ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 42

قُلۡ لَّوۡ کَانَ مَعَہٗۤ اٰلِـہَۃٌ کَمَا یَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰی ذِی الۡعَرۡشِ سَبِیۡلًا ﴿۴۲﴾
کہہ دے اگر اس کے ساتھ کچھ اور معبود ہوتے، جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو اس وقت وہ عرش والے کی طرف کوئی راستہ ضرور ڈھونڈتے۔ En
کہہ دو کہ اگر خدا کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ ضرور (خدائے) مالک عرش کی طرف (لڑنے بھڑنے کے لئے) رستہ نکالتے
En
کہہ دیجیئے! کہ اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسے کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ضرور وه اب تک مالک عرش کی جانب راه ڈھونڈ نکالتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 42) ➊ {قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ …: } یعنی اس سے لڑنے اور اس کا تخت الٹ دینے کے لیے جاتے، کیونکہ وہ بھی اپنے کو معبود سمجھتے ہوتے اور جب ایسا نہیں ہوا اور تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کا نظام خالص اپنی مرضی سے چلا رہا ہے اور یہ نظام اپنی پوری ہم آہنگی اور تناسب سے چل رہا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کے مقابلے میں تم نے جتنی زندہ یا مردہ ہستیوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے، وہ سب باطل و بے حقیقت چیزیں ہیں۔ اس آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ مومنون (۹۱، ۹۲) اور انبیاء (۲۲)۔
➋ اس آیت سے معلوم ہوا کہ عرش پر ہونا صرف رب تعالیٰ کی صفت ہے، کوئی بھی مخلوق عرش پر نہیں جا سکتی، جو لوگ بیان کرتے ہیں کہ معراج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرش پر گئے ان کی بات درست نہیں، کیونکہ یہ آیت اس کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بھی شخصیت کے عرش پر جانے کی کوئی دلیل ثابت نہیں۔ رہی یہ بات کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے یا نہیں؟ اس کی بحث سورۂ نجم کے شروع میں آئے گی۔ (ان شاء اللہ)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

42۔ 1 اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ جس طرح ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ پر لشکر کشی کر کے غلبہ و قوت حاصل کرلیتا ہے، اسی طرح دوسرے معبود بھی اللہ پر غلبے کی کوئی راہ ڈھونڈ نکالتے۔ اور اب تک ایسا نہیں ہوا، جب کہ ان معبودوں کو پوجتے ہوئے صدیاں گزر گئی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود ہی نہیں، کوئی با اختیار ہی نہیں، دوسرے معنی ہیں کہ وہ اب تک اللہ کا قرب حاصل کرچکے ہوتے اور یہ مشرکین جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے ذریعے سے وہ اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں، انھیں بھی وہ اللہ کے قریب کرچکے ہوتے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

42۔ آپ ان سے کہئے کہ: اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہوتے، جیسا کہ یہ مشرک کہتے ہیں، تو وہ اللہ صاحب عرش (سے مقابلہ اور وہاں تک پہنچنے) کے لئے ضرور کوئی راہ تلاش [52] کرتے۔
[52] زیادہ خداؤں کا لازمی نتیجہ:۔
اس آیت میں خطاب ان خاص قسم کے مشرکوں سے ہے جنہوں نے بے شمار دیوتا اور دیویاں تجویز کر رکھی ہیں اور انھیں کسی نہ کسی چیز کا مختار تسلیم کیا جاتا ہے مثلاً فلاں بارش کا دیوتا ہے، فلاں پھلوں کا دیوتا ہے۔ فلاں مال و دولت کی دیوی ہے اور فلاں محبت کی، فلاں موت کا دیوتا ہے اور فلاں زندگی کا۔ اس عقیدہ کی تردید کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ اگر یہ دیوتا اپنے اپنے اختیارات استعمال کریں تو کائنات کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے مثلاً قحط کا دیوتا بارش روکنا چاہے اور بارش کا برسانا چاہے تو ان کی ضد بازی سے کائنات کا نظام اور اس میں ہم آہنگی برقرار ہی نہیں رہ سکتی۔ لیکن یہاں جس پہلو کو اجاگر کیا جا رہا ہے وہ دوسرا پہلو ہے جو یہ ہے کہ ہر صاحب اختیار کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ اس کے اختیارات میں مزید وسعت پیدا ہو جائے بلکہ ہر صاحب اختیار کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ پورا اختیار و اقتدار کسی طرح اسے ہی حاصل ہو جائے۔ اب ایسے چھوٹے صاحب اختیار بڑے اختیار والے کے خلاف متحدہ محاذ بنا لیتے ہیں تاکہ اسے اقتدار سے محروم کر دیں۔ جیسا کہ آج کل کے جمہوری نظام میں یہ تماشا سرسری نگاہوں سے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ جو سیاسی پارٹی برسر اقتدار ہوتی ہے۔ حزب اختلاف کی سب پارٹیاں مل کر صاحب اقتدار پارٹی کی ٹانگ کھینچنا اور اسے اقتدار سے محروم کرنا چاہتی ہیں اور بسا اوقات وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہو جاتی ہیں یہی مثال اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمائی ہے کہ اگر فی الواقع اللہ کے علاوہ کوئی اور بھی دیوتا یا دیویاں با اختیار موجود ہوتے تو وہ یقیناً بڑے اختیار والے اللہ یا مہادیو کو اقتدار و اختیار سے محروم کرنے کی ضرور کوشش کرتے اور چونکہ فی الواقع ایسا کبھی نہیں ہوا تو اس کا واضح نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جن معبودوں کو تم نے صاحب اختیار سمجھ رکھا ہے وہ صاحب اختیار نہیں ہیں۔ اور ان کا وجود اس کائنات میں ہونا نا ممکن ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

لوگو عقل کے ناخن لو ٭٭
جو مشرک اللہ کے ساتھ اوروں کی بھی عبادت کرتے ہیں اور انہیں شریک الٰہی مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہی کی وجہ سے ہم قرب الٰہی حاصل کرسکتے ہیں ان سے کہو کہ اگر تمہارا یہ گمان فاسد کچھ بھی جان رکھتا ہوتا اور اللہ کے ساتھ واقعی کوئی ایسے معبود ہوتے کہ وہ جسے چاہیں قرب الٰہی دلوادیں اور جس کی جو چاہیں سفارش کردیں تو خود وہ معبود ہی اس کی عبادت کرتے اس کا قرب ڈھونڈتے ہیں۔
پس تمہیں صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیئے، نہ اس کے سوا دوسرے کی عبادت، نہ دوسرے معبود کی کوئی ضرورت کہ اللہ میں اور تم میں وہ واسطہ بنے۔ اللہ کو یہ واسطے سخت ناپسند اور مکروہ معلوم ہوتے ہیں اور ان سے وہ انکار کرتا ہے اپنے تمام نبیوں رسولوں کی زبان سے اس سے منع فرماتا ہے۔ اس کی ذات ظالموں کے بیان کردہ اس وصف سے بالکل پاک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ان آلودگیوں سے ہمارا مولا پاک ہے، وہ واحمد اور صمد ہے، وہ ماں باپ اور اولاد سے پاک ہے، اس کی جنس کا کوئی نہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جس موضوع پر اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ دلائل و براہین بیان كيے، وہ توحید ہے جو تمام اصولوں کی اساس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے اور اس کی ضد سے روکا ہے اور اس پر بہت سے عقلی اور نقلی دلائل بیان كيے ہیں۔ جو کوئی ان میں سے کسی پر توجہ دیتا ہے تو اس کے قلب میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔ ان دلائل میں سے ایک عقلی دلیل یہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے یہاں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ﴿ قُ٘لْ یعنی ان مشرکین سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور بھی معبود بنا لیے ہیں ﴿ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اگر اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں یعنی ان کے زعم اور افترا پردازی کے مطابق ﴿ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْ٘عَرْشِ سَبِیْلًا تو نکالتے صاحب عرش کی طرف کوئی راستہ یعنی وہ عبادت، انابت، تقرب اور وسیلے کے ذریعے سے ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس وہ شخص جو اپنے آپ کو اپنے رب کی عبودیت کا نہایت شدت سے محتاج سمجھتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری ہستیوں کو معبود کیسے قرار دے سکتا ہے؟ کیا یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی سفاہت نہیں ہے؟
اس معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد جیسی ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَ٘قْ٘رَبُ (بنی اسرائیل: 17؍57) جن لوگوں کو یہ پکارتے ہیں وہ تو خود اللہ کے ہاں تقرب کے حصول کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ کون اس کے قریب تر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ وَیَوْمَ یَحْشُ٘رُهُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ۰۰قَالُوْا سُبْحٰؔنَكَ مَا كَانَ یَنْۢ٘بَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّؔتَّؔخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ (الفرقان:25؍17۔18) اور جس روز وہ ان لوگوں کو اکٹھا کرے گا اور ان کو بھی جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر پوجا کرتے ہیں، پھر ان سے پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا؟ یا وہ خود گمراہ ہو گئے تھے؟ وہ جواب دیں گے تیری ذات پاک ہے ہمارے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ ہم تجھے چھوڑ کر کسی اور کو اپنا مولا بنائیں۔
اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس آیت کے معنی یہ ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر غالب آنے کے لیے کوشش کرتے اور کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس یا تو وہ اس پر غالب آ جاتے اور جو غالب آ جاتا وہی رب اور الٰہ ہوتا لیکن جیسا کہ انھیں علم ہے اور وہ اقرار کرتے ہیں کہ ان کے خود ساختہ معبود جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، مقہور و مجبور اور مغلوب ہیں انھیں کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں، ان کا یہ حال ہوتے ہوئے پھر ان کو انھوں نے معبود کیوں بنایا ہے؟ تب اس معنیٰ کے مطابق یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مشابہ ہے۔ ﴿ مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰ٘هٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُ٘لُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ (المومنون: 23؍91) اللہ نے کوئی بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق لے کر الگ ہو جاتا پھر تمام ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومن أعظم ما صرَّف فيه الآيات والأدلَّة التَّوحيد الذي هو أصل الأصول، فأمر به ونهى عن ضدِّه وأقام عليه من الحجج العقليَّة والنقليَّة شيئاً كثيراً؛ بحيث إنَّ من أصغى إلى بعضها لا تَدَعُ في قلبه شكًّا ولا ريباً، ومن الأدلَّة على ذلك هذا الدليل العقليُّ الذي ذكره هنا، فقال: {قل}: للمشركين الذين يجعلون مع الله إلهاً آخر: {لو كان معه آلهةٌ كما يقولون}؛ أي: على موجب زعمهم وافترائهم؛ {إذاً لابْتَغَوا إلى ذي العرش سبيلاً}؛ أي: لاتَّخذوا سبيلاً إلى الله بعبادته والإنابة إليه والتقرُّب وابتغاء الوسيلة؛ فكيف يجعل العبد الفقير الذي يرى شدَّة افتقاره لعبوديَّة ربِّه إلهاً مع الله؟! هل هذا إلاَّ من أظلم الظلم وأسفه السَّفَه؛ فعلى هذا المعنى تكون هذه الآية كقوله تعالى: {أولئك الذين يدعون يبتغون إلى ربهم الوسيلة أيهم أقرب}: وكقوله تعالى: {ويوم يَحْشُرُهم وما يعبُدون من دون الله فيقول أأنتُم أضللتُم عبادي هؤلاء أم هُم ضلُّوا السبيل قالوا سبحانك ما كان ينبغي لنا أن نتَّخذ من دونِكَ من أولياءَ}.

ويُحتمل أنَّ المعنى في قوله: {قُلْ لو كان معه آلهةٌ كما يقولون إذاً لابْتَغَوْا إلى ذي العرش سبيلاً}؛ أي: لطلبوا السبيل وسَعَوْا في مغالبة الله تعالى، فإما أن يعلوا عليه فيكون مَنْ علا وقَهَرَ هو الربَّ الإله، فأما وقد علموا أنهم يقرُّون أنَّ آلهتهم التي يدعون من دون الله مقهورةٌ مغلوبةٌ ليس لها من الأمر شيء؛ فلم اتَّخذوها وهي بهذه الحال؟! فيكون هذا كقوله تعالى: {ما اتَّخَذَ اللهُ من ولدٍ وما كان معه من إلهٍ إذاً لَذَهَبَ كلُّ إلهٍ بما خَلَقَ ولعلا بعضهم على بعض}.