تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًا:} چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ بعد میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے تو ڈیڑھ سال کے بعد ان کے بڑے بڑے سردار بدر میں مارے گئے، آپ کی بددعا سے اہل مکہ قحط اور خوف کا شکار ہو گئے، حتیٰ کہ آٹھ(۸) ہجری میں خود مکہ بھی فتح ہو گیا، جس سے ان کی شان و شوکت اور حکومت خاک میں مل گئی۔ ایک مغرور قوم کے لیے یہ عذاب ہی کیا کم ہے کہ وہی شخص جسے انھوں نے نکالا تھا، ان پر فتح پا کر شہر کا مالک بن جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
غزوہ تبوک سے آپ کی نیت یہی تھی لیکن تبوک پہنچتے ہی سورۃ بنی اسرائیل کی آیتیں اتریں، اس کے بعد کہ سورت ختم کر دی گئی تھی آیت «وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا * سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:77] تک اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو مدینے کی واپسی کا حکم دیا اور فرمایا وہیں آپ کی موت و زیست اور وہیں سے دوبارہ اٹھ کر کھڑا ہونا ہے۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:353/4]
اور آیت میں ہے کہ «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ» ۱؎ [9-التوبة:29] ’ جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اللہ رسول کے حرام کردہ کو حرام نہیں سمجھتے اور حق کو قبول نہیں کرتے ایسے اہل کتاب سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو یہاں تک کہ وہ ذلت کے ساتھ جزیہ دینا منظور کر لیں۔ ‘
اور اس غزوے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے جو اصحاب جنگ موتہ میں شہید کر دئے گئے تھے ان کا بدلہ لیا جائے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور اگر مندرجہ بالا واقعہ صحیح ہو جائے تو اسی پر وہ حدیث محمول کی جائے گی، جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «أنزل القرآن في ثلاثة أمكنة: مكة، والمدينة، والشام» مکہ، مدینہ اور شام میں قرآن نازل ہوا ہے۔ } ولید تو اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ شام سے مراد بیت المقدس ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:7718:ضعیف] لیکن شام سے مراد تبوک کیوں نہ لیا جائے جو بالکل صاف اور بہت درست ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پس فرمایا کہ یہی عادت پہلے سے جاری ہے۔ سابقہ رسولوں کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ کفار نے جب انہیں تنگ کیا اور دیس سے نکال دیا پھر وہ بچ نہ سکے، عذاب اللہ نے انہیں غارت اور بے نشان کردیا۔ ہاں چونکہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم رسول رحمت تھے، اس لیے کوئی آسمانی عام عذاب ان کافروں پر نہ آیا۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ» ۱؎ [8-الأنفال:33] ’ یعنی تیری موجودگی میں اللہ انہیں عذاب نہ کرے گا۔ ‘
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإن كادوا لَيَسْتَفِزُّونك من الأرض لِيُخْرِجوك منها}؛ أي: من بغضهم لمقامك بين أظهرهم، قد كادوا أن يخرجوك من الأرضِ ويُجْلوك عنها، ولو فعلوا ذلك؛ لم يلبثوا بعدك فيها إلاَّ قليلاً، حتى تحلَّ بهم العقوبة؛ كما هي سنة الله التي لا تحول ولا تبدل في جميع الأمم، كل أمة كذبت رسولها وأخرجته؛ عاجلها الله بالعقوبة، ولمَّا مكر به الذين كفروا وأخرجوه؛ لم يلبثوا إلاَّ قليلاً حتَّى أوقع الله بهم ببدرٍ، وقَتَلَ صناديدهم، وفَضَّ بيضتهم؛ فله الحمد.
وفي هذه الآيات دليلٌ على شدة افتقار العبد إلى تثبيت الله إياه، وأنَّه [ينبغي له أن] لا يزال متملِّقاً لربِّه أن يثبته على الإيمان ساعياً في كلِّ سبب موصل إلى ذلك؛ لأنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - - وهو أكمل الخلق - قال الله له: {ولولا أن ثَبَّتْناك لقد كِدت تَرْكَنُ إليهم شيئاً قليلاً}؛ فكيف بغيره؟!
وفيها: تذكيرُ الله لرسوله منَّته عليه وعصمته من الشرِّ، فدلَّ ذلك على أنَّ الله يحبُّ من عباده أن يتفطَّنوا لإنعامه عليهم عند وجود أسباب الشرِّ بالعصمة منه والثبات على الإيمان.
وفيها: أنه بحسب علوِّ مرتبة العبد وتواتُرِ النِّعم عليه من الله يَعْظُمُ إثمُهُ ويتضاعفُ جرمُهُ إذا فعل ما يُلام عليه؛ لأنَّ الله ذكَّر رسوله لو فعل - وحاشاه من ذلك - بقوله: {إذاً لأذَقْناك ضعفَ الحياة وضعفَ الممات ثم لا تجِدُ لك علينا نصيراً}.
وفيها: أنَّ الله إذا أراد إهلاك أمَّة؛ تضاعف جُرمها وعَظُم وكَبُر، فيحقُّ عليها القولُ من الله، فيوقع بها العقاب؛ كما هي سنَّته في الأمم إذا أخرجوا رسولهم.