ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرعد (13) — آیت 31

وَ لَوۡ اَنَّ قُرۡاٰنًا سُیِّرَتۡ بِہِ الۡجِبَالُ اَوۡ قُطِّعَتۡ بِہِ الۡاَرۡضُ اَوۡ کُلِّمَ بِہِ الۡمَوۡتٰی ؕ بَلۡ لِّلّٰہِ الۡاَمۡرُ جَمِیۡعًا ؕ اَفَلَمۡ یَایۡـَٔسِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ لَّوۡ یَشَآءُ اللّٰہُ لَہَدَی النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا تُصِیۡبُہُمۡ بِمَا صَنَعُوۡا قَارِعَۃٌ اَوۡ تَحُلُّ قَرِیۡبًا مِّنۡ دَارِہِمۡ حَتّٰی یَاۡتِیَ وَعۡدُ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ﴿٪۳۱﴾
اور واقعی اگر کوئی ایسا قرآن ہوتا جس کے ذریعے پہاڑ چلائے جاتے، یا اس کے ذریعے زمین قطع کی جاتی، یا اس کے ذریعے مُردوں سے کلام کیا جاتا۔ بلکہ کام سارے کا سارا اللہ کے اختیار میں ہے، تو کیا جو لوگ ایمان لائے ہیں مایوس نہیں ہوگئے کہ اگر اللہ چاہے تو یقینا سب کے سب لوگوں کو ہدایت دے دے، اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ہمیشہ اس حال میں رہیں گے کہ انھیں اس کی وجہ سے جو انھوں نے کیا، کوئی نہ کوئی سخت مصیبت پہنچتی رہے گی، یا ان کے گھر کے قریب اترتی رہے گی، یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آجائے۔ بے شک اللہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ En
اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کی تاثیر) سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے۔ (تو یہی قرآن ان اوصاف سے متصف ہوتا مگر) بات یہ ہے کہ سب باتیں خدا کے اختیار میں ہیں تو کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے رستے پر چلا دیتا۔ اور کافروں پر ہمیشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بےشک خدا وعدہ خلاف نہیں کرتا
En
اگر (بالفرض) کسی قرآن (آسمانی کتاب) کے ذریعے پہاڑ چلا دیئے جاتے یا زمین ٹکڑے ٹکڑے کر دی جاتی یا مردوں سے باتیں کرا دی جاتیں (پھر بھی وه ایمان نہ ﻻتے)، بات یہ ہے کہ سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہے، تو کیا ایمان والوں کو اس بات پر دل جمعی نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمام لوگوں کو ہدایت دے دے۔ کفار کو تو ان کے کفر کے بدلے ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی سخت سزا پہنچتی رہے گی یا ان کے مکانوں کے قریب نازل ہوتی رہے گی تاوقتیکہ وعدہٴ الٰہی آپہنچے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ وعده خلافی نہیں کرتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت31) ➊ {وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ …: قُرْاٰنًا } نکرہ ہے، کوئی قرآن، یعنی پڑھی جانے والی کوئی کتاب۔ {لَوْ } شرطیہ ہے، اس کا جواب محذوف ہے، جو آیت کے سیاق و سباق سے خود بخود معلوم ہو رہا ہے اور قرآن مجید کے دوسرے مقامات پر موجود بھی ہے۔ تفاسیر میں دو جواب مذکور ہیں اور دونوں درست ہیں، ایک تو یہ کہ اگر واقعی کوئی ایسا قرآن ہوتا جس کے ذریعے سے پہاڑ چلائے جاتے، یا اس کے ذریعے سے زمین قطع کی جاتی، یا اس کے ذریعے سے مُردوں سے کلام کیا جاتا تو پھر بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے، کیونکہ یہ ضد اور عناد کی وجہ سے انکار کر رہے ہیں۔ ان تین چیزوں کا خصوصاً ذکر اس لیے کیا کہ قرآن مجید کے معجزے کے بعد، جس کے چیلنج کے مقابلے میں سب لاجواب ہو چکے تھے، اب وہ لوگ خصوصاً انھی تین چیزوں کے دکھانے کا مطالبہ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب لاجواب ہونے کے باوجود یہ لوگ اس قرآن پر ایمان نہیں لائے تو اگر کوئی ایسا قرآن بھی آ جائے جس سے ان کے مطالبے پورے ہوں، پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے، کیونکہ تمام کام تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور یہ لوگ جب عناد کی وجہ سے اس قرآن پر ایمان نہ لا کر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا نشانہ بن چکے ہیں، جو سب معجزوں سے بڑا معجزہ ہے، تو اپنے مطلوبہ معجزے دیکھ لینے کے بعد بھی اللہ کی ناراضگی کی وجہ سے ان کو ایمان لانے کی توفیق کیسے ملے گی اور کہاں سے ملے گی۔ جب کوئی جان بوجھ کر آنکھیں ہی بند کر لے تو کوئی اسے کس طرح دکھا سکتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ [الأنعام: ۱۱۱] اور اگر واقعی ہم ان کی طرف فرشتے اتار دیتے اور ان سے مُردے گفتگو کرتے اور ہم ہر چیز ان کے پاس سامنے لا جمع کرتے توبھی وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لے آتے مگر یہ کہ اللہ چاہے اور لیکن ان کے اکثر جہالت برتتے ہیں۔ اس آیت سے { لَوْ } کا جواب صراحت کے ساتھ معلوم ہو رہا ہے۔
دوسرا جواب اس { لَوْ } کا یہ ہے کہ ان صفات کا حامل اگر کوئی قرآن ہوتا تو وہ یہی قرآن تھا، جیسا کہ فرمایا: «{ لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ [الحشر: ۲۱] اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو یقینا تو اسے اللہ کے ڈر سے پست ہونے والا، ٹکڑے ٹکڑے ہونے والا دیکھتا۔اس میں اس قرآن کی عظمت کا بیان ہے کہ تم جو مطالبے کر رہے ہو قرآن کے لیے ان میں سے کوئی بھی پورا کرنا مشکل نہیں، مگر سارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ایسا کرنا اس کی حکمت کے خلاف ہے، کیونکہ اس کے بعد ایمان نہ لانے کی صورت میں تمھیں عذاب سے ملیامیٹ کر دیا جاتا، جیسا کہ پہلی امتوں کے ساتھ ہوا۔
➋ {اَفَلَمْ يَايْـَٔسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا:} مفسرین نے { اَفَلَمْ يَايْـَٔسِ } کے دو معنی لکھے ہیں، ایک معنی ہے کہ{ أَفَلَمْ يَعْلَمْ } کہ کیا وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں انھیں معلوم نہیں ہوا کہ جن نشانیوں کا یہ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دکھانے پر قادر ہے، کیونکہ اسے ہر چیز کا اختیار ہے، مگر اس توقع پر ان نشانیوں کا دکھانا بے سود ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ لوگ اتنے سرکش اور ضدی ہیں کہ یہ نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے اور { اَفَلَمْ يَايْـَٔسِ } کا دوسرا معنی یہ ہے کہ کیا ابھی مسلمان ان کے ایمان لانے سے مایوس نہیں ہوئے، حالانکہ وہ جانتے ہیں…۔
➌ {اَنْ لَّوْ يَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيْعًا:} یعنی ہدایت تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے جو ان نشانات کے دکھائے بغیر بھی ہو سکتی ہے۔ (شوکانی)
➍ {وَ لَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …:} یعنی یہ کفار مکہ نشانیوں کو دیکھ کر مان لینے والے نہیں ہیں۔ یہ مانیں گے تو اس طرح کہ ان کے کرتوتوں کی سزا میں آئے دن کوئی نہ کوئی آفت ان پر نازل ہوتی رہے، جیسے قتل، قید، قحط یا بیماری وغیرہ۔ چنانچہ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: لیکن کافر مسلمان یوں ہوں گے کہ ان پر آفت پڑتی رہے گی، ان پر پڑے یا ہمسائے پر، جب تک سارے عرب ایمان میں آ جائیں۔ وہ آفت یہی تھی جہاد مسلمانوں کے ہاتھ سے۔ (موضح)
➎ { اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ:} یعنی وہ آفت ان کے آس پاس والوں پر اترے گی اور وہ ان کا حال دیکھ کر عبرت حاصل کریں گے۔
➏ { اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ:} چنانچہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوا، قریش میں سے بعض لوگ مارے گئے اور بعض قید ہوئے، یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ پورا ہوا، یعنی مکہ فتح ہوا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

31۔ 1 امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ہر آسمانی کتاب کو قرآن کہا جاتا ہے، جس طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت داؤد ؑ، جانور کو تیار کرنے کا حکم دیتے اور اتنی دیر میں ایک مرتبہ قرآن کا ورد کرلیتے ' (صحیح بخاری) یہاں ظاہر بات ہے قرآن سے مراد زبور ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ اگر پہلے کوئی آسمانی کتاب ایسی نازل ہوئی ہوتی کہ جسے سن کر پہاڑ رواں دواں ہوجاتے یا زمین کی مسافت طے ہوجاتی یا مردے بول اٹھتے تو قرآن کریم کے اندر یہ خصوصیت بدرجہ اولیٰ موجود ہوتی، کیونکہ یہ اعجاز و بلاغت میں پچھلی کتابوں سے فائق ہے۔ اور بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اگر اس قرآن کے ذریعے سے معجزات ظاہر ہوتے، تب بھی کفار ایمان نہ لاتے، کیونکہ ایمان لانا نہ لانا یہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے، معجزوں پر نہیں۔ اسی لئے فرمایا، سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ 31۔ 2 جو ان کے مشاہدے یا علم میں ضرور آئے گا تاکہ وہ عبرت پکڑ سکیں۔ 31۔ 3 یعنی قیامت واقعہ ہوجائے، یا اہل اسلام کو قطعی فتح و غلبہ حاصل ہوجائے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ اور اگر قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کے زور) سے پہاڑ چلائے جا سکتے یا زمین کے طویل فاصلے فوراً طے کئے جا سکتے یا اس کے ذریعہ مردوں [41] سے کلام کیا جا سکتا، تو بھی یہ کافر ایمان نہ لاتے بلکہ ایسے سب امور [42] اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ کیا اہل ایمان (ابھی تک کافروں کی مطلوبہ نشانی آنے سے) مایوس نہیں ہوئے کیونکہ اگر اللہ چاہتا تو (نشانی کے بغیر بھی) تمام لوگوں کو ہدایت دے سکتا تھا۔ اور کافروں کو تو ان کی کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی مصیبت پہنچتی ہی رہے گی یا ان کے گھر کے قریب اترتی [43] رہے گی تا آنکہ اللہ کا وعدہ (عذاب) آجائے۔ یقیناً اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا
[41] حسی معجرات دکھلانے بے سود ہیں:۔
لفظ ﴿قُطّعت آیا ہے اور قطع ارض کے معنی فاصلہ طے کرنا اور ﴿قَطّع بمعنی ٹکڑے ٹکڑے کر دینا اور بمعنی پھاڑ دینا یا شق کر دینا ہے اور یہ سب معنی یہاں مراد لیے جا سکتے ہیں۔ یعنی فاصلے فوراً طے کرا دیئے جاتے یا زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی یا شق ہو جاتی اور اس آیت میں قریش کے ان حسی معجزات کے مطالبوں کا ذکر ہے جو وہ گاہے گاہے کرتے رہتے تھے مثلاً ایک یہ کہ یہ جو مکہ کے ارد گرد پہاڑ ہیں۔ یہ یہاں سے ہٹا دیئے جائیں تاکہ ہمارے لیے زمین کشادہ ہو جائے، دوسرا یہ کہ یہ زمین پھٹ جائے اور اس سے چشمے جاری ہوں تاکہ ہمارے لئے پانی کی قلت دور ہو جائے۔ تیسرے یہ کہ ہمارے مرے ہوئے آباء و اجداد میں سے کوئی شخص زندہ ہو کر ہمارے سامنے آئے اور اس بات کی تصدیق کرے جو تم ہمیں دوبارہ جی اٹھنے کے متعلق بتاتے رہتے ہو تو تب ہم تمہاری تصدیق کریں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا جس پر عمل پیرا ہونے سے ایسے واقعات وقوع پذیر ہو جاتے تو یہی قرآن ہو سکتا تھا۔ مگر تم لوگ پھر بھی ایمان نہ لاتے اور اگر ہم تمہیں ان میں سے کوئی معجزہ دکھا بھی دیں تو تم پھر بھی اسے جادو کا کرشمہ ہی کہہ دو گے۔ ایمان پھر نہیں لاؤ گے۔
[42] کفار کے بار بار کسی ایسے حسی معجزہ کے مطالبہ پر بعض مسلمانوں کے دلوں میں بھی بعض دفعہ یہ خیال آنے لگتا کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ دکھا دے تو بہتر ہو گا۔ یہ کافر لوگ ایمان لے آئیں تو ہماری مشکلات میں بھی کمی واقع ہو جائے گی۔ اس بات کا اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا کہ فی الواقع ایسا معجزہ دکھانا، اللہ ہی کا کام ہے کیونکہ ہر طرح کے امور پر صرف اسی کا اختیار و تصرف ہے۔ مگر مومنوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ ایسا معجزہ دکھانے کا قطعاً کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اس کی وجہ پہلے یہ بتلائی گئی کہ یہ کافر ایسا معجزہ دیکھ بھی لیں تو ایمان نہیں لائیں گے بلکہ ان کی ہٹ دھرمی میں اضافہ ہو گا اور یہاں یہ جواب دیا گیا ہے کہ اگر مطلوب یہی ہوتا کہ کافر ایسا معجزہ دیکھ کر ایمان لانے پر مجبور ہو جائیں تو اللہ انھیں ایسا معجزہ دکھائے بغیر بھی یہ قدرت رکھتا ہے کہ انھیں ایمان لانے پر مجبور کر دے مگر ایسے ایمان کی کچھ قدر و قیمت نہیں۔ قدر و قیمت تو اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ انسان اپنے ارادہ و اختیار کی آزادی سے اور سوچ سمجھ کر ایمان لائے۔
[43] لفظ ﴿تَحُلُ کو اگر واحد مونث غائب کا صیغہ سمجھا جائے تو اس کا معنی وہی ہے جو اوپر بیان ہوا ہے اور اگر اسے واحد مذکر حاضر کا صیغہ سمجھا جائے تو اس کا معنی یہ ہو گا۔ ’یا آپ ان کافروں کے گھروں کے پاس اتریں گے‘ اور اس سے مراد مکہ کی فتح ہو گا جیسا کہ ﴿وَاَنْتَ حِلٌّ بِهٰذَا الْبَلَدِ میں بھی مذکور ہے۔ اس آیت میں خطاب صرف مکہ کے کافروں سے نہیں بلکہ تمام کافروں سے ہے۔ اور پہلے معنی کے لحاظ سے ان مصائب سے مراد قحط، غزوہ بدر میں کافروں کی شکست فاش اور دوسرے مصائب ہیں اور اللہ کے وعدہ سے مراد فتح مکہ ہے جس کے نتیجہ میں کفر کی کمر ٹوٹ گئی اور اگر دوسرے معنی لیے جائیں تو ان کے گھروں کے قریب پڑنے والی مصیبت سے مراد صلح حدیبیہ جو انجام کے لحاظ سے کافروں کے حق میں بہت بری ثابت ہوئی اور اللہ کے وعدہ سے مراد بہرحال مکہ کی فتح ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قرآن حکیم کی صفات جلیلہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اس پاک کتاب قرآن کریم کی تعریفیں بیان فرما رہا ہے اگر ’ سابقہ کتابوں میں کسی کتاب کے ساتھ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جانے والے اور زمین پھٹ جانے والی اور مردے جی اٹھنے والے ہوتے تو یہ قرآن جو تمام سابقہ کتابوں سے بڑھ چڑھ کر ہے ان سب سے زیادہ اس بات کا اہل تھا اس میں تو وہ معجز بیانی ہے کہ سارے جنات وانسان مل کر بھی اس جیسی ایک سورت نہ بنا کر لا سکے۔ یہ مشرکین اس کے بھی منکر ہیں تو معاملہ سپرد رب کرو۔ وہ مالک کل کہ، تمام کاموں کا مرجع وہی ہے، وہ جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے، جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوتا۔ اس کے بھٹکائے ہوئے کی رہبری اور اس کے راہ دکھائے ہوئے کی گمراہی کسی کے بس میں نہیں ‘۔ یہ یاد رہے کہ قرآن کا اطلاق اگلی الہامی کتابوں پر بھی ہوتا ہے اس لیے کہ وہ سب سے مشتق ہے۔
مسند میں ہے { داؤد علیہ السلام پر قرآن اس قدر آسان کردیا گیا تھا کہ ان کے حکم سے سواری کسی جاتی اس کے تیار ہونے سے پہلے ہی وہ قرآن کو ختم کر لیتے، سوا اپنے ہاتھ کی کمائی کے وہ اور کچھ نہ کھاتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3417]‏‏‏‏ پس مراد یہاں قرآن سے زبور ہے۔
’ کیا ایماندار اب تک اس سے مایوس نہیں ہوئے کہ تمام مخلوق ایمان نہیں لائے گی۔ کیا وہ مشیت الٰہی کے خلاف کچھ کر سکتے ہیں۔ رب کی یہ منشا ہی نہیں اگر ہوتی تو روئے زمین کے لوگ مسلمان ہو جاتے۔ بھلا اس قرآن کے بعد کس معجزے کی ضرورت دنیا کو رہ گئی؟ اس سے بہتر واضح، اس سے صاف، اس سے زیادہ دلوں میں گھر کرنے والا اور کون سا کلام ہوگا؟ اسے تو اگر بڑے سے بڑے پہاڑ پر اتارا جاتا تو وہ بھی خشیت الٰہی سے چکنا چور ہو جاتا ‘۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر نبی کو ایسی چیز ملی کہ لوگ اس پر ایمان لائیں۔ میری ایسی چیز اللہ کی یہ وحی ہے پس مجھے امید ہے کہ سب نبیوں سے زیادہ تابعداروں والا میں ہو جاؤں گا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4981]‏‏‏‏
مطلب یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے معجزے ان کے ساتھ ہی چلے گئے اور میرا یہ معجزہ جیتا جاگتا رہتی دنیا تک رہے گا، نہ اس کے عجائبات ختم ہوں نہ یہ کثرت تلاوت سے پرانا ہو نہ اس سے علماء کا پیٹ بھر جائے۔ یہ فضل ہے دل لگی نہیں۔ جو سرکش اسے چھوڑ دے گا اللہ اسے توڑ دے گا جو اس کے سوا اور میں ہدایت تلاش کرے گا اسے اللہ گمراہ کردے گا۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { کافروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں کے پہاڑ یہاں سے ہٹوا دیں اور یہاں کی زمین زراعت کے قابل ہو جائے اور جس طرح سیلمان علیہ السلام زمین کی کھدائی ہوا سے کراتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کرا دیجئیے یا جس طرح عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ کر دیتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کر دیجئیے اس پر یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:20398:ضعیف]‏‏‏‏
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اگر کسی قرآن کے ساتھ یہ امور ظاہر ہوتے تو اس تمہارے قرآن کے ساتھ بھی ہوتے سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرتا تاکہ تم سب کو آزما لے اپنے اختیار سے ایمان لاؤ یا نہ لاؤ۔ کیا ایمان والے نہیں جانتے؟
«يَيْأَسِ» کے بدلے دوسری جگہ «يَتَبَيَّنِ» بھی ہے، ایماندار ان کی ہدایت سے مایوس ہو چکے تھے۔ ہاں اللہ کے اختیار میں کسی کا بس نہیں وہ اگر چاہے تمام مخلوق کو ہدایت پر کھڑا کر دے۔ یہ کفار برابر دیکھ رہے ہیں کہ ان کے جھٹلانے کی وجہ سے اللہ کے عذاب برابر ان پر برستے رہتے ہیں یا ان کے آس پاس آ جاتے ہیں پھر بھی یہ نصیحت حاصل نہیں کرتے؟
جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [46۔ الأحقاف:27]‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے تمہارے آس پاس کی بہت سی بستیوں کو ان کی بد کرداریوں کی وجہ سے غارت و برباد کر دیا اور طرح طرح سے اپنی نشانیاں ظاہر فرمائیں کہ لوگ برائیوں سے باز رہیں ‘۔
اور آیت میں ہے «أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَالِبُونَبِ» ۱؎ [21-الأنبياء:44]‏‏‏‏ ’ کیا وہ نہیں دیکھ رہے کہ ہم زمین کو گھٹاتے چلے آ رہے ہیں کیا اب بھی اپنا ہی غلبہ مانتے چلے جائیں گے؟ ‘
«تَحُلُّ» کا فاعل «قَارِعَةٌ» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:391/7:]‏‏‏‏ یہی ظاہر اور مطابق روانی عبارت ہے لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «قَارِعَةٌ» پہنچے یعنی چھوٹا سا لشکر اسلامی یا تو خود ان کے شہر کے قریب اتر پڑے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تک کہ وعدہ ربانی آ پہنچے اس سے مراد فتح مکہ ہے۔
آپ رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ «قَارِعَةٌ» سے مراد آسمانی عذاب ہے اور آس پاس اترنے سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے لشکروں سمیت ان کی حدود میں پہنچ جانا ہے اور ان سے جہاد کرنا ہے۔
ان سب کا قول ہے کہ یہاں وعدہ الٰہی سے مراد فتح مکہ ہے۔ لیکن حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اللہ کا وعدہ اپنے رسولوں کی نصرت وامداد کا ہے وہ کبھی ٹلنے والا نہیں انہیں اور ان کے تابعداروں کو ضرور بلندی نصیب ہو گی۔
جیسے فرمان ہے «فَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ» ۱؎ [14-ابراھیم:47]‏‏‏‏ ’ یہ غلط گمان ہرگز نہ کرو کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے۔ اللہ غالب ہے اور بدلہ لینے والا ‘۔