تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اصحابِ کہف کے ناموں کے بارے میں کوئی صحیح مرفوع روایت نہیں ہے۔ ناموں کی صراحت غالباً اسرائیلی کتب تواریخ سے ماخوذ ہے اور ان اسماء کے تلفظ میں بھی بہت اختلاف ہے، کسی قول پر بھی اعتماد نہیں ہو سکتا۔ (فتح الباری) پھر بعض لوگ ان ناموں کے خواص اور فائدے بیان کرتے ہیں اور مختلف بیماریوں کے لیے ان کو لکھتے ہیں جو کسی صورت بھی صحیح نہیں، بلکہ اگر ”یا“ حرف ندا کے ساتھ لکھے جائیں، یا ان ناموں میں نفع پہنچانے یا نقصان سے بچانے کی تاثیر کا عقیدہ رکھا جائے تو صاف شرک ہے۔ عجیب بات ہے کہ اس بارے میں بعض روایات بھی گھڑ لی گئی ہیں جو ابن عباس اور دیگر اصحاب رضی اللہ عنھم کی طرف منسوب ہیں، مگر ان میں سے کوئی روایت بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما یا سلف صالحین سے ثابت نہیں۔ نواب صدیق حسن خاں رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں ان ناموں کے ساتھ علاج کی تردید کی ہے۔
➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے اہل کتاب یہ تو جانتے تھے کہ کسی زمانے میں یہ واقعہ ہوا ہے، مگر وہ اس کی حقیقت سے بے خبر تھے۔ اس لیے محض اٹکل سے اس کی تفصیلات بیان کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعداد کے متعلق ان کے دو قول ذکر فرما کر ان کی تردید فرمائی، البتہ تیسرے قول کا ذکر فرما کر کہ وہ سات تھے، اس کی تردید نہیں فرمائی، بلکہ فرمایا، کہہ دے میرا رب ان کی تعداد سے متعلق زیادہ جانتا ہے اور انھیں بہت تھوڑے لوگوں کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر اس بحث کے بے فائدہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان لوگوں سے سرسری بحث کے سوا کوئی بحث کریں، نہ ان کے متعلق ان میں سے کسی سے کچھ پوچھیں، کیونکہ ان کے پاس اس کا کچھ علم نہیں۔ اکثر اہل علم نے، جن میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی ہیں، آخری قول کو صحیح قرار دیا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس بات میں مختلف اقوال ہوں اسے بیان کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تمام اقوال ذکر کیے جائیں اور صحیح قول کی طرف اشارہ کر دیا جائے اور بحث کا فائدہ بھی بیان کیا جائے کہ اس سے کیا حاصل ہوا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے تینوں باتیں بیان فرما دیں۔ (قاسمی ملخصاً)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
شعیب جبائی کہتے ہیں ان کے کتے کا نام حمران تھا لیکن ان ناموں کی صحت میں نظر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ان میں کی بہت سی چیزیں اہل کتاب سے لی ہوئی ہیں۔ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرمایا کہ آپ ان کے بارے میں زیادہ بحث مباحثہ نہ کریں۔ یہ ایک نہایت ہی ہلکا کام ہے جس میں کوئی بڑا فائدہ نہیں اور نہ ان کے بارے میں کسی سے دریافت کیجئے، کیونکہ عموماً وہ اپنے دل سے جوڑ کر کہتے ہیں، کوئی صحیح اور سچی دلیل ان کے ہاتھوں میں نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کے سامنے بیان فرمایا ہے، یہ جھوٹ سے پاک ہے، شک شبہ سے دور ہے، قابل ایمان و یقین ہے، بس یہی حق ہے اور سب سے مقدم ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن اختلاف أهل الكتاب في عدَّة أصحاب الكهف اختلافاً صادراً عن رجمهم بالغيب وتقوُّلهم بما لا يعلمون، وأنَّهم فيهم على ثلاثة أقوال: منهم من يقولُ: {ثلاثةٌ رابُعهم كلبهم}، ومنهم من يقول: {خمسةٌ سادسُهم كلبُهم}، وهذان القولان ذكر الله بعدهما أنَّ هذا رجمٌ منهم بالغيب، فدلَّ على بطلانهما، ومنهم من يقول: {سبعةٌ وثامِنُهم كلبُهم}، وهذا ـ والله أعلم ـ هو الصوابُ؛ لأنَّ الله أبطل الأوَّلَيْن ولم يبطِلْه، فدلَّ على صحَّته، وهذا من الاختلاف الذي لا فائدة تحته، ولا يحصُلُ بمعرفة عددهم مصلحةٌ للناس دينيَّة ولا دنيويَّة، ولهذا قال تعالى: {قل ربِّي أعلمُ بعِدَّتِهم ما يعلمُهُم إلاَّ قليلٌ}: وهم الذين أصابوا الصوابَ وعلموا إصابتهم. {فلا تمارِ}: تجادل وتُحاج {فيهم إلاَّ مراء ظاهرا}؛ أي: مبنياً على العلم واليقين، ويكون أيضاً فيه فائدةٌ، وأما المماراة المبنيَّة على الجهل والرجم بالغيب أو التي لا فائدةَ فيها: إما أنْ يكونَ الخصمُ معانداً، أو تكون المسألةُ لا أهميَّة فيها ولا تحصُلُ فائدةٌ دينيَّةٌ بمعرفتها؛ كعدد أصحاب الكهف ونحو ذلك؛ فإنَّ في كثرة المناقشات فيها والبحوث المتسلسلة تضييعاً للزَّمان وتأثيراً في مودَّة القلوب بغير فائدة. {ولا تَسْتَفْتِ فيهم}؛ أي: في شأن أهل الكهف {منهم}؛ أي: من أهل الكتاب، {أحداً}: وذلك لأنَّ مبنى كلامهم فيهم على الرجم بالغيب والظنِّ الذي لا يُغني من الحقِّ شيئاً؛ ففيها دليلٌ على المنع من استفتاء مَنْ لا يَصْلُحُ للفتوى: إما لقصوره في الأمر المستفتى فيه، أو لكونه لا يبالي بما تكلَّم به، وليس عنده ورعٌ يحجُزُه، وإذا نُهي عن استفتاءِ هذا الجنس؛ فنهيُهُ هو عن الفتوى من باب أولى وأحرى.
وفي الآية أيضاً دليلٌ على أن الشخص قد يكون منهيًّا عن استفتائه في شيء دون آخر، فيُسْتَفْتى فيما هو أهلٌ له بخلاف غيره؛ لأنَّ الله لم يَنْهَ عن استفتائهم مطلقاً، إنَّما نهى عن استفتائهم في قصَّةِ أصحاب الكهف وما أشبهها.