وَ یَوۡمَ نَبۡعَثُ فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ وَ جِئۡنَا بِکَ شَہِیۡدًا عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ ؕ وَ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ تِبۡیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿٪۸۹﴾
اور جس دن ہم ہر امت میں ان پر انھی میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور تجھے ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے۔ اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل کی، اس حال میں کہ ہر چیز کا واضح بیان ہے اور فرماں برداروں کے لیے ہدایت اور رحمت اور خوش خبری ہے۔
En
اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر اُمت میں سے خود اُن پر گواہ کھڑے کریں گے۔ اور (اے پیغمبر) تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے
En
اور جس دن ہم ہر امت میں انہی میں سے ان کے مقابلے پر گواه کھڑا کریں گے اور تجھے ان سب پر گواه بنا کر ﻻئیں گے اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے، اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری ہے مسلمانوں کے لیے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت89) ➊ { وَ يَوْمَ نَبْعَثُ فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۴۳) اور سورۂ نساء کی آیت (۴۱) {” مِنْ اَنْفُسِهِمْ “} سے مراد خود ان کے چمڑوں اور دوسرے اعضاء کی شہادت بھی ہو سکتی ہے۔ دیکھیے سورۂ حٰمٓ السجدہ (۲۰، ۲۱)۔
➋ {وَ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا …: ” تِبْيَانًا “} مصدر ہے، بیان میں مبالغہ ہے، بہت اچھی طرح بیان کرنا، یعنی حلال و حرام اور ہر اس چیز کا واضح بیان ہے جس پر دنیا و آخرت میں انسان کی ہدایت و گمراہی اور کامیابی اور ناکامی کا انحصار ہے، پھر جن احکام کو قرآن نے مختصر طور پر بیان کیا ہے، یا ان کا بیان چھوڑ دیا ہے ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع فرض قرار دے کر سنت و حدیث کی طرف رجوع کا حکم دیا ہے۔
➌ {لِكُلِّ شَيْءٍ:} قرآن کا دعویٰ یہ ہے کہ اس میں ہر چیز کا واضح بیان ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ فرمایا: [لَعَنَ اللّٰهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُوْتَشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰهِ، فَبَلَغَ ذٰلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِيْ أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوْبَ، فَجَاءَتْ فَقَالَتْ إِنَّهُ بَلَغَنِيْ أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ، فَقَالَ وَمَا لِيْ لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ هُوَ فِيْ كِتَابِ اللّٰهِ؟ فَقَالَتْ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُ فِيْهِ مَا تَقُوْلُ، فَقَالَ لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيْهِ لَقَدْ وَجَدْتِيْهِ، أَمَا قَرَأْتِ: «{ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا }» قَالَتْ: بَلٰہ، قَالَ فَإِنَّهُ قَدْ نَهَی عَنْهُ] [بخاری، التفسیر، سورۃ الحشر، باب: «وما اٰتاکم الرسول فخذوہ…» : ۴۸۸۶]”اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو جلد میں سوئی کے ذریعے سے نیل کے ساتھ نقش و نگار بناتی ہیں اور جو بنواتی ہیں اور جو چہرے کے بال اکھڑواتی ہیں اور جو دانتوں کے درمیان فاصلہ کرواتی ہیں، اللہ کی پیدا کردہ چیز کو بدلتی ہیں۔“ بنو اسد کی ایک خاتون ام یعقوب نامی کو یہ بات پہنچی تو وہ آئی اور کہنے لگی: ”مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے ایسی ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے؟“ انھوں نے فرمایا: ”میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو اللہ کی کتاب میں بھی ہے۔“ اس نے کہا: ”میں نے دونوں تختیوں کے درمیان (پورا قرآن) پڑھا ہے، اس میں تو تمھاری یہ بات مجھے نہیں ملی۔“ فرمایا: ”اگر تو نے اسے پڑھا ہوتا تو تجھے مل جاتا، کیا تم نے یہ نہیں پڑھا: «{ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا }» [الحشر: ۷] ”اور رسول تمھیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمھیں روک دے تو رک جاؤ۔“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں؟“ فرمایا: ”پھر بات یہ ہے کہ ان کاموں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔“
اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے اپنے الفاظ کے مطابق اس میں ہر چیز کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ دین کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ہر حکم پر عمل کرنا اور ہر نہی سے باز رہنا بھی قرآن ہی کا حصہ ہے۔ مفسر شعراوی نے یہاں شیخ محمد عبدہ مصری کا ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے، انھوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ میں پیرس میں تھا، ایک مستشرق (غیر مسلم عربی عالم) نے مجھ سے کہا کہ قرآن میں ہے: «{ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ }» [الأنعام: ۳۸] ”ہم نے کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی۔“ میں نے کہا، ہاں ٹھیک ہے۔ اس نے کہا، اچھا یہ بتاؤ کہ ایک اردب (تقریباً ۴۸ کلو) آٹے کی کتنی روٹیاں بنتی ہیں؟ میں نے کہا، یہ معمولی بات ہے، آؤ کسی روٹیاں پکانے والے سے پوچھ لیتے ہیں۔ اس نے کہا، نہیں، میں قرآن میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا، قرآن نے تو بتا دیا ہے: «{ فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ }» [الأنبیاء: ۷] ”اگر تم نہیں جانتے تو اہل الذکر (اسے سمجھنے والے) سے پوچھ لو۔“ غرض قرآن میں ہر چیز کا بیان موجود ہے۔ مزید تفصیل اسی سورت کی آیت (۶۴) اور اس کے حواشی میں ملاحظہ فرمائیں۔
➍ {وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ:} یہاں تینوں لفظ اسم فاعل کے بجائے مصدر ذکر فرمائے ہیں، مثلاً{ ” هَادِيٌ “ } کے بجائے {” هُدًى “ } اور اسی طرح {” رَحْمَةً “} اور {” بُشْرٰى “} فرمایا ہے، ایسا مبالغہ کے لیے کیا جاتا ہے، مثلاً زید کو بہت ہی زیادہ عادل کہنا ہو تو {”زَيْدٌ عَادِلٌ“} کے بجائے کہتے ہیں {”زَيْدٌ عَدْلٌ“} یعنی زید عین عدل ہے۔ مقصد یہ کہ قرآن مسلمانوں کے لیے ہدایت، رحمت اور بشارت ہے۔
➋ {وَ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا …: ” تِبْيَانًا “} مصدر ہے، بیان میں مبالغہ ہے، بہت اچھی طرح بیان کرنا، یعنی حلال و حرام اور ہر اس چیز کا واضح بیان ہے جس پر دنیا و آخرت میں انسان کی ہدایت و گمراہی اور کامیابی اور ناکامی کا انحصار ہے، پھر جن احکام کو قرآن نے مختصر طور پر بیان کیا ہے، یا ان کا بیان چھوڑ دیا ہے ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع فرض قرار دے کر سنت و حدیث کی طرف رجوع کا حکم دیا ہے۔
➌ {لِكُلِّ شَيْءٍ:} قرآن کا دعویٰ یہ ہے کہ اس میں ہر چیز کا واضح بیان ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ فرمایا: [لَعَنَ اللّٰهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُوْتَشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰهِ، فَبَلَغَ ذٰلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِيْ أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوْبَ، فَجَاءَتْ فَقَالَتْ إِنَّهُ بَلَغَنِيْ أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ، فَقَالَ وَمَا لِيْ لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ هُوَ فِيْ كِتَابِ اللّٰهِ؟ فَقَالَتْ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُ فِيْهِ مَا تَقُوْلُ، فَقَالَ لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيْهِ لَقَدْ وَجَدْتِيْهِ، أَمَا قَرَأْتِ: «{ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا }» قَالَتْ: بَلٰہ، قَالَ فَإِنَّهُ قَدْ نَهَی عَنْهُ] [بخاری، التفسیر، سورۃ الحشر، باب: «وما اٰتاکم الرسول فخذوہ…» : ۴۸۸۶]”اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو جلد میں سوئی کے ذریعے سے نیل کے ساتھ نقش و نگار بناتی ہیں اور جو بنواتی ہیں اور جو چہرے کے بال اکھڑواتی ہیں اور جو دانتوں کے درمیان فاصلہ کرواتی ہیں، اللہ کی پیدا کردہ چیز کو بدلتی ہیں۔“ بنو اسد کی ایک خاتون ام یعقوب نامی کو یہ بات پہنچی تو وہ آئی اور کہنے لگی: ”مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے ایسی ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے؟“ انھوں نے فرمایا: ”میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو اللہ کی کتاب میں بھی ہے۔“ اس نے کہا: ”میں نے دونوں تختیوں کے درمیان (پورا قرآن) پڑھا ہے، اس میں تو تمھاری یہ بات مجھے نہیں ملی۔“ فرمایا: ”اگر تو نے اسے پڑھا ہوتا تو تجھے مل جاتا، کیا تم نے یہ نہیں پڑھا: «{ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا }» [الحشر: ۷] ”اور رسول تمھیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمھیں روک دے تو رک جاؤ۔“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں؟“ فرمایا: ”پھر بات یہ ہے کہ ان کاموں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔“
اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے اپنے الفاظ کے مطابق اس میں ہر چیز کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ دین کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ہر حکم پر عمل کرنا اور ہر نہی سے باز رہنا بھی قرآن ہی کا حصہ ہے۔ مفسر شعراوی نے یہاں شیخ محمد عبدہ مصری کا ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے، انھوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ میں پیرس میں تھا، ایک مستشرق (غیر مسلم عربی عالم) نے مجھ سے کہا کہ قرآن میں ہے: «{ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ }» [الأنعام: ۳۸] ”ہم نے کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی۔“ میں نے کہا، ہاں ٹھیک ہے۔ اس نے کہا، اچھا یہ بتاؤ کہ ایک اردب (تقریباً ۴۸ کلو) آٹے کی کتنی روٹیاں بنتی ہیں؟ میں نے کہا، یہ معمولی بات ہے، آؤ کسی روٹیاں پکانے والے سے پوچھ لیتے ہیں۔ اس نے کہا، نہیں، میں قرآن میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا، قرآن نے تو بتا دیا ہے: «{ فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ }» [الأنبیاء: ۷] ”اگر تم نہیں جانتے تو اہل الذکر (اسے سمجھنے والے) سے پوچھ لو۔“ غرض قرآن میں ہر چیز کا بیان موجود ہے۔ مزید تفصیل اسی سورت کی آیت (۶۴) اور اس کے حواشی میں ملاحظہ فرمائیں۔
➍ {وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ:} یہاں تینوں لفظ اسم فاعل کے بجائے مصدر ذکر فرمائے ہیں، مثلاً{ ” هَادِيٌ “ } کے بجائے {” هُدًى “ } اور اسی طرح {” رَحْمَةً “} اور {” بُشْرٰى “} فرمایا ہے، ایسا مبالغہ کے لیے کیا جاتا ہے، مثلاً زید کو بہت ہی زیادہ عادل کہنا ہو تو {”زَيْدٌ عَادِلٌ“} کے بجائے کہتے ہیں {”زَيْدٌ عَدْلٌ“} یعنی زید عین عدل ہے۔ مقصد یہ کہ قرآن مسلمانوں کے لیے ہدایت، رحمت اور بشارت ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
89۔ 1 یعنی ہر نبی اپنی امت پر گواہی دے گا اور نبی اور آپ کی امت کے لوگ انبیاء کی بابت گواہی دیں گے کہ یہ سچے ہیں، انہوں نے یقیناً تیرا پیغام پہنچا دیا تھا (صحیح بخاری) 89۔ 2 کتاب سے مراد اللہ کی کتاب اور نبی کی تشریحات (احادیث) ہیں۔ اپنی احادیث کو بھی اللہ کے رسول نے ' کتاب اللہ ' قرار دیا ہے۔ اور ہر چیز کا مطلب ہے، ماضی اور مستقبل کی خبریں جن کا علم ضروری اور مفید ہے، اسی طرح حرام و حلال کی تفصیلات اور وہ باتیں جن کے دین و دنیا اور معاش و معاد کے معاملات میں انسان محتاج ہیں۔ قرآن و حدیث دونوں میں یہ سب چیزیں واضح کردی گئی ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
89۔ اور جس دن ہم ہر امت میں سے انہی میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور ان پر ہم آپ کو گواہ [90] لائیں گے۔ اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کی وضاحت [91] موجود ہے اور (اس میں) مسلمانوں کے لئے ہدایت، رحمت [92] اور خوشخبری ہے
[90] آپ کا دوسرے صحابہ سے قرآن سننا:۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ ”مجھے قرآن سناؤ“ میں نے عرض کی۔ بھلا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا سناؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی پر تو قرآن نازل ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ٹھیک ہے، مگر دوسرے سے سننا مجھے اچھا لگتا ہے“ ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ پھر میں نے سورۃ نساء پڑھنا شروع کی اور جب اس آیت پر پہنچا
﴿فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشهَِيْدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَليٰ هٰوُلاَءٍ شهَِيْدًا﴾ [4: 41]
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بس کرو“ میں نے دیکھا تو اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [بخاري، كتاب التفسير]
﴿فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشهَِيْدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَليٰ هٰوُلاَءٍ شهَِيْدًا﴾ [4: 41]
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بس کرو“ میں نے دیکھا تو اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [بخاري، كتاب التفسير]
قیامت کے دن رسول اللہﷺ کی گواہی:۔
سورۃ نساء کی آیت نمبر 41 اور سورۃ نحل کی اس آیت کا مضمون ایک ہی ہے۔ البتہ الفاظ کا اختلاف اور تقدیم و تاخیر ضرور ہے ان دونوں آیات میں ھولاء کا مشار الیہ دوسرے انبیاء بھی ہو سکتے ہیں۔ اور گواہی یہ دینا ہو گی کہ آیا واقعی ان سابقہ انبیاء نے اپنی اپنی امتوں کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ اس مطلب کے لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام انبیاء پر فضیلت ثابت ہوئی اور اسی فرط مسرت و انبساط سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہنے لگے کہ یہ آپ پر اللہ کا کتنا بڑا فضل ہے اور اگر ھولاء کا مشارٌ الیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لوگوں کو سمجھا جائے جو اس وقت موجود تھے تو یہ ایک بڑی گرانبار ذمہ داری بن جاتی ہے کہ آپ ان کے اچھے اور برے سب اعمال پر گواہی دیں خصوصاً اس صورت میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرامؓ سے بے حد محبت تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر بڑے مہربان تھے۔ اسی خیال سے آپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ نیز ﴿هٰوُلاَءِ﴾ سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے وہ لوگ بھی مراد لیے جا سکتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سے لے کر قیامت تک پیدا ہوں گے۔ اور ان لوگوں پر آپ گواہی دیں گے کہ جنہوں نے قرآن کو پس پشت ڈال رکھا تھا۔ انہوں نے قرآن کو محض ایک عملیات کی کتاب سمجھ رکھا تھا۔ جلسے جلوسوں کا افتتاح تو تلاوت قرآن سے ہوتا تھا اس کے بعد انھیں قرآن کے احکام سے کوئی غرض نہ ہوتی تھی۔ یا ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے قرآنی آیات و احکام کو سمجھنے کے بعد محض دنیوی اغراض یا فرقہ وارانہ تعصب کے طور پر ان کی غلط تاویل کرتے تھے۔ ان سب لوگوں کے خلاف اللہ کے ہاں یہ گواہی دیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ جیسا کہ سورۃ فرقان کی آیت نمبر 30 سے واضح ہے۔
[91] قرآن میں تفصیل کس قسم کی ہے:۔
چونکہ قرآن کریم کا موضوع بنی نوع انسان کی ہدایت ہے لہٰذا یہاں ہر چیز سے مراد ہر ایسی چیز ہے جو انسان کی ہدایت سے تعلق رکھتی ہو۔ یعنی اس میں تمام اچھے اور برے اعمال اور ان کی جزا و سزا کی خبر دی گئی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دنیا جہان کے علوم و فنون اس میں آگئے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی تفصیلات بھی موجود ہیں جیسا کہ اکثر حضرات اپنے اپنے علوم و فنون کو بہ تکلف قرآن کریم کی طرف منسوب کرنے کی کوشش فرماتے ہیں۔ قرآن کریم میں اگر کوئی بات طب، جغرافیہ یا تاریخ یا ہیئت کی آگئی ہے تو وہ ضمناً ہے ایسے علوم بیان کرنا قرآن کا اصل مقصد نہیں۔ نیز قرآن میں جو چیزیں مذکور ہوئی ہیں ان میں سے بعض کی تو تفصیل بھی قرآن میں آگئی ہے۔ بعض اجمالاً بیان ہوئی ہیں۔ ان کی تفصیل قرآن کے بیان یا آپ کی سنت سے ملتی ہے۔ حتیٰ کہ بیشتر ارکان اسلام تک قرآن میں اجمالاً بیان ہوئے ہیں۔ اور ان کی پوری تفصیل احادیث میں مذکور ہے اور ان قرآنی احکام پر عمل صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے کہ احادیث سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ اس سے ایک اہم نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ جو لوگ احادیث کے منکر ہیں یا حدیث کو حجت تسلیم نہیں کرتے وہ فی الحقیقت صرف حدیث کے نہیں بلکہ قرآن کے بھی منکر ہوتے ہیں۔ پھر جو مسائل نئے پیدا ہوں اور کتاب و سنت میں مذکور نہ ہو۔ علمائے امت کا فرض ہے کہ وہ کتاب و سنت کو پیش نظر رکھ کر اجتہاد و استنباط کے ذریعہ ایسے مسائل کا حل دریافت کریں اور اجتہاد کرنا بھی سنت نبوی ہے اور سنت نبوی سے ثابت ہے اور یہ دونوں چیزیں بھی قرآن کے تبیان میں شامل ہیں اس طرح قرآن سے ہر شرعی مسئلہ میں تا قیامت رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
[92] قرآن کے تین فائدے:۔
قرآن کریم مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اس لحاظ سے ہے کہ اس میں زندگی کے ہر شعبے کے متعلق تفصیلی احکام و ہدایات موجود ہیں حتی کہ مابعد الطبیعات کے متعلق بھی ہمیں بیش قیمت معلومات بہم پہنچاتا ہے اور ان ہدایات و احکام پر عمل پیرا ہونے سے انسان کی دنیوی زندگی بھی قلبی اطمینان و سکون سے بسر ہوتی ہے اور اخروی زندگی بھی سنور ہو جاتی ہے اور خوشخبری اس لحاظ سے ہے کہ فرمانبردار بندوں کو شاندار مستقبل اور جنت کی دائمی اور لازوال نعمتوں کی بشارت دیتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کتاب مبین ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرکے فرما رہے ہیں کہ ’ اس دن کو یاد کر اور اس دن جو تیری شرافت وکرامت ہونے والی ہے اس کا بھی ذکر کر ‘۔ یہ آیت بھی ویسی ہی ہے جیسی سورۃ نساء کے شروع کی «فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا» ۱؎ [4-النساء:41] یعنی ’ کیونکر گزرے گی جب کہ ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور ان سب پر گواہ بنا کر کھڑا کریں گے ‘۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سورۃ نساء پڑھوائی جب وہ اس آیت تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس کر کافی ہے }۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں اشکبار تھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5049]
پھر فرماتا ہے ’ اپنی اس اتاری ہوئی کتاب میں تیرے سامنے سب کچھ بیان فرما دیا ہے ہر علم اور ہر شے اس قرآن میں ہے۔ ہر حلال حرام، ہر ایک نافع علم، ہر بھلائی گزشتہ کی خبریں، آ ئندہ کے واقعات، دین دنیا، معاش معاد، سب کے ضروری احکام واحوال اس میں موجود ہیں۔ یہ دلوں کی ہدایت ہے، یہ رحمت ہے، یہ بشارت ہے ‘۔
امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”یہ کتاب سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا کر ہرچیز کا بیان ہے۔“ اس آیت کو اوپر والی آیت سے غالباً یہ تعلق ہے کہ ’ جس نے تجھ پر اس کتاب کی تبلیغ فرض کی ہے اور اسے نازل فرمایا ہے وہ قیامت کے دن تجھ سے اس کی بابت سوال کرنے والا ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:6] ’ امتوں اور رسولوں سے سب سے سوال ہوگا۔ واللہ ہم سب سے ان کے اعمال کی بازپرس کریں گے ‘۔ «يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّـهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ» ۱؎ [5-المائدة:109] ’ رسولوں کو جمع کر کے ان سے سوال ہوگا کہ تمہیں کیا جواب ملا؟ وہ کہیں گے، ہمیں کوئی علم نہیں، تو علام الغیوب ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «نَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ» ۱؎ [28-القصص:85] یعنی ’ جس نے تجھ پر تبلیغ قرآن فرض کی ہے، وہ تجھے قیامت کے دن اپنے پاس لوٹا کر اپنے سونپے ہوئے فریضے کی بابت تجھ سے پر سش کرنے والا ہے ‘۔ یہ ایک قول بھی اس آیت کی تفسیر میں ہے اور ہے بھی معقول اور عمدہ۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سورۃ نساء پڑھوائی جب وہ اس آیت تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس کر کافی ہے }۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں اشکبار تھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5049]
پھر فرماتا ہے ’ اپنی اس اتاری ہوئی کتاب میں تیرے سامنے سب کچھ بیان فرما دیا ہے ہر علم اور ہر شے اس قرآن میں ہے۔ ہر حلال حرام، ہر ایک نافع علم، ہر بھلائی گزشتہ کی خبریں، آ ئندہ کے واقعات، دین دنیا، معاش معاد، سب کے ضروری احکام واحوال اس میں موجود ہیں۔ یہ دلوں کی ہدایت ہے، یہ رحمت ہے، یہ بشارت ہے ‘۔
امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”یہ کتاب سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا کر ہرچیز کا بیان ہے۔“ اس آیت کو اوپر والی آیت سے غالباً یہ تعلق ہے کہ ’ جس نے تجھ پر اس کتاب کی تبلیغ فرض کی ہے اور اسے نازل فرمایا ہے وہ قیامت کے دن تجھ سے اس کی بابت سوال کرنے والا ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:6] ’ امتوں اور رسولوں سے سب سے سوال ہوگا۔ واللہ ہم سب سے ان کے اعمال کی بازپرس کریں گے ‘۔ «يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّـهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ» ۱؎ [5-المائدة:109] ’ رسولوں کو جمع کر کے ان سے سوال ہوگا کہ تمہیں کیا جواب ملا؟ وہ کہیں گے، ہمیں کوئی علم نہیں، تو علام الغیوب ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «نَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ» ۱؎ [28-القصص:85] یعنی ’ جس نے تجھ پر تبلیغ قرآن فرض کی ہے، وہ تجھے قیامت کے دن اپنے پاس لوٹا کر اپنے سونپے ہوئے فریضے کی بابت تجھ سے پر سش کرنے والا ہے ‘۔ یہ ایک قول بھی اس آیت کی تفسیر میں ہے اور ہے بھی معقول اور عمدہ۔