تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اس آیت سے معلوم ہوا کہ عرش پر ہونا صرف رب تعالیٰ کی صفت ہے، کوئی بھی مخلوق عرش پر نہیں جا سکتی، جو لوگ بیان کرتے ہیں کہ معراج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرش پر گئے ان کی بات درست نہیں، کیونکہ یہ آیت اس کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بھی شخصیت کے عرش پر جانے کی کوئی دلیل ثابت نہیں۔ رہی یہ بات کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے یا نہیں؟ اس کی بحث سورۂ نجم کے شروع میں آئے گی۔ (ان شاء اللہ)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس تمہیں صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیئے، نہ اس کے سوا دوسرے کی عبادت، نہ دوسرے معبود کی کوئی ضرورت کہ اللہ میں اور تم میں وہ واسطہ بنے۔ اللہ کو یہ واسطے سخت ناپسند اور مکروہ معلوم ہوتے ہیں اور ان سے وہ انکار کرتا ہے اپنے تمام نبیوں رسولوں کی زبان سے اس سے منع فرماتا ہے۔ اس کی ذات ظالموں کے بیان کردہ اس وصف سے بالکل پاک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ان آلودگیوں سے ہمارا مولا پاک ہے، وہ واحمد اور صمد ہے، وہ ماں باپ اور اولاد سے پاک ہے، اس کی جنس کا کوئی نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن أعظم ما صرَّف فيه الآيات والأدلَّة التَّوحيد الذي هو أصل الأصول، فأمر به ونهى عن ضدِّه وأقام عليه من الحجج العقليَّة والنقليَّة شيئاً كثيراً؛ بحيث إنَّ من أصغى إلى بعضها لا تَدَعُ في قلبه شكًّا ولا ريباً، ومن الأدلَّة على ذلك هذا الدليل العقليُّ الذي ذكره هنا، فقال: {قل}: للمشركين الذين يجعلون مع الله إلهاً آخر: {لو كان معه آلهةٌ كما يقولون}؛ أي: على موجب زعمهم وافترائهم؛ {إذاً لابْتَغَوا إلى ذي العرش سبيلاً}؛ أي: لاتَّخذوا سبيلاً إلى الله بعبادته والإنابة إليه والتقرُّب وابتغاء الوسيلة؛ فكيف يجعل العبد الفقير الذي يرى شدَّة افتقاره لعبوديَّة ربِّه إلهاً مع الله؟! هل هذا إلاَّ من أظلم الظلم وأسفه السَّفَه؛ فعلى هذا المعنى تكون هذه الآية كقوله تعالى: {أولئك الذين يدعون يبتغون إلى ربهم الوسيلة أيهم أقرب}: وكقوله تعالى: {ويوم يَحْشُرُهم وما يعبُدون من دون الله فيقول أأنتُم أضللتُم عبادي هؤلاء أم هُم ضلُّوا السبيل قالوا سبحانك ما كان ينبغي لنا أن نتَّخذ من دونِكَ من أولياءَ}.
ويُحتمل أنَّ المعنى في قوله: {قُلْ لو كان معه آلهةٌ كما يقولون إذاً لابْتَغَوْا إلى ذي العرش سبيلاً}؛ أي: لطلبوا السبيل وسَعَوْا في مغالبة الله تعالى، فإما أن يعلوا عليه فيكون مَنْ علا وقَهَرَ هو الربَّ الإله، فأما وقد علموا أنهم يقرُّون أنَّ آلهتهم التي يدعون من دون الله مقهورةٌ مغلوبةٌ ليس لها من الأمر شيء؛ فلم اتَّخذوها وهي بهذه الحال؟! فيكون هذا كقوله تعالى: {ما اتَّخَذَ اللهُ من ولدٍ وما كان معه من إلهٍ إذاً لَذَهَبَ كلُّ إلهٍ بما خَلَقَ ولعلا بعضهم على بعض}.