اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَ الۡاِحۡسَانِ وَ اِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ یَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ وَ الۡبَغۡیِ ۚ یَعِظُکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۹۰﴾
بے شک اللہ عدل اور احسان اور قرابت والے کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے، وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
En
خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور بےحیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو
En
اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ﻇلم وزیادتی سے روکتا ہے، وه خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت90) ➊ { اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ:} عدل کا معنی اپنے عقیدے اور عمل میں زیادتی یا کمی سے بچ کر اعتدال اور درمیانہ راستہ اختیار کرنا ہے۔ انصاف بھی یہی ہے اور قسط بھی۔ {” الْاِحْسَانِ “} کا لفظ دو طرح آتا ہے، ایک {”إِلٰی“} یا کسی اور حرف کے واسطے کے بغیر، اس کا معنی کام کو بہت اچھی طرح اور پختگی و مضبوطی سے کرنا ہوتا ہے، مثلاً {”أَحْسَنْتُهٗ “} کہ میں نے یہ کام بہت اچھی طرح کیا، اور ایک {” إِلٰی“} وغیرہ کے واسطے کے ساتھ، جیسے {”أَحْسَنْتُ اِلَيْهِ“} کہ میں نے اس سے اچھا سلوک کیا، یعنی اس {”اِحْسَانٌ“} کا معنی اللہ کی مخلوق کو نفع پہنچانا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ساری مخلوق کو پیدا کرنے اور ہر نعمت عطا فرمانے کا تقاضا یہ ہے کہ نہ تو اس کے حق میں تفریط (کمی) کی جائے نہ افراط (زیادتی)۔ کمی یہ ہے کہ اس کی ذات کا انکار کیا جائے، یا اس کی صفات (جس طرح اس نے بیان فرمائی ہیں) میں سے کسی صفت کا انکار کیا جائے، اسے تعطیل کہتے ہیں، یا اسے مخلوق کے مشابہ کہا جائے، اسے تشبیہ کہتے ہیں۔ یا اس کا مطلب ایسا نکالا جائے جس سے اس صفت کا انکار لازم آتا ہو، اسے باطل تاویل یا تحریف کہتے ہیں۔ یا کہا جائے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ اللہ کی صفات مثلاً سمیع یا بصیر وغیرہ کا مطلب کیا ہے، یہ اللہ ہی جانتا ہے، یہ بھی انکار ہی کی ایک صورت ہے، اسے تفویض کہتے ہیں۔ یہ سب اس رحمن کے حق میں تفریط (کمی) ہے اور عدل و قسط کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں افراط (زیادتی) یہ ہے کہ کسی مخلوق کو اس کی ذات یا کسی صفت میں اس کا شریک مانا جائے، یہ اس اکیلے خالق و مالک کے ساتھ سخت ناانصافی اور ظلم عظیم ہے۔ اس لیے ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس آیت میں مذکور عدل کا معنی ”لا الٰہ الا اللہ“ کی شہادت قرار دیا ہے۔ (طبری بسند حسن: ۲۱۹۹۵)
مخلوق کے بارے میں عدل یہ ہے کہ کسی کو اس کے حق سے نہ کم دیا جائے نہ زیادہ، بلکہ ہر ایک کو اس کا حق پورا پورا دیا جائے، خواہ اپنی ذات پر بوجھ آتا ہو، یا جن کے درمیان آپ فیصلہ کر رہے ہیں ان میں سے کسی ایک سے آپ کی دشمنی یا دوستی ہو، تو کسی کا حق پورا دینے میں وہ دشمنی یا دوستی حائل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی بہت تاکید فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا: «{ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ }» [النساء: ۵۸] ”اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو۔“ اور فرمایا: «{ وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى }» [المائدۃ: ۸] ”اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں ہر گز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔“ اور فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَ الْاَقْرَبِيْنَ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا }» [النساء: ۱۳۵] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر پوری طرح قائم رہنے والے، اللہ کے لیے شہادت دینے والے بن جاؤ، خواہ تمھاری ذاتوں یا والدین اور زیادہ قرابت والوں کے خلاف ہو، اگر کوئی غنی ہے یا فقیر تو اللہ ان دونوں پر زیادہ حق رکھنے والا ہے۔“
➋ {” الْاِحْسَانِ “} کا مطلب اگر کام کو اچھی طرح کرنا ہو تو اس کی وضاحت حدیث جبریل علیہ السلام میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کے سوال کہ احسان کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں فرمایا: [أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ] [بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم عن الإیمان و الإسلام…: ۵۰۔ مسلم: ۸] ”احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو جیسے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، سو اگر تم اسے نہ دیکھتے ہو تو وہ تمھیں دیکھتا ہے۔“ ظاہر ہے نگرانی کے احساس کے ساتھ ہر کام کرنے والا کام کو اچھے سے اچھا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر ہر کام نماز، روزہ، صدقہ، حج، تجارت، صنعت، زراعت اور مزدوری کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی نگرانی دل میں حاضر ہو کہ پروردگار عالم مجھے دیکھ رہا ہے، تو یقینا انسان ہر عمل بہترین طریقے سے کرے گا اور ہر گناہ سے بچے گا۔
اور اگر {”إِلٰي“ } کی وجہ سے کسی دوسرے پر احسان مراد ہو تو اس کی بہترین مثال بنی اسرائیل کا قارون سے یہ کہنا ہے: «{ وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ }» [القصص: ۷۷] ”اور احسان کر جیسے اللہ نے تجھ پر احسان کیا ہے۔“ اللہ نے انسان کو جو کچھ دیا ہے کسی بدلے کی خاطر نہیں دیا، بلکہ یہ اس کا احسان اور بے حد لطف و کرم ہے کہ اس نے مخلوق کے کسی حق کے بغیر جو اللہ کے ذمے ہو، ہر نعمت انھیں مفت دی۔ مقصد یہ کہ انسان مخلوق کے ساتھ اس سے کسی معاوضے کی امید کے بغیر اچھا سلوک کرے، اسے اس کے حق سے زیادہ دے دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے ساتھ بھی احسان کا حکم دیا اور بتایا کہ کس طرح ایک فاحشہ عورت کتے کو پانی پلانے کے عوض جنت میں گئی اور ایک عورت بلی کو باندھ کر بھوکا مارنے کی پاداش میں جہنم میں گئی۔ (دیکھیے بخاری، ۳۳۲۱، ۲۳۶۵) حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوْا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، فَلْيُرِحْ ذَبِيْحَتَهُ] [مسلم، الصید والذبائح، باب الأمر بإحسان الذبح والقتل…: ۱۹۵۵، عن شداد بن أوس رضی اللہ عنہ] ”اللہ نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض کیا ہے، تو جب قتل کرو تو اس کا اچھا طریقہ اختیار کرو (یعنی ایذا دے دے کر نہ مارو اور نہ مثلہ کرو) اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے کرو، اپنی چھری کو تیز کر لو اور اپنے ذبیحے کو آرام پہنچاؤ۔“ قرآن مجید میں کئی جگہ احسان کا حکم اور اس کی فضیلت مذکور ہے، فرمایا: «{ وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا }» [البقرۃ: ۸۳۔ بنی إسرائیل: ۲۳] ”اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“ اور فرمایا: «{ وَ اَحْسِنُوْا اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ }» [البقرۃ: ۱۹۵] ”اور نیکی کرو، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔“ اور فرمایا: «{ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ }» [الأعراف: ۵۶] ”بے شک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔“ اور فرمایا: «{ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ }» [العنکبوت: ۶۹] ”اور بلاشبہ اللہ یقینا نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“
➌ {وَ اِيْتَآئِ ذِي الْقُرْبٰى:} اگرچہ یہ بھی احسان میں شامل تھا، مگر اس کی خاص تاکید کے لیے اسے الگ بھی بیان فرمایا، کیونکہ قرابت والوں کا حق زیادہ ہے اور انھیں دینا ویسے بھی مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ کم ہی احسان مند ہوتے ہیں اور باہمی رنجشیں بھی دینے لینے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ {” ذِي الْقُرْبٰى “} کو دینے کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ روم (۳۸)، بنی اسرائیل (۲۶)، بقرہ (۱۷۷) اور سورۂ بلد (۱۴، ۱۵) وغیرہ۔
➍ {وَ يَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْيِ: ” الْفَحْشَآءِ “} وہ گناہ جو برائی میں حد سے بڑھے ہوئے ہوں، مثلاً زنا اور قوم لوط کا عمل، سورۂ بقرہ میں شدید بخل کو بھی {” الْفَحْشَآءِ “} فرمایا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۶۸) {” الْمُنْكَرِ “} ایسی برائیاں جن کا عقل انکار کرتی ہو اور فطرت انسانی بھی انھیں برا سمجھتی ہو۔ {” الْبَغْيِ “} کسی پر ظلم، زیادتی، زبان درازی یا دست درازی کرنا، سرکشی کرنا۔
➎ اس آیت میں تین بھلائیوں (عدل، احسان، ایتاء ذی القربیٰ) کا حکم دیا گیا ہے، جن میں تمام بنیادی نیکیاں آ جاتی ہیں اور تین برائیوں (فحشاء، منکر، بغی) سے منع کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے تمام انفرادی اور اجتماعی معاملات کو بگاڑ کر رکھ دینے والی ہیں، اس لیے یہ قرآن مجید کی جامع ترین آیات میں سے ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ساری مخلوق کو پیدا کرنے اور ہر نعمت عطا فرمانے کا تقاضا یہ ہے کہ نہ تو اس کے حق میں تفریط (کمی) کی جائے نہ افراط (زیادتی)۔ کمی یہ ہے کہ اس کی ذات کا انکار کیا جائے، یا اس کی صفات (جس طرح اس نے بیان فرمائی ہیں) میں سے کسی صفت کا انکار کیا جائے، اسے تعطیل کہتے ہیں، یا اسے مخلوق کے مشابہ کہا جائے، اسے تشبیہ کہتے ہیں۔ یا اس کا مطلب ایسا نکالا جائے جس سے اس صفت کا انکار لازم آتا ہو، اسے باطل تاویل یا تحریف کہتے ہیں۔ یا کہا جائے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ اللہ کی صفات مثلاً سمیع یا بصیر وغیرہ کا مطلب کیا ہے، یہ اللہ ہی جانتا ہے، یہ بھی انکار ہی کی ایک صورت ہے، اسے تفویض کہتے ہیں۔ یہ سب اس رحمن کے حق میں تفریط (کمی) ہے اور عدل و قسط کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں افراط (زیادتی) یہ ہے کہ کسی مخلوق کو اس کی ذات یا کسی صفت میں اس کا شریک مانا جائے، یہ اس اکیلے خالق و مالک کے ساتھ سخت ناانصافی اور ظلم عظیم ہے۔ اس لیے ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس آیت میں مذکور عدل کا معنی ”لا الٰہ الا اللہ“ کی شہادت قرار دیا ہے۔ (طبری بسند حسن: ۲۱۹۹۵)
مخلوق کے بارے میں عدل یہ ہے کہ کسی کو اس کے حق سے نہ کم دیا جائے نہ زیادہ، بلکہ ہر ایک کو اس کا حق پورا پورا دیا جائے، خواہ اپنی ذات پر بوجھ آتا ہو، یا جن کے درمیان آپ فیصلہ کر رہے ہیں ان میں سے کسی ایک سے آپ کی دشمنی یا دوستی ہو، تو کسی کا حق پورا دینے میں وہ دشمنی یا دوستی حائل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی بہت تاکید فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا: «{ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ }» [النساء: ۵۸] ”اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو۔“ اور فرمایا: «{ وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى }» [المائدۃ: ۸] ”اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں ہر گز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔“ اور فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَ الْاَقْرَبِيْنَ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا }» [النساء: ۱۳۵] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر پوری طرح قائم رہنے والے، اللہ کے لیے شہادت دینے والے بن جاؤ، خواہ تمھاری ذاتوں یا والدین اور زیادہ قرابت والوں کے خلاف ہو، اگر کوئی غنی ہے یا فقیر تو اللہ ان دونوں پر زیادہ حق رکھنے والا ہے۔“
➋ {” الْاِحْسَانِ “} کا مطلب اگر کام کو اچھی طرح کرنا ہو تو اس کی وضاحت حدیث جبریل علیہ السلام میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کے سوال کہ احسان کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں فرمایا: [أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ] [بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم عن الإیمان و الإسلام…: ۵۰۔ مسلم: ۸] ”احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو جیسے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، سو اگر تم اسے نہ دیکھتے ہو تو وہ تمھیں دیکھتا ہے۔“ ظاہر ہے نگرانی کے احساس کے ساتھ ہر کام کرنے والا کام کو اچھے سے اچھا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر ہر کام نماز، روزہ، صدقہ، حج، تجارت، صنعت، زراعت اور مزدوری کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی نگرانی دل میں حاضر ہو کہ پروردگار عالم مجھے دیکھ رہا ہے، تو یقینا انسان ہر عمل بہترین طریقے سے کرے گا اور ہر گناہ سے بچے گا۔
اور اگر {”إِلٰي“ } کی وجہ سے کسی دوسرے پر احسان مراد ہو تو اس کی بہترین مثال بنی اسرائیل کا قارون سے یہ کہنا ہے: «{ وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ }» [القصص: ۷۷] ”اور احسان کر جیسے اللہ نے تجھ پر احسان کیا ہے۔“ اللہ نے انسان کو جو کچھ دیا ہے کسی بدلے کی خاطر نہیں دیا، بلکہ یہ اس کا احسان اور بے حد لطف و کرم ہے کہ اس نے مخلوق کے کسی حق کے بغیر جو اللہ کے ذمے ہو، ہر نعمت انھیں مفت دی۔ مقصد یہ کہ انسان مخلوق کے ساتھ اس سے کسی معاوضے کی امید کے بغیر اچھا سلوک کرے، اسے اس کے حق سے زیادہ دے دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے ساتھ بھی احسان کا حکم دیا اور بتایا کہ کس طرح ایک فاحشہ عورت کتے کو پانی پلانے کے عوض جنت میں گئی اور ایک عورت بلی کو باندھ کر بھوکا مارنے کی پاداش میں جہنم میں گئی۔ (دیکھیے بخاری، ۳۳۲۱، ۲۳۶۵) حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوْا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، فَلْيُرِحْ ذَبِيْحَتَهُ] [مسلم، الصید والذبائح، باب الأمر بإحسان الذبح والقتل…: ۱۹۵۵، عن شداد بن أوس رضی اللہ عنہ] ”اللہ نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض کیا ہے، تو جب قتل کرو تو اس کا اچھا طریقہ اختیار کرو (یعنی ایذا دے دے کر نہ مارو اور نہ مثلہ کرو) اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے کرو، اپنی چھری کو تیز کر لو اور اپنے ذبیحے کو آرام پہنچاؤ۔“ قرآن مجید میں کئی جگہ احسان کا حکم اور اس کی فضیلت مذکور ہے، فرمایا: «{ وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا }» [البقرۃ: ۸۳۔ بنی إسرائیل: ۲۳] ”اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“ اور فرمایا: «{ وَ اَحْسِنُوْا اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ }» [البقرۃ: ۱۹۵] ”اور نیکی کرو، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔“ اور فرمایا: «{ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ }» [الأعراف: ۵۶] ”بے شک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔“ اور فرمایا: «{ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ }» [العنکبوت: ۶۹] ”اور بلاشبہ اللہ یقینا نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“
➌ {وَ اِيْتَآئِ ذِي الْقُرْبٰى:} اگرچہ یہ بھی احسان میں شامل تھا، مگر اس کی خاص تاکید کے لیے اسے الگ بھی بیان فرمایا، کیونکہ قرابت والوں کا حق زیادہ ہے اور انھیں دینا ویسے بھی مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ کم ہی احسان مند ہوتے ہیں اور باہمی رنجشیں بھی دینے لینے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ {” ذِي الْقُرْبٰى “} کو دینے کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ روم (۳۸)، بنی اسرائیل (۲۶)، بقرہ (۱۷۷) اور سورۂ بلد (۱۴، ۱۵) وغیرہ۔
➍ {وَ يَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْيِ: ” الْفَحْشَآءِ “} وہ گناہ جو برائی میں حد سے بڑھے ہوئے ہوں، مثلاً زنا اور قوم لوط کا عمل، سورۂ بقرہ میں شدید بخل کو بھی {” الْفَحْشَآءِ “} فرمایا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۶۸) {” الْمُنْكَرِ “} ایسی برائیاں جن کا عقل انکار کرتی ہو اور فطرت انسانی بھی انھیں برا سمجھتی ہو۔ {” الْبَغْيِ “} کسی پر ظلم، زیادتی، زبان درازی یا دست درازی کرنا، سرکشی کرنا۔
➎ اس آیت میں تین بھلائیوں (عدل، احسان، ایتاء ذی القربیٰ) کا حکم دیا گیا ہے، جن میں تمام بنیادی نیکیاں آ جاتی ہیں اور تین برائیوں (فحشاء، منکر، بغی) سے منع کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے تمام انفرادی اور اجتماعی معاملات کو بگاڑ کر رکھ دینے والی ہیں، اس لیے یہ قرآن مجید کی جامع ترین آیات میں سے ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
90۔ 1 عدل کے مشہور معنی انصاف کرنے کے ہیں۔ یعنی اپنوں اور بیگانوں سب کے ساتھ انصاف کیا جائے، کسی کے ساتھ دشمنی یا عناد یا محبت یا قرابت کی وجہ سے، انصاف کے تقاضے مجروح نہ ہوں۔ ایک دوسرے معنی اعتدال کے ہیں یعنی کسی معاملے میں بھی زیادتی یا کمی کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ حتیٰ کہ دین کے معاملے میں بھی۔ کیونکہ دین میں زیادتی کا نتیجہ حد سے زیادہ گزر جانا ہے، جو سخت خراب ہے اور کمی، دین میں کوتاہی ہے یہ بھی ناپسندیدہ ہے۔ 90۔ 2 احسان کے ایک معنی حسن سلوک، عفو و درگزر اور معاف کردینے کے ہیں۔ دوسرے معنی تفضل کے ہیں یعنی حق واجب سے زیادہ دینا یا عمل واجب سے زیادہ عمل کرنا۔ مثلا کسی کام کی مزدوری سو روپے طے ہے لیکن دیتے وقت 10، 20 روپے زیادہ دے دینا، طے شدہ سو روپے کی ادائیگی حق واجب ہے اور یہ عدل ہے۔ مزید 10، 20 روپے یہ احسان ہے۔ عدل سے بھی معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے لیکن احسان سے مزید خوش گواری اور اپنائیت و فدائیت کے جذبات نشو ونما پاتے ہیں۔ اور فرائض کی ادائیگی کے ساتھ نوافل کا اہتمام، عمل واجب سے زیادہ عمل جس سے اللہ کا قرب خصوصی حاصل ہوتا ہے۔ احسان کے ایک تیسرے معنی اخلاص عمل اور حسن عبادت ہے، جس کو حدیث میں ان تعبد اللہ کانک تراہ اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایتاء ذی القربی رشتے داروں کا حق ادا کرنا یعنی ان کی امداد کرنا ہے اسے حدیث میں صلہ رحمی کہا گیا ہے اور اس کی نہایت تاکید احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ عدل واحسان کے بعد اس کا الگ سے ذکر یہ بھی صلہ رحمی کی اہمیت کو واضح کر رہا ہے۔ فحشاء سے مراد بےحیائی کے کام ہیں۔ آج کل بےحیائی اتنی عام ہوگئی ہے کہ اس کا نام تہذیب ترقی اور آرٹ قرار پا گیا ہے۔ یا تفریح کے نام پر اس کا جواز تسلیم کرلیا گیا ہے۔ تاہم محض خوشنما لیبل لگا لینے سے کسی چیز کی حقیقت نہیں بدل جاتی اسی طرح شریعت اسلامیہ نے زنا اور اس کے مقدمات کو رقص وسرود بےپردگی اور فیشن پرستی کو اور مرد و زن کے بےباکانہ اختلاط اور مخلوط معاشرت اور دیگر اس قسم کی خرافات کو بےحیائی قرار دیا ہے، ان کا کتنا بھی اچھا نام رکھ لیا جائے مغرب سے درآمد شدہ یہ خباثتیں جائز قرار نہیں پا سکتیں۔ منکر ہر وہ کام ہے جسے شریعت نے ناجائز قرار دیا ہے اور بغی کا مطلب ظلم و زیادتی کا ارتکاب۔ ایک حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ قطع رحمی اور بغی یہ دونوں جرم اللہ کو اتنے ناپسند ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی ان کی فوری سزا کا امکان غالب رہتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
90۔ اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے [93] منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو
[93] اس آیت میں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے اور تین باتوں سے منع کیا گیا ہے اور یہ چھ الفاظ اس قدر وسیع المعنی ہیں کہ ساری اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ان میں آگیا ہے۔ اسی لیے بعض علماء کہتے ہیں کہ اگر قرآن میں کوئی آیت نہ ہوتی تو صرف یہی آیت انسان کی ہدایت کے لیے کافی تھی۔ اور سیدنا عثمان بن مظعونؓ فرماتے ہیں کہ اسی آیت کو سن کر میرے دل میں ایمان راسخ ہوا اور میرے دل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جاگزیں ہوئی۔ اس آیت کی اسی جامعیت کی وجہ سے خلیفہ راشد سیدنا عمر بن عبد العزیز نے اسے خطبہ جمعہ میں داخل کر کے امت کے لیے اسوہ حسنہ قائم کر دیا اور حقیقت یہ ہے کہ اگر ان اوامر و نواہی پر عمل کیا جائے تو معاشرہ کی اخلاقی، معاشرتی اور معاشی حالت بہترین بن سکتی ہے۔ اس تمہید کے بعد اب ہم ان الفاظ کی مختصر تشریح پیش کرتے ہیں: 1۔
عدل کے معنی:۔
عدل میں دو بنیادی معنی پائے جاتے ہیں۔ ➊ توازن و تناسب کو قائم رکھنا ➋ دوسرے کو اس کا حق بے لاگ طریقہ سے دینا [الفروق اللغويه از ابو هلال عسكري]
اور اس روایت بالعدل قامت السمٰوت والارض (یعنی زمین و آسمان عدل کے سہارے قائم ہیں) کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کے سیاروں میں اس قدر توازن و تناسب اور ہم آہنگی ہے کہ اگر ان کی کشش اور حرکت میں ذرا بھی کمی بیشی ہو جائے تو زمین اور آسمان ایک دوسرے سے ٹکرا کر کائنات کو فنا کر دیں۔ اور عدل کا اطلاق ظاہری اور باطنی سب امور پر یکساں ہوتا ہے۔ (فقہ اللغۃ 194 از ثعالبی) قرآن کریم کی درج ذیل آیت پہلے معنی میں استعمال ہوئی ہے۔﴿ الَّذِيْ خَلَقَكَ فَسَوّيٰكَ فَعَدَلَكَ﴾ [7: 82] جس نے تجھے پیدا کیا اور (تیرے اعضاء) کو ٹھیک کیا اور (تیرے قدو قامت اور مزاج) کو معتدل رکھا۔ پھر اسی پہلے معنی کے لحاظ سے دو مزید معنی بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔
(1) برابری کے معنوں میں جیسے ارشاد باری ہے: ﴿أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًا﴾ [95: 5] یا کفارہ دے جو مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے یا اس کے برابر روزے رکھے۔
(2) عوض، بدلہ یا معاوضہ کے معنی ہیں جیسے ارشاد باری ہے: ﴿وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ﴾ [48: 2] نہ اس سے سفارش قبول کی جائے گی اور نہ ہی اس سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے گا۔ اور عدل کا دوسرا بنیادی معنی کسی کو اس کا جائز حق دینا ہے اور یہ کام کسی ملک کی عدلیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں جو عدل کا معنی انصاف کیا جاتا ہے۔ یہ عدل کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ انصاف کا مفہوم یہ ہے کہ اگر ایک چیز کی ملکیت کے دو دعویدار ہیں تو اس چیز کو ان میں آدھا آدھا بانٹ دیا جائے جبکہ عدل کا مفہوم یہ ہے کہ فریقین کے بیان سن کر عدالت تحقیق کرے کہ اس میں فلاں فریق کا کچھ حق ہے بھی یا نہیں اور اگر ہے تو کتنا ہے؟ اگر ایک فریق کا حق صرف پانچواں حصہ ہے تو اسے اتنا ہی دلائے۔ اور اگر ایک فریق کا کچھ بھی حق نہیں بنتا تو اسے کچھ بھی نہ دلائے۔ درج ذیل آیت اسی معنی میں ہے: ﴿اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ للتَّقْويٰ﴾ [8: 5] عدل کیا کرو، یہی بات تقویٰ سے قریب تر ہے۔
2۔
اور اس روایت بالعدل قامت السمٰوت والارض (یعنی زمین و آسمان عدل کے سہارے قائم ہیں) کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کے سیاروں میں اس قدر توازن و تناسب اور ہم آہنگی ہے کہ اگر ان کی کشش اور حرکت میں ذرا بھی کمی بیشی ہو جائے تو زمین اور آسمان ایک دوسرے سے ٹکرا کر کائنات کو فنا کر دیں۔ اور عدل کا اطلاق ظاہری اور باطنی سب امور پر یکساں ہوتا ہے۔ (فقہ اللغۃ 194 از ثعالبی) قرآن کریم کی درج ذیل آیت پہلے معنی میں استعمال ہوئی ہے۔﴿ الَّذِيْ خَلَقَكَ فَسَوّيٰكَ فَعَدَلَكَ﴾ [7: 82] جس نے تجھے پیدا کیا اور (تیرے اعضاء) کو ٹھیک کیا اور (تیرے قدو قامت اور مزاج) کو معتدل رکھا۔ پھر اسی پہلے معنی کے لحاظ سے دو مزید معنی بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔
(1) برابری کے معنوں میں جیسے ارشاد باری ہے: ﴿أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًا﴾ [95: 5] یا کفارہ دے جو مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے یا اس کے برابر روزے رکھے۔
(2) عوض، بدلہ یا معاوضہ کے معنی ہیں جیسے ارشاد باری ہے: ﴿وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ﴾ [48: 2] نہ اس سے سفارش قبول کی جائے گی اور نہ ہی اس سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے گا۔ اور عدل کا دوسرا بنیادی معنی کسی کو اس کا جائز حق دینا ہے اور یہ کام کسی ملک کی عدلیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں جو عدل کا معنی انصاف کیا جاتا ہے۔ یہ عدل کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ انصاف کا مفہوم یہ ہے کہ اگر ایک چیز کی ملکیت کے دو دعویدار ہیں تو اس چیز کو ان میں آدھا آدھا بانٹ دیا جائے جبکہ عدل کا مفہوم یہ ہے کہ فریقین کے بیان سن کر عدالت تحقیق کرے کہ اس میں فلاں فریق کا کچھ حق ہے بھی یا نہیں اور اگر ہے تو کتنا ہے؟ اگر ایک فریق کا حق صرف پانچواں حصہ ہے تو اسے اتنا ہی دلائے۔ اور اگر ایک فریق کا کچھ بھی حق نہیں بنتا تو اسے کچھ بھی نہ دلائے۔ درج ذیل آیت اسی معنی میں ہے: ﴿اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ للتَّقْويٰ﴾ [8: 5] عدل کیا کرو، یہی بات تقویٰ سے قریب تر ہے۔
2۔
احسان کے معنی:۔
احسان کا معنی ہر نیک اور اچھا کام ہے خواہ اس کا تعلق اپنی ذات سے ہو یا کسی دوسرے سے (فقہ اللغہ 158 از ثعالبی) اور یہ لفظ چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے ہر بھلائی کے کام پر بولا جاتا ہے اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ کسی کام کو بہتر سے بہتر طریقہ سے بجا لایا جائے۔ چنانچہ حدیث جبریل میں ہے کہ جبریل نے آپ سے پوچھا کہ احسان کیا چیز ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے اور یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم یہ ضرور سمجھے کہ اللہ تجھے دیکھ رہا ہے اور عبادت کا مفہوم صرف فرضی یا نفلی نماز ادا کرنا نہیں۔ بلکہ جو کام بھی اللہ کا حکم سمجھ کر بجا لایا جائے وہ اس کی عبادت ہے اور کام کو خوشدلی کے ساتھ اور اچھے طریقہ سے بجا لانے کا نام احسان ہے۔ اس لحاظ سے کسی جانور کو ذبح کرتے وقت چھری کو خوب تیز کر لینا بھی احسان ہے تاکہ ذبیحہ کو کم سے کم تکلیف پہنچے۔
عدل اور احسان میں فرق:۔
عدل اگرچہ بذات خود ایک اعلیٰ قدر ہے مگر احسان کا درجہ عدل سے بھی بڑھ کر ہے۔ عدل اور احسان کے فرق کو ہم ایک معمولی سی مثال سے سمجھائیں گے۔ مثلاً ایک دکاندار سودا دیتے وقت ترازو کی ڈنڈی بالکل سیدھی رکھ کر چیز تولتا ہے اور کوئی ہیرا پھیری نہیں کرتا تو یہ عدل ہے اور اگر کچھ جھکتا تول کر دے یعنی زیادہ دے دے یا قیمت طے کر لینے کے بعد کچھ مزید رعایت کر دے تو یہ احسان ہے جسے دوسرے لفظوں میں ایثار بھی کہا جا سکتا ہے مگر اس مثال سے عدل اور احسان کے صرف ایک پہلو کا فرق نمایاں ہوتا ہے۔
احسان کے معاشرتی زندگی میں اثرات:۔
جس معاشرہ میں عدل قائم ہو گو اس میں ایک دوسرے کے حقوق غصب نہیں ہوتے تاہم کچھ کشمکش ضرور باقی رہتی ہے۔ لیکن جس معاشرہ میں احسان رواج پا جائے یا الفاظ دیگر ہر شخص اپنے حق سے کچھ کم پر قانع ہو جائے تو ایسے معاشرہ میں نزاع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ اس میں محبت، الفت اور اخوت جیسی بلند اقدار فروغ پانے لگتی ہیں۔ نیز ان دونوں الفاظ کا اطلاق عقائد، اعمال، عبادات، اخلاق، معاملات اور جذبات سب باتوں پر ہوتا ہے۔
3۔
3۔
قریبی رشتہ داروں کو دینا:۔
عدل و احسان کا سلوک تو قریبی رشتہ داروں سے بھی ہو گا تاہم ان کے حقوق عام لوگوں سے زیادہ ہیں۔ اور یہ بڑا طویل باب ہے جس میں والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے حقوق اور ان سے بہتر سلوک سب کچھ شامل ہے۔ اور اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ ہر خاندان کے خوشحال افراد کو اس بات کا ذمہ دار قرار دیتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کے لوگوں کو بھوکا ننگا نہ چھوڑیں۔ اس کی نگاہ میں ایک معاشرے کی اس سے بد تر کوئی حالت نہیں ہے کہ اس کے اندر ایک شخص تو عیاشی کی زندگی بسر کر رہا ہو اور اسی خاندان میں اس کے اپنے بھائی بند روٹی کپڑے تک کو محتاج ہوں۔ اور جس معاشرہ کے خوشحال افراد اپنی اس ذمہ داری کو سنبھال لیں اس کے متعلق آپ خود اندازہ فرما لیجئے کہ اس میں معاشی حیثیت سے کتنی خوشحالی، معاشرتی حیثیت سے کتنی حلاوت اور اخلاقی حیثیت سے کتنی پاکیزگی و بلندی پیدا ہو جائے گی۔ اور جن باتوں سے منع کیا گیا ہے وہ یہ ہیں:
1۔
1۔
فحاشی کے کام:۔
فحشاء فحش کے معنی ہر وہ قول یا فعل ہے جو قباحت اور برائی میں حد سے بڑھا ہوا ہو (مفردات) اور اس لفظ کا اطلاق عموماً ایسے اقوال و افعال پر ہوتا ہے جو زنا یا اس جیسی دوسری شہوانی حرکات کے قریب لے جاتے ہوں نیز سب بے حیائی کے کام اوراقوال اس میں شامل ہیں۔ مثلاً برہنگی، عریانی، لواطت، محرمات سے نکاح، تہمت تراشی، گالیاں بکنا، پوشیدہ جرائم کی تشہیر، بد کاریوں پر ابھارنے والے افسانے اور ڈرامے اور فلمیں، عریاں تصاویر، عورتوں کا بن سنور کا منظر عام پر آنا، مردوزن کا آزادانہ اختلاط، عورتوں کا سٹیج پر ناچنا اور تھرکنا اور ناز و ادا کی نمائش سب کچھ فحشاء کے زمرہ میں آتا ہے۔
2۔
2۔
منکرات کیا ہیں:۔
منکر کچھ برے کام ایسے ہیں جن سے شریعت نے بالوضاحت منع کر دیا ہے۔ وہ تو بہرحال منکرات میں شامل ہیں ہی مگر کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں شریعت خاموش ہوتی ہے لیکن کسی خاص ملک یا کسی خاص معاشرہ میں وہ معیوب اور برے سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے کام اس خاص ملک یا معاشرہ میں تو منکر ہوتے ہیں مگر دوسرے ملک یا معاشرہ میں انھیں منکر نہیں کہا جا سکتا۔ (منکر کی ضد معروف ہے) اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ہمارے ہاں اپنے سے بڑے یا بزرگوں کو جی یا صاحب کہہ کر پکارا جاتا ہے لیکن عرب میں نہ ایسا دستور ہے اور نہ ہی اس بارے میں شریعت کا کوئی حکم ہے لہٰذا بڑوں کو ادب سے یا جی یا صاحب کے لقب سے یا واحد کے بجائے صیغہ جمع حاضر مخاطب میں بلانا معروف ہے اور اگر کوئی تو کہہ کر پکارے تو یہ منکر ہے۔ اسی طرح قبلہ کی طرف پاؤں پھیلا کر بیٹھنا یا لیٹنا ہمارے ہاں منکر ہے اور اسے برا اور معیوب سمجھا جاتا ہے جبکہ شریعت اس بارے میں خاموش ہے اور کئی ممالک کے لوگ اسے منکر نہیں سمجھتے نہ اسے معروف سمجھتے ہیں۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو منکرات سے بھی منع کرتا ہے۔
3۔
3۔
بغی کے مختلف مفہوم:۔
بغی کے معنی کسی چیز کی طلب اور خواہش کے حصول میں مناسب حد سے آگے نکل جانا۔ اپنے حق سے کچھ زیادہ وصول کرنے کی کوشش کرنا اور اسی نسبت سے دوسروں کا حق دبانا، اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنا، نافرمانی کرنا، دوسروں کے جان و مال یا آبرو پر ناحق دست درازی کرنا، قانون شکنی کرنا، سرکشی کرنا وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔ معروف لفظ بغاوت بھی اسی سے مشتق ہے۔ الغرض اگر ان مندرجہ بالا تین قسم کی برائیوں سے اجتناب کیا جائے تو ایسا معاشرہ ہر قسم کی قباحتوں اور برائیوں سے مہذب اور پاک صاف ہو جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
برابر کا بدلہ ٭٭
اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے بندوں کو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور سلوک و احسان کی رہنمائی کرتا ہے گو بدلہ لینا بھی جائز ہے جیسے آیت «وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ وَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:126] میں فرمایا کہ ’ اگر بدلہ لے سکو تو برابر برابر کا بدلہ لو لیکن اگر صبر و برداشت کر لو تو کیا ہی کہنا یہ بڑی مردانگی کی بات ہے ‘۔
اور آیت میں فرمایا «وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ» ۱؎ [42-اشوریٰ:40] ’ اس کا اجر خدا کے ہاں ملے گا ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ» ۱؎ [5-المائدہ:45] ’ زخموں کا قصاص ہے لیکن جو درگزر کر جائے اس کے گناہوں کی معافی ہے ‘۔
پس عدل تو فرض، احسان نفل اور کلمہ تو حید کی شہادت بھی عدل ہے۔ ظاہر باطن کی پاکیزگی بھی عدل ہے اور احسان یہ ہے کہ پاکی صفائی ظاہر سے بھی زیادہ ہو۔ اور فحشاء اور منکر یہ ہے کہ باطن میں کھوٹ ہو اور ظاہر میں بناوٹ ہو۔ وہ صلہ رحمی کا بھی حکم دیتا ہے۔
جیسے صاف لفظوں میں ارشاد آیت «وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:26]، ’ رشتے داروں، مسکینوں، مسافروں کو ان کا حق دو اور بے جا خرچ نہ کرو ‘۔ محرمات سے وہ تمہیں روکتا ہے، برائیوں سے منع کرتا ہے ظاہری باطنی تمام برائیاں حرام ہیں، لوگوں پر ظلم و زیادتی حرام ہے۔
حدیث میں ہے کہ { کوئی گناہ ظلم و زیادتی اور قطع رحمی سے بڑھ کر ایسا نہیں کہ دنیا میں بھی جلدی ہی اس کا بدلہ ملے اور اخرت میں بھی سخت پکڑ ہو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4902، قال الشيخ الألباني:صحیح]
اللہ کے یہ احکام اور یہ نواہی تمہاری نصیحت کے لیے ہیں جو اچھی عادتیں ہیں، ان کا حکم قرآن نے دیا ہے «قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ» ۱؎ [7-الأعراف:33] اور جو بری خصلتیں لوگوں میں ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا ہے، بد خلقی اور برائی سے اس نے ممانعت کر دی ہے۔
حدیث شریف میں ہے { بہترین اخلاق اللہ کو پسند ہیں اور بد خلقی کو وہ مکروہ رکھتا ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1378]
اور آیت میں فرمایا «وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ» ۱؎ [42-اشوریٰ:40] ’ اس کا اجر خدا کے ہاں ملے گا ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ» ۱؎ [5-المائدہ:45] ’ زخموں کا قصاص ہے لیکن جو درگزر کر جائے اس کے گناہوں کی معافی ہے ‘۔
پس عدل تو فرض، احسان نفل اور کلمہ تو حید کی شہادت بھی عدل ہے۔ ظاہر باطن کی پاکیزگی بھی عدل ہے اور احسان یہ ہے کہ پاکی صفائی ظاہر سے بھی زیادہ ہو۔ اور فحشاء اور منکر یہ ہے کہ باطن میں کھوٹ ہو اور ظاہر میں بناوٹ ہو۔ وہ صلہ رحمی کا بھی حکم دیتا ہے۔
جیسے صاف لفظوں میں ارشاد آیت «وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:26]، ’ رشتے داروں، مسکینوں، مسافروں کو ان کا حق دو اور بے جا خرچ نہ کرو ‘۔ محرمات سے وہ تمہیں روکتا ہے، برائیوں سے منع کرتا ہے ظاہری باطنی تمام برائیاں حرام ہیں، لوگوں پر ظلم و زیادتی حرام ہے۔
حدیث میں ہے کہ { کوئی گناہ ظلم و زیادتی اور قطع رحمی سے بڑھ کر ایسا نہیں کہ دنیا میں بھی جلدی ہی اس کا بدلہ ملے اور اخرت میں بھی سخت پکڑ ہو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4902، قال الشيخ الألباني:صحیح]
اللہ کے یہ احکام اور یہ نواہی تمہاری نصیحت کے لیے ہیں جو اچھی عادتیں ہیں، ان کا حکم قرآن نے دیا ہے «قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ» ۱؎ [7-الأعراف:33] اور جو بری خصلتیں لوگوں میں ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا ہے، بد خلقی اور برائی سے اس نے ممانعت کر دی ہے۔
حدیث شریف میں ہے { بہترین اخلاق اللہ کو پسند ہیں اور بد خلقی کو وہ مکروہ رکھتا ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1378]
اکثم بن صیفی کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت اطلاع ہوئی تو اس نے خدمت نبوی میں حاضر ہونے کی ٹھان لی لیکن اس کی قوم اس کے سر ہوگئی اور اسے روک لیا اس نے کہا اچھا مجھے نہیں جانے دیتے تو قاصد لاؤ جنہیں میں وہاں بھیجوں۔
دو شخص اس خدمت کی انجام دہی کے لیے تیار ہوئے یہاں آکر انہوں نے کہا کہ ہم اکثم بن صیفی کے قاصد ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں اور کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت انہیں پڑھ کر سنائی انہوں نے کہا دوبارہ پڑھئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پڑھی، یہاں تک کہ انہوں نے یاد کرلی۔
پھر واپس جا کر اکثم کو خبر دی اور کہا اپنے نسب پر اس نے کوئی فخر نہیں کیا۔ صرف اپنا اور اپنے والد کا نام بتا دیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہیں وہ بڑے نسب والے، مضر میں اعلی خاندان کے ہیں اور پھر یہ کلمات ہمیں تعلیم فرمائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ہم نے سنے۔ یہ سن کر اکثم نے کہا وہ تو بڑی اچھی اور اعلی باتیں سکھاتے ہیں اور بری اور سفلی باتوں سے روکتے ہیں۔ میرے قبیلے کے لوگو تم اسلام کی طرف سبقت کرو تاکہ تم دوسروں پر سرداری کرو اور دوسروں کے ہاتھوں میں دمیں بن کر نہ رہ جاؤ۔
دو شخص اس خدمت کی انجام دہی کے لیے تیار ہوئے یہاں آکر انہوں نے کہا کہ ہم اکثم بن صیفی کے قاصد ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں اور کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت انہیں پڑھ کر سنائی انہوں نے کہا دوبارہ پڑھئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پڑھی، یہاں تک کہ انہوں نے یاد کرلی۔
پھر واپس جا کر اکثم کو خبر دی اور کہا اپنے نسب پر اس نے کوئی فخر نہیں کیا۔ صرف اپنا اور اپنے والد کا نام بتا دیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہیں وہ بڑے نسب والے، مضر میں اعلی خاندان کے ہیں اور پھر یہ کلمات ہمیں تعلیم فرمائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ہم نے سنے۔ یہ سن کر اکثم نے کہا وہ تو بڑی اچھی اور اعلی باتیں سکھاتے ہیں اور بری اور سفلی باتوں سے روکتے ہیں۔ میرے قبیلے کے لوگو تم اسلام کی طرف سبقت کرو تاکہ تم دوسروں پر سرداری کرو اور دوسروں کے ہاتھوں میں دمیں بن کر نہ رہ جاؤ۔
اس آیت کے شان نزول میں ایک حسن حدیث مسند امام احمد میں وارد ہوئی ہے { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگنائی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بیٹھتے نہیں ہو؟ } وہ بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوکر باتیں کر رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دفعتہً اپنی نظریں آسمان کی جانب اٹھائیں کچھ دیر اوپر ہی کو دیکھتے رہے، پھر نگاہیں آہستہ آہستہ نیچی کیں اور اپنی دائیں جانب زمین کی طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخ بھی کرلیا اور اس طرح سر ہلانے لگے گویا کسی سے کچھ سمجھ رہے ہیں اور کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہہ رہا ہے تھوڑی دیر تک یہی حالت طاری رہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہیں اونچی کرنی شروع کیں، یہاں تک کہ آسمان تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں پہنچیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھیک ٹھاک ہوگئے اور اسی پہلی بیٹھک پر عثمان کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گئے۔
وہ یہ سب دیکھ رہا تھا، اس سے صبر نہ ہو سکا، پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کئی بار بیٹھنے کا اتفاق ہوا لیکن آج جیسا منظر تو کبھی نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { تم نے کیا دیکھا؟ } اس نے کہا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی پھر نیچیں کرلی اور اپنے دائیں طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف گھوم کر بیٹھ گئے، مجھے چھوڑ دیا، پھر اس طرح سر ہلانے لگے جیسے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہہ رہا ہو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اچھی طرح سن سمجھ رہے ہوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اچھا تم نے یہ سب کچھ دیکھا؟ } اس نے کہا برابر دیکھتا ہی رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے پاس اللہ کا نازل کردہ فرشتہ وحی لے کر آیا تھا }، اس نے کہا اللہ کا بھیجا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں، ہاں اللہ کا بھیجا ہوا }۔ پوچھا پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھ سنائی۔ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسی وقت میرے دل میں ایمان بیٹھ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے میرے دل میں گھر کرلیا }۔ ۱؎ [مسند احمد:318/1:ضعیف]
ایک اور روایت میں عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہیں اوپر کو اٹھائیں اور فرمایا: { جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اس آیت کو اس سورت کی اس جگہ رکھوں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:218/4:ضعیف] یہ روایت بھی صحیح ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
وہ یہ سب دیکھ رہا تھا، اس سے صبر نہ ہو سکا، پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کئی بار بیٹھنے کا اتفاق ہوا لیکن آج جیسا منظر تو کبھی نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { تم نے کیا دیکھا؟ } اس نے کہا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی پھر نیچیں کرلی اور اپنے دائیں طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف گھوم کر بیٹھ گئے، مجھے چھوڑ دیا، پھر اس طرح سر ہلانے لگے جیسے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہہ رہا ہو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اچھی طرح سن سمجھ رہے ہوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اچھا تم نے یہ سب کچھ دیکھا؟ } اس نے کہا برابر دیکھتا ہی رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے پاس اللہ کا نازل کردہ فرشتہ وحی لے کر آیا تھا }، اس نے کہا اللہ کا بھیجا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں، ہاں اللہ کا بھیجا ہوا }۔ پوچھا پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھ سنائی۔ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسی وقت میرے دل میں ایمان بیٹھ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے میرے دل میں گھر کرلیا }۔ ۱؎ [مسند احمد:318/1:ضعیف]
ایک اور روایت میں عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہیں اوپر کو اٹھائیں اور فرمایا: { جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اس آیت کو اس سورت کی اس جگہ رکھوں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:218/4:ضعیف] یہ روایت بھی صحیح ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔