کہہ پکارو ان کو جنھیں تم نے اس کے سوا گمان کر رکھا ہے، پس وہ نہ تم سے تکلیف دور کرنے کے مالک ہیں اور نہ بدلنے کے۔
En
کہو کہ (مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے ان کو بلا کر دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کے بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے
(آیت 56) ➊ {قُلِادْعُواالَّذِيْنَزَعَمْتُمْ …:} آلوسی نے فرمایا، زعم ظن (یعنی گمان) کے قریب ہے، کبھی جس بات میں شک ہو اس پر بھی ”زعم“ بولا جاتا ہے۔ بعض اوقات کذب (غلط بیانی) کے معنی میں بھی ہوتا ہے اور کبھی ثابت شدہ سچی بات پر بھی بول لیا جاتا ہے جس میں کوئی شک نہ ہو، جیسا کہ کئی احادیث میں ہے، ایسے تمام مقامات میں زعم کا معنی {”قَالَ“} ہو گا۔ زعم ان افعال میں سے ہے جو دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتے ہیں۔ یہاں دونوں مفعول محذوف ہیں، یعنی {”زَعَمْتُمُوْهُمْآلِهَةً“} کہ ان لوگوں کو بلاؤ جنھیں تم نے معبود گمان کر رکھا ہے، یعنی فرشتے، جن، بزرگ، بت، غرض تمام وہ لوگ جن کی تم عبادت کرتے ہو اور مشکلات میں انھیں پکارتے ہو اور انھیں اپنے معبود گمان کرتے اور حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہو، انھیں پکارو۔ ➋ {فَلَايَمْلِكُوْنَكَشْفَالضُّرِّعَنْكُمْوَلَاتَحْوِيْلًا:} پس وہ نہ تم سے تکلیف دور کرنے کے مالک ہیں اور نہ تم سے ہٹا کر کسی اور کی طرف منتقل کر دینے کے مالک ہیں، پھر کیوں انھیں سجدہ کرتے اور مدد کے لیے پکارتے ہو؟ یہ مضمون اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر بیان فرمایا ہے، دیکھیے سورۂ انعام (۱۷، ۴۰،۴۱)، یونس (۱۰۷) اور سورۂ نمل(۶۲)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
56۔ آپ ان سے کہئے: ان کو پکارو جنہیں تم اللہ کے سوا معبود سمجھتے ہو، وہ تم سے تکلیف کو نہ ہٹا سکتے ہیں [69] اور نہ بدل سکتے ہیں۔
[69] اس آیت میں عموم ہے یعنی خواہ وہ پتھر کے بت ہوں یا فرشتے یا جن ہوں یا فوت شدہ نبی اور اولیاء ہوں سب اس میں شامل ہیں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ شرک صرف بتوں کو سجدہ کرنے کا نام نہیں بلکہ انھیں مشکل کے وقت پکارنا بھی ویسا ہی شرک ہے اور اس بات کی کئی دوسری آیات اور احادیث صحیحہ سے بھی تائید ہو جاتی ہے اور تیسری یہ بات کہ معبود خواہ کسی بھی قسم سے تعلق رکھتے ہوں نہ وہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ کسی کی بگڑی سنوار سکتے ہیں اور یہ سب مشرکانہ عقائد ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
وسیلہ یا قرب الہٰی ٭٭
اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے کہیئے کہ تم انہیں خوب پکار کر دیکھ لو کہ آیا وہ تمہارے کچھ کام آ سکتے ہیں؟ نہ ان کے بس کی یہ بات ہے کہ مشکل کشائی کریں نہ یہ بات کہ اسے کسی اور پر ٹال دیں، وہ محض بے بس ہیں، قادر اور طاقت والا صرف اللہ واحد ہی ہے۔ مخلوق کا خالق اور سب کا حکمران وہی ہے۔ یہ مشرک کہا کرتے تھے کہ ہم فرشتوں، مسیح اور عزیر کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کے معبود تو خود اللہ کی نزدیکی کی جستجو میں ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ { جن جنات کی یہ مشرکین پرستش کرتے تھے وہ خود مسلمان ہو گئے تھے لیکن یہ اب تک اپنے کفر پر جمے ہوئے ہیں۔ } ۱؎[صحیح بخاری:4714] اس لیے انہیں خبردار کیا گیا کہ تمہارے معبود خود اللہ کی طرف جھک گئے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ جن فرشتوں کی ایک قسم سے تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام، مریم علیہا السلام، عزیر علیہ السلام، سورج چاند، فرشتے سب قرب الٰہی کی تلاش میں ہیں۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک مطلب یہ ہے کہ جن جنوں کو یہ پوجتے تھے آیت میں وہی مراد ہیں کیونکہ مسیح علیہ السلام وغیرہ کا زمانہ تو گزر چکا تھا اور فرشتے پہلے ہی سے عابد الٰہی تھے تو مراد یہاں بھی جنات ہیں۔
وسیلہ کے معنی قربت و نزدیکی کے ہیں جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔ یہ سب بزرگ اسی دھن میں ہیں کہ کون اللہ سے زیادہ نزدیکی حاصل کر لے؟ وہ اللہ کی رحمت کے خواہاں اور اس کے عذاب سے ترساں ہیں۔ حقیقت میں بغیر ان دونوں باتوں کے عبادت نا مکمل ہے۔ خوف گناہوں سے روکتا ہے اور امید اطاعت پر آمادہ کرتی ہے۔ درحقیقت اس کے عذاب ڈرنے کے لائق ہیں۔ اللہ ہمیں بچائے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔