تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اس آیت سے کئی ساتھیوں کا مال برابر جمع کرکے کھانے وغیرہ کے لیے اکٹھا خرچ کرنا ثابت ہوتا ہے، خواہ کوئی کم کھاتا ہو یا زیادہ اور یہ آیت اس بات کی بھی دلیل ہے کہ کسی کو اپنا نائب یا وکیل بنایا جا سکتا ہے۔
➌ { لِيَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ …:} یعنی ان پر مطلع ہونے والے شہر کے لوگوں کو یقین آ جائے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
➍ {اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ …:} یعنی ہم نے شہر والوں کو ان پر اس وقت مطلع کیا جب وہ آپس میں اپنے معاملے میں جھگڑ رہے تھے۔ کوئی کہتا تھا کہ مر کر جی اٹھنا برحق ہے، کوئی اس کا انکار کرتا تھا، کوئی کہتا کہ حشر صرف روح کا ہو گا بدن کا نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں اصحابِ کہف کا حال آنکھوں سے دکھا کر یقین دلا دیا کہ قیامت آئے گی اور حشر بدن اور روح دونوں کا ہو گا۔ {”اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ اَمْرَهُمْ “} کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب شہر والے اصحابِ کہف کے بارے میں جھگڑ رہے تھے کہ یہ کون لوگ تھے؟ غار میں کب آئے؟ کتنی دیر سوئے رہے؟ اب ان کے مرنے پر ان کے ساتھ کیا کیا جائے؟ بعض نے کہا، ان پر دیوار بنا کر غار کا منہ بند کر دیں۔ بعض نے کہا، ان پر ایک عمارت ان کی یادگار کے طور پر بنا دیں۔
➎ { رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ:} یعنی اصحابِ کہف اور شہر والوں کے احوال ان کا رب بہتر جانتا ہے۔
➏ { قَالَ الَّذِيْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ …:} جن لوگوں کے پاس غلبہ و اقتدار تھا وہ کہنے لگے کہ ہم تو ضرور ان پر ایک مسجد بنائیں گے اور اس طرح ان کی یاد گار کو باقی رکھیں گے۔ گزشتہ قوموں میں اسی راستے سے شرک داخل ہوتا رہا اور اب بھی شرک کے سب سے بڑے مراکز انھی قبروں پر تعمیر شدہ عمارتیں مثلاً خانقاہیں وغیرہ یا مسجدیں ہی ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں فرمایا جس میں آپ فوت ہوئے: [لَعَنَ اللّٰهُ الْيَهُوْدَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ] [بخاری، الجنائز، باب ما یکرہ من اتخاذ المساجد…: ۱۳۳۰۔ مسلم: ۵۲۹] ”اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے، انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔“ جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے فوت ہونے سے پانچ دن پہلے سنا، آپ نے فرمایا: [أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوْا يَتَّخِذُوْنَ قُبُوْرَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيْهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلاَ تَتَّخِذُوا الْقُبُوْرَ مَسَاجِدَ، إِنِّيْ أَنْهَاكُمْ عَنْ ذٰلِكَ] [مسلم، المساجد، باب النہي عن بناء المساجد علی القبور…: ۵۳۲] ”جان لو! جو لوگ تم سے پہلے تھے وہ اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں کو مسجدیں بنا لیتے تھے، سن لو کہ تم قبروں کو مسجدیں نہ بنانا، میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں۔“
ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے والوں کو اللہ کے ہاں سب سے بدتر مخلوق قرار دیا، فرمایا: [فَأُولٰئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ] [بخاري، الصلاۃ، باب ھل تنبش قبور مشرکي الجاھلیۃ …: ۴۲۷۔ مسلم: ۵۲۸، عن عائشۃ رضی اللہ عنہا]
ان احادیث میں قبروں پر مسجدیں بنانے سے مراد ان کے پاس مسجدیں بنانا ہے، کیونکہ یہود و نصاریٰ کے عبادت خانے ان کے انبیاء و اولیاء کی قبروں کے پاس ہوا کرتے تھے۔ افسوس کہ بعض مسلمانوں نے یہ تکلف بھی ختم کرکے اپنے بزرگوں کی قبریں عین مسجدوں کے اندر بنانا شروع کر دیں۔ ان لوگوں کی کوئی مسجد کم ہی کسی نہ کسی قبر سے خالی نظر آئے گی، ان کے مولویوں نے اس بدترین فعل کے جواز کے لیے زیر تفسیر آیت کو دلیل بنا لیا، حالانکہ اس میں صرف یہ ذکر ہے کہ ان کے غالب اور بااثر لوگوں نے یہ کہا۔ رہی یہ بات کہ انھوں نے درست کہا یا غلط، اس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی، چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [نَهٰی رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُّجَصَّصَ الْقَبْرُ، وَأَنْ يُّقْعَدَ عَلَيْهِ، وَأَنْ يُّبْنٰی عَلَيْهِ] [مسلم، الجنائز، باب النھي عن تجصیص القبر…:۹۷۰]”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ قبر چونا گچ (سیمنٹڈ) بنائی جائے اور اس سے کہ اس پر بیٹھا جائے اور اس سے کہ اس پر عمارت بنائی جائے۔“ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی قبروں کو برابر کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ ابو الہیاج الاسدی، علی رضی اللہ عنہ کے داماد فرماتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: [أَلاَ أَبْعَثُكَ عَلٰی مَا بَعَثَنِیْ عَلَيْهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْ لاَّ تَدَعَ تِمْثَالاً إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلاَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّيْتَهُ] [مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر: ۹۶۹] ”کیا میں تمھیں اس کام پر مقرر نہ کروں جس پر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا؟ وہ یہ ہے کہ کوئی مورتی نہ چھوڑ جسے تو مٹا نہ دے اور نہ کوئی اونچی قبر جسے تو برابر نہ کر دے۔“ اللہ کی حکمت دیکھیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبریں برابر کرنے پر اس شخص کو مقرر فرمایا جس کے نام لیواؤں نے سب سے زیادہ قبروں کو پختہ اور اونچا بنانا تھا، تاکہ کسی کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔
اور اسی حدیث کو امام بخاری نے یوں ذکر کیا ہے: سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ام حبیبہؓ اور ام سلمہؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انہوں نے ملک حبش میں دیکھا تھا اور اس میں مورتیاں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں کا قاعدہ یہ تھا کہ جب ان میں سے کوئی صالح آدمی مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں مورتیاں رکھ لیتے۔ قیامت کے دن اللہ کے ہاں یہ لوگ سب مخلوق سے بد تر ہوں گے۔ [بخاري، كتاب الصلوة، باب هلے نبش قبور مشركي اهل الجاهليه۔ نيز باب الصلوة فى البيعة]
2۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک سیدہ عائشہؓ کے گھر میں تھی۔ اس کی صورت یہ تھی کہ پیچھے قبر، اس سے آگے سیدہ عائشہؓ کی رہائش اور اس سے آگے بیرونی دروازہ تھا اور قبر تک سوائے سیدہ عائشہؓ یا رشتہ داروں کے علاوہ دوسرے لوگ جا ہی نہ سکتے تھے کیونکہ قبر کے پیچھے پھر دیوار تھی۔ اسی بنا پر سیدہ عائشہؓ فرما رہی ہیں کہ اگر آپ کی قبر کے متعلق یہ خطرہ نہ ہوتا کہ کچھ عرصہ گزرنے پر لوگ آپ کی قبر کو سجدہ کرنے لگیں گے تو بغرض زیارت پچھلی دیوار کھول دی جاتی۔
3۔ درج ذیل حدیث میں قبر پرست یہود کے علاوہ عیسائیوں کا بھی ذکر ہے: سیدہ عائشہؓ اور سیدنا ابن عباسؓ دونوں سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیماری آن پڑی اور وفات کی علامات ظاہر ہوئیں تو آپ اپنی چادر سے اپنا منہ ڈھانپ لیتے اور جب بیزاری بڑھتی تو اسے چہرے سے ہٹا دیتے اور یوں فرماتے: اللہ تعالیٰ یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد یا سجدہ گاہیں بنا لیا۔ اس قول سے آپ ہمیں اس برے کام سے ڈراتے تھے جو یہود و نصاریٰ نے کیا تھا۔ [بخاري۔ حواله ايضاً]
4۔ اور صحیح مسلم، کتاب الصلوٰۃ میں سیدنا جندب کی جو روایت ہے اس میں نبیوں کے ساتھ ولیوں کی قبروں کا بھی ذکر ہے، الفاظ یہ ہیں: ”سن لو! تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور بزرگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا، خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا۔ میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں“
5۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام روئے زمین نماز کے قابل ہے سوائے قبرستان اور حمام کے“ [ترمذي، ابو داؤد، دارمي، بحواله مشكوة، كتاب الصلٰوة باب المساجد و مواضع الصلوٰة فصل ثاني]
6۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متعلق ارشاد فرمایا کہ ”میری قبر کو عید (عرس یا میلہ) نہ بنانا اور جہاں کہیں تم ہو وہیں سے درود پڑھ لیا کرو۔ تمہارا درود مجھے پہنچا دیا جاتا ہے“ [نسائي بحواله مشكوٰة۔ باب الصلوٰة على النبي صلی اللہ علیہ وسلم و فضلها۔ فصل ثاني]
7۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی فرمائی کہ: ”یا اللہ! میری قبر کو وثن (آستانہ) نہ بنا دینا کہ لوگ آ کر پوجا کرنے لگیں“ [مالك، بحواله مشكوٰة، كتاب الصلوٰة، باب المساجد و مواضع الصلوٰة، تيسري فصل]
ان سب احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر، مقبرہ، مزار، روضہ، آستانہ پر لوگوں کے اس کو مقدس سمجھ کر جمع ہونے، ان پر عرس یا میلہ لگانے حتیٰ کہ وہاں نماز ادا کرنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ کسی قبر یا مزار یا آستانہ پر مسجد بنانا حرام ہے کیونکہ یہ کام محض صاحب قبر کی تعظیم کی وجہ سے کیا جاتا ہے اور قبرستان میں نماز نہیں ہوتی جبکہ ہمارے ہاں دستور یہ ہے کہ ہر مزار پر مسجد ہوتی ہے یا مسجد میں ہی کسی بزرگ کو دفن کر دیا جاتا ہے۔ ایسی سب صورتیں ممنوع ہیں، مزاروں پر جو لوگ اکٹھے ہوتے ہیں وہ ان بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر ہی وہاں جاتے ہیں۔ نیز ایسے آداب یا عبادات بجا لاتے ہیں جو صرف اللہ کے لیے سزاوار ہیں یا بیت اللہ کے لیے مثلاً وہاں نذریں، نیازیں یعنی مالی قربانی بھی دیتے ہیں۔ قبروں کی صفائی، انھیں مزین کرنا، ان پر چراغاں کرنا سب شرعاً حرام ہیں جو وہاں بجا لاتے ہیں اور بعض بدبخت تو قبروں کا بیت اللہ کی طرح طواف کرتے، غلاف چڑھاتے حتیٰ کہ سجدہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور غالباً یہی وجوہ ہیں جن کی بنا پر قبرستان میں نماز کو ممنوع اور مزارات اور آستانوں کی تعمیر کو حرام قرار دیا گیا ہے اور آج کل تو بعض مزارات پر عرس کے بجائے حج کے پورے مناسک بھی ادا کیے جاتے ہیں اور اسے حج ہی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس فرماتا ہے کہ جیسے ہم نے انہیں انوکھی طرز پر سلایا اور بالکل انوکھے طور پر جگایا، اسی طرح بالکل نرالے طرز پر اہل شہر کو ان کے حالات سے مطلع فرمایا تاکہ انہیں اللہ کے وعدوں کی حقانیت کا علم ہو جائے اور قیامت کے ہونے میں اور اس کے برحق ہونے میں انہیں کوئی شک نہ رہے۔ اس وقت وہ آپس میں سخت مختلف تھے، لڑ جھگڑ رہے تھے، بعض قیامت کے قائل تھے، بعض منکر تھے۔ پس اصحاب کہف کا ظہور منکروں پر حجت اور ماننے والوں کے لیے دلیل بن گیا۔ اب اس بستی والوں کا ارادہ ہوا کہ ان کے غار کا منہ بند کر دیا جائے اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ جنہیں سرداری حاصل تھی، انہوں نے ارادہ کیا کہ ہم تو ان کے اردگرد مسجد بنا لیں گے۔
امام ابن جریر ان لوگوں کے بارے میں دو قول نقل کرتے ہیں ایک یہ کہ ان میں سے مسلمانوں نے یہ کہا تھا دوسرے یہ کہ یہ قول کفار کا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس کے قائل کلمہ گو تھے، ہاں یہ اور بات ہے کہ ان کا یہ کہنا اچھا تھا یا برا؟ تو اس بارے میں صاف حدیث موجود ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا [حدیث] «لَعَنَ اللَّه الْيَهُود وَالنَّصَارَى اِتَّخَذُوا قُبُور أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِد» اللہ تعالیٰ یہود و نصاری پر لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے انبیاء اور اولیا کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ [صحیح بخاری:435] جو انہوں نے کیا، اس سے آپ اپنی امت کو بچانا چاہتے تھے۔ اسی لیے امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی خلافت کے زمانے میں جب دانیال کی قبر عراق میں پائی تو حکم فرمایا کہ اسے پوشیدہ کر دیا جائے اور جو رقعہ ملا ہے جس میں بعض لڑائیوں وغیرہ کا ذکر ہے اسے دفن کر دیا جائے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّه أطْلَعَ الناس على حال أهل الكهف، وذلك ـ والله أعلم ـ بعدما استيقظوا وبعثوا أحدهم يشتري لهم طعاماً وأمروه بالاستخفاء والإخفاء، فأراد الله أمراً فيه صلاحٌ للناس وزيادةُ أجرٍ لهم، وهو أنَّ الناس رأوا منهم آيةً من آيات الله المشاهَدَةِ بالعيان على أنَّ وعدَ الله حقٌّ لا شكَّ فيه ولا مِرْيةَ ولا بُعْدَ بعدما كانوا يتنازعون بينَهم أمرَهم؛ فمن مثبتٍ للوعد والجزاء ومن نافٍ لذلك، فجعل قصَّتَهم زيادةَ بصيرةٍ ويقينٍ للمؤمنين وحجَّةً على الجاحدين، وصار لهم أجرُ هذه القضيَّة، وشهَّر الله أمرهم، ورفع قدرهم، حتى عظَّمهم الذين اطَّلعوا عليهم؛ قالوا: {ابنوا عليهم بُنياناً}: الله أعلمُ بحالهم ومآلهم! وقال مَنْ غَلَبَ على أمرهم ـ وهم الذين لهم الأمرُ ـ:
{لَنَتَّخِذَنَّ عليهم مسجداً}؛ أي: نعبد الله تعالى فيه ونتذكَّر به أحوالهم وما جرى لهم. وهذه الحالة محظورةٌ نهى عنها النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - وذمَّ فاعليها، ولا يدلُّ ذكرها هنا على عدم ذمِّها؛ فإنَّ السياق في شأن أهل الكهف والثناء عليهم، وأنَّ هؤلاء وصلت بهم الحالُ إلى أن قالوا ابنوا عليهم مسجداً بعد خوف أهل الكهف الشديد من قومهم وحَذَرِهم من الاطِّلاع عليهم، فوصلت الحال إلى ما ترى.
وفي هذه القصة دليلٌ على أنَّ من فرَّ بدينه من الفتن؛ سلَّمه الله منها، وأنَّ مَن حرص على العافية؛ عافاه الله، ومن أوى إلى الله؛ آواه الله وجعله هدايةً لغيره، ومن تحمل الذُّلَّ في سبيله وابتغاء مرضاته؛ كان آخرُ أمره وعاقبته العز العظيم من حيث لا يحتسب، وما عند الله خيرٌ للأبرار.