تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { لِيُنْذِرَ بَاْسًا …:} یہاں یہ بتایا کہ اس کتاب کو اپنے بندے پر اس لیے نازل فرمایا کہ وہ اس سخت عذاب سے ڈرائے جو اس کی جانب سے ہو گا، مگر یہ نہیں بتایا کہ کسے ڈرائے، اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ مراد عموم ہے، یعنی کافر و مومن ہر ایک کو اللہ کی جانب سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے، یا یہ کہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں بتائی ہے، چنانچہ فرمایا: «وَ يُنْذِرَ الَّذِيْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا» [الکہف: ۴] ”اور (تاکہ) ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے کہا اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے۔“ اس آیت(۴) میں یہ نہیں بتایا کہ کس چیز سے ڈرائے، اس کا ذکر زیر تفسیر آیت (۲) میں ہے کہ اس کی جانب سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے۔ دونوں آیات کو ملائیں تو مضمون یہ بنے گا: ”تاکہ ان لوگوں کو اپنی جانب سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے۔“ دونوں آیتوں میں ڈرانے کا ذکر دو بار آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کتاب اور پیغمبر کے فرائض میں ڈرانے کا فریضہ زیادہ اہم ہے، کیونکہ ایمان نہ لانے والے زیادہ ہیں، جن میں سے کوئی مسیح علیہ السلام کو اور کوئی عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتا ہے، کوئی فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتا ہے، کوئی اپنے انبیاء و اولیاء کو اللہ کے نور کا ٹکڑا اور کوئی انھیں عین اللہ تعالیٰ قرار دیتا ہے، جیسا کہ نصرانیوں نے کہا: «اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ» [المائدۃ: ۷۲] ”بے شک اللہ مسیح ابن مریم ہی تو ہے۔“ اور ہماری امت کے ایک ظالم نے کہا ہے:
وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر
اتر پڑا ہے مدینہ میں مصطفی ہو کر
اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ کتاب ان سب کو اس کی جانب سے آنے والے سخت عذاب سے ڈراتی ہے، خواہ وہ دنیا و آخرت دونوں میں ہو یا صرف آخرت میں۔ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد رکھنے کی تردید کے لیے دیکھیے سورۂ مریم (۸۸ تا ۹۵) {” مِنْ لَّدُنْهُ “} سے عذاب کی ہولناکی بیان کرنا مقصود ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[3] یعنی اس کتاب کا بھی اور اسی طرح جملہ آسمانی کتابوں کی تعلیم کا لب لباب یہی ہے کہ قیامت یقیناً آنے والی ہے اس دن تمام لوگوں کو ان کے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ ضرور ملنے والا ہے لہٰذا ہر شخص کے لیے لازم ہے کہ وہ اللہ کے حضور جواب دہی کی وجہ سے اس دنیا میں اللہ سے ڈرتے ہوئے اپنی زندگی بسر کریں اور جو اللہ کے فرماں بردار بن کر رہیں انھیں جنت اور دائمی خوشیوں کی بشارت بھی دیتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جس ثواب کو پائندگی اور دوام ہے، وہ جنت انہیں ملے گی جس میں کبھی فنا نہیں جس کی نعمتیں غیر فانی ہیں۔ اور انہیں بھی یہ عذابوں سے آگاہ کرتا ہے جو اللہ کی اولاد ٹھیراتے ہیں جیسے مشرکین مکہ کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {لينذِرَ بأساً شديداً من لَدُنْه}؛ أي: لينذر بهذا القرآن الكريم عقابَه الذي عنده؛ أي: قدره وقضاه على من خالف أمره، وهذا يشمَلُ عقاب الدُّنيا وعقاب الآخرة. وهذا أيضاً من نعمه أنْ خوَّف عباده وأنذرَهم ما يضرُّهم ويُهلكهم؛ كما قال تعالى لما ذَكَرَ في هذا القرآن وصف النار؛ قال: {ذلك يُخَوِّفُ الله به عبادَه يا عبادِ فاتَّقونِ}؛ فمن رحمته بعباده أن قيَّضَ العقوباتِ الغليظةَ على من خالف أمره وبيَّنها لهم وبيَّن لهم الأسباب الموصلة إليها. {ويبشِّر المؤمنين الذين يعملونَ الصَّالحاتِ أنَّ لهم أجراً حسناً}؛ أي: وأنزل الله على عبدِهِ الكتاب ليبشِّر المؤمنين به وبرسلِهِ وكتبِهِ الذين كمل إيمانهم، فأوجب لهم عمل الصالحات، وهي الأعمال الصالحة من واجبٍ ومستحبٍّ، التي جمعت الإخلاص والمتابعة: {أنَّ لهم أجراً حسناً}: وهو الثوابُ الذي رتَّبه الله على الإيمان والعمل الصالح، وأعظمُهُ وأجلُّه الفوز برضا الله ودخول الجنة التي فيها ما لا عينٌ رأت ولا أذنٌ سمعت ولا خَطَرَ على قلب بشر. وفي وصفه بالحُسْنِ دلالةٌ على أنَّه لا مكدِّر فيه ولا منغِّص بوجه من الوجوه؛ إذْ لو وُجِدَ فيه شيءٌ من ذلك؛ لم يكن حسنُهُ تامًّا.