تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا …: ” تِبْيَانًا “} مصدر ہے، بیان میں مبالغہ ہے، بہت اچھی طرح بیان کرنا، یعنی حلال و حرام اور ہر اس چیز کا واضح بیان ہے جس پر دنیا و آخرت میں انسان کی ہدایت و گمراہی اور کامیابی اور ناکامی کا انحصار ہے، پھر جن احکام کو قرآن نے مختصر طور پر بیان کیا ہے، یا ان کا بیان چھوڑ دیا ہے ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع فرض قرار دے کر سنت و حدیث کی طرف رجوع کا حکم دیا ہے۔
➌ {لِكُلِّ شَيْءٍ:} قرآن کا دعویٰ یہ ہے کہ اس میں ہر چیز کا واضح بیان ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ فرمایا: [لَعَنَ اللّٰهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُوْتَشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰهِ، فَبَلَغَ ذٰلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِيْ أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوْبَ، فَجَاءَتْ فَقَالَتْ إِنَّهُ بَلَغَنِيْ أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ، فَقَالَ وَمَا لِيْ لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ هُوَ فِيْ كِتَابِ اللّٰهِ؟ فَقَالَتْ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُ فِيْهِ مَا تَقُوْلُ، فَقَالَ لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيْهِ لَقَدْ وَجَدْتِيْهِ، أَمَا قَرَأْتِ: «{ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا }» قَالَتْ: بَلٰہ، قَالَ فَإِنَّهُ قَدْ نَهَی عَنْهُ] [بخاری، التفسیر، سورۃ الحشر، باب: «وما اٰتاکم الرسول فخذوہ…» : ۴۸۸۶]”اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو جلد میں سوئی کے ذریعے سے نیل کے ساتھ نقش و نگار بناتی ہیں اور جو بنواتی ہیں اور جو چہرے کے بال اکھڑواتی ہیں اور جو دانتوں کے درمیان فاصلہ کرواتی ہیں، اللہ کی پیدا کردہ چیز کو بدلتی ہیں۔“ بنو اسد کی ایک خاتون ام یعقوب نامی کو یہ بات پہنچی تو وہ آئی اور کہنے لگی: ”مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے ایسی ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے؟“ انھوں نے فرمایا: ”میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو اللہ کی کتاب میں بھی ہے۔“ اس نے کہا: ”میں نے دونوں تختیوں کے درمیان (پورا قرآن) پڑھا ہے، اس میں تو تمھاری یہ بات مجھے نہیں ملی۔“ فرمایا: ”اگر تو نے اسے پڑھا ہوتا تو تجھے مل جاتا، کیا تم نے یہ نہیں پڑھا: «{ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا }» [الحشر: ۷] ”اور رسول تمھیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمھیں روک دے تو رک جاؤ۔“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں؟“ فرمایا: ”پھر بات یہ ہے کہ ان کاموں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔“
اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے اپنے الفاظ کے مطابق اس میں ہر چیز کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ دین کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ہر حکم پر عمل کرنا اور ہر نہی سے باز رہنا بھی قرآن ہی کا حصہ ہے۔ مفسر شعراوی نے یہاں شیخ محمد عبدہ مصری کا ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے، انھوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ میں پیرس میں تھا، ایک مستشرق (غیر مسلم عربی عالم) نے مجھ سے کہا کہ قرآن میں ہے: «{ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ }» [الأنعام: ۳۸] ”ہم نے کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی۔“ میں نے کہا، ہاں ٹھیک ہے۔ اس نے کہا، اچھا یہ بتاؤ کہ ایک اردب (تقریباً ۴۸ کلو) آٹے کی کتنی روٹیاں بنتی ہیں؟ میں نے کہا، یہ معمولی بات ہے، آؤ کسی روٹیاں پکانے والے سے پوچھ لیتے ہیں۔ اس نے کہا، نہیں، میں قرآن میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا، قرآن نے تو بتا دیا ہے: «{ فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ }» [الأنبیاء: ۷] ”اگر تم نہیں جانتے تو اہل الذکر (اسے سمجھنے والے) سے پوچھ لو۔“ غرض قرآن میں ہر چیز کا بیان موجود ہے۔ مزید تفصیل اسی سورت کی آیت (۶۴) اور اس کے حواشی میں ملاحظہ فرمائیں۔
➍ {وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ:} یہاں تینوں لفظ اسم فاعل کے بجائے مصدر ذکر فرمائے ہیں، مثلاً{ ” هَادِيٌ “ } کے بجائے {” هُدًى “ } اور اسی طرح {” رَحْمَةً “} اور {” بُشْرٰى “} فرمایا ہے، ایسا مبالغہ کے لیے کیا جاتا ہے، مثلاً زید کو بہت ہی زیادہ عادل کہنا ہو تو {”زَيْدٌ عَادِلٌ“} کے بجائے کہتے ہیں {”زَيْدٌ عَدْلٌ“} یعنی زید عین عدل ہے۔ مقصد یہ کہ قرآن مسلمانوں کے لیے ہدایت، رحمت اور بشارت ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشهَِيْدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَليٰ هٰوُلاَءٍ شهَِيْدًا﴾ [4: 41]
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بس کرو“ میں نے دیکھا تو اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [بخاري، كتاب التفسير]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سورۃ نساء پڑھوائی جب وہ اس آیت تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس کر کافی ہے }۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں اشکبار تھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5049]
پھر فرماتا ہے ’ اپنی اس اتاری ہوئی کتاب میں تیرے سامنے سب کچھ بیان فرما دیا ہے ہر علم اور ہر شے اس قرآن میں ہے۔ ہر حلال حرام، ہر ایک نافع علم، ہر بھلائی گزشتہ کی خبریں، آ ئندہ کے واقعات، دین دنیا، معاش معاد، سب کے ضروری احکام واحوال اس میں موجود ہیں۔ یہ دلوں کی ہدایت ہے، یہ رحمت ہے، یہ بشارت ہے ‘۔
امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”یہ کتاب سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا کر ہرچیز کا بیان ہے۔“ اس آیت کو اوپر والی آیت سے غالباً یہ تعلق ہے کہ ’ جس نے تجھ پر اس کتاب کی تبلیغ فرض کی ہے اور اسے نازل فرمایا ہے وہ قیامت کے دن تجھ سے اس کی بابت سوال کرنے والا ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:6] ’ امتوں اور رسولوں سے سب سے سوال ہوگا۔ واللہ ہم سب سے ان کے اعمال کی بازپرس کریں گے ‘۔ «يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّـهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ» ۱؎ [5-المائدة:109] ’ رسولوں کو جمع کر کے ان سے سوال ہوگا کہ تمہیں کیا جواب ملا؟ وہ کہیں گے، ہمیں کوئی علم نہیں، تو علام الغیوب ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «نَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ» ۱؎ [28-القصص:85] یعنی ’ جس نے تجھ پر تبلیغ قرآن فرض کی ہے، وہ تجھے قیامت کے دن اپنے پاس لوٹا کر اپنے سونپے ہوئے فریضے کی بابت تجھ سے پر سش کرنے والا ہے ‘۔ یہ ایک قول بھی اس آیت کی تفسیر میں ہے اور ہے بھی معقول اور عمدہ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذَكَرَ فيما تقدَّم أنه يبعث في كلِّ أمةٍ شهيداً؛ ذكر ذلك أيضاً هنا، وخصَّ منهم هذا الرسول الكريم، فقال: {وجئنا بك شهيداً على هؤلاء}؛ أي: على أمَّتك تشهد عليهم بالخير والشرِّ، وهذا من كمال عدل الله تعالى؛ أنَّ كلَّ رسول يشهدُ على أمَّته؛ لأنَّه أعظمُ اطِّلاعاً من غيره على أعمال أمته، وأعدل وأشفقُ من أن يشهدَ عليهم إلاَّ بما يستحقُّون، وهذا كقوله تعالى: {وكذلك جَعَلْناكم أمَّةً وسطاً لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيداً}، وقال تعالى: {فكيف إذا جِئْنا من كلِّ أمَّةٍ بشهيدٍ وجئنا بك على هؤلاء شهيداً. يومئذٍ يَوَدُّ الذين كفروا وعَصَوُا الرسولَ لو تُسَوَّى بهم الأرضُ}. وقوله: {ونزَّلْنا عليك الكتابَ تبياناً لكلِّ شيءٍ}: في أصول الدين وفروعه، وفي أحكام الدارين، وكل ما يحتاج إليه العبادُ؛ فهو مبيَّن فيه أتمُّ تبيين، بألفاظ واضحةٍ ومعانٍ جليَّةٍ، حتى إنَّه تعالى يُثَنِّي فيه الأمور الكبار التي يحتاجُ القلب لمرورها عليه كلَّ وقتٍ وإعادتها في كلِّ ساعةٍ ويعيدُها ويُبديها بألفاظٍ مختلفةٍ وأدلَّةٍ متنوعةٍ لتستقرَّ في القلوب فتثمرَ من الخير والبرِّ بحسب ثبوتها في القلب، وحتى إنه تعالى يجمع في اللفظ القليل الواضح معاني كثيرةً يكون اللفظُ لها كالقاعدة والأساس. واعتبر هذا بالآية التي بعد هذه الآية، وما فيها من أنواع الأوامر والنواهي التي لا تُحصر.
فلما كان هذا القرآن تبياناً لكلِّ شيءٍ؛ صار حجَّة الله على العباد كلِّهم، فانقطعت به حجَّةُ الظالمين، وانتفع به المسلمونَ، فصار هدىً لهم يهتدون به إلى أمر دينهم ودُنياهم ورحمةً ينالون به كلَّ خير في الدُّنيا والآخرة؛ فالهدى ما نالوا به من علم نافع وعمل صالح، والرحمة ما ترتَّب على ذلك من ثواب الدُّنيا والآخرة؛ كصلاح القلب وبرِّه وطمأنينتِهِ، وتمام العقل الذي لا يتمُّ إلاَّ بتربيتِهِ على معانيه التي هي أجلُّ المعاني وأعلاها، والأعمال الكريمة والأخلاق الفاضلة والرزق الواسع والنصر على الأعداء بالقَوْل والفعل ونَيْل رضا الله تعالى وكرامتِهِ العظيمة التي لا يعلم ما فيها من النعيم المقيم إلاَّ الربُّ الرحيم.