(آیت42){ الَّذِيْنَصَبَرُوْاوَعَلٰىرَبِّهِمْيَتَوَكَّلُوْنَ:} صبر اور اللہ پر توکل ہی سے وطن چھوڑنے کی جرأت پیدا ہوتی ہے، ورنہ بندہ مستقبل کے خوف سے کہ اپنا گھر چھوڑ کر کہیں گیا تو کہاں سے کھاؤں گا، اپنی جگہ سے نہیں ہلتا اور نہ ہلنے کی وجہ سے چکی کے نچلے پاٹ کی طرح ہمیشہ اپنے سینے پر اوپر کے پاٹ کا بوجھ برداشت کرتا رہتا ہے اور آخر کار یا تو ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے یا جان سے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۹۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
42۔ (یعنی) جن لوگوں نے صبر کیا اور اپنے پروردگار پر ہی بھروسہ [43] کرتے ہیں
[43] یعنی مکہ میں قریش مکہ کے مظالم پر صبر کرتے رہے۔ اور حبشہ میں اپنی نئی زندگی کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور مصائب کو صبر و شکر کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔ اور انھیں اس بات کا یقین کامل تھا کہ اللہ نے ان سے جو وعدے کر رکھے ہیں۔ وہ یقیناً پورے ہو کے رہیں گے۔ لہٰذا وہ اپنے ہر مشکل وقت میں اللہ ہی پر بھروسہ کیے رہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دین کی پاسبانی میں ہجرت ٭٭
جو لوگ اللہ کی راہ میں ترک وطن کرکے، دوست، احباب، رشتے دار، کنبے تجارت کو اللہ کے نام پر ترک کر کے دین ربانی کی پاسبانی میں ہجرت کر جاتے ہیں ان کے اجر بیان ہو رہے ہیں کہ ’ دونوں جہان میں یہ اللہ کے ہاں معزز و محترم ہیں ‘۔ بہت ممکن ہے کہ سبب نزول اس کا مہاجرین حبش ہوں جو مکے میں مشرکین کی سخت ایذائیں سہنے کے بعد ہجرت کرکے حبش چلے گئے کہ آزادی سے دین حق پر عامل رہیں۔ ان کے بہترین لوگ یہ تھے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے اور ابوسلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ وغیرہ۔ قریب قریب اسی (80) آدمی تھے مرد بھی عورتیں بھی جو سب صدیق اور صدیقہ تھے اللہ ان سب سے خوش ہو اور انہیں بھی خوش رکھے۔
پس اللہ تعالیٰ ایسے سچے لوگوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ ’ انہیں وہ اچھی جگہ عنایت فرمائے گا ‘۔ جیسے مدینہ اور پاک روزی، مال کا بھی بدلہ ملا اور وطن کا بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے خوف سے جیسی چیز کو چھوڑے اللہ تعالیٰ اسی جیسی بلکہ اس سے کہیں بہتر، پاک اور حلال چیز اسے عطا فرماتا ہے۔ ان غریب الوطن مہاجرین کو دیکھئیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم و بادشاہ کر دیا اور دنیا پر ان کو سلطنت عطا کی۔ ابھی آخرت کا اجر و ثواب باقی ہے۔ پس ہجرت سے جان چرانے والے مہاجرین کے ثواب سے واقف ہوتے تو ہجرت میں سبقت کرتے۔ اللہ تعالیٰ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے خوش ہو کہ آپ رضی اللہ عنہ جب کبھی کسی مہاجر کو اس کا حصہ غنیمت و غیرہ دیتے تو فرماتے ”لو اللہ تمہیں برکت دے یہ تو دنیا کا اللہ کا وعدہ ہے اور ابھی اجر آخرت جو بہت عظیم الشان ہے، باقی ہے۔“ پھر اسی آیت مبارک کی تلاوت کرتے۔ ان پاکباز لوگوں کا اور وصف بیان فرماتا ہے کہ ’ جو تکلیفیں اللہ کی راہ میں انہیں پہنچتی ہیں یہ انہیں جھیل لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر جو انہیں توکل ہے، اس میں کبھی فرق نہیں آتا، اسی لیے دونوں جہان کی بھلائیاں یہ لوگ اپنے دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں ‘۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔