تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
دوسرا جواب اس {” لَوْ “} کا یہ ہے کہ ان صفات کا حامل اگر کوئی قرآن ہوتا تو وہ یہی قرآن تھا، جیسا کہ فرمایا: «{ لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ }» [الحشر: ۲۱] ”اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو یقینا تو اسے اللہ کے ڈر سے پست ہونے والا، ٹکڑے ٹکڑے ہونے والا دیکھتا۔“اس میں اس قرآن کی عظمت کا بیان ہے کہ تم جو مطالبے کر رہے ہو قرآن کے لیے ان میں سے کوئی بھی پورا کرنا مشکل نہیں، مگر سارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ایسا کرنا اس کی حکمت کے خلاف ہے، کیونکہ اس کے بعد ایمان نہ لانے کی صورت میں تمھیں عذاب سے ملیامیٹ کر دیا جاتا، جیسا کہ پہلی امتوں کے ساتھ ہوا۔
➋ {اَفَلَمْ يَايْـَٔسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا:} مفسرین نے {” اَفَلَمْ يَايْـَٔسِ “} کے دو معنی لکھے ہیں، ایک معنی ہے کہ{” أَفَلَمْ يَعْلَمْ “} کہ کیا وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں انھیں معلوم نہیں ہوا کہ جن نشانیوں کا یہ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دکھانے پر قادر ہے، کیونکہ اسے ہر چیز کا اختیار ہے، مگر اس توقع پر ان نشانیوں کا دکھانا بے سود ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ لوگ اتنے سرکش اور ضدی ہیں کہ یہ نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے اور {” اَفَلَمْ يَايْـَٔسِ “} کا دوسرا معنی یہ ہے کہ کیا ابھی مسلمان ان کے ایمان لانے سے مایوس نہیں ہوئے، حالانکہ وہ جانتے ہیں…۔
➌ {اَنْ لَّوْ يَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيْعًا:} یعنی ہدایت تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے جو ان نشانات کے دکھائے بغیر بھی ہو سکتی ہے۔ (شوکانی)
➍ {وَ لَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …:} یعنی یہ کفار مکہ نشانیوں کو دیکھ کر مان لینے والے نہیں ہیں۔ یہ مانیں گے تو اس طرح کہ ان کے کرتوتوں کی سزا میں آئے دن کوئی نہ کوئی آفت ان پر نازل ہوتی رہے، جیسے قتل، قید، قحط یا بیماری وغیرہ۔ چنانچہ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”لیکن کافر مسلمان یوں ہوں گے کہ ان پر آفت پڑتی رہے گی، ان پر پڑے یا ہمسائے پر، جب تک سارے عرب ایمان میں آ جائیں۔ وہ آفت یہی تھی جہاد مسلمانوں کے ہاتھ سے۔“ (موضح)
➎ { اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ:} یعنی وہ آفت ان کے آس پاس والوں پر اترے گی اور وہ ان کا حال دیکھ کر عبرت حاصل کریں گے۔
➏ { اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ:} چنانچہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوا، قریش میں سے بعض لوگ مارے گئے اور بعض قید ہوئے، یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ پورا ہوا، یعنی مکہ فتح ہوا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[42] کفار کے بار بار کسی ایسے حسی معجزہ کے مطالبہ پر بعض مسلمانوں کے دلوں میں بھی بعض دفعہ یہ خیال آنے لگتا کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ دکھا دے تو بہتر ہو گا۔ یہ کافر لوگ ایمان لے آئیں تو ہماری مشکلات میں بھی کمی واقع ہو جائے گی۔ اس بات کا اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا کہ فی الواقع ایسا معجزہ دکھانا، اللہ ہی کا کام ہے کیونکہ ہر طرح کے امور پر صرف اسی کا اختیار و تصرف ہے۔ مگر مومنوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ ایسا معجزہ دکھانے کا قطعاً کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اس کی وجہ پہلے یہ بتلائی گئی کہ یہ کافر ایسا معجزہ دیکھ بھی لیں تو ایمان نہیں لائیں گے بلکہ ان کی ہٹ دھرمی میں اضافہ ہو گا اور یہاں یہ جواب دیا گیا ہے کہ اگر مطلوب یہی ہوتا کہ کافر ایسا معجزہ دیکھ کر ایمان لانے پر مجبور ہو جائیں تو اللہ انھیں ایسا معجزہ دکھائے بغیر بھی یہ قدرت رکھتا ہے کہ انھیں ایمان لانے پر مجبور کر دے مگر ایسے ایمان کی کچھ قدر و قیمت نہیں۔ قدر و قیمت تو اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ انسان اپنے ارادہ و اختیار کی آزادی سے اور سوچ سمجھ کر ایمان لائے۔
[43] لفظ ﴿تَحُلُ﴾ کو اگر واحد مونث غائب کا صیغہ سمجھا جائے تو اس کا معنی وہی ہے جو اوپر بیان ہوا ہے اور اگر اسے واحد مذکر حاضر کا صیغہ سمجھا جائے تو اس کا معنی یہ ہو گا۔ ’یا آپ ان کافروں کے گھروں کے پاس اتریں گے‘ اور اس سے مراد مکہ کی فتح ہو گا جیسا کہ ﴿وَاَنْتَ حِلٌّ بِهٰذَا الْبَلَدِ﴾ میں بھی مذکور ہے۔ اس آیت میں خطاب صرف مکہ کے کافروں سے نہیں بلکہ تمام کافروں سے ہے۔ اور پہلے معنی کے لحاظ سے ان مصائب سے مراد قحط، غزوہ بدر میں کافروں کی شکست فاش اور دوسرے مصائب ہیں اور اللہ کے وعدہ سے مراد فتح مکہ ہے جس کے نتیجہ میں کفر کی کمر ٹوٹ گئی اور اگر دوسرے معنی لیے جائیں تو ان کے گھروں کے قریب پڑنے والی مصیبت سے مراد صلح حدیبیہ جو انجام کے لحاظ سے کافروں کے حق میں بہت بری ثابت ہوئی اور اللہ کے وعدہ سے مراد بہرحال مکہ کی فتح ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
’ کیا ایماندار اب تک اس سے مایوس نہیں ہوئے کہ تمام مخلوق ایمان نہیں لائے گی۔ کیا وہ مشیت الٰہی کے خلاف کچھ کر سکتے ہیں۔ رب کی یہ منشا ہی نہیں اگر ہوتی تو روئے زمین کے لوگ مسلمان ہو جاتے۔ بھلا اس قرآن کے بعد کس معجزے کی ضرورت دنیا کو رہ گئی؟ اس سے بہتر واضح، اس سے صاف، اس سے زیادہ دلوں میں گھر کرنے والا اور کون سا کلام ہوگا؟ اسے تو اگر بڑے سے بڑے پہاڑ پر اتارا جاتا تو وہ بھی خشیت الٰہی سے چکنا چور ہو جاتا ‘۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر نبی کو ایسی چیز ملی کہ لوگ اس پر ایمان لائیں۔ میری ایسی چیز اللہ کی یہ وحی ہے پس مجھے امید ہے کہ سب نبیوں سے زیادہ تابعداروں والا میں ہو جاؤں گا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4981]
مطلب یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے معجزے ان کے ساتھ ہی چلے گئے اور میرا یہ معجزہ جیتا جاگتا رہتی دنیا تک رہے گا، نہ اس کے عجائبات ختم ہوں نہ یہ کثرت تلاوت سے پرانا ہو نہ اس سے علماء کا پیٹ بھر جائے۔ یہ فضل ہے دل لگی نہیں۔ جو سرکش اسے چھوڑ دے گا اللہ اسے توڑ دے گا جو اس کے سوا اور میں ہدایت تلاش کرے گا اسے اللہ گمراہ کردے گا۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”اگر کسی قرآن کے ساتھ یہ امور ظاہر ہوتے تو اس تمہارے قرآن کے ساتھ بھی ہوتے سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرتا تاکہ تم سب کو آزما لے اپنے اختیار سے ایمان لاؤ یا نہ لاؤ۔ کیا ایمان والے نہیں جانتے؟
«يَيْأَسِ» کے بدلے دوسری جگہ «يَتَبَيَّنِ» بھی ہے، ایماندار ان کی ہدایت سے مایوس ہو چکے تھے۔ ہاں اللہ کے اختیار میں کسی کا بس نہیں وہ اگر چاہے تمام مخلوق کو ہدایت پر کھڑا کر دے۔ یہ کفار برابر دیکھ رہے ہیں کہ ان کے جھٹلانے کی وجہ سے اللہ کے عذاب برابر ان پر برستے رہتے ہیں یا ان کے آس پاس آ جاتے ہیں پھر بھی یہ نصیحت حاصل نہیں کرتے؟
جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [46۔ الأحقاف:27] یعنی ’ ہم نے تمہارے آس پاس کی بہت سی بستیوں کو ان کی بد کرداریوں کی وجہ سے غارت و برباد کر دیا اور طرح طرح سے اپنی نشانیاں ظاہر فرمائیں کہ لوگ برائیوں سے باز رہیں ‘۔
«تَحُلُّ» کا فاعل «قَارِعَةٌ» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:391/7:] یہی ظاہر اور مطابق روانی عبارت ہے لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «قَارِعَةٌ» پہنچے یعنی چھوٹا سا لشکر اسلامی یا تو خود ان کے شہر کے قریب اتر پڑے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تک کہ وعدہ ربانی آ پہنچے اس سے مراد فتح مکہ ہے۔
آپ رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ «قَارِعَةٌ» سے مراد آسمانی عذاب ہے اور آس پاس اترنے سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے لشکروں سمیت ان کی حدود میں پہنچ جانا ہے اور ان سے جہاد کرنا ہے۔
ان سب کا قول ہے کہ یہاں وعدہ الٰہی سے مراد فتح مکہ ہے۔ لیکن حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اللہ کا وعدہ اپنے رسولوں کی نصرت وامداد کا ہے وہ کبھی ٹلنے والا نہیں انہیں اور ان کے تابعداروں کو ضرور بلندی نصیب ہو گی۔
جیسے فرمان ہے «فَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ» ۱؎ [14-ابراھیم:47] ’ یہ غلط گمان ہرگز نہ کرو کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے۔ اللہ غالب ہے اور بدلہ لینے والا ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مبيِّناً فضل القرآن الكريم على سائر الكتب المنزَّلة: {ولو أنَّ قرآناً}: من الكتب الإلهيَّة، {سُيِّرتْ به الجبال}: عن أماكنها، و {قُطِّعت به الأرضُ}: جناناً وأنهاراً، و {كُلِّم به الموتى}: لكان هذا القرآن. {بل لله الأمرُ جميعاً}: فيأتي بالآيات التي تقتضيها حكمته؛ فما بال المكذبين يقترحون من الآيات ما يقترحون؟! فهل لهم ولغيرهم من الأمر شيء؟! {أفلم ييأسِ الذين آمنوا أن لو يشاءُ الله لهدى الناسَ جميعاً}: فليعلموا أنَّه قادرٌ على هدايتهم جميعاً، ولكنه لا يشاء ذلك، بل يهدي مَنْ يشاء ويُضِلُّ من يشاء. {ولا يزالُ الذين كفروا}: على كفرهم لا يعتبرون ولا يتَّعظون، والله تعالى يوالي عليهم القوارعَ التي تصيبُهم في ديارهم أو تَحُلُّ قريباً منها وهم مصرُّون على كفرهم. {حتى يأتي وعدُ الله}: الذي وَعَدَهم به لنزول العذاب المتَّصل الذي لا يمكن رفعُه. {إنَّ الله لا يخلِفُ الميعاد}: وهذا تهديدٌ لهم وتخويفٌ من نزول ما وعدهم الله به على كفرهم وعنادهم وظلمهم.