تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ:} یعنی نہ آپ پہلے رسول ہیں نہ آپ کی امتِ دعوت کوئی پہلی امت ہے۔ اس سے مقصود آپ کی امت کو پہلی جھٹلانے والی امتوں کے انجام بد سے ڈرانا ہے۔
➌ { لِتَتْلُوَاۡ عَلَيْهِمُ الَّذِيْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ:} یعنی آپ کو بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ انھیں وہ آیات و احکام پڑھ کر سنائیں جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیے۔ {” عَلَيْهِمُ “ } سے اولین مراد قریش مکہ ہیں اور پھر بعد میں قیامت تک آنے والے تمام لوگ بھی، جیسا کہ فرمایا: «{ هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ (2) وَ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ}» [الجمعۃ: ۲، ۳] ”وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو ان کے سامنے اس کی آیات پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ بلاشبہ وہ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں تھے۔ اور ان میں سے کچھ اور لوگوں میں بھی (آپ کو بھیجا) جو ابھی تک ان سے نہیں ملے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ ”جو ابھی تک ان سے نہیں ملے“ سے مراد قیامت تک کے لوگ ہیں۔
➍ { وَ هُمْ يَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ:} یعنی اللہ نے اپنی رحمت سے ان لوگوں پر کرم فرمایا کہ آپ کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا، مگر ان کی ناشکری کا حال یہ ہے کہ اس کا حق پہچاننے سے منکر ہو گئے ہیں۔ کفار مکہ اللہ کے خالق ہونے کا تو اقرار کرتے تھے، مگر اس کے ”رحمان“ ہونے کے منکر تھے، بلکہ جب اللہ تعالیٰ کے رحمان ہونے اور اسے اس نام سے پکارنے کی دعوت دی جاتی تو اس سے چڑتے اور کہتے: «{ وَ مَا الرَّحْمٰنُ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا }» [الفرقان: ۶۰] ”رحمان کیا چیز ہے؟ کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تو ہمیں حکم دیتا ہے اور یہ بات انھیں بدکنے میں بڑھا دیتی ہے۔“ نیز حدیبیہ کے صلح نامہ پر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے {”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“} لکھوانا چاہا تو کفار کے نمائندے سہیل بن عمرو نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں رحمان کو نہیں جانتا کہ وہ کون ہے، آپ {”بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ“} لکھوائیے۔“ [بخاری، الشروط، باب الشروط في الجہاد …: ۲۷۳۱، ۲۷۳۲] {” الرَّحْمٰنُ “} اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے اور اسم اللہ کے بعد سب سے محترم نام ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَی اللّٰهِ عَبْدُ اللّٰهِ وَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ] [مسلم، الآداب، باب النھي عن التکني بأبی القاسم…: ۲۱۳۲] ”اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پیارے نام عبد اللہ اور عبد الرحمان ہیں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[40] اس جواب سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ رحمٰن اللہ تعالیٰ ہی کا دوسرا ذاتی نام ہے اور رحمٰن رحم سے مشتق ہے اور اسم مبالغہ ہے۔ جس میں بہت زیادہ بلاغت پائی جاتی ہے یعنی بے انتہا رحم کرنے والا اور یہ اس کی رحمت ہی کا تقاضا تھا کہ اللہ نے سابقہ امتوں کی طرح اس امت میں آپ کو نبی بنا کر مبعوث فرمایا تاکہ ان کی ہدایت کے لیے آپ انھیں قرآن پڑھ کر سنائیں۔ مگر ان لوگوں کو قرآن سے چڑ ہو گئی اور اپنے معبودوں کو چھوڑنے پر قطعاً تیار نہ ہوئے اور آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے اور آپ کو اور آپ کے متبعین کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ ایسی صورت حال میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ آپ انھیں کہہ دیجئے کہ تم لوگ جو کچھ کر رہے ہو کرتے جاؤ۔ میں اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتا ہوں۔ وہ خود ہی ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہی فرمان آیت «تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» ۱؎ [16-النحل:63] میں اور آیت «وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:34] میں ہے کہ ’ دیکھ لے ہم نے اپنے والوں کی کس طرح امداد فرمائی؟ اور انہیں کیسے غالب کیا؟ تیری قوم کو دیکھ کر رحمن سے کفر کر رہی ہے۔ وہ اللہ کے وصف اور نام کو مانتی ہی نہیں ‘۔
حدیبیہ کا صلح نامہ لکھتے وقت اس پر بضد ہو گئے کہ ہم آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» نہیں لکھنے دیں گے۔ ہم نہیں جانتے کہ رحمن اور رحیم کیا ہے؟ پوری حدیث بخاری میں موجود ہے۔
قرآن میں ہے «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:110]، ’ اللہ کہہ کر اسے پکارو یا رحمن کہہ کر جس نام سے پکارو وہ تمام بہترین ناموں والا ہے ‘۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ کے نزدیک عبداللہ اور عبدالرحمٰن نہایت پیارے نام ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2132]
فرمایا ’ جس سے تم کفر کر رہے ہو میں تو اسے مانتا ہوں وہی میرا پروردگار ہے میرے بھروسے اسی کے ساتھ ہیں اسی کی جانب میری تمام تر توجہ اور رجوع اور دل کا میل اس کے سوا کوئی ان باتوں کا مستحق نہیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لنبيِّه محمد - صلى الله عليه وسلم -: {كذلك أرسلناك}: إلى قومك تدعوهم إلى الهدى، {قد خَلَتْ من قبلها أممٌ}: أرسلنا فيهم رسلنا، فلستَ ببدع من الرسل حتى يستنكروا رسالتك، ولستَ تقول من تلقاءِ نفسك، بل تتلو عليهم آياتِ الله، التي أوْحاها الله إليك، التي تطهِّر القلوب وتزكِّي النفوس، والحال أنَّ قومك يكفرون بالرحمن، فلم يقابلوا رحمته وإحسانه ـ التي أعظمها أنْ أرسلناك إليهم رسولاً وأنزلنا عليك كتاباً ـ بالقبول والشكر، بل قابلوها بالإنكار والردِّ؛ أفلا يعتبرون بمَنْ خلا من قبلهم من القرون المكذِّبة كيف أخذهم الله بذنوبهم؟ {قل هو ربِّي لا إله إلاَّ هو}: وهذا متضمِّن [للتوحيدين]: توحيد الألوهيَّة وتوحيد الربوبيَّة؛ فهو ربي الذي رَبَّاني بنعمِهِ منذ أوجدني، وهو إلهي الذي {عليه توكلتُ} في جميع أموري وإليه أنيب ؛ أي: أرجع في جميع عباداتي وفي حاجاتي.