تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ بعض لوگوں نے اس سے عزلت یعنی لوگوں سے علیحدگی اختیار کرنے کا استدلال کیا ہے، حالانکہ اصحابِ کہف نے کفار سے علیحدگی اختیار کی، اپنوں سے نہیں، بلکہ آپس میں تو وہ اکٹھے ہی رہے۔ اسلام میں رہبانیت کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔(قاسمی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[14] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انھیں اپنے دامن رحمت میں لے کر صدیوں تک ان پر نیند طاری کر دی اور جب جاگے تو یہ توحید اور توحید پرستوں کا دشمن بادشاہ دقیانوس مر کھپ چکا تھا اور جو موجودہ بادشاہ تھا اس نے عیسائیت کا مذہب قبول کر لیا تھا اس بادشاہ کا نام قیصر تھیوڈوسیس (Theodosius) ثانی بتایا جاتا ہے۔ اس کے دور میں پوری رومی سلطنت نے عیسائیت کا مذہب قبول کر لیا تھا لہٰذا اب توحید پرستوں پر کوئی ایسی سختی نہ رہی تھی جو دقیانوس کے زمانہ میں تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قال بعضهم لبعض: إذ حَصَلَ لكم اعتزالُ قومكم في أجسامكم وأديانكم؛ فلم يَبْقَ إلاَّ النجاء من شرِّهم والتسبُّب بالأسباب المفضية لذلك؛ لأنَّه لا سبيل لهم إلى قتالهم ولا بقائهم بين أظهرهم وهم على غير دينهم. {فأوُوا إلى الكهفِ}؛ أي: انضمُّوا إليه واختفوا فيه، {يَنْشُرْ لكم ربُّكم من رحمتِهِ ويهيِّئْ لكم من أمرِكُم مِرْفَقاً}: وفيما تقدَّم أخبر أنهم دَعَوْه بقولهم: {ربَّنا آتنا من لَدُنْكَ رحمةً وهَيِّئ لنا من أمرنا رَشَداً}؛ فجمعوا بين التبرِّي من حولهم وقوَّتهم والالتجاء إلى الله في صلاح أمرهم ودعائه بذلك، وبين الثقة بالله أنه سيفعل ذلك، لا جَرَمَ أنَّ الله نَشَرَ لهم من رحمتِهِ وهيَّأ لهم من أمرهم مِرْفَقاً؛ فحفظ أديانهم وأبدانهم، وجعلهم من آياته على خلقه، ونشر لهم من الثناء الحسن ما هو من رحمته بهم، ويسَّر لهم كلَّ سبب، حتَّى المحلَّ الذي ناموا فيه كان على غايةِ ما يمكنُ من الصيانة؛ ولهذا قال: