ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 43

سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّا کَبِیۡرًا ﴿۴۳﴾
پاک ہے وہ اور بہت بلند ہے اس سے جو یہ کہتے ہیں، بہت زیادہ بلند ہونا۔ En
وہ پاک ہے اور جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس سے (اس کا رتبہ) بہت عالی ہے
En
جو کچھ یہ کہتے ہیں اس سے وه پاک اور باﻻتر، بہت دور اور بہت بلند ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 43){ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِيْرًا:} یعنی مشرکین جو اللہ کے ساتھ کوئی معبود بناتے ہیں، یا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے ہر طرح پاک اور بے حد بلند ہے۔ اس کے مقابلے میں کسی کی کوئی مجال نہیں، وہی اس کائنات کا بلاشرکت ِ غیر خود مختار مالک و حاکم ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

43۔ 1 یعنی واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی بابت جو کہتے ہیں کہ اس کے شریک ہیں، اللہ تعالیٰ ان باتوں سے پاک اور بلند ہے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

43۔ وہ پاک ہے اور ان باتوں سے بہت بلند و برتر [53] ہے جو یہ لوگ کہتے ہیں۔
[53] یعنی ان مشرکوں کی یہ خرافات بس ان لوگوں تک ہی محدود اور ان کے خطہ زمین پر ہی ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات تو ان لوگوں کے ایسے بیہودہ خیالات سے بہت بلند و بالا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

لوگو عقل کے ناخن لو ٭٭
جو مشرک اللہ کے ساتھ اوروں کی بھی عبادت کرتے ہیں اور انہیں شریک الٰہی مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہی کی وجہ سے ہم قرب الٰہی حاصل کرسکتے ہیں ان سے کہو کہ اگر تمہارا یہ گمان فاسد کچھ بھی جان رکھتا ہوتا اور اللہ کے ساتھ واقعی کوئی ایسے معبود ہوتے کہ وہ جسے چاہیں قرب الٰہی دلوادیں اور جس کی جو چاہیں سفارش کردیں تو خود وہ معبود ہی اس کی عبادت کرتے اس کا قرب ڈھونڈتے ہیں۔
پس تمہیں صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیئے، نہ اس کے سوا دوسرے کی عبادت، نہ دوسرے معبود کی کوئی ضرورت کہ اللہ میں اور تم میں وہ واسطہ بنے۔ اللہ کو یہ واسطے سخت ناپسند اور مکروہ معلوم ہوتے ہیں اور ان سے وہ انکار کرتا ہے اپنے تمام نبیوں رسولوں کی زبان سے اس سے منع فرماتا ہے۔ اس کی ذات ظالموں کے بیان کردہ اس وصف سے بالکل پاک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ان آلودگیوں سے ہمارا مولا پاک ہے، وہ واحمد اور صمد ہے، وہ ماں باپ اور اولاد سے پاک ہے، اس کی جنس کا کوئی نہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

فرمایا: ﴿ سُبْحٰؔنَهٗ وَ تَ٘عٰ٘لٰ٘ى وہ پاک اور بلند ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ مقدس اور منزہ ہے اس کے اوصاف عالیشان ہیں ﴿ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ ان سے جو وہ کہتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے اور ان کے اس کا ہمسر بنا لینے سے پاک ہے ﴿ عُلُوًّا كَبِیْرًؔا بہت بلند۔ پس وہ عالی قدر اور عظیم الشان ہے اور اس کی کبریائی ظاہر ہے اس کی کبریائی برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہو۔ جو کوئی اس بات کا قائل ہے وہ صاف گمراہ اور بہت بڑا ظالم ہے۔ اس کی عظمت کے سامنے بڑی بڑی مخلوقات نہایت عاجز اور اس کی کبریائی کے سامنے بہت حقیر ہیں۔ ساتوں آسمان اور جو کچھ ان کے اندر موجود ہے اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان کے اوپر ہے، سب اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ ﴿ وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ (الزمر: 39؍67) قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔
تمام عالم علوی اور عالم سفلی اپنی ذات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے اور یہ احتیاج کسی وقت بھی ان سے جدا نہیں ہوتی یہ فقرواحتیاج ہر لحاظ سے، تخلیق، رزق اور تدبیر کی احتیاج ہے نیز یہ اضطرای طور پر بھی فقرواحتیاج ہے کہ ان کا کوئی معبود و محبوب ہو جس کا وہ تقرب حاصل کریں اور ہر حال میں اس کی پناہ لیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{سبحانه وتعالى}؛ أي: تقدَّس وتنزَّه وعلت أوصافه، {عما يقولون}: من الشرك به واتِّخاذ الأنداد معه، {علوًّا كبيراً}: فعلا قدرُه وعظُم وجلَّت كبرياؤه التي لا تُقادر أن يكون معه آلهة؛ فقد ضلَّ مَن قال ذلك ضلالاً مبيناً وظلم ظلماً كبيراً، لقد تضاءلتْ لعظمتِهِ المخلوقاتُ العظيمةُ، وصغُرَتْ لدى كبريائِهِ السماواتُ السبع ومن فيهن والأرضون السبع ومن فيهن، والأرض جميعاً قبضتُه يوم القيامة والسماواتُ مطوياتٌ بيمينه، وافتقر إليه العالمُ العلويُّ والسفليُّ فقراً ذاتيًّا لا ينفكُّ عن أحدٍ منهم في وقتٍ من الأوقات، هذا الفقر بجميع وجوهه؛ فقرٌ من جهة الخلق والرزق والتدبير، وفقرٌ من جهة الاضطرار إلى أن يكون معبودَه ومحبوبَه الذي إليه يتقرَّبون، وإليه في كل حال يفزعون.