تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اللہ کی توحید اور قیامت پر ایمان لانے والوں کا توحید اور قیامت کے منکروں کے ساتھ خوشی سے مل جل کر رہنا ممکن ہی نہ تھا، خصوصاً جب اہل ایمان تعداد اور قوت میں کمزور بھی تھے۔ اپنے وطن کو جہاں بیت اللہ بھی ہو، کون خوشی سے چھوڑ سکتا ہے؟ اس لیے انھوں نے وطن چھوڑا تو دو وجہوں سے، ایک تو قوم کے ظلم کی وجہ سے، جیسا کہ فرمایا: «{ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا }» اور دوسرا اس لیے کہ اللہ کے دین پر عمل کرنا وطن میں ممکن نہ رہا، تو انھوں نے گھر بار، خویش، قبیلے، جائداد، غرض ہر چیز کو اللہ کی خاطر چھوڑ دیا اور ایسی جگہ چلے گئے جہاں وہ ظلم سے بھی بچ جائیں اور اللہ کے دین پر بھی عمل کر سکیں۔ چونکہ یہ سورت مکی ہے، اس لیے اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جو کفار کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ ان کی تعداد مردوں، عورتوں اور بچوں سمیت ایک سو یا کم و بیش تھی، جن میں عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی رقیہ رضی اللہ عنھا (بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی تھیں، مگر لفظ عام ہونے کی وجہ سے اس میں ہر مہاجر شامل ہے، خواہ مکہ سے حبشہ کی طرف ہو یا مدینہ کی طرف، یا کسی بھی ظالم بستی سے امن کی بستی کی طرف۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت میں حبشہ کے بعد مدینہ کی طرف ہجرت کا پیشگی اشارہ ہو۔
➌ {لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً …: ” بَوَّءَ يُبَوِّءُ“} (تفعیل) رہنے کی جگہ دینا، ٹھکانا دینا۔ اللہ تعالیٰ نے لام اور نون ثقیلہ دو تاکیدوں کے ساتھ یہ وعدہ فرمایا، چنانچہ اس نے ان ناتواں اور غریب الوطن مہاجرین کو دنیا میں عزت، شرف، عظمت، حکومت، دولت غرض ہر چیز عطا فرمائی۔ وہ جزیرۂ عرب ہی کے نہیں، شام، مصر، عراق، فارس کے مالک بنے اور نصف صدی گزری تھی کہ وہ تمام دنیا پر غالب تھے۔ یہ بھی کوئی اجرِ صغیر نہیں، اجرِ کبیر ہے، جو دین کی اشاعت اور آخرت کی تیاری میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کبیر ہی کے مقابلے میں اکبر ہوتا ہے، نہ کہ صغیر کے مقابلے میں، اس لیے فرمایا، یقینا آخرت کا اجر اکبر ہے، یعنی اس سے بھی بڑا، بلکہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی بہت فضیلت بیان فرمائی ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۸)، آل عمران (۱۹۵) اور سورۂ نساء (۱۰۰)۔
➍ { لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ:} اس سے مراد تین طرح کے لوگ ہو سکتے ہیں: (1) کافر کہ وہ علم رکھتے ہوتے تو ایمان لے آتے۔ (2) مہاجر کہ وہ ہجرت کی فضیلت جانتے ہوتے تو انھیں بے حد خوشی ہوتی۔ (3) وہ مومن جنھوں نے ہجرت نہیں کی کہ وہ ہجرت کی فضیلت جانتے ہوتے تو ضرور ہجرت کرتے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بہت ممکن ہے کہ سبب نزول اس کا مہاجرین حبش ہوں جو مکے میں مشرکین کی سخت ایذائیں سہنے کے بعد ہجرت کرکے حبش چلے گئے کہ آزادی سے دین حق پر عامل رہیں۔ ان کے بہترین لوگ یہ تھے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے اور ابوسلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ وغیرہ۔ قریب قریب اسی (80) آدمی تھے مرد بھی عورتیں بھی جو سب صدیق اور صدیقہ تھے اللہ ان سب سے خوش ہو اور انہیں بھی خوش رکھے۔
ان غریب الوطن مہاجرین کو دیکھئیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم و بادشاہ کر دیا اور دنیا پر ان کو سلطنت عطا کی۔ ابھی آخرت کا اجر و ثواب باقی ہے۔ پس ہجرت سے جان چرانے والے مہاجرین کے ثواب سے واقف ہوتے تو ہجرت میں سبقت کرتے۔
اللہ تعالیٰ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے خوش ہو کہ آپ رضی اللہ عنہ جب کبھی کسی مہاجر کو اس کا حصہ غنیمت و غیرہ دیتے تو فرماتے ”لو اللہ تمہیں برکت دے یہ تو دنیا کا اللہ کا وعدہ ہے اور ابھی اجر آخرت جو بہت عظیم الشان ہے، باقی ہے۔“ پھر اسی آیت مبارک کی تلاوت کرتے۔
ان پاکباز لوگوں کا اور وصف بیان فرماتا ہے کہ ’ جو تکلیفیں اللہ کی راہ میں انہیں پہنچتی ہیں یہ انہیں جھیل لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر جو انہیں توکل ہے، اس میں کبھی فرق نہیں آتا، اسی لیے دونوں جہان کی بھلائیاں یہ لوگ اپنے دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى بفضل المؤمنين الممتحنين، {الذين هاجروا في الله}؛ أي: في سبيله وابتغاء مرضاته، {من بعدِ ما ظُلِموا}: بالأذيَّة والمحنة من قومهم، الذين يفتِنونَهم ليردُّوهم إلى الكفر والشرك، فتركوا الأوطان والخُلاَّن، وانتقلوا عنها لأجل طاعة الرحمن، فذكر لهم ثوابين: ثواباً عاجلاً في الدُّنيا من الرزق الواسع والعيش الهنيء الذي رأوه عياناً بعدما هاجروا وانتصروا على أعدائهم وافتتحوا البلدان وغَنِموا منها الغنائم العظيمة فتموَّلوا وآتاهم الله في الدُّنيا حسنةً. {ولأجْرُ الآخرة}: الذي وَعَدَهم على لسان رسوله خيرٌ و {أكبرُ} من أجر الدنيا؛ كما قال تعالى: {الذين آمنوا وهاجَروا وجاهدوا في سبيل الله أعظمُ درجةً عند الله وأولئك هم الفائزونَ. يبشِّرُهم ربُّهم برحمةٍ منه ورضوانٍ وجناتٍ لهم فيها نعيم مقيمٌ. خالدينَ فيها أبداً إنَّ الله عندَه أجرٌ عظيمٌ}. وقوله: {لو كانوا يعلمون}؛ أي: لو كان لهم علمٌ ويقينٌ بما عند الله من الأجِر والثواب لِمَنْ آمنَ به وهاجرَ في سبيله؛ لم يتخلَّفْ عن ذلك أحدٌ.