اس آیت کی تفسیر آیت 82 میں تا آیت 84 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
83۔ 1 حضرت صالح ؑ نے انھیں کہا کہ تین دن کے بعد تم پر عذاب آجائے گا، چناچہ چوتھے روز ان پر یہ عذاب آگیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
83۔ چنانچہ صبح کے وقت انھیں زبردست دھماکہ نے آلیا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاَخَذَتْهُمُالصَّیْحَةُمُصْبِحِیْنَ ﴾”سو پکڑ لیا ان کو چنگھاڑنے، صبح ہونے کے وقت“ پس ان کے سینوں میں ان کے دل پارہ پارہ ہو کر رہ گئے اور وہ اپنے گھر میں ہلاک ہو کر اوندھے منہ پڑے رہ گئے اور اس کے ساتھ ساتھ دائمی رسوائی اور لعنت نے ان کا پیچھا کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فَأخَذَتْهُمُ الصَيْحَةُ مُصْبِحِينَ}: فتقطعت قلوبهم في أجوافهم وأصبحوا في دارهم جاثمين هلكى، مع ما يتبع ذلك من الخزي واللعنة المستمرة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔