ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 34

فَاَصَابَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۳۴﴾
پس ان کے پاس اس کے برے نتائج آپہنچے جو انھوں نے کیا اور انھیں اس چیز نے گھیر لیا جسے وہ مذاق کیا کرتے تھے۔ En
تو ان کو ان کے اعمال کے برے بدلے ملے اور جس چیز کے ساتھ وہ ٹھٹھے کیا کرتے تھے اس نے ان کو (ہر طرف سے) گھیر لیا
En
پس ان کے برے اعمال کے نتیجے انہیں مل گئے اور جس کی ہنسی اڑاتے تھے اس نے ان کو گھیر لیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت34) ➊ {فَاَصَابَهُمْ سَيِّاٰتُ …: سَيِّاٰتُ } کا مضاف محذوف ہے، یعنی { عَوَاقِبُ } اس لیے { سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا } کا ترجمہ کیا ہے اس کے برے نتائج نے جو انھوں نے کیا۔
➋ {وَ حَاقَ بِهِمْ: حَاقَ يَحِيْقُ حَيْقًا} بروزن { بَاعَ يَبِيْعُ بَيْعًا } بمعنی احاطہ کیا، گھیر لیا۔ اس کا استعمال برے گھیراؤ ہی کے لیے ہوتا ہے۔ «{ مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ اس چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ظاہر ہے کہ وہ رسولوں کی رسالت کا، اپنے دوبارہ زندہ ہونے، حساب کتاب ہونے اور عذاب میں گرفتار ہونے کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ عذاب جلدی لاؤ جس کی دھمکیاں تم ہمیں دیتے ہو۔ بتائیے دشمن سے جلد از جلد عذاب کا مطالبہ اس عذاب کا مذاق اڑانا نہیں تو کیا ہے۔ الغرض! اسی عذاب نے اور اللہ کے حضور پیش ہونے کی مشکل گھڑی نے انھیں چاروں طرف سے گھیر لیا، جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

34۔ 1 یعنی جب رسول ان سے کہتے کہ اگر تم ایمان نہیں لاؤ گے تو اللہ کا عذاب آجائے گا۔ تو یہ استہزا کے طور پر کہتے کہ جا اپنے اللہ سے کہہ وہ عذاب بھیج کر ہمیں تباہ کر دے۔ چناچہ اس عذاب نے انھیں گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے، پھر اس سے بچاؤ کا کوئی راستہ ان کے پاس نہیں رہا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

34۔ پھر انھیں اپنے اعمال کے برے نتائج سے دوچار ہونا پڑا۔ اور جس عذاب کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے اسی نے انھیں گھیر لیا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

فرشتوں کا انتظار ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکوں کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ انہیں تو ان فرشتوں کا انتظار ہے جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے آئیں گے تا قیامت کا انتظار ہے اور اس کے افعال و احوال کا -ان جیسے ان سے پہلے کے مشرکین کا بھی یہی وطیرہ رہا یہاں تک کہ ان پر عذاب الٰہی آ پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت پوری کر کے، ان کے عذر ختم کر کے، کتابیں اتار کر، وبال میں گھر گئے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنا بگاڑ لیا ‘۔
اسی لیے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ «هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ» ۱؎ [52-الطور:14]‏‏‏‏ ’ یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے رہے ‘۔