سُنَّۃَ مَنۡ قَدۡ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ مِنۡ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحۡوِیۡلًا ﴿٪۷۷﴾
ان کے طریقے (کی مانند) جنھیں ہم نے تجھ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے بھیجا اور تو ہمارے طریقے میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔
En
جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے تھے ان کا (اور ان کے بارے میں ہمارا یہی) طریق رہا ہے اور تم ہمارے طریق میں تغیروتبدل نہ پاؤ گے
En
ایسا ہی دستور ان کا تھا جو آپ سے پہلے رسول ہم نے بھیجے اور آپ ہمارے دستور میں کبھی ردوبدل نہ پائیں گے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 77) { سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ …:} یعنی پہلے رسولوں کے زمانے میں بھی ہمارا یہ طریقہ رہا کہ جوں ہی ان کی قوم نے انھیں نکالا ان پر عذاب آگیا اور وہ تباہ ہو گئی، البتہ مکہ میں چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کرنے کے بعد بھی کئی مسلمان موجود تھے جو استغفار کرتے تھے اور بعض کفار اور ان کی آئندہ اولاد کے مسلمان ہونے کی امید تھی، اس لیے مکہ کو پہلی قوموں کی بستیوں کی طرح تباہ نہیں کیا گیا۔ دیکھیے سورۂ فتح (۲۵) اور انفال (۳۳)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
77۔ 1 یعنی یہ دستور پرانا چلا آرہا ہے جو آپ سے پہلے رسولوں کے لئے بھی برتا جاتا رہا ہے کہ جب ان قوموں نے انھیں اپنے وطن سے نکال دیا یا انھیں نکلنے پر مجبور کردیا تو پھر وہ قومیں بھی اللہ کے عذاب سے محفوظ نہ رہیں۔ 77۔ 2 چناچہ اہل مکہ کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے ڈیڑھ سال بعد ہی میدان بدر میں وہ عبرت ناک ذلت و شکست سے دو چار ہوئے اور چھ سال بعد 8 ہجری میں مکہ ہی فتح ہوگیا اور اس ذلت و ہزیمیت کے بعد وہ سر اٹھانے کے قابل نہ رہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
77۔ ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھیجے ان میں یہی ہمارا دستور رہا ہے اور ہمارے اس قانون میں آپ تفاوت نہیں پائیں [95] گے۔
[95] عذاب کے متعلق اللہ کی سنت:۔
اللہ کا دستور یہ ہے کہ جب تک کسی نافرمان قوم میں اللہ کا نبی موجود رہے اس وقت تک اس پر عذاب نہیں آتا۔ اور جب عذاب مقدر ہو جائے تو نبی کو وہاں سے نکال لیا جاتا ہے یا ہجرت کرنے کا حکم دے دیا جاتا ہے اور جب نبی نکل جاتا ہے تو پھر عذاب کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ براہ راست اس قوم پر عذاب نازل کر کے اس قوم کو تباہ کر دے اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کے ہاتھوں اس سرکش قوم کو پٹوا دے۔ جن کو ان مجرموں نے ہجرت پر مجبور کر دیا تھا یا ان کے بجائے کسی دوسری قوم سے انھیں سزا دلوا دے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
وطنی عصبیت اور یہودی ٭٭
کہتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ آپ کو ملک شام چلا جانا چاہیئے وہی نبیوں کا وطن ہے اس شہر مدینہ کو چھوڑ دینا چاہیئے اس پر یہ آیت اتری۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے اس لیے کہ یہ آیت مکی ہے اور مدینے میں آپ کی رہائش اس کے بعد ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ تبوک کے بارے میں یہ آیت اتری ہے، یہودیوں کے کہنے سے کہ شام جو نبیوں کی اور محشر کی زمین ہے آپ کو وہیں رہنا چاہیئے، اگر آپ سچے پیغمبر ہیں تو وہاں چلے جائیں، آپ نے انہیں ایک حد تک سچا سمجھا۔
غزوہ تبوک سے آپ کی نیت یہی تھی لیکن تبوک پہنچتے ہی سورۃ بنی اسرائیل کی آیتیں اتریں، اس کے بعد کہ سورت ختم کر دی گئی تھی آیت «وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا * سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:77] تک اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو مدینے کی واپسی کا حکم دیا اور فرمایا وہیں آپ کی موت و زیست اور وہیں سے دوبارہ اٹھ کر کھڑا ہونا ہے۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:353/4]
غزوہ تبوک سے آپ کی نیت یہی تھی لیکن تبوک پہنچتے ہی سورۃ بنی اسرائیل کی آیتیں اتریں، اس کے بعد کہ سورت ختم کر دی گئی تھی آیت «وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا * سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:77] تک اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو مدینے کی واپسی کا حکم دیا اور فرمایا وہیں آپ کی موت و زیست اور وہیں سے دوبارہ اٹھ کر کھڑا ہونا ہے۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:353/4]
لیکن اس کی سند بھی غور طلب ہے اور صاف ظاہر ہے کہ یہ واقعہ بھی ٹھیک نہیں، تبوک کا غزوہ یہود کے کہنے سے نہ تھا بلکہ اللہ کا فرمان موجود ہے آیت «ا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ» ۱؎ [9-التوبة:123] ’ جو کفار تمہارے اردگرد ہیں ان سے جہاد کرو۔ ‘
اور آیت میں ہے کہ «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ» ۱؎ [9-التوبة:29] ’ جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اللہ رسول کے حرام کردہ کو حرام نہیں سمجھتے اور حق کو قبول نہیں کرتے ایسے اہل کتاب سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو یہاں تک کہ وہ ذلت کے ساتھ جزیہ دینا منظور کر لیں۔ ‘
اور اس غزوے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے جو اصحاب جنگ موتہ میں شہید کر دئے گئے تھے ان کا بدلہ لیا جائے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور اگر مندرجہ بالا واقعہ صحیح ہو جائے تو اسی پر وہ حدیث محمول کی جائے گی، جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «أنزل القرآن في ثلاثة أمكنة: مكة، والمدينة، والشام» مکہ، مدینہ اور شام میں قرآن نازل ہوا ہے۔ } ولید تو اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ شام سے مراد بیت المقدس ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7718:ضعیف] لیکن شام سے مراد تبوک کیوں نہ لیا جائے جو بالکل صاف اور بہت درست ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور آیت میں ہے کہ «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ» ۱؎ [9-التوبة:29] ’ جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اللہ رسول کے حرام کردہ کو حرام نہیں سمجھتے اور حق کو قبول نہیں کرتے ایسے اہل کتاب سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو یہاں تک کہ وہ ذلت کے ساتھ جزیہ دینا منظور کر لیں۔ ‘
اور اس غزوے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے جو اصحاب جنگ موتہ میں شہید کر دئے گئے تھے ان کا بدلہ لیا جائے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور اگر مندرجہ بالا واقعہ صحیح ہو جائے تو اسی پر وہ حدیث محمول کی جائے گی، جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «أنزل القرآن في ثلاثة أمكنة: مكة، والمدينة، والشام» مکہ، مدینہ اور شام میں قرآن نازل ہوا ہے۔ } ولید تو اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ شام سے مراد بیت المقدس ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7718:ضعیف] لیکن شام سے مراد تبوک کیوں نہ لیا جائے جو بالکل صاف اور بہت درست ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد کافروں کا وہ ارادہ ہے جو انہوں نے مکے سے جلا وطن کرنے کے بارے میں کیا تھا چنانچہ یہی ہوا بھی کہ جب انہوں نے آپ کو نکالا۔ پھر یہ بھی وہاں زیادہ مدت نہ گزار سکے، اللہ تعالیٰ نے فوراً ہی آپ کو غالب کیا۔ ڈیڑھ سال ہی گزرا تھا کہ بدر کی لڑائی بغیر کسی تیاری اور اطلاع کے اچانک ہو گئی اور وہیں کافروں کا اور کفر کا دھڑ ٹوٹ گیا، ان کے شریف و رئیس تہ تیغ ہوئے، ان کی شان و شوکت خاک میں مل گئی، ان کے سردار قید میں آ گئے۔
پس فرمایا کہ یہی عادت پہلے سے جاری ہے۔ سابقہ رسولوں کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ کفار نے جب انہیں تنگ کیا اور دیس سے نکال دیا پھر وہ بچ نہ سکے، عذاب اللہ نے انہیں غارت اور بے نشان کردیا۔ ہاں چونکہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم رسول رحمت تھے، اس لیے کوئی آسمانی عام عذاب ان کافروں پر نہ آیا۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ» ۱؎ [8-الأنفال:33] ’ یعنی تیری موجودگی میں اللہ انہیں عذاب نہ کرے گا۔ ‘
پس فرمایا کہ یہی عادت پہلے سے جاری ہے۔ سابقہ رسولوں کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ کفار نے جب انہیں تنگ کیا اور دیس سے نکال دیا پھر وہ بچ نہ سکے، عذاب اللہ نے انہیں غارت اور بے نشان کردیا۔ ہاں چونکہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم رسول رحمت تھے، اس لیے کوئی آسمانی عام عذاب ان کافروں پر نہ آیا۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ» ۱؎ [8-الأنفال:33] ’ یعنی تیری موجودگی میں اللہ انہیں عذاب نہ کرے گا۔ ‘