتخاذ… الخ، حدیث: 1330)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن اختلاف أهل الكتاب في عدَّة أصحاب الكهف اختلافاً صادراً عن رجمهم بالغيب وتقوُّلهم بما لا يعلمون، وأنَّهم فيهم على ثلاثة أقوال: منهم من يقولُ: {ثلاثةٌ رابُعهم كلبهم}، ومنهم من يقول: {خمسةٌ سادسُهم كلبُهم}، وهذان القولان ذكر الله بعدهما أنَّ هذا رجمٌ منهم بالغيب، فدلَّ على بطلانهما، ومنهم من يقول: {سبعةٌ وثامِنُهم كلبُهم}، وهذا ـ والله أعلم ـ هو الصوابُ؛ لأنَّ الله أبطل الأوَّلَيْن ولم يبطِلْه، فدلَّ على صحَّته، وهذا من الاختلاف الذي لا فائدة تحته، ولا يحصُلُ بمعرفة عددهم مصلحةٌ للناس دينيَّة ولا دنيويَّة، ولهذا قال تعالى: {قل ربِّي أعلمُ بعِدَّتِهم ما يعلمُهُم إلاَّ قليلٌ}: وهم الذين أصابوا الصوابَ وعلموا إصابتهم. {فلا تمارِ}: تجادل وتُحاج {فيهم إلاَّ مراء ظاهرا}؛ أي: مبنياً على العلم واليقين، ويكون أيضاً فيه فائدةٌ، وأما المماراة المبنيَّة على الجهل والرجم بالغيب أو التي لا فائدةَ فيها: إما أنْ يكونَ الخصمُ معانداً، أو تكون المسألةُ لا أهميَّة فيها ولا تحصُلُ فائدةٌ دينيَّةٌ بمعرفتها؛ كعدد أصحاب الكهف ونحو ذلك؛ فإنَّ في كثرة المناقشات فيها والبحوث المتسلسلة تضييعاً للزَّمان وتأثيراً في مودَّة القلوب بغير فائدة. {ولا تَسْتَفْتِ فيهم}؛ أي: في شأن أهل الكهف {منهم}؛ أي: من أهل الكتاب، {أحداً}: وذلك لأنَّ مبنى كلامهم فيهم على الرجم بالغيب والظنِّ الذي لا يُغني من الحقِّ شيئاً؛ ففيها دليلٌ على المنع من استفتاء مَنْ لا يَصْلُحُ للفتوى: إما لقصوره في الأمر المستفتى فيه، أو لكونه لا يبالي بما تكلَّم به، وليس عنده ورعٌ يحجُزُه، وإذا نُهي عن استفتاءِ هذا الجنس؛ فنهيُهُ هو عن الفتوى من باب أولى وأحرى.

وفي الآية أيضاً دليلٌ على أن الشخص قد يكون منهيًّا عن استفتائه في شيء دون آخر، فيُسْتَفْتى فيما هو أهلٌ له بخلاف غيره؛ لأنَّ الله لم يَنْهَ عن استفتائهم مطلقاً، إنَّما نهى عن استفتائهم في قصَّةِ أصحاب الكهف وما أشبهها.