ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 44

بِالۡبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ ؕ وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۴۴﴾
واضح دلائل اور کتابیں دے کر۔ اور ہم نے تیری طرف یہ نصیحت اتاری، تاکہ تو لوگوں کے لیے کھول کر بیان کر دے جو کچھ ان کی طرف اتارا گیا ہے اور تاکہ وہ غور و فکر کریں۔ En
(اور ان پیغمبروں کو) دلیلیں اور کتابیں دے کر (بھیجا تھا) اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (ارشادات) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو اور تاکہ وہ غور کریں
En
دلیلوں اور کتابوں کے ساتھ، یہ ذکر (کتاب) ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں، شاید کہ وه غور وفکر کریں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت44) ➊ {بِالْبَيِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ: الزُّبُرِ اَلزَّبُوْرُ} کی جمع ہے، بمعنی {مَزْبُوْرٌ} یعنی مکتوب۔ { بِالْبَيِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ } یہ جار مجرور گزشتہ آیت کے دو افعال میں سے کسی ایک کے متعلق ہو سکتا ہے، یا تو { وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا } میں { اَرْسَلْنَا } کے متعلق، یعنی ہم نے آپ سے پہلے نہیں بھیجے مگر مرد واضح دلائل اور کتابیں دے کر، یا { فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ } میں {فَسْـَٔلُوْۤا } کے متعلق، یعنی اگر تم نہیں جانتے تو ذکر والوں سے واضح دلائل اور کتابوں کے ساتھ پوچھ لو۔ (طنطاوی)
➋ {وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الذِّكْرَ …: الذِّكْرَ } کی تفسیر کے لیے اسی سورۂ حجر کی آیت (۹) کے حواشی ملاحظہ فرمائیں۔
➌ اس آیت میں { الذِّكْرَ } یعنی وحی الٰہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کرنے کی دو حکمتیں بیان فرمائیں، ایک تو یہ کہ لوگوں کو اس کا مطلب سمجھنے میں کوئی مشکل پیش آنے پر آپ ان کے لیے اس کی وضاحت فرما دیں، بلکہ خود اس پر عمل کرکے انھیں اس کی عملی تصویر دکھا دیں، کیونکہ آپ کی وضاحت اور نمونے کے بغیر وحی الٰہی میں بیان کردہ چیزوں کو سمجھنا ممکن ہی نہیں، مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر احکام۔ قرآن مجید کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول، فعل اور حال وحی الٰہی اور اس کی وضاحت ہی ہے، فرمایا: «{ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ [الأحزاب: ۲۱] بلاشبہ یقینا تمھارے لیے اللہ کے رسول میں ہمیشہ سے اچھا نمونہ ہے۔مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلَا، إِنِّيْ أُوْتِيْتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا يُوْشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلٰی أَرِيْكَتِهِ يَقُوْلُ عَلَيْكُمْ بِهٰذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيْهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوْهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيْهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوْهُ أَلاَ وَ إِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ، أَلاَ، لَا يَحِلُّ لَكُمْ الْحِمَارُ الْأَهْلِيُّ وَلَا كُلُّ ذِيْ نَابٍ مِنَ السَّبُعِ وَلَا لُقَطَةُ مُعَاهِدٍ إِلاَّ أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا صَاحِبُهَا] [أبوداوٗد، السنۃ، باب فی لزوم السنۃ: ۴۶۰۴۔ ابن ماجہ: ۱۲، و صححہ الألباني] سنو! مجھے کتاب اور اس کے ساتھ اس کی مثل دی گئی ہے، یاد رکھو! قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا ہوا آدمی اپنی شاندار چارپائی پر بیٹھا ہوا یہ کہے کہ اس قرآن کو لازم پکڑو، جو اس میں حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جو اس میں حرام پاؤ اسے حرام سمجھو۔ سن لو! بے شک جو کچھ اللہ کے رسول نے حرام کیا ہے وہ اسی طرح ہے جیسے اللہ نے حرام کیا ہے۔ یاد رکھو! تمھارے لیے گھریلو گدھے کا گوشت حلال نہیں اور نہ درندوں میں سے کوئی کچلی والا اور نہ کسی ذمی (کافر) کی گری ہوئی چیز، الا یہ کہ اس کے مالک کو اس کی ضرورت نہ رہے۔ دوسری حکمت { وَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ } اور تاکہ لوگ وحی الٰہی میں غور و فکر کریں اور اس سے نصیحت حاصل کریں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

44۔ (ان رسولوں کو ہم نے) واضح دلائل اور کتابیں (دے کر بھیجا تھا) اور آپ کی طرف یہ ذکر [44۔1] (قرآن) اس لئے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو واضح طور پر بتا دیں کہ ان کی طرف [45] کیا چیز نازل کی گئی ہے۔ اس لئے کہ وہ اس میں غور و فکر کریں
[44۔1]
اہل الذکر کون ہیں:۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کا لفظ نہیں بلکہ ذکر کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور اس سے پہلی آیت میں بھی اہل کتاب کا لفظ استعمال نہیں فرمایا بلکہ اہل الذکر کا استعمال فرمایا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ ذکر اور کتاب یا قرآن دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اس فرق کی وضاحت کے لیے سورۃ الحجر کا حاشیہ نمبر 5 ملاحظہ فرمائیے۔ مختصراً یہ کہ ذکر میں اللہ کی کتاب کے علاوہ وہ بصیرت بھی شامل ہوتی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کو کتاب کے بیان کے سلسلہ میں عطا کی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے اہل الذکر سے مراد دینی علوم کے ماہر ہیں اور ذکر سے مراد تمام منزل من اللہ وحی ہے یعنی کتاب اللہ کے علاوہ سنت رسول بھی ذکر کے مفہوم میں شامل ہے اور لوگوں کو ہدایت یہ دی جا رہی ہے کہ اگر کوئی شرعی مسئلہ معلوم نہ ہو تو اسے دینی علوم کے کسی ماہر سے پوچھ لینا چاہیے۔ چنانچہ اصول فقہ میں علماء نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ کسی مسئلہ کی شرعی حیثیت معلوم کرنے کے لیے سب سے پہلے کتاب اللہ کی طرف رجوع کیا جائے وہاں سے نہ ملے تو سنت رسول کی طرف رجوع کیا جائے وہاں بھی نہ ملے تو اجماع صحابہ سے معلوم کیا جائے۔ اور اگر مسئلہ ہی مابعد کے دور کا ہو تو پھر اس میں اجتہاد و استنباط کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ اجتہاد بھی سارے لوگ تو نہیں کر سکتے کیونکہ اس کے لیے علوم شرعیہ میں مہارت کے علاوہ خاصے غور و فکر کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ اور جو لوگ اجتہاد کرنے کے اہل ہوتے ہیں انھیں مجتہد کہتے ہیں اور یہی لوگ اہل الذکر کہلانے کے مستحق ہوتے ہیں اور عام لوگوں کو یہ حکم ہے کہ وہ ان سے شرعی مسائل پوچھ لیا کریں۔
تقلید شخصی کیوں حرام ہے:۔
مقلد حضرات تقلید کو شرعی حجت ثابت کرنے کے لیے اسی آیت سے استدلال فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تقلید ایک شرعی ضرورت ہے۔ اگر معاملہ یہیں تک رہتا تو پھر نہ اس میں اختلاف کی گنجائش تھی اور نہ تنازعہ کی۔ تنازعہ تو اس وقت شروع ہوتا ہے جب کسی شخص کو کسی ایک خاص امام مجتہد کا مقلد بنے رہنے کا پابند کیا جاتا ہے پھر ان میں گروہی تعصب پیدا ہوتا ہے تو ہر صاحب علم اپنے امام کی برتری بیان کرنے اور دوسرے مجتہدین کی تنقیص کرنے لگتا ہے۔ پھر جب مزید تعصب پیدا ہو جاتا ہے تو اپنے امام کے قول کو حدیث کے مقابلہ میں ترجیح دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور حدیث کی صرف اس لیے تاویل یا تضعیف کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان کے امام کے قول کی صحت پر آنچ نہ آنے پائے۔ ایسی اندھی تقلید کا نام ہی تقلید شخصی ہے جسے کسی صورت مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی کسی شخص کو ایک خاص امام کی تقلید کا پابند کرنا کوئی مستحسن فعل ہے۔ تقلید شخصی کے حق میں جو دلیل دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس طرح لوگ ہر امام کی رعایتوں سے اور رخصتوں سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ ان حضرات سے گزارش ہے کہ اگر کوئی مجتہد یا اہل علم شریعت سے ہی ایک رخصت استنباط کرتا ہے تو کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ شریعت کی رخصتوں پر پابندیاں لگا کر دین کی راہوں کو مشکل بنا دیں اور اللہ کی وسیع رحمت کے آگے بند باندھیں اور یہ تقلید شخصی حرام اس لحاظ سے ہے کہ یہ تعصب اور تشدد کی بنا پر فرقہ بندی کی بنیاد بنتی ہے جو شرعاً حرام ہے۔
[45] قرآن کا بیان کیا چیز ہے؟
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ذمہ داری صرف یہی نہیں تھی کہ جو کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کی طرف سے نازل ہو، اسے پڑھ کر لوگوں کو سنا دیا کریں یا لکھوا دیا کریں یا آپ اسے خود بھی یاد کر لیں اور دوسروں کو بھی یاد کروادیا کریں۔ بلکہ اس کے علاوہ آپ کی تین مزید اہم ذمہ داریاں بھی تھیں۔ جن میں سے یہاں ایک کا ذکر کیا جا رہا ہے جو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر نازل ہوا ہے اس کا مطلب اور تشریح و توضیح بھی لوگوں کو بتا دیا کریں۔ اگر کسی کو کسی بات کی سمجھ نہ آئے تو سمجھا دیا کریں۔ اگر وہ کوئی سوال کریں تو انھیں اس کا جواب دیا کریں۔ رہی یہ بات کہ قرآن کی وضاحت یا قرآن کا بیان کیا چیز ہے اس کے لیے سورۃ ابراہیم کی آیت نمبر 4 کا حاشیہ ملاحظہ فرمایئے۔
منکرین حدیث اور اہل قرآن کا رد:۔
ضمناً اس آیت سے تین باتوں کا پتہ چلتا ہے ایک تو اس آیت میں ان منکرین حدیث یا اہل قرآن کا پورا رد موجود ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کی حیثیت ﴿معاذ الله﴾ صرف ایک چٹھی رساں کی تھی۔ آپ پر قرآن نازل ہوا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوں کا توں امت کے حوالہ کر دیا۔ آپ کی ذمہ داری بس اتنی ہی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری کر دی۔ اور قرآن میں امت کے لیے پوری رہنمائی موجود ہے اور ان کا رد اس لحاظ سے ہے کہ قرآن خود بتا رہا ہے کہ اس کے بیان یا وضاحت کی ضرورت بھی باقی رہتی ہے اور یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری ہے کیونکہ قرآن کے بیان کے بغیر اس کی اتباع نا ممکن ہے۔ دوسرے یہ کہ آپ کا بیان یا وضاحت یا ارشادات یا اصطلاحی زبان میں آپ کی سنت یا حدیث بھی اتباع کے لحاظ سے بعینہ اسی طرح واجب ہے جس طرح قرآن کی اتباع واجب ہے اور تیسرے یہ کہ جو شخص قرآن کے بیان کا منکر ہے وہ یقیناً قرآن ہی کا منکر ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

انسان اور منصب رسالت پر اختلاف ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا تو عرب نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ اللہ کی شان اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ وہ کسی انسان کو اپنا رسول بنائے جس کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔‏‏‏‏ فرماتا ہے آیت «أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِّنْهُمْ» ۱؎ [10-یونس:2]‏‏‏‏ الخ، ’ کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب معلوم ہوا کہ ہم نے کسی انسان کی طرف اپنی وحی نازل فرمائی کہ وہ لوگوں کو آ گاہ کر دے ‘۔
اور فرمایا ’ ہم نے تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول بھیجے سبھی انسان تھے جن پر ہماری وحی آتی تھی۔ تم پہلی آسمانی کتاب والوں سے پوچھ لو کہ وہ انسان تھے یا فرشتے؟ اگر وہ بھی انسان ہوں تو پھر اپنے اس قول سے باز آؤ ہاں اگر ثابت ہو کہ سلسلہ نبوت فرشتوں میں ہی رہا تو بیشک اس نبی کا انکار کرتے ہوئے تم اچھے لگو گے ‘۔
اور آیت میں «مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-يوسف:109]‏‏‏‏ کا لفظ بھی فرمایا یعنی ’ وہ رسول بھی زمین کے باشندے تھے، آ سمان کی مخلوق نہ تھے ‘۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد اہل ذکر سے اہل کتاب ہیں۔‏‏‏‏ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ اور اعمش رحمتہ اللہ علیہ کا قول بھی یہی ہے۔ عبدالرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ذکر سے مراد قرآن ہے۔‏‏‏‏ جیسے آیت «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» ۱؎ [15-الحجر:9]‏‏‏‏ میں ہے یہ قول بجائے خود ٹھیک ہے لیکن اس آیت میں ذکر سے مراد قرآن لینا درست نہیں کیونکہ قرآن کے تو وہ لوگ منکر تھے۔ پھر قرآن والوں سے پوچھ کر ان کی تشفی کیسے ہو سکتی تھی؟
اسی طرح ابو جعفر باقر رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم اہل ذکر ہیں یعنی یہ امت یہ قول بھی اپنی جگہ ہے۔ درست ہے فی الواقع یہ امت تمام اگلی امتوں سے زیادہ علم والی ہے اور اہل بیت کے علماء اور علماء سے بدر جہا بڑھ کر ہیں۔ جب کہ وہ سنت مستقیمہ پر ثابت قدم ہوں۔ جیسے علی، ابن عباس، حسن، حسین، رضی اللہ عنہم محمد بن حنفیہ، علی بن حسین، زین العابدین، علی بن عبداللہ بن عباس، ابو جعفر باقر، محمد بن علی بن حسین اور ان کے صاحبزادے جعفر رحمہ اللہ اور ان جیسے اور بزرگ حضرات رحمہ اللہ علیہم۔ اللہ کی رحمت و رضا انہیں حاصل ہو۔ جو کہ اللہ کی رسی کو مضبوط تھامے ہوئے اور صراط مستقیم پر قدم جمائے ہوئے اور ہر حقدار کے حق بجا لانے والے اور ہر ایک کو اس کی سچی جگہ اتارنے والے، ہر ایک کی قدر و عزت کرنے والے تھے اور خود وہ اللہ کے تمام نیک بندوں کے دلوں میں اپنی مقبولیت رکھتے ہیں۔
یہ بیشک صحیح تو ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد نہیں۔ یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی انسان ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی انبیاء بنی آدم میں سے ہوتے رہے ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِّن زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَىٰ فِي السَّمَاءِ وَلَن نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّىٰ تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَّقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَىٰ إِلَّا أَن قَالُوا أَبَعَثَ اللَّـهُ بَشَرًا رَّسُولًا» [17-الإسراء:94-93]‏‏‏‏ الخ ’ کہہ دے کہ میرا رب پاک ہے میں صرف ایک انسان ہوں جو اللہ کا رسول ہوں۔ لوگ محض یہ بہانہ کر کے رسولوں کا انکار کر بیٹھے کہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اپنی رسالت دے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ» ۱؎ [25-الفرقان:20]‏‏‏‏ ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سبھی کھانے پینے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے تھے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:8]‏‏‏‏ ’ ہم نے ان کے جسم ایسے نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانے پینے سے بے نیاز ہوں یا یہ کہ مرنے والے ہی نہ ہوں ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے آیت «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ» ۱؎ [46-الأحقاف:9]‏‏‏‏ ’ میں کوئی شروع کا اور پہلا اور نیا رسول تو نہیں؟ ‘
ایک اور آیت میں ہے «قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ» ۱؎ [18-الکھف:110]‏‏‏‏ ’ میں تم جیسا انسان ہوں میری جانب وحی اتاری جاتی ہے ‘ الخ۔
پس یہاں بھی ارشاد ہوا کہ ’ پہلی کتابوں والوں سے پوچھ لو کہ نبی انسان ہوتے تھے یا غیر انسان؟ ‘
پھر یہاں فرماتا ہے کہ ’ رسول کو وہ دلیلیں دے کر حجتیں عطا فرما کر بھیجتا ہے کتابیں ان پر نازل فرماتا ہے صحیفے انہیں عطا فرماتا ہے ‘۔
«زُّبُرِ» سے مراد کتابیں ہیں۔ جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِ» ۱؎ [54-القمر:52]‏‏‏‏ ’ جو کچھ انہوں نے کیا کتابوں میں ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ» ۱؎ [21-الأنبياء:105]‏‏‏‏ ’ ہم نے زبور میں لکھ دیا ‘ الخ۔
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے تیری طرف ذکر نازل فرمایا ‘ یعنی قرآن اس لیے کہ چونکہ تو اس کے معنی مطلب سے اچھی طرح واقف ہے اسے لوگوں کو سمجھا بجھا دے۔ حقیقتاً اے نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس پر سب سے زیادہ حریص ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کے سب سے بڑے عالم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کے سب سے زیادہ عامل ہیں۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم افضل الخلائق ہیں، اولاد آدم کے سردار ہیں۔
جو اجمال اس کتاب میں ہے اس کی تفصیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے ہے، لوگوں پر جو مشکل ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سمجھا دیں تاکہ وہ سوچیں سمجھیں راہ پائیں اور پھر نجات اور دونوں جہاں کی بھلائی حاصل کریں۔