ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 21

وَ کَذٰلِکَ اَعۡثَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ لِیَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَیۡبَ فِیۡہَا ۚ٭ اِذۡ یَتَنَازَعُوۡنَ بَیۡنَہُمۡ اَمۡرَہُمۡ فَقَالُوا ابۡنُوۡا عَلَیۡہِمۡ بُنۡیَانًا ؕ رَبُّہُمۡ اَعۡلَمُ بِہِمۡ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ غَلَبُوۡا عَلٰۤی اَمۡرِہِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیۡہِمۡ مَّسۡجِدًا ﴿۲۱﴾
اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان پر مطلع کر دیا، تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت، اس میں کوئی شک نہیں۔ جب وہ ان کے معاملے میں آپس میں جھگڑ رہے تھے تو انھوں نے کہا ان پر ایک عمارت بنا دو۔ ان کا رب ان سے زیادہ واقف ہے، وہ لوگ جو ان کے معاملے پر غالب ہوئے انھوں نے کہا ہم تو ضرور ان پر ایک مسجد بنائیں گے۔ En
اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان (کے حال) سے خبردار کردیا تاکہ وہ جانیں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت (جس کا وعدہ کیا جاتا ہے) اس میں کچھ شک نہیں۔ اس وقت لوگ ان کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان (کے غار) پر عمارت بنا دو۔ ان کا پروردگار ان (کے حال) سے خوب واقف ہے۔ جو لوگ ان کے معاملے میں غلبہ رکھتے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم ان (کے غار) پر مسجد بنائیں گے
En
ہم نے اس طرح لوگوں کو ان کے حال سے آگاه کر دیا کہ وه جان لیں کہ اللہ کا وعده بالکل سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک وشبہ نہیں۔ جب کہ وه اپنے امر میں آپس میں اختلاف کر رہے تھے کہنے لگے کہ ان کے غار پر ایک عمارت بنا لو۔ ان کا رب ہی ان کے حال کا زیاده عالم ہے۔ جن لوگوں نے ان کے بارے میں غلبہ پایا وه کہنے لگے کہ ہم تو ان کے آس پاس مسجد بنالیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 21) ➊ {وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ …:} یعنی جس طرح ہم نے انھیں ثابت قدم رکھا اور حیرت انگیز طریقے سے سلائے رکھا اسی طرح ہم نے شہر والوں کو ان کی حقیقت حال اور جگہ سے مطلع کر دیا۔ بہت سے مفسرین کا بیان ہے اور واقعہ کی صورت خود بخود بھی یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب وہ شخص کھانا خریدنے کے لیے روانہ ہوا تو اس نے دیکھا کہ شہر کے راستے، لوگوں کی تہذیب، رہن سہن، زبان اور لباس ہر چیز بدل چکی ہے، اس نے خیال کیا کہ شاید میں پاگل ہو گیا ہوں یا خواب دیکھ رہا ہوں۔ بالآخر وہ شہر پہنچا اور ایک دکاندار سے کھانا خریدنے لگا اور اس نے سکہ نکالا تو دکاندار ششدر رہ گیا اور اس نے ایک دوسرے دکاندار کو بلایا، بالآخر کچھ لوگ جمع ہو گئے اور انھیں شک گزرا کہ شاید اس شخص کو کہیں سے پرانا خزانہ ہاتھ لگا ہے۔ مگر جب اس نے بتایا کہ میں اسی شہر کا رہنے والا ہوں اور کل ہی یہاں فلاں بادشاہ کو چھوڑ کر گیا ہوں تو لوگوں کی حیرت اور بڑھ گئی اور وہ اسے پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے آئے۔ وہاں جب پوچھ گچھ ہوئی تو سب معاملہ کھل گیا، اس لیے اصحابِ کہف کو دیکھنے اور انھیں سلام کرنے کے لیے بادشاہ اور اس کے ساتھ لوگوں کا ایک ہجوم غار پر پہنچ گیا۔ شہر جانے والا ساتھی اندر داخل ہو گیا اور سارے ساتھی دوبارہ لیٹ گئے، اسی حال میں اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کر لی۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا وہاں تین سو نو (۳۰۹) سال ٹھہرنا بیان فرمایا ہے، اگر وہ اس کے بعد بھی زندہ ہوتے تو ان پر عمارت بنانے یا مسجد بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، بلکہ ان کی کرامت دیکھنے والے خوش عقیدہ لوگ انھیں شہر لے جاتے اور ہر طرح ان کی خدمت بجا لاتے۔
➋ اس آیت سے کئی ساتھیوں کا مال برابر جمع کرکے کھانے وغیرہ کے لیے اکٹھا خرچ کرنا ثابت ہوتا ہے، خواہ کوئی کم کھاتا ہو یا زیادہ اور یہ آیت اس بات کی بھی دلیل ہے کہ کسی کو اپنا نائب یا وکیل بنایا جا سکتا ہے۔
➌ { لِيَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ …:} یعنی ان پر مطلع ہونے والے شہر کے لوگوں کو یقین آ جائے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں۔
➍ {اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ …:} یعنی ہم نے شہر والوں کو ان پر اس وقت مطلع کیا جب وہ آپس میں اپنے معاملے میں جھگڑ رہے تھے۔ کوئی کہتا تھا کہ مر کر جی اٹھنا برحق ہے، کوئی اس کا انکار کرتا تھا، کوئی کہتا کہ حشر صرف روح کا ہو گا بدن کا نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں اصحابِ کہف کا حال آنکھوں سے دکھا کر یقین دلا دیا کہ قیامت آئے گی اور حشر بدن اور روح دونوں کا ہو گا۔ {اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ اَمْرَهُمْ } کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب شہر والے اصحابِ کہف کے بارے میں جھگڑ رہے تھے کہ یہ کون لوگ تھے؟ غار میں کب آئے؟ کتنی دیر سوئے رہے؟ اب ان کے مرنے پر ان کے ساتھ کیا کیا جائے؟ بعض نے کہا، ان پر دیوار بنا کر غار کا منہ بند کر دیں۔ بعض نے کہا، ان پر ایک عمارت ان کی یادگار کے طور پر بنا دیں۔
➎ { رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ:} یعنی اصحابِ کہف اور شہر والوں کے احوال ان کا رب بہتر جانتا ہے۔
➏ { قَالَ الَّذِيْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ …:} جن لوگوں کے پاس غلبہ و اقتدار تھا وہ کہنے لگے کہ ہم تو ضرور ان پر ایک مسجد بنائیں گے اور اس طرح ان کی یاد گار کو باقی رکھیں گے۔ گزشتہ قوموں میں اسی راستے سے شرک داخل ہوتا رہا اور اب بھی شرک کے سب سے بڑے مراکز انھی قبروں پر تعمیر شدہ عمارتیں مثلاً خانقاہیں وغیرہ یا مسجدیں ہی ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں فرمایا جس میں آپ فوت ہوئے: [لَعَنَ اللّٰهُ الْيَهُوْدَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ] [بخاری، الجنائز، باب ما یکرہ من اتخاذ المساجد…: ۱۳۳۰۔ مسلم: ۵۲۹] اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے، انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے فوت ہونے سے پانچ دن پہلے سنا، آپ نے فرمایا: [أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوْا يَتَّخِذُوْنَ قُبُوْرَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيْهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلاَ تَتَّخِذُوا الْقُبُوْرَ مَسَاجِدَ، إِنِّيْ أَنْهَاكُمْ عَنْ ذٰلِكَ] [مسلم، المساجد، باب النہي عن بناء المساجد علی القبور…: ۵۳۲] جان لو! جو لوگ تم سے پہلے تھے وہ اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں کو مسجدیں بنا لیتے تھے، سن لو کہ تم قبروں کو مسجدیں نہ بنانا، میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں۔
ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے والوں کو اللہ کے ہاں سب سے بدتر مخلوق قرار دیا، فرمایا: [فَأُولٰئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ] [بخاري، الصلاۃ، باب ھل تنبش قبور مشرکي الجاھلیۃ …: ۴۲۷۔ مسلم: ۵۲۸، عن عائشۃ رضی اللہ عنہا]
ان احادیث میں قبروں پر مسجدیں بنانے سے مراد ان کے پاس مسجدیں بنانا ہے، کیونکہ یہود و نصاریٰ کے عبادت خانے ان کے انبیاء و اولیاء کی قبروں کے پاس ہوا کرتے تھے۔ افسوس کہ بعض مسلمانوں نے یہ تکلف بھی ختم کرکے اپنے بزرگوں کی قبریں عین مسجدوں کے اندر بنانا شروع کر دیں۔ ان لوگوں کی کوئی مسجد کم ہی کسی نہ کسی قبر سے خالی نظر آئے گی، ان کے مولویوں نے اس بدترین فعل کے جواز کے لیے زیر تفسیر آیت کو دلیل بنا لیا، حالانکہ اس میں صرف یہ ذکر ہے کہ ان کے غالب اور بااثر لوگوں نے یہ کہا۔ رہی یہ بات کہ انھوں نے درست کہا یا غلط، اس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی، چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [نَهٰی رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُّجَصَّصَ الْقَبْرُ، وَأَنْ يُّقْعَدَ عَلَيْهِ، وَأَنْ يُّبْنٰی عَلَيْهِ] [مسلم، الجنائز، باب النھي عن تجصیص القبر…:۹۷۰]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ قبر چونا گچ (سیمنٹڈ) بنائی جائے اور اس سے کہ اس پر بیٹھا جائے اور اس سے کہ اس پر عمارت بنائی جائے۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی قبروں کو برابر کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ ابو الہیاج الاسدی، علی رضی اللہ عنہ کے داماد فرماتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: [أَلاَ أَبْعَثُكَ عَلٰی مَا بَعَثَنِیْ عَلَيْهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْ لاَّ تَدَعَ تِمْثَالاً إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلاَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّيْتَهُ] [مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر: ۹۶۹] کیا میں تمھیں اس کام پر مقرر نہ کروں جس پر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا؟ وہ یہ ہے کہ کوئی مورتی نہ چھوڑ جسے تو مٹا نہ دے اور نہ کوئی اونچی قبر جسے تو برابر نہ کر دے۔ اللہ کی حکمت دیکھیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبریں برابر کرنے پر اس شخص کو مقرر فرمایا جس کے نام لیواؤں نے سب سے زیادہ قبروں کو پختہ اور اونچا بنانا تھا، تاکہ کسی کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

21۔ 1 یعنی جس طرح ہم نے سلایا اور جگایا، اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال سے آگاہ کردیا۔ بعض روایات کے مطابق یہ آگاہی اس طرح ہوئی جب اصحاب کہف کا ایک ساتھی چاندی کا سکہ لے کر شہر گیا، جو تین سو سال قبل کے بادشاہ دقیانوس کے زمانے کا تھا اور وہ سکہ اس نے ایک دکاندار کو دیا، تو وہ حیران ہوا، اس نے ساتھ والی دکان والے کو دکھایا، وہ دیکھ کر حیران ہوا، جب کہ اصحاب کہف کا ساتھی یہ کہتا رہا کہ میں اس شہر کا باشندہ ہوں اور کل ہی یہاں سے گیا ہوں، لیکن اس ' کل ' کو تین صدیاں گزر چکی تھیں، لوگ کس طرح اس کی بات مان لیتے؟ لوگوں کو شبہ گزرا کہ کہیں اس شخص کو مدفون خزانہ ملا ہو۔ یہ بات بادشاہ یا حاکم مجاز تک پہنچی اور اس ساتھی کی مدد سے وہ غار تک پہنچا اور اصحاب کہف سے ملاقات کی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں پھر وفات دے دی (ابن کثیر) 21۔ 2 یعنی اصحاب کہف کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے وقوع اور بعث بعد الموت کا وعدہ الٰہی سچا ہے، منکرین کے لئے اس واقعہ میں اللہ کی قدرت کا ایک نمونہ موجود ہے۔ 21۔ 3 اذ یا تو ظرف ہے اعثرنا کا، یعنی ہم نے انھیں اس وقت ان کے حال سے آگاہ کیا، جب وہ بعث بعد الموت یا واقعہ قیامت کے بارے میں آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ 21۔ 4 یہ کہنے والے کون تھے، بعض کہتے ہیں کہ اس وقت کے اہل ایمان تھے، بعض کہتے ہیں بادشاہ اور اس کے ساتھی تھے، جب جاکر انہوں نے ملاقات کی اور اس کے بعد اللہ نے انھیں پھر سلا دیا، تو بادشاہ اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ ان کی حفاظت کے لئے ایک عمارت بنادی جائے۔ 21۔ 5 جھگڑا کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی بابت صحیح علم صرف اللہ کو ہی ہے۔ 21۔ 6 یہ غلبہ حاصل کرنے والے اہل ایمان تھے یا اہل کفر و شرک؟ شوکانی نے پہلی رائے کو ترجیح دی ہے اور ابن کثیر نے دوسری رائے کو۔ کیونکہ صالحین کی قبروں پر مسجدیں تعمیر کرنا اللہ کو پسند نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لعن اللہ الیھود والنصٓاری اتخذوا قبور انبیائھم وصٓالحیھم مساجد۔ البخاری۔ مسلم۔ اللہ تعالیٰ بہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائے جنہوں نے اپنے پیغمبروں اور صالحین کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا، حضرت عمر کی خلافت میں عراق میں حضرت دانیال ؑ کی قبر دریافت ہوئی تو آپ نے حکم دیا کہ اسے چھپا کر عام قبروں جیسا کردیا جا‏ئے تاکہ لوگوں کے علم میں نہ آئے کہ فلاں قبر فلاں پیغمبر کی ہے۔ تفسیر ابن کثیر۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

21۔ اس طرح ہم نے لوگوں کو [19] ان نوجوانوں پر مطلع کر دیا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت [20] بپا ہونے میں کوئی شک نہیں جبکہ وہ آپس میں ان نوجوانوں کے معاملہ میں جھگڑا کر رہے تھے۔ آخر ان میں سے کچھ لوگ کہنے لگے کہ یہاں ان پر ایک عمارت بنا دو۔ ان کا معاملہ ان کا پروردگار ہی خوب جانتا ہے۔ مگر جو لوگ اس جھگڑے میں غالب رہے انہوں نے کہا کہ ہم تو یہاں ان پر مسجد [21] بنائیں گے۔
[19] سلطنت کی تبدیلی اور حالات کی سازگاری:۔
جب کھانا لانے والا شہر پہنچا تو وہاں دنیا ہی بدل چکی تھی۔ لوگوں کے تہذیب و تمدن، لباس اور وضع قطع میں نمایاں فرق واقع ہو چکا تھا۔ زبان میں خاصا فرق پڑ گیا تھا اور جب لوگوں نے اس نوجوان کو دیکھا تو سب اس کی طرف متوجہ ہو گئے لیکن وہ ان سے گریز کرتا رہا پھر جب اس نے کھانا خریدنے کے وقت کئی صدیاں پہلے کا سکہ پیش کیا تو دکاندار اور آس پاس والے سب آدمی اس نوجوان کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے لگے انھیں یہ شبہ ہوا کہ شاید اس شخص کو پرانے زمانے کا کوئی دفینہ مل گیا ہے چنانچہ اسی شک و شبہ کی بنا پر لوگوں نے اسے پکڑ کر حکام بالا کے سامنے پیش کر دیا اور جب اس نوجوان نے بھی اپنا بیان دیا تو یہ معاملہ کھلا کہ یہ تو وہی پیروان مسیح ہیں جو کئی صدیاں پیشتر یکدم روپوش ہو گئے تھے اور جن کا ریکارڈ اب تک سرکاری دفتروں میں منتقل ہوتا چلا آرہا تھا۔ یہ خبر آناً فاناً ساری عیسائی آبادی میں پھیل گئی جس بات سے وہ لوگ بچنا چاہتے تھے اللہ نے سب لوگوں کو ان کے حال سے با خبر کر دیا۔ فرق یہ تھا کہ جب وہ مفرور اور روپوش ہوئے تھے اس وقت وہ معاشرہ اور حکومت کے مجرم تھے لیکن اس وقت وہ سب کی نظروں میں اپنے ایمان پر ثابت قدم رہنے والے اور محترم تھے۔
[20] بعث بعد الموت کے جھگڑے کی نوعیت روحانی ہو گا یا جسمانی؟
ان دنوں اگرچہ سرکاری مذہب عیسائیت تھا اور عیسائی قیامت اور روز آخرت کے قائل ہوتے ہیں۔ تاہم روز قیامت کے متعلق عجیب عجیب قسم کی اور فلسفیانہ قسم کی بحثیں چھڑی ہوئی تھیں کچھ بے دین قسم کے لوگ تو سرے سے بعث بعد الموت کے منکر تھے جیسا کہ ہر مذہب میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں خواہ یہ انکار عملاً ہو یا قولاً بھی ہو۔ باقی بعث بعد الموت پر ایمان رکھنے والوں میں یہ اختلاف تھا کہ آیا یہ روحانی قسم کا ہو گا یا جسمانی قسم کا؟ اور اس پر مناظرے بھی ہوتے تھے لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہونے پا رہا تھا۔ بادشاہ خود چاہتا تھا کہ اس اختلاف کا کوئی حتمی فیصلہ ہو جائے۔ انھیں ایام میں ان نوجوانوں کی دریافت والا مسئلہ سب کے سامنے آگیا جس نے جسمانی طور پر بعث بعد الموت کے عقدے کا ناقابل انکار ثبوت فراہم کر دیا۔
[21] مسجد کی تعمیر بطور یادگار:۔
اب یہ اصحاب کہف سب لوگوں کی نظروں میں محترم تھے اور اولیاء اللہ سمجھے جانے لگے تھے لوگوں نے ان سے غار میں جا کر ملاقات کی یا نہیں کی یا ان لوگوں نے غار سے نکل کر لوگوں کو علیک سلیک کی یا نہیں کی، یہ تفصیل کہیں بھی مذکور نہیں البتہ راجح قول یہی معلوم ہوتا ہے کہ کھانا لانے والا بھی واپس غار میں چلا گیا وہ پھر پہلے کی طرح لیٹ گئے اور وہیں ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی لوگوں نے یہ خیال کیا کہ یہ سب مقدس ہستیاں تھیں لہٰذا اس غار پر کوئی یادگار عمارت تعمیر کر دینا چاہیئے۔ اس بات پر پھر اختلاف ہوا کہ یہ یادگار تعمیر کس قسم کی ہو اور جو لوگ با اثر اور صاحب رسوخ تھے ان کی رائے ہی غالب آئی اور وہ رائے یہ تھی کہ اس غار کے پاس ایک مسجد یا عبادت خانہ یادگار کے طور پر بنا دیا جائے جسے ان با اثر لوگوں نے خود بنانے کا ذمہ لیا۔ اس طرح اصحاب کہف کو اولیاء اللہ کی اور ان کی غار کو آستانے یا ان کے مقبرے کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ آستانوں یا خانقاہوں اور مزاروں وغیرہ کے قریب یا ان پر مسجد بنانا یا کسی مسجد میں کسی کو ولی اللہ سمجھ کر اس کی قبر بنا دینا ایسے کام ہیں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی سختی سے منع فرمایا ہے وجہ یہ ہے کہ ایسے کاموں سے شرک کی بہت سی راہیں کھلتی ہیں جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔
قبروں پر مسجدیں تعمیر کرنا پرانی شرکیہ رسم ہے:۔
سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ بعض ازواج مطہرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ انہوں نے حبشہ میں ''ماریہ'' نامی ایک کنیسہ (یہودیوں کی عبادت گاہ) دیکھا ہے جس میں مجسمے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ان لوگوں میں سے کوئی صالح مرد مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے ایسے لوگ اللہ کے نزدیک بد ترین مخلوق ہیں“ [مسلم، كتاب الصلوٰة]
اور اسی حدیث کو امام بخاری نے یوں ذکر کیا ہے: سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ام حبیبہؓ اور ام سلمہؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انہوں نے ملک حبش میں دیکھا تھا اور اس میں مورتیاں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں کا قاعدہ یہ تھا کہ جب ان میں سے کوئی صالح آدمی مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں مورتیاں رکھ لیتے۔ قیامت کے دن اللہ کے ہاں یہ لوگ سب مخلوق سے بد تر ہوں گے۔ [بخاري، كتاب الصلوة، باب هلے نبش قبور مشركي اهل الجاهليه۔ نيز باب الصلوة فى البيعة]
قبور سے تعلق رکھنے والی احادیث:۔
سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس مرض میں جس سے تندرست ہو کر نہیں اٹھے فرمایا: ”یہود پر اللہ لعنت کرے انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں یا سجدہ گاہیں بنا لیا“ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مرجع خاص و عام بنا دی جاتی۔ [بخاري، كتاب المغازي۔ باب مرض النبي صلی اللہ علیہ وسلم]
اس کی وضاحت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک سیدہ عائشہؓ کے گھر میں تھی۔ اس کی صورت یہ تھی کہ پیچھے قبر، اس سے آگے سیدہ عائشہؓ کی رہائش اور اس سے آگے بیرونی دروازہ تھا اور قبر تک سوائے سیدہ عائشہؓ یا رشتہ داروں کے علاوہ دوسرے لوگ جا ہی نہ سکتے تھے کیونکہ قبر کے پیچھے پھر دیوار تھی۔ اسی بنا پر سیدہ عائشہؓ فرما رہی ہیں کہ اگر آپ کی قبر کے متعلق یہ خطرہ نہ ہوتا کہ کچھ عرصہ گزرنے پر لوگ آپ کی قبر کو سجدہ کرنے لگیں گے تو بغرض زیارت پچھلی دیوار کھول دی جاتی۔
3۔ درج ذیل حدیث میں قبر پرست یہود کے علاوہ عیسائیوں کا بھی ذکر ہے: سیدہ عائشہؓ اور سیدنا ابن عباسؓ دونوں سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیماری آن پڑی اور وفات کی علامات ظاہر ہوئیں تو آپ اپنی چادر سے اپنا منہ ڈھانپ لیتے اور جب بیزاری بڑھتی تو اسے چہرے سے ہٹا دیتے اور یوں فرماتے: اللہ تعالیٰ یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد یا سجدہ گاہیں بنا لیا۔ اس قول سے آپ ہمیں اس برے کام سے ڈراتے تھے جو یہود و نصاریٰ نے کیا تھا۔ [بخاري۔ حواله ايضاً]
4۔ اور صحیح مسلم، کتاب الصلوٰۃ میں سیدنا جندب کی جو روایت ہے اس میں نبیوں کے ساتھ ولیوں کی قبروں کا بھی ذکر ہے، الفاظ یہ ہیں: ”سن لو! تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور بزرگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا، خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا۔ میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں“
5۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام روئے زمین نماز کے قابل ہے سوائے قبرستان اور حمام کے“ [ترمذي، ابو داؤد، دارمي، بحواله مشكوة، كتاب الصلٰوة باب المساجد و مواضع الصلوٰة فصل ثاني]
6۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متعلق ارشاد فرمایا کہ ”میری قبر کو عید (عرس یا میلہ) نہ بنانا اور جہاں کہیں تم ہو وہیں سے درود پڑھ لیا کرو۔ تمہارا درود مجھے پہنچا دیا جاتا ہے“ [نسائي بحواله مشكوٰة۔ باب الصلوٰة على النبي صلی اللہ علیہ وسلم و فضلها۔ فصل ثاني]
7۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی فرمائی کہ: ”یا اللہ! میری قبر کو وثن (آستانہ) نہ بنا دینا کہ لوگ آ کر پوجا کرنے لگیں“ [مالك، بحواله مشكوٰة، كتاب الصلوٰة، باب المساجد و مواضع الصلوٰة، تيسري فصل]
ان سب احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر، مقبرہ، مزار، روضہ، آستانہ پر لوگوں کے اس کو مقدس سمجھ کر جمع ہونے، ان پر عرس یا میلہ لگانے حتیٰ کہ وہاں نماز ادا کرنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ کسی قبر یا مزار یا آستانہ پر مسجد بنانا حرام ہے کیونکہ یہ کام محض صاحب قبر کی تعظیم کی وجہ سے کیا جاتا ہے اور قبرستان میں نماز نہیں ہوتی جبکہ ہمارے ہاں دستور یہ ہے کہ ہر مزار پر مسجد ہوتی ہے یا مسجد میں ہی کسی بزرگ کو دفن کر دیا جاتا ہے۔ ایسی سب صورتیں ممنوع ہیں، مزاروں پر جو لوگ اکٹھے ہوتے ہیں وہ ان بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر ہی وہاں جاتے ہیں۔ نیز ایسے آداب یا عبادات بجا لاتے ہیں جو صرف اللہ کے لیے سزاوار ہیں یا بیت اللہ کے لیے مثلاً وہاں نذریں، نیازیں یعنی مالی قربانی بھی دیتے ہیں۔ قبروں کی صفائی، انھیں مزین کرنا، ان پر چراغاں کرنا سب شرعاً حرام ہیں جو وہاں بجا لاتے ہیں اور بعض بدبخت تو قبروں کا بیت اللہ کی طرح طواف کرتے، غلاف چڑھاتے حتیٰ کہ سجدہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور غالباً یہی وجوہ ہیں جن کی بنا پر قبرستان میں نماز کو ممنوع اور مزارات اور آستانوں کی تعمیر کو حرام قرار دیا گیا ہے اور آج کل تو بعض مزارات پر عرس کے بجائے حج کے پورے مناسک بھی ادا کیے جاتے ہیں اور اسے حج ہی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دوبارہ جینے کی حجت ٭٭
ارشاد ہے کہ اسی طرح ہم نے اپنی قدرت سے لوگوں کو ان کے حال پر آگاہ کر دیا تاکہ اللہ کے وعدے اور قیامت کے آنے کی سچائی کا انہیں علم ہو جائے۔ کہتے ہیں کہ اس زمانے کے وہاں موجود لوگوں کو قیامت کے آنے میں کچھ شکوک پیدا ہو چلے تھے۔ ایک جماعت تو کہتی تھی کہ فقط روحیں دوبارہ جی اٹھیں گی، جسم کا اعادہ نہ ہو گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے صدیوں بعد اصحاب کہف کو جگا کر قیامت کے ہونے اور جسموں کے دوبارہ جینے کی حجت واضح کر دی اور عینی دلیل دے دی۔ مذکور ہے کہ جب ان میں سے ایک صاحب دام لے کر سودا خریدنے کو غار سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ان کی دیکھی ہوئی ایک چیز نہیں، سارا نقشہ بدلا ہوا ہے۔ اس شہر کا نام افسوس تھا۔ زمانے گزر چکے تھے، بستیاں بدل چکی تھیں، صدیاں بیت گئی تھیں اور یہ تو اپنے نزدیک یہی سمجھے ہوئے تھے کہ ہمیں یہاں پہنچے ایک آدھ دن گزرا ہے۔ یہاں انقلاب زمانہ اور کا اور ہو چکا تھا، جیسے کسی نے کہا ہے۔ «اما الدیار فانہا کدیارہم» «واری رجال الحی غیر رجالہ»
گھر گو انہی جیسے ہیں لیکن قبیلے کے لوگ تو سب اور ہی ہیں۔ اس نے دیکھا کہ نہ تو شہر کی کوئی چیز اپنے حال پر ہے، نہ شہر کا کوئی بھی رہنے والا جان پہچان کا ہے، نہ یہ کسی کو جانیں نہ انہیں اور کوئی پہچانے۔ تمام عام خاص اور ہی ہیں۔ یہ اپنے دل میں حیران تھا۔ دماغ چکرا رہا تھا کہ کل شام ہم اس شہر کو چھوڑ کر گئے ہیں، یہ دفعتا ہو کیا گیا؟ ہر چند سوچتا تھا کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تھی۔ آخر خیال کرنے لگا کہ شاید میں مجنوں ہو گیا ہوں یا میرے حواس ٹھکانے نہیں رہے یا مجھے کوئی مرض لگ گیا ہے یا میں خواب میں ہوں۔ لیکن فوراً ہی یہ خیالات ہٹ گئے مگر کسی بات پر تسلی نہ ہو سکی اس لیے ارادہ کر لیا کہ مجھے سودا لے کر اس شہر کو جلد چھوڑ دینا چاہیئے۔ ایک دکان پر جا کر اسے دام دئیے اور سودا کھانے پینے کا طلب کیا۔ اس نے اس سکے کو دیکھ کر سخت تر تعجب کا اظہار کیا اپنے پڑوسی کو دیا کہ دیکھنا یہ سکہ کیا ہے؟ کب کا ہے؟ کسی زمانے کا ہے؟ اس نے دوسرے کو دیا اس سے کسی اور نے دیکھنے کو مانگ لیا۔ الغرض وہ تو ایک تماشہ بن گیا، ہر زبان سے یہی نکلنے لگا کہ اس نے کسی پرانے زمانے کا خزانہ پایا ہے، اس میں سے یہ لایا ہے اس سے پوچھو یہ کہاں کا ہے؟ کون ہے؟ یہ سکہ کہاں سے پایا؟
چنانچہ لوگوں نے اسے گھیر لیا مجمع لگا کر کھڑے ہو گئے اور اوپر تلے ٹیڑھے ترچھے سوالات شروع کر دئے۔ اس نے کہا میں تو اسی شہر کا رہنے والا ہوں، کل شام کو میں یہاں سے گیا ہوں، یہاں کا بادشاہ دقیانوس ہے۔ اب تو سب نے قہقہہ لگا کر کہا، بھئی یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ آخر اسے بادشاہ کے سامنے پیش کیا اس سے سوالات ہوئے اس نے تمام حال کہہ سنایا، اب ایک طرف بادشاہ اور دوسرے سب لوگ متحیر ایک طرف سے خود ششدر و حیران۔ آخر سب لوگ ان کے ساتھ ہوئے۔ اچھا ہمیں اپنے اور ساتھی دکھاؤ اور اپنا غار بھی دکھا دو۔ یہ انہیں لے کر چلے غار کے پاس پہنچ کر کہا تم ذرا ٹھیرو میں پہلے انہیں جا کر خبر کر دوں۔ ان کے الگ ہٹتے ہی اللہ تعالیٰ نے ان پر بے خبری کے پردے ڈال دئے۔ انہیں نہ معلوم ہو سکا کہ وہ کہاں گیا؟ اللہ نے پھر اس راز کو مخفی کر لیا۔ ایک روایت یہ بھی آئی ہے کہ یہ لوگ مع بادشاہ کے گئے، ان سے ملے، سلام علیک ہوئی، بغلگیر ہوئے۔ یہ بادشاہ خود مسلمان تھا، اس کا نام تندوسیس تھا۔ اصحاب کہف ان سے مل کر بہت خوش ہوئے اور محبت و انسیت سے ملے جلے، باتیں کیں، پھر واپس جا کر اپنی اپنی جگہ لیٹے، پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں فوت کر لیا، رحمہم اللہ اجمعین۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، وہاں انہوں نے روم کے شہروں میں ایک غار دیکھا، جس میں ہڈیاں تھیں، لوگوں نے کہا یہ ہڈیاں اصحاب کہف کی ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تین سو سال گزر چکے کہ ان کی ہڈیاں کھوکھلی ہو کر مٹی ہو گئیں [ابن جریر]‏‏‏‏
پس فرماتا ہے کہ جیسے ہم نے انہیں انوکھی طرز پر سلایا اور بالکل انوکھے طور پر جگایا، اسی طرح بالکل نرالے طرز پر اہل شہر کو ان کے حالات سے مطلع فرمایا تاکہ انہیں اللہ کے وعدوں کی حقانیت کا علم ہو جائے اور قیامت کے ہونے میں اور اس کے برحق ہونے میں انہیں کوئی شک نہ رہے۔ اس وقت وہ آپس میں سخت مختلف تھے، لڑ جھگڑ رہے تھے، بعض قیامت کے قائل تھے، بعض منکر تھے۔ پس اصحاب کہف کا ظہور منکروں پر حجت اور ماننے والوں کے لیے دلیل بن گیا۔ اب اس بستی والوں کا ارادہ ہوا کہ ان کے غار کا منہ بند کر دیا جائے اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ جنہیں سرداری حاصل تھی، انہوں نے ارادہ کیا کہ ہم تو ان کے اردگرد مسجد بنا لیں گے۔
امام ابن جریر ان لوگوں کے بارے میں دو قول نقل کرتے ہیں ایک یہ کہ ان میں سے مسلمانوں نے یہ کہا تھا دوسرے یہ کہ یہ قول کفار کا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس کے قائل کلمہ گو تھے، ہاں یہ اور بات ہے کہ ان کا یہ کہنا اچھا تھا یا برا؟ تو اس بارے میں صاف حدیث موجود ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا [حدیث]‏‏‏‏ «لَعَنَ اللَّه الْيَهُود وَالنَّصَارَى اِتَّخَذُوا قُبُور أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِد» اللہ تعالیٰ یہود و نصاری پر لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے انبیاء اور اولیا کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ [صحیح بخاری:435]‏‏‏‏ جو انہوں نے کیا، اس سے آپ اپنی امت کو بچانا چاہتے تھے۔ اسی لیے امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی خلافت کے زمانے میں جب دانیال کی قبر عراق میں پائی تو حکم فرمایا کہ اسے پوشیدہ کر دیا جائے اور جو رقعہ ملا ہے جس میں بعض لڑائیوں وغیرہ کا ذکر ہے اسے دفن کر دیا جائے۔