تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قُلِ الَّذِيْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ:} یعنی جس نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا وہی تمھیں دوبارہ زندہ کرے گا، کیونکہ پہلی بار کسی چیز کا پیدا کرنا مشکل اور دوبارہ آسان ہوتا ہے، تو پھر اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ تمھیں دوبارہ زندگی دے۔ (دیکھیے روم: ۱۹) جبکہ اس کے لیے پہلی اور دوسری مرتبہ پیدا کرنا دونوں یکساں آسان ہیں۔
➌ {فَسَيُنْغِضُوْنَ۠ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ …: ” أَنْغَضَ يُنْغِضُ “} (افعال) کا معنی تعجب یا مذاق کے طور پر سر ہلانا ہے، یعنی لاجواب ہو کر پوچھیں گے، اچھا تو وہ قیامت کب ہو گی؟ آپ ان سے کہہ دیں کہ جب اس کا آنا یقینی ہے تو تمھارا یہ سوال بے کار ہے، جب اس نے آ کر ہی رہنا ہے تو چاہے وہ کتنی دور ہو اسے قریب ہی سمجھو اور اپنی نجات کی فکر کرو۔ اس کی مثال اس نالائق طالب علم کی ہے جسے معلوم ہو کہ امتحان لازماً ہونا ہے، مگر وہ اس کا ہونا اس لیے تسلیم نہ کرے یا اس کے لیے تیاری نہ کرے کہ اس کے منعقد ہونے کی تاریخ معلوم نہیں، یا اس لیے کہ وہ ابھی فوراً کیوں منعقد نہیں ہو رہا۔ ظاہر ہے یہ سراسر حماقت ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سورۃ النازعات میں ان منکروں کا قول بیان ہوا ہے کہ «يَقُولُونَ أَإِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ * أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً * قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ» ۱؎ [79-النازعات:10-12] ’ کیا ہم مرنے کے بعد الٹے پاؤں زندگی میں لوٹائے جائیں گے؟ اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ ہماری ہڈیاں بھی گل سڑ گئی ہوں؟ بھئی یہ تو بڑے ہی خسارے کی بات ہے۔ ‘
سورۃ یاسین میں ہے کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ ۖ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ * قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-يس:78-79] ’ یہ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے بیٹھ گیا اور اپنی پیدائش کو فراموش کر گیا۔ ‘ الخ۔
پس انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ہڈیاں تو کیا تم خواہ پتھر بن جاؤ خواہ لوہابن جاؤ۔ خواہ اس سے بھی زیادہ سخت چیز بن جاؤ مثلا پہاڑ یا زمین یا آسمان بلکہ تم خود موت ہی کیوں نہ بن جاؤ اللہ پر تمہارا جلانا مشکل نہیں، جو چاہو ہو جاؤ دوبارہ اٹھو گے ضرور۔
حدیث میں ہے کہ { بھیڑیئے کی صورت میں موت کو قیامت کے دن جنت دوزخ کے درمیان لایا جاتا ہے اور دونوں سے کہا جائے گا کہ اسے پہچانتے ہو؟ سب کہیں گے ہاں، پھر اسے وہیں ذبح کر دیا جائے گا اور منادی ہو جائے گی کہ اے جنتیو اب دوام ہے موت نہیں اور اے جہنمیو اب ہمیشہ قیام ہے موت نہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4730]
ان کے اس سوال اور بیجا اعتراض کے جواب میں تو انہیں سمجھا کہ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ’ تمہیں لوٹانے والا تمہارا سچا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ ‘
پھر اس پر دوسری بار کی پیدائش کیا گراں ہے؟ بلکہ بہت آسان ہے تم خواہ کچھ بھی بن جاؤ۔ یہ جواب چونکہ لا جواب ہے حیران تو ہو جائیں گے لیکن پھر بھی اپنی شرارت سے باز نہ آئیں گے، بد عقیدگی نہ چھوڑیں گے اور بطور مذاق سر ہلاتے ہوئے کہیں گے کہ «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [67-الملك:25] ’ اچھا یہ ہو گا کب؟ سچے ہو تو وقت کا تعین کر دو۔ ‘
«يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا» [42-الشورى:18] ’ بے ایمانوں کا یہ شیوہ ہے کہ وہ جلدی مچاتے رہتے ہیں۔ ‘
ہاں ہے تو وہ وقت قریب ہی، تم اس کے لیے انتظار کر لو، غلفت نہ برتو۔ اس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ آنے والی چیز کو آئی ہوئی سمجھا کرو۔ اللہ کی ایک آواز کے ساتھ ہی تم زمین سے نکل کھڑے ہو گے ایک آنکھ جھپکانے کی دیر بھی تو نہ لگے گی۔
اللہ کے فرمان کے ساتھ ہی تم سے میدان محشر پر ہو جائے گا۔ قبروں سے اٹھ کر اللہ کی تعریفیں کرتے ہوئے اس کے احکام کی بجا آوری میں کھڑے ہو جاؤ گے۔ حمد کے لائق وہی ہے تم اس کے حکم سے اور ارادے سے باہر نہیں ہو۔
حدیث میں ہے کہ { «لا الہ الا اللہ» کہنے والوں پر ان کی قبر میں کوئی وحشت نہیں ہو گی۔ گویا کہ میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ قبروں سے اٹھ رہے ہیں، اپنے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے۔ «لا الہ الا اللہ» کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ کہیں گے کہ اللہ کی حمد ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا۔ } } سورۃ فاطر کی تفسیر میں یہ بیان آ رہا ہے ان شاءاللہ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا أمر رسوله - صلى الله عليه وسلم - أن يقول لهؤلاء المنكرين للبعث استبعاداً: {قُلْ كونوا حجارة أو حديداً. أو خلقاً مما يكبر}؛ أي: يعظُم {في صدورِكم}: لتسلموا بذلك - على زعمكم - من أن تنالكم قدرة الله أو تنفذَ فيكم مشيئتُه؛ فإنكم غير معجزين الله في أيِّ حالة تكونون وعلى أيِّ وصفٍ تتحوَّلون، وليس لكم في أنفسكم تدبيرٌ في حالة الحياة وبعد الممات؛ فدعوا التدبير والتصريف لِمَنْ هو على كلِّ شيء قدير وبكلِّ شيء محيط. {فسيقولون}: حين تُقيم عليهم الحجَّة في البعث: {من يعيدنا قل الذي فَطَرَكم أول مرة}: فكما فطركم ولم تكونوا شيئاً مذكوراً؛ فإنَّه سيعيدكم خلقاً جديداً؛ {كما بَدَأنا أوَّلَ خلقٍ نعيدُه}، {فسيُنْغِضونَ إليك رؤوسهم}؛ أي: يهزُّونها إنكاراً وتعجُّباً مما قلت. {ويقولون متى هو}؛ أي: متى وقتُ البعث الذي تزعمه على قولك؟ لا إقراراً منهم لأصل البعث، بل ذلك سفهٌ منهم وتعجيزٌ. {قل عسى أن يكونَ قريباً}: فليس في تعيين وقتِهِ فائدةٌ، وإنَّما الفائدة والمدار على تقريره والإقرار به وإثباته، وإلاَّ؛ فكلُّ ما هو آتٍ؛ فإنَّه قريب.