ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 60

وَ اِذۡ قُلۡنَا لَکَ اِنَّ رَبَّکَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ؕ وَ مَا جَعَلۡنَا الرُّءۡیَا الَّتِیۡۤ اَرَیۡنٰکَ اِلَّا فِتۡنَۃً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَۃَ الۡمَلۡعُوۡنَۃَ فِی الۡقُرۡاٰنِ ؕ وَ نُخَوِّفُہُمۡ ۙ فَمَا یَزِیۡدُہُمۡ اِلَّا طُغۡیَانًا کَبِیۡرًا ﴿٪۶۰﴾
اور جب ہم نے تجھ سے کہا کہ بے شک تیرے رب نے لوگوں کا احاطہ کر رکھا ہے اور ہم نے وہ منظر جو تجھے دکھایا، نہیں بنایا مگر لوگوں کے لیے آزمائش اور وہ درخت بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے۔ اور ہم انھیں ڈراتے ہیں تو یہ انھیں بہت بڑی سرکشی کے سوا زیادہ نہیں کرتا۔ En
جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اور جو نمائش ہم نے تمہیں دکھائی اس کو لوگوں کے لئے آرمائش کیا۔ اور اسی طرح (تھوہر کے) درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی۔ اور ہم انہیں ڈراتے ہیں تو ان کو اس سے بڑی (سخت) سرکشی پیدا ہوتی ہے
En
اور یاد کرو جب کہ ہم نے آپ سے فرما دیا کہ آپ کے رب نے لوگوں کو گھیر لیا ہے۔ جو رویا (عینی رؤیت) ہم نے آپ کو دکھائی تھی وه لوگوں کے لئے صاف آزمائش ہی تھی اور اسی طرح وه درخت بھی جس سے قرآن میں اﻇہار نفرت کیا گیا ہے۔ ہم انہیں ڈرا رہے ہیں لیکن یہ انہیں اور بڑی سرکشی میں بڑھا رہا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 60) ➊ { وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ:} لوگوں سے مراد کفار مکہ ہیں اور ان کا احاطہ کر لینے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنا پورا زور لگانے کے باوجود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے اور نہ آپ کی دعوت کو پھیلنے سے روک سکے۔ اس سے مقصود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حوصلہ دلانا ہے کہ آپ بے خوف و خطر اپنی دعوت پیش کرتے رہیے، ان لوگوں کی مخالفت کی کوئی پروا نہ کیجیے، یہ آپ کا بال تک بیکا نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ سب پوری طرح ہماری گرفت میں ہیں۔
➋ {وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ: الرُّءْيَا رَأَي يَرَي} (ف) کا مصدر ہے، آیت میں مذکور { الرُّءْيَا } سے مراد زمین اور آسمانوں کی وہ عجیب و غریب چیزیں ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراء و معراج کی رات اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ نے اسراء و معراج کی رات جو کچھ دیکھا ہم نے اسے لوگوں کے لیے فتنہ اور آزمائش ہی بنایا، تاکہ آزمائش ہو جائے کہ کون قوی ایمان والا اور سلیم القلب ہے اور کون ضعیف ایمان والا اور مریض القلب۔ سو مضبوط ایمان والوں کو اسے ماننے میں کوئی تردد نہیں ہوا، چنانچہ وہ امتحان میں کامیاب ہو گئے اور کمزور ایمان والے اور ایمان سے محروم لوگ کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی رات میں مکہ سے بیت المقدس اور ساتوں آسمانوں کے عجائبات دیکھ کر واپس بھی آ جائیں؟ یہ ناممکن ہے۔ سو وہ امتحان میں ناکام ہو گئے۔
➌ { الرُّءْيَا } کا لفظ اکثر خواب میں دیکھنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ یہاں بیداری میں آنکھوں سے دیکھنا مراد ہے اور اس کی دلیل خود یہ آیت ہے۔ کیونکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے کہ میں نے یہ سب کچھ خواب میں دیکھا ہے تو نہ کسی کو تعجب ہوتا اور نہ کوئی فتنہ و امتحان ہوتا، کیونکہ خواب میں ہر شخص کو ناممکن و محال چیزیں دکھائی دے سکتی ہیں۔ امتحان یہی تھا کہ صرف مضبوط اہل ایمان تسلیم کر سکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو یہ سب کچھ رات کے ایک تھوڑے سے حصے میں دکھانے پر قادر ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تصریح فرمائی: [هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلٰی بَيْتِ الْمَقْدِسِ] [بخاری، المناقب، باب المعراج…: ۳۸۸۸] یہ آنکھوں سے دیکھا ہوا منظر تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس رات دکھایا گیا جب آپ کو راتوں رات بیت المقدس لے جایا گیا۔
➍ { وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ:} ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت جو اس سے پہلے فائدے میں بیان ہوئی اس میں انھوں نے اس کی تفسیر زقوم کے درخت سے کی ہے۔ قرآن مجید میں {شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ} کا ذکر دو مقامات پر آیا ہے، سورۂ صافات (۶۲ تا ۶۶) اور سورۂ دخان (۴۳ تا ۴۶) میں۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر لوگوں کے لیے آزمائش کے طور پر کیا گیا، کیونکہ ایمان سے محروم لوگ مان ہی نہیں سکتے کہ بھڑکتی ہوئی آگ کی تہ میں کوئی درخت اگ سکتا ہے، اس کے برعکس اہل ایمان کو اسے ماننے میں کوئی تردد نہیں ہوتا، کیونکہ ان کا ایمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، جبریل امین اور رب العالمین کبھی غلط بیانی نہیں کرتے اور آگ میں درخت پیدا کرنا، یا ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ کو ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔ یہاں زقوم کو شجرۂ ملعونہ کہا گیا ہے، اس کا معنی شجرۂ مذمومہ ہے، یعنی قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے۔
➎ { وَ نُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيْدُهُمْ …:} یعنی ہم کفار کو مختلف طریقوں سے ڈراتے ہیں، مگر اس سے انھیں بہت بڑی سرکشی میں اضافے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

60۔ 1 یعنی لوگ اللہ کے غلبہ و تصرف میں ہیں اور جو اللہ چاہے گا وہی ہوگا نہ کہ جو وہ چاہیں گے، یا مراد اہل مکہ ہیں کہ وہ اللہ کے زیر اقتدار ہیں، آپ بےخوفی سے تبلیغ رسالت کیجئے، وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، ہم ان سے آپ کی حفاظت فرمائیں گے۔ یا جنگ بدر اور فتح مکہ کے موقع پر جس طرح اللہ نے کفار مکہ کو عبرت ناک شکست سے دو چار کیا، اس کو واضح کیا جارہا ہے۔ 60۔ 2 صحابہ وتابعین نے اس رویا کی تفسیر عینی رویت سے کی ہے اور مراد اس سے معراج کا واقعہ ہے، جو بہت سے کمزور لوگوں کے لئے فتنے کا باعث بن گیا اور وہ مرتد ہوگئے۔ اور درخت سے مراد (تھوہر) کا درخت ہے، جس کا مشاہدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج، جہنم میں کیا۔ اَ لْمَلْعُونَۃَسے مراد، کھانے والوں پر یعنی جہنمیوں پر لعنت۔ جیسے دوسرے مقام پر ہے کہ۔ ان شجرۃ الزقوم۔ طعام الاثیم۔ زقوم کا درخت، گناہ گاروں کا کھانا ہے 60۔ 3 یعنی کافروں کے دلوں میں جو خبث وعناد ہے، اس کی وجہ سے، نشانیاں دیکھ کر ایمان لانے کی بجائے، ان کی سرکشی و طغیانی میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ اور جب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کا پروردگار لوگوں کو گھیرے [75] ہوئے ہے۔ اور جو نمائش [76] (واقعہ معراج) ہم نے آپ کو دکھائی اور وہ درخت جس پر قرآن [77] میں لعنت کی گئی ہے انھیں ان لوگوں کے لئے بس ایک آزمائش بنا رکھا ہے۔ ہم انھیں ڈراتے رہتے ہیں مگر تنبیہ ان کی سرکشی میں اضافہ ہی کرتی جاتی ہے۔
[75] اس سے مراد سورۃ بروج کی آیت نمبر 19 اور 20 ہیں، یعنی کافر تو آپ کو اور اس دعوت قرآن کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں جبکہ اللہ انھیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے اور سورۃ بروج اس سورۃ بنی اسرائیل سے بہت پہلے نازل ہو چکی تھی۔ اور اس سے مراد یہ ہے کہ یہ کفار مکہ اپنی معاندانہ سرگرمیوں میں جتنی بھی کوشش چاہے کر لیں۔ یہ ایک حد سے آگے نہ جا سکیں گے اور ان کی ان کوششوں کے علی الرغم دعوت اسلام پھیل کر رہے گی۔
[76] کافر حسی معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے:۔
واقعۂ معراج ایک خرق عادت واقعہ اور معجزہ تھا۔ کفار نے اس معجزہ کا اتنا مذاق اڑایا کہ بعض ضعیف الاعتقاد مسلمان بھی شک میں پڑ گئے۔ پھر کافر جنہوں نے پہلے بیت المقدس دیکھا ہوا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات پوچھنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے سامنے سے سب پردے ہٹا دیئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کافروں کے تمام سوالوں کے جوابات دیتے گئے۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ کسی حسی معجزہ کے طالب کفار ایمان لے آتے۔ لیکن وہ ان کے لیے آزمائش بن گیا جس میں یہ ناکام ہوئے اور پہلے سے بھی زیادہ سرکشی کی راہ اختیار کرنے لگے۔
[77] ملعون درخت اور معراج دونوں سے کفار مکہ کی آزمائش:۔
اسی طرح سورۃ صافات میں ایک اور خرق عادت بات کی اطلاع دی گئی تھی جو یہ تھی کہ ”جہنم کی تہہ سے تھوہر کا درخت اگے گا۔ یہی اہل جہنم کا کھانا ہو گا جس کے علاوہ انھیں کوئی کھانے کی چیز نہ ملے گی“ [37: 62 تا 66]
اس بات پر بھی کافروں نے بہت لے دے کی کہ آگ میں بھلا یہ درخت کیسے اگ سکتا ہے؟ یہ بھی در اصل اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا انکار ہے کہ اپنی عقل کے پیمانے سے اسے ناپنے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ آگ میں درخت یا پودے تو درکنار جاندار بھی پیدا ہوتے اور زندہ رہتے ہیں۔ آگ کا کیڑا سمندری آگ ہی سے پیدا ہوتا اور اسی میں زندہ رہتا ہے۔ پھر کئی پودے ایسے بھی ہیں جن سے آگ نکلتی ہے۔ یہ تو اس دنیا کا حال ہے اور اخروی عالم اور دوزخ کی کیفیت جب ہم پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکتے اور نہ کوئی چیز تجربہ میں آ سکتی ہے تو انکار کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ انکار تو اس صورت میں معقول ہو سکتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کی باقی سب قدرتوں کو پوری طرح سمجھ چکا ہو اور بس یہی ایک بات باقی رہ گئی ہو۔ انسان کا علم تو اتنا ناقص ہے کہ وہ اپنے جسم کے اندر کی چیزوں کی کیفیت بھی نہیں سمجھ سکتا تو پھر دوسرے عجائبات سے انکار کرنے یا ان کا مذاق اڑانے کا کیا حق ہے یہ دوسری بات تھی جو ان کفار کی سرکشی بڑھانے کا سبب بن گئی تھی۔ اور یہ درخت ملعون اس لحاظ سے ہے کہ اس میں غذائیت تو نام کو نہیں ہوتی۔ کانٹے بڑے سخت اور تیز ہوتے ہیں جو اہل دوزخ کی اذیت میں مزید اضافہ ہی کریں گے۔ واقعہ معراج کی طرح، تھوہر کے درخت کی آگ میں پیدائش بھی کافروں کے لیے فتنہ بن گئی تھی۔ اور واقعہ معراج کے فتنہ بننے سے بھی یہ بات از خود ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ سفر جسمانی تھا، روحانی یا کشفی نہیں تھا کیونکہ خواب میں تو ہر انسان ایسے یا اس سے عجیب تر واقعات دیکھ سکتا ہے لیکن کبھی کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مقصد معراج
اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ دین کی رغبت دلا رہا ہے اور آپ کے بچاؤ کی ذمہ داری لے رہا ہے کہ سب لوگ اسی کی قدرت تلے ہیں، وہ سب پر غالب ہے، سب اس کے ماتحت ہیں، وہ ان سب سے تجھے بچاتا رہے گا۔ جو ہم نے تجھے دکھایا وہ لوگوں کے لیے ایک صریح آزمائش ہے۔ یہ دکھانا معراج والی رات تھا، جو آپ کی آنکھوں نے دیکھا۔ ملعون نفرتی درخت سے مراد زقوم کا درخت ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4716]‏‏‏‏
بہت سے تابعین اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ دکھانا آنکھ کا دکھانا، مشاہدہ تھا جو شب معراج میں کرایا گیا تھا۔ معراج کی حدیثیں پوری تفصیل کے ساتھ اس سورت کے شروع میں بیان ہو چکی ہیں۔ یہ بھی گزر چکا ہے کہ معراج کے واقعہ کو سن کے بہت سے مسلمان مرتد ہو گئے اور حق سے پھر گئے کیونکہ ان کی عقل میں یہ نہ آیا تو اپنی جہالت سے اسے جھوٹا جانا اور دین کو چھوڑ بیٹھے۔
ان کے برخلاف کامل ایمان والے اپنے یقین میں اور بڑھ گئے اور ان کے ایمان اور مضبوط ہو گئے۔ ثابت قدمی اور استقلال میں زیادہ ہو گئے۔ پس اس واقعہ کو لوگوں کی آزمائش اور ان کے امتحان کا ذریعہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کر دیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خبر دی اور قرآن میں آیت اتری کہ دزخیوں کو زقوم کا درخت کھلایا جائے گا اور آپ نے اسے دیکھا بھی تو کافروں نے اسے سچ نہ مانا اور ابوجہل ملعون مذاق اڑاتے ہوئے کہنے لگا لاؤ کھجور اور مکھن لاؤ اور اس کا زقوم کرو یعنی دونوں کو ملا دو اور خوب شوق سے کھاؤ بس یہی زقوم ہے، پھر اس خوراک سے گھبرانے کے کیا معنی؟
ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد بنو امیہ ہیں لیکن یہ قول بالکل ضعیف اور غریب ہے۔ پہلے قول کے قائل وہ تمام مفسر ہیں جو اس آیت کو معراج کے بارے میں مانتے ہیں۔ جیسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مسروق، ابو مالک، حسن بصری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔ { سیدنا سہل بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں قبیلے والوں کو اپنے منبر پر بندروں کی طرح ناچتے ہوئے دیکھا اور آپ کو اس سے بہت رنج ہوا پھر انتقال تک آپ پوری ہنسی سے ہنستے ہوئے نہیں دکھائی دئے اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22433]‏‏‏‏ لیکن یہ سند بالکل ضعیف ہے۔
محمد بن حسن بن زبالہ متروک ہے اور ان کے استاد بھی بالکل ضعیف ہیں۔ خود امام ابن جریر رحمہ اللہ کا پسندیدہ قول بھی یہی ہے کہ مراد اس سے شب معراج ہے اور شجرۃ الزقوم ہے کیونکہ مفسرین کا اس پر اتفاق ہے۔ ہم کافروں کو اپنے عذابوں وغیرہ سے ڈرا رہے ہیں لیکن وہ اپنی ضد، تکبر، ہٹ دھرمی اور بے ایمانی میں اور بڑھ رہے ہیں۔