تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ: ” اَهْلَ الذِّكْرِ “} سے مراد اہلِ کتاب یہود و نصاریٰ ہیں، یعنی یہ بات اگر تمھیں معلوم نہیں کہ پہلے تمام رسول مرد (انسان) ہی تھے تو یہودو نصاریٰ سے پوچھ لو جو انبیاء کی تاریخ سے واقف ہیں اور تم ان پر اعتماد بھی مسلمانوں کی نسبت زیادہ کرتے ہو کہ موسیٰ، عیسیٰ، داؤد اور سلیمان وغیرہم علیھم السلام فرشتے تھے یا بشر؟ پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض کیوں کہ یہ نبی انسان کیوں ہے، فرشتہ کیوں نہیں؟
➌ {اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ:} ”اگر تم نہیں جانتے“ یہ دراصل تعریض ہے کہ ”جانتے تم بھی ہو“ کیا اپنے باپ ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کو تم نہیں جانتے کہ وہ فرشتہ رسول تھے یا بشر؟ یقینا تم جانتے ہو، خیر اگر نہیں جانتے تو یہود و نصاریٰ سے پوچھ لو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور یوسف علیھم السلام اور سارے بنی اسرائیل کے انبیاء بشر تھے یا فرشتے؟ تم پر حقیقت واضح ہو جائے گی۔
➍ بعض لوگ اس آیت سے تقلید کے وجوب یا جواز پر استدلال کرتے ہیں، حالانکہ آیت کے سیاق و سباق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کے مخاطب مشرکین ہیں اور {” اَهْلَ الذِّكْرِ “} سے مراد اہل کتاب ہیں اور آیت میں ایک خاص اعتراض کے حل میں ان کی طرف رجوع کا حکم دیا جا رہا ہے، اس کا تقلیدِ ائمہ سے کیا تعلق؟
➎ اگر آیت کو عام بھی سمجھ لیا جائے تو غیر عالم مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنے کسی بھی موجود عالم سے کتاب و سنت کا حکم معلوم کر لیں، کیونکہ فوت شدہ شخص سے پوچھا ہی نہیں جا سکتا۔ ظاہر ہے چاروں امام بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی فوت ہو چکے ہیں، ان سے سوال تو ممکن ہی نہیں۔ ہاں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کتاب و سنت میں محفوظ ہیں اور اماموں کے اقوال ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اب کوئی شخص دونوں میں سے جو بھی پوچھے گا کسی زندہ عالم ہی سے پوچھے گا، وہ عالم مکمل طور پر محفوظ کتاب و سنت سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بھی بتا سکتا ہے اور کسی معتبر یا غیر معتبر کتاب سے امام کا قول بھی۔ اس لیے سائل کا فرض یہ ہے کہ وہ کسی بھی عالم سے یہ پوچھے کہ اس مسئلہ میں اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حکم ہے، کیونکہ دین صرف کتاب و سنت کا نام ہے۔ جب بڑے سے بڑے امتی کا قول بھی دین نہیں تو پھر سائل عالم سے کسی امام کا قول کیوں پوچھے؟ کیا وہ امام نبی تھا، یا اللہ تعالیٰ نے اس کی اطاعت کا حکم دیا ہے، یا وحی کے ذریعے سے اس کی خطا کی اصلاح کر دی جاتی تھی۔ اس سے بڑھ کر بدقسمتی کیا ہو گی کہ مسلمانوں نے علماء سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پوچھنے کے بجائے اپنے اپنے فرقے کے بنائے ہوئے امام کے اقوال پوچھنا اور ان پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ نتیجہ اس کا ظاہر ہے کہ مسلمان مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ اس کا علاج اب بھی سب فرقے چھوڑ کر کتاب و سنت پر متحد ہونا ہے۔ خصوصاً آگے صاف لفظ بھی آ رہے ہیں کہ {” بِالْبَيِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ “ } یعنی اہل ذکر سے سوال کرو کہ وہ بینات (دلائل) اور آسمانی کتابوں کے ساتھ جواب دیں، نہ کہ اپنے یا کسی امتی کے قیاس یا عقل سے نکالی ہوئی کسی بات کے ساتھ۔ گویا اس آیت کو اگر تقلید کے متعلق مان بھی لیا جائے تو یہ تقلید کو جڑ سے اکھیڑنے والی اور کتاب و سنت کا پابند بنانے والی ہے۔
➏ {” اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ “} سے معلوم ہوا کہ اہل ذکر سے پوچھنے کی ضرورت اسے ہے جو لاعلم ہو۔ کیا بڑے بڑے مدارس میں دس، دس سال پڑھنے کے بعد اور چالیس پچاس سال پڑھانے کے بعد بھی مقلد حضرات {” لَا تَعْلَمُوْنَ “} ہی رہتے ہیں، حالانکہ وہ قرآن و سنت پر عمل سے بچنے اور اپنے امام کی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے اتنے علمی و عقلی دلائل جمع کرتے اور پیش کرتے ہیں جو شاید ان کے امام کے خواب و خیال میں بھی نہ آئے ہوں۔ میں اپنے ان بھائیوں سے نہایت درد مندی سے عرض کرتا ہوں کہ وہ قیامت کے دن کسی دھڑے یا فرقے میں کھڑے ہونے کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے والی قطار میں شامل ہو جائیں۔ نجات کا بس یہی ایک راستہ ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور فرمایا ’ ہم نے تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول بھیجے سبھی انسان تھے جن پر ہماری وحی آتی تھی۔ تم پہلی آسمانی کتاب والوں سے پوچھ لو کہ وہ انسان تھے یا فرشتے؟ اگر وہ بھی انسان ہوں تو پھر اپنے اس قول سے باز آؤ ہاں اگر ثابت ہو کہ سلسلہ نبوت فرشتوں میں ہی رہا تو بیشک اس نبی کا انکار کرتے ہوئے تم اچھے لگو گے ‘۔
اور آیت میں «مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-يوسف:109] کا لفظ بھی فرمایا یعنی ’ وہ رسول بھی زمین کے باشندے تھے، آ سمان کی مخلوق نہ تھے ‘۔
اسی طرح ابو جعفر باقر رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ”ہم اہل ذکر ہیں“ یعنی یہ امت یہ قول بھی اپنی جگہ ہے۔ درست ہے فی الواقع یہ امت تمام اگلی امتوں سے زیادہ علم والی ہے اور اہل بیت کے علماء اور علماء سے بدر جہا بڑھ کر ہیں۔ جب کہ وہ سنت مستقیمہ پر ثابت قدم ہوں۔ جیسے علی، ابن عباس، حسن، حسین، رضی اللہ عنہم محمد بن حنفیہ، علی بن حسین، زین العابدین، علی بن عبداللہ بن عباس، ابو جعفر باقر، محمد بن علی بن حسین اور ان کے صاحبزادے جعفر رحمہ اللہ اور ان جیسے اور بزرگ حضرات رحمہ اللہ علیہم۔ اللہ کی رحمت و رضا انہیں حاصل ہو۔ جو کہ اللہ کی رسی کو مضبوط تھامے ہوئے اور صراط مستقیم پر قدم جمائے ہوئے اور ہر حقدار کے حق بجا لانے والے اور ہر ایک کو اس کی سچی جگہ اتارنے والے، ہر ایک کی قدر و عزت کرنے والے تھے اور خود وہ اللہ کے تمام نیک بندوں کے دلوں میں اپنی مقبولیت رکھتے ہیں۔
یہ بیشک صحیح تو ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد نہیں۔ یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی انسان ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی انبیاء بنی آدم میں سے ہوتے رہے ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِّن زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَىٰ فِي السَّمَاءِ وَلَن نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّىٰ تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَّقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَىٰ إِلَّا أَن قَالُوا أَبَعَثَ اللَّـهُ بَشَرًا رَّسُولًا» [17-الإسراء:94-93] الخ ’ کہہ دے کہ میرا رب پاک ہے میں صرف ایک انسان ہوں جو اللہ کا رسول ہوں۔ لوگ محض یہ بہانہ کر کے رسولوں کا انکار کر بیٹھے کہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اپنی رسالت دے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ» ۱؎ [25-الفرقان:20] ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سبھی کھانے پینے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے تھے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:8] ’ ہم نے ان کے جسم ایسے نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانے پینے سے بے نیاز ہوں یا یہ کہ مرنے والے ہی نہ ہوں ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے آیت «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ» ۱؎ [46-الأحقاف:9] ’ میں کوئی شروع کا اور پہلا اور نیا رسول تو نہیں؟ ‘
پس یہاں بھی ارشاد ہوا کہ ’ پہلی کتابوں والوں سے پوچھ لو کہ نبی انسان ہوتے تھے یا غیر انسان؟ ‘
پھر یہاں فرماتا ہے کہ ’ رسول کو وہ دلیلیں دے کر حجتیں عطا فرما کر بھیجتا ہے کتابیں ان پر نازل فرماتا ہے صحیفے انہیں عطا فرماتا ہے ‘۔
«زُّبُرِ» سے مراد کتابیں ہیں۔ جیسے قرآن میں اور جگہ ہے «وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِ» ۱؎ [54-القمر:52] ’ جو کچھ انہوں نے کیا کتابوں میں ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ» ۱؎ [21-الأنبياء:105] ’ ہم نے زبور میں لکھ دیا ‘ الخ۔
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے تیری طرف ذکر نازل فرمایا ‘ یعنی قرآن اس لیے کہ چونکہ تو اس کے معنی مطلب سے اچھی طرح واقف ہے اسے لوگوں کو سمجھا بجھا دے۔ حقیقتاً اے نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس پر سب سے زیادہ حریص ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کے سب سے بڑے عالم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کے سب سے زیادہ عامل ہیں۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم افضل الخلائق ہیں، اولاد آدم کے سردار ہیں۔
جو اجمال اس کتاب میں ہے اس کی تفصیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے ہے، لوگوں پر جو مشکل ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سمجھا دیں تاکہ وہ سوچیں سمجھیں راہ پائیں اور پھر نجات اور دونوں جہاں کی بھلائی حاصل کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لنبيِّه محمد - صلى الله عليه وسلم -: {وما أرسْلنا من قبلِكَ إلاَّ رجالاً}؛ أي: لستَ ببدع من الرسل، فلم نرسِلْ قبلَكَ ملائكةً، بل رجالاً كاملين لا نساءً. {نوحي إليهم}: من الشرائع والأحكام ما هو من فضلِهِ وإحسانِهِ على العبيد، من غير أن يأتوا بشيءٍ من قِبَل أنفسهم. {فاسألوا أهل الذِّكْر}؛ أي: الكتب السابقة {إنْ كنتُم لا تعلمونَ}: نبأ الأوَّلين، وشكَكْتم، هل بَعَثَ الله رجالاً؟ فاسألوا أهل العلم بذلك، الذين نزلتْ عليهم الزُّبر والبيِّنات، فعلموها وفهموها؛ فإنَّهم كلهم قد تقرَّر عندهم أنَّ الله ما بعث إلاَّ رجالاً يوحي إليهم من أهل القرى.
وعموم هذه الآية فيها مدحُ أهل العلم، وأنَّ أعلى أنواعه العلم بكتاب الله المنزل؛ فإنَّ الله أمر مَنْ لا يعلم بالرجوع إليهم في جميع الحوادث، وفي ضمنه تعديلٌ لأهل العلم وتزكيةٌ لهم؛ حيث أمر بسؤالهم، وأنّ بذلك يخرج الجاهل من التَّبِعة، فدلَّ على أنَّ الله ائتمنهم على وحيه وتنزيله، وأنهم مأمورون بتزكية أنفسهم والاتصاف بصفات الكمال.