تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
کہف کا معنی پہاڑ میں کھلی اور وسیع غار ہے، تنگ غار کو{ ”غَارٌ“ } یا {”مَغَارَةٌ“ } کہتے ہیں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے کہف والوں کا قصہ بیان فرمایا ہے، جس میں اللہ پر ایمان کی برکات بیان ہوئی ہیں کہ اس کی بدولت کس طرح آدمی دشمن سے محفوظ اور تمام دنیا سے بے نیاز ہو جاتا ہے، اس میں حق کہنے کی کتنی جرأت پیدا ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کیسے عجیب طریقوں سے عزت و کرامت عطا فرماتا ہے۔ (مہائمی) اس کی فضیلت میں متعدد احادیث ثابت ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُوْرَةِ الْكَهْفِ، عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ] [مسلم، صلاۃ المسافرین، باب فضل سورۃ الکہف و آیۃ الکرسی: ۸۰۹]”جو شخص سورۂ کہف کی شروع کی دس آیات حفظ کرلے وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔“ مسلم کی اس حدیث میں اس سورت کی آخری دس آیات کی بھی یہی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اس سورت کے پڑھنے سے گھر میں سکینت اور برکت کا نزول ہوتا ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: [كَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ سُوْرَةَ الْكَهْفِ وَإِلٰی جَانِبِهِ حِصَانٌ مَرْبُوْطٌ بِشَطَنَيْنِ، فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدْنُوْ وَ تَدْنُوْ، وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَي النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذٰلِكَ لَهُ، فَقَالَ تِلْكَ السَّكِيْنَةُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْآنِ] ”ایک آدمی سورۂ کہف پڑھ رہا تھا، اس کے ایک طرف ایک گھوڑا تھا جو دو رسیوں سے بندھا ہوا تھا، تو اسے بادل کے ایک ٹکڑے نے ڈھانپ لیا، پھر اس نے قریب آنا شروع کر دیا اور مزید قریب آتا گیا، چنانچہ اس کا گھوڑا بدکنے لگا، جب صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سکینت تھی جو قرآن کے ساتھ اتری۔“ [بخاری، فضائل القرآن، باب فضل الکہف: ۵۰۱۱] ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ مَنْ قَرَأَ سُوْرَةَ الْكَهْفِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَضَاءَ لَهٗ مِنَ النُّوْرِ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ] [مستدرک حاکم: 368/2، ح: ۳۳۹۲، صححہ الألباني في صحیح الجامع: ۶۴۷۰] ”جو شخص جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھے تو دو جمعوں کے درمیان اس کے لیے نور روشن رہے گا۔“
(آیت 1) ➊ { اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْۤ …:} یہ سورت ان پانچ سورتوں میں شامل ہے جن کی ابتدا {” اَلْحَمْدُ “} کے ساتھ ہوئی ہے، دوسری چار سورتیں فاتحہ، انعام، سبا اور فاطر ہیں۔ پچھلی سورت کا خاتمہ بھی {” اَلْحَمْدُ “} کے ساتھ ہوا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہر کام کی ابتدا اور انتہا اللہ کے پاکیزہ نام کے ساتھ یا اس کی حمد کے ساتھ کرنی چاہیے۔ ان تمام سورتوں میں سے ہر سورت کا طریقہ اگرچہ مختلف ہے مگر مقصود لوگوں کو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ حمد کے لائق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے، اور کوئی نہیں، کیونکہ کسی میں کوئی خوبی ہے تو اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کر دہ ہے۔
➋ {الَّذِيْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ:} سورۂ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ کے تمام حمد کا مالک ہونے کی دلیل کے لیے چار صفات بیان ہوئی ہیں، یہاں اللہ تعالیٰ کے تمام حمد اور خوبیوں کا مالک ہونے کی ایک ہی دلیل بیان کی گئی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر {”الْكِتٰبَ “} نازل فرمانا ہے۔ کیونکہ دوسرے تمام انعامات اگرچہ ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں مگر یہ نعمت سب سے اہم ہے، کیونکہ اس پر ہمیشہ کی زندگی یعنی اخروی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار ہے۔
➌ { عَلٰى عَبْدِهِ:} ”اپنے بندے پر، اپنے غلام پر“ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خاص عبد قرار دینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے انتہا شان بیان ہوئی ہے، اگرچہ زمین و آسمان میں رہنے والی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی غلام ہے، مگر ”اپنا غلام“ کہنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو عزت ملی وہ بہت کم لوگوں کو ملی ہے، جیسا کہ «سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ» [بنی إسرائیل: ۱] میں ہے اور اس کتاب کی بھی تعریف ہے جو نازل کی گئی۔ {” الْكِتٰبَ “} میں الف لام عہد کا ہے، یعنی یہ کتاب، مراد قرآن کریم ہے، کیونکہ جب صرف {” الْكِتٰبَ “} کہا جائے تو قرآن کریم ہی مراد ہوتا ہے، اس لیے کہ اس کے سوا کسی اور میں یہ کمال ہی نہیں کہ اسے {” الْكِتٰبَ “} کہا جا سکے۔
➍ {وَ لَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا: ” عِوَجًا “} کجی، ٹیڑھا پن۔ {” عِوَجًا “} پر تنوین عموم کے لیے ہے جو نفی کے بعد آکر مزید عام ہو گیا ہے، یعنی اس کتاب میں کسی بھی قسم کا کوئی ٹیڑھا پن نہیں، نہ الفاظ میں، نہ معانی میں، نہ فصاحت و بلاغت میں، نہ یہ کہ اس کی آیات کا آپس میں کوئی اختلاف ہو، یا اس کی کوئی خبر غلط نکلے، یا کوئی حکم حکمت سے خالی ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ زمر (۲۸)، بنی اسرائیل (۹، ۱۰) اور نساء (۸۲)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ براء بن عازب کہتے ہیں کہ ایک شخص رات کو گھر میں یہ سورت پڑھ رہا تھا اور گھوڑا بھی وہیں بندھا ہوا تھا گھوڑا بدکنے لگا۔ اس نے اوپر جو سر اٹھا کر دیکھا تو ایک نور دکھائی دیا جو بادل کی طرح سایہ کیے ہوئے تھا صبح اس نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا یہ سکینہ (نور اطمینان) ہے جو اس کے پڑھنے سے نازل ہوئی تھی۔ [ترمذي، ابواب فضائل القرآن۔ باب ماجاء فى سورة كهف]
اس واقعہ کو بخاری اور مسلم نے بھی روایت کیا ہے۔
2۔ سیدنا ابو الدرداءؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جو شخص اس سورۃ کی ابتدائی تین آیات پڑھتا رہے وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا۔ [ترمذي، ابواب فضائل القرآن۔ باب ماجاء فى سورة الكهف]
اور مسلم میں اس طرح ہے کہ جو شخص سورۃ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرے وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔ [مسلم بحواله مشكوٰة۔ كتاب فضائل القرآن۔ پهلي فصل]
3۔ ابو سعیدؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن سورۃ کہف پڑھے دو جمعوں کے درمیان اس کے لیے نور روشن ہو جاتا ہے۔ [بيهقي فى الدعوات الكبير۔ بحواله مشكوة كتاب فضائل القرآن۔ تيسري فصل]
[1۔ 1] یعنی اللہ تعالیٰ کے مستحق حمد و ثنا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے مطالب صاف صاف بیان کرتی ہے نہ اس کے مطالب میں کوئی پیچ و خم ہے اور نہ اس کے انداز بیان میں کوئی پیچیدگی یا الجھاؤ ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جس ثواب کو پائندگی اور دوام ہے، وہ جنت انہیں ملے گی جس میں کبھی فنا نہیں جس کی نعمتیں غیر فانی ہیں۔ اور انہیں بھی یہ عذابوں سے آگاہ کرتا ہے جو اللہ کی اولاد ٹھیراتے ہیں جیسے مشرکین مکہ کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{الحمد}: هو الثناء عليه بصفاته التي هي كلُّها صفات كمال، وبنعمه الظاهرة والباطنة، الدينيَّة والدنيويَّة، وأجلُّ نعمه على الإطلاق إنزالُه الكتاب العظيم على عبده ورسوله محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، فحمد نفسه، وفي ضمنه إرشادُ العباد ليحمدوه على إرسال الرسول إليهم، وإنزال الكتاب عليهم. ثم وَصَفَ هذا الكتاب بوصفين مشتملين على أنَّه الكامل من جميع الوجوه، وهما: نفي العِوَج عنه، وإثباتُ أنَّه مقيمٌ مستقيمٌ: فنفي العِوَج يقتضي أنَّه ليس في أخباره كذبٌ، ولا في أوامره ونواهيه ظلمٌ ولا عَبَثٌ. وإثبات الاستقامة يقتضي أنَّه لا يخبر ولا يأمر إلاَّ بأجلِّ الإخبارات، وهي الأخبار التي تملأ القلوب معرفةً وإيماناً وعقلاً؛ كالإخبار بأسماء الله وصفاته وأفعاله، ومنها الغيوب المتقدِّمة والمتأخِّرة، وأنَّ أوامره ونواهيه تزكِّي النفوس وتطهِّرها وتنمِّيها وتكمِّلها؛ لاشتمالها على كمال العدل والقِسْط والإخلاص والعبوديَّة لله ربِّ العالمين وحده لا شريكَ له. وحقيقٌ بكتابٍ موصوفٍ بما ذُكِر أن يَحْمَدِ الله نفسَه على إنزالِهِ، وأن يتمدَّح إلى عباده به.