ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 51

اَوۡ خَلۡقًا مِّمَّا یَکۡبُرُ فِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ ۚ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ مَنۡ یُّعِیۡدُنَا ؕ قُلِ الَّذِیۡ فَطَرَکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ۚ فَسَیُنۡغِضُوۡنَ اِلَیۡکَ رُءُوۡسَہُمۡ وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہُوَ ؕ قُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ قَرِیۡبًا ﴿۵۱﴾
یا کوئی ایسی مخلوق جو تمھارے سینوں میں بڑی (معلوم) ہو۔ تو عنقریب وہ کہیں گے کون ہمیں دوبارہ پیدا کرے گا؟ کہہ دے وہی جس نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا، تو ضرور وہ تیری طرف اپنے سر تعجب سے ہلائیں گے اور کہیں گے یہ کب ہوگا؟ کہہ امید ہے کہ وہ قریب ہو۔ En
یا کوئی اور چیز جو تمہارے نزدیک (پتھر اور لوہے سے بھی) بڑی (سخت) ہو (جھٹ کہیں گے) کہ (بھلا) ہمیں دوبارہ کون جِلائے گا؟ کہہ دو کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا۔ تو (تعجب سے) تمہارے آگے سرہلائیں گے اور پوچھیں گے کہ ایسا کب ہوگا؟ کہہ دو کہ امید ہے جلد ہوگا
En
یا کوئی اور ایسی خلقت جو تمہارے دلوں میں بہت ہی سخت معلوم ہو، پھر وه پوچھیں کہ کون ہے جو دوباره ہماری زندگی لوٹائے؟ آپ جواب دے دیں کہ وہی اللہ جس نے تمہیں اول بار پیدا کیا، اس پر وه اپنے سر ہلا ہلا کر آپ سے دریافت کریں گے کہ اچھا یہ ہے کب؟ تو آپ جواب دے دیں کہ کیا عجب کہ وه (ساعت) قریب ہی آن لگی ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 50 میں تا آیت 52 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

51۔ 1 یعنی اس سے بھی زیادہ سخت چیز، جو تمہارے علم میں ہو، وہ بن جاؤ اور پھر پوچھو کہ کون زندہ کرے گا؟ 51۔ 2 انغض۔ ینغض کے معنی ہیں سر ہلانا۔ یعنی استہزاء کے طور پر سر ہلا کر وہ کہیں گے کہ یہ دوبارہ زندگی کب ہوگی؟ 51۔ 3 قریب کا مطلب ہے، ہونے والی چیز کُلُّ مَا ھُوَ آتٍ فَھُّوَ قَرِیْب ہر وقوع پذیر ہونے والی چیز قریب ہے ' یعنی قیامت کا وقوع یقینی اور ضروری ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

51۔ یا اس سے سخت تر مخلوق جو تمہارے [61] جی میں آئے (ہو جاؤ تو بھی اللہ دوبارہ پیدا کر دے گا) پھر پوچھتے ہیں کہ: ”ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا؟“ آپ کہئے: کہ وہی پیدا کرے گا جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے۔ پھر وہ آپ کے سامنے اپنے سر ہلائیں گے اور پوچھیں گے کہ: ”ایسا ہو گا کب؟ [62]“ آپ کہئے کہ: ”شاید وہ وقت قریب ہو“
[61] یعنی تمہیں یہ خیال ہے کہ ہماری ہڈیاں گل سڑ کر اور ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں مل کر مٹی ہی بن جائیں گی تو پھر کیسے پیدا ہوں گے مگر مٹی تو پھر بھی ایک ایسی چیز ہے جو مسام دار ہے اور پانی اور ہوا اس کے اندر داخل ہو سکتے ہیں جو زندگی کے لیے ضروری عناصر ہیں اس سے ہر قسم کی نباتات بھی اگتی ہے لیکن اگر تم کوئی سخت چیز بن جاؤ جیسے پتھر کہ جس کے اندر پانی یا ہوا داخل نہیں ہو سکتے اور اس کے اجزاء اور ذرات مٹی کی نسبت آپس میں بہت زیادہ جڑے ہوئے اور پیوست ہوتے ہیں یا پتھر سے بھی سخت چیز مثلاً لوہا بن جاؤ یا اس سے بھی کوئی سخت چیز جو تمہارے دل میں آسکتی ہو، وہ بن جاؤ تب بھی اللہ تمہیں اس سخت چیز سے دوبارہ زندہ کر کے اٹھا کھڑا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔
[62] بعث بعد الموت پر کفار کے اعتراضات:۔
پھر ان مشرکوں کا دوسرا سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ کون سی ہستی ہے جو ہمیں دوبارہ پیدا کرے گی؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اور کئی دوسرے مقامات پر بھی یہ دیا ہے کہ جس ہستی نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا وہ دوسری بار بھی پیدا کر سکتی ہے اور یہ تو واضح بات ہے کہ دوسری بار پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے کی نسبت آسان ہوتا ہے۔ یہ جواب سن کر وہ از راہ مذاق سر ہلاتے اور کہتے ہیں کہ اچھا یہ بات تو سمجھ آگئی مگر بتاؤ یہ ایسا واقعہ ہو گا کب؟ یہ ان کا تیسرا سوال ہوتا ہے۔ اس سوال کا متعین وقت بتانا اللہ کی مشیئت کے خلاف ہے جیسا کہ کسی کو اس کی موت کا معین وقت بتانا یا کسی نافرمان قوم کو اس پر عذاب نازل ہونے کا متعین وقت بتانا اللہ کی مشیت کے خلاف ہے کہ اس سے انسان کی پیدائش اور ابتلاء کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے لہٰذا اس سوال کا جواب یہ دیا کہ جس چیز کا واقع ہونا ایک یقینی امر ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے جیسے ہر انسان کی موت یقینی ہے مگر اس کا وقت معین نہیں اور کسی بھی وقت یا ابھی بھی آسکتی ہے لہٰذا اسے قریب ہی سمجھنا چاہیئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔