تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے سورۃ تبارک میں فرمایا «أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ» [67-الملک:16-17] ’ اللہ جو آسمان میں ہے کیا تم اس کے غضب سے نہیں ڈرتے؟ کہ کہیں زمین کو دلدل بنا کر تمہیں اس میں دھنسا نہ دے کہ وہ تمہیں ہچکو لے ہی لگاتی رہا کرے کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ سے ڈر نہیں لگتا کہ کہیں وہ تم پر آسمان سے پتھر نہ برسا دے۔ اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے کہ میرا ڈرانا کیسا تھا ‘۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مکار، بد کردار لوگوں کو ان کے چلتے پھرتے، آتے، کھاتے، کماتے ہی پکڑ لے۔ سفر، حضر، رات، دن جس وقت چاہے، پکڑ لے۔ جیسے فرمان ہے آیت «أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:97]، ’ کیا بستی والے اس سے نڈر ہو گئے ہیں کہ ان کے پاس ہمارا عذاب رات میں ان کے سوتے سلاتے ہی آ جائے ‘، یا دن چڑھے ان کے کھیل کود کے وقت ہی آ جائے۔ اللہ کو کوئی شخص اور کوئی کام عاجز نہیں کر سکتا وہ ہارنے والا، تھکنے والا اور ناکام ہونے والا نہیں۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ باوجود ڈر خوف کے انہیں پکڑ لے تو دونوں عتاب ایک ساتھ ہو جائیں ڈر اور پھر پکڑ۔ ایک کو اچانک موت آ جائے دوسرا ڈرے اور پھر مرے۔ لیکن رب العلی، رب کائنات بڑا ہی رؤف و رحیم ہے اس لیے جلدی نہیں پکڑتا۔
بخاری و مسلم میں ہے { خلاف طبع باتیں سن کر صبر کرنے میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد ٹھہراتے ہیں اور وہ انہیں رزق و عافیت عنایت فرماتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6099]
بخاری مسلم میں ہے { اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن جب پکڑ نازل فرماتا ہے پھر اچانک تباہ ہو جاتا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102]، پڑھی }۔ [صحیح بخاری:4686]
اور آیت میں ہے «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [22-الحج:48] ’ بہت سی بستیاں ہیں جنہیں میں نے کچھ مہلت دی لیکن آخر ان کے ظلم کی بنا پر انہیں گرفتار کر لیا۔ لوٹنا تو میری ہی جانب ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا تخويفٌ من الله تعالى لأهل الكفر والتكذيب وأنواع المعاصي من أن يأخذَهم بالعذاب على غِرَّة وهم لا يشعرون: إمَّا أن يأخُذَهم العذاب من فوقهم، أو من أسفل منهم بالخَسْفِ وغيره، وإما في حال تقلُّبهم وشغلهم وعدم خطور العذاب ببالهم، وإما في حال تخوُّفهم من العذاب؛ فليسوا بمعجزِين الله في حالة من هذه الأحوال، بل هم تحت قبضته، ونواصيهم بيده، ولكنه رءوف رحيم، لا يعاجل العاصين بالعقوبة، بل يمهلهم ويعافيهم ويرزقهم، وهم يؤذونه ويؤذون أولياءه، ومع هذا يَفْتَحُ لهم أبواب التوبة، ويدعوهم إلى الإقلاع عن السيئات التي تضرُّهم، ويَعِدُهم بذلك أفضلَ الكرامات ومغفرةَ ما صدر منهم من الذنوب؛ فليستحِ المجرمُ من ربِّه أن تكون نعمُ اللهِ عليه نازلةً في جميع [اللحظات] ومعاصيه صاعدة إلى ربِّه في كلِّ الأوقات، وليعلم أنَّ الله يمهلُ ولا يهملُ، وأنه إذا أخذ العاصي؛ أخذه أَخْذَ عزيزٍ مقتدرٍ؛ فليتبْ إليه، وليرجعْ في جميع أموره إليه؛ فإنَّه رءوف رحيم؛ فالبدارَ البدارَ إلى رحمته الواسعة، وبرِّه العميم، وسلوك الطرق الموصلة إلى فضل الربِّ الرحيم، ألا وهي تقواه، والعمل بما يحبُّه ويرضاه.