ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرعد (13) — آیت 15

وَ لِلّٰہِ یَسۡجُدُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّ کَرۡہًا وَّ ظِلٰلُہُمۡ بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ ﴿ٛ۱۵﴾
اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے اللہ ہی کو سجدہ کر رہا ہے، خوشی اور ناخوشی سے اور ان کے سائے بھی پہلے اور پچھلے پہر۔ En
اور جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا زبردستی سے خدا کے آگے سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح وشام (سجدے کرتے ہیں)
En
اللہ ہی کے لئے زمین اور آسمانوں کی سب مخلوق خوشی اور ناخوشی سے سجده کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح وشام En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت15) ➊ {وَ لِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ …:} سجدے کا معنی ہے جسم کے سب سے اونچے اور باعزت حصے کو کسی کے سامنے نیچے سے نیچا لے جا کر اس کے سامنے اپنی انتہائی عاجزی کا اظہار کرنا۔ تو کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے اسی طرح اپنی عاجزی اور بے بسی کا اظہار کر رہی ہے۔ اس میں مسلمان اور کافر کا کوئی فرق نہیں، ہاں انسان کو تھوڑا سا اختیار جنت یا جہنم کے راستے پر چلنے کا دیا ہے، اس کے علاوہ اللہ کے سامنے نہ چاہتے ہوئے بھی ہر طرح سجدہ ریز ہے اور اللہ تعالیٰ کے اختیار کے مقابلے میں اپنے آپ پر اس کا اختیار ایک فی صد کیا ایک فی ہزار بھی نہیں، اگر کسی کو شک ہے تو ذرا اپنا سانس روک کر دکھائے، بھوک پیاس روک لے، پیشاب یا پاخانہ روک لے، بیماری آئے تو ڈٹ جائے کہ میں بیمار نہیں ہوتا، بڑھاپے کو آنے سے اور بالوں کو سفید ہونے سے روک دے، حرکت قلب بند ہو جائے تو اسے چلا کر دکھائے، گردے فیل ہو جائیں تو چالو کرکے دکھائے، ایک ٹانگ اٹھا سکتا ہے دوسری بھی اٹھا کر دکھائے، موت کے فرشتے کے سامنے اکڑ جائے، غرض ہر عاقل و غیر عاقل اور ان کے سائے خوشی و ناخوشی سے اللہ ہی کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ پھر ایسے بے بس سے فریاد کرنا، کسی کو داتا، کسی کو دستگیر، کسی کو غریب نواز، کسی کو مشکل کشا کہنا کتنی بڑی حماقت ہے۔ یہاں سورۂ حج کی آیت (۱۸) کا ترجمہ و تفسیر بھی ملاحظہ فرما لیں۔
➋ { وَ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ: } یعنی ان کے سایوں کا گھٹنا اور بڑھنا بھی اسی کے ارادہ و مشیت سے ہے۔ پہلے اور پچھلے پہر کا ذکر اس لیے کیا کہ ان وقتوں میں زمین پر ہر چیز کا سایہ نمایاں ہوتا ہے اور عبادت کے لحاظ سے یہ دونوں عمدہ وقت ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اور پرچھائیاں صبح و شام کے وقت زمین پر پسر (پھیل) جاتی ہیں، یہی ان کا سجدہ ہے۔ (موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت وقدرت کا بیان ہے کہ ہر چیز پر اس کا غلبہ ہے اور ہر چیز اس کے ما تحت اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہے، چاہے مومنوں کی طرح خوشی سے کریں یا مشرکوں کی طرح ناخوشی سے۔ اور ان کے سائے بھی صبح و شام سجدہ کرتے ہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ (اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ) 16۔ النحل:48) سورة النحل کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے ان کے سائے داہنے اور بائیں سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتے ہیں اور وہ عاجزی کرتے ہیں اس سجدے کی کیفیت کیا ہے؟ یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے یا دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ کافر سمیت تمام مخلوق اللہ کے حکم کے تابع ہے کسی میں اسی سے سرتابی کی مجال نہیں اللہ تعالیٰ کسی کو صحت دے بیمار کرے غنی کر دے یا فقیر بنا دے زندگی دے یا موت سے ہمکنار کرے ان تکوینی احکام میں کسی کافر کو بھی مجال انکار نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ آسمانوں اور زمین میں جتنی بھی چیزیں ہیں چارو ناچار اللہ کو سجدہ [22] کر رہی ہیں۔ (اسی طرح) ان کے سائے صبح و شام سجدہ [23] ریز ہوتے ہیں
[22] کائنات کی چیزوں کا اللہ کو سجدہ کرنے کے مطلب:۔
یعنی کائنات کی ہر چیز ان طبعی قوانین کی پابند اور ان کے آگے بے بس اور مجبور ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے بنا دیئے ہیں۔ مثلاً پانی کے لیے یہ قانون ہے کہ وہ نشیب کی طرف بہے اور یہ نا ممکن ہے کہ پانی اس قانون کے خلاف بلندی کی طرف بہنا شروع کر دے۔ اسی طرح پانی کے لیے نا ممکن ہے کہ وہ اپنی سطح ہموار نہ رکھے۔ بس یہی چیز اس کا اللہ کے حضور سجدہ ہے۔ اسی طرح کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہے۔ حتیٰ کہ ان قوانین کا انسان بھی پابند اور ان کے آگے مجبور اور بے بس ہے۔ مثلاً اگر وہ چاہے کہ کھانے پینے کے بغیر زندہ رہے تو وہ ایسا نہیں کر سکتا، یا اگر وہ چاہے کہ موت کو اپنے آپ سے روک دے تو وہ ایسا نہیں کر سکتا اس کا اختیار صرف ان باتوں میں ہے جن میں اسے قوت ارادہ و اختیار دیا گیا ہے اور انہی میں اس کا امتحان ہے۔
[23] یعنی سایوں کے لیے جو قانون مقرر ہے وہ اس کے پابند ہیں اور وہ یہ ہے کہ روشنی ہمیشہ صراط مستقیم میں سفر کرتی ہے اور صبح و شام کا ذکر اس لیے فرمایا کہ ان اوقات میں سائے بہت زیادہ لمبے اور پھیلے ہوئے ہوتے ہیں اور سایوں کے گھٹنے بڑھنے میں تدریج اسی نسبت سے ہوتی ہے۔ جس نسبت سے سورج کسی جانب سفر کرتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عظمت وسطوت الہٰی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی عظمت وسلطنت کو بیان فرما رہا ہے کہ ’ ہر چیز اس کے سامنے پست ہے اور ہر ایک اس کی سرکار میں اپنی عاجزی کا اظہار کرتی ہے۔ مومن خوشی سے اور کافر بزور اس کے سامنے سجدہ میں ہے۔ ان کی پرچھائیں صبح شام اس کے سامنے جھکتی رہتی ہے ‘۔
«اصال» جمع ہے «اصیل» کی۔ اور آیت میں بھی اس کا بیان ہوا ہے۔ فرمان ہے آیت «اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:48]‏‏‏‏ یعنی ’ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ تمام مخلوق اللہ کے سامنے دائیں بائیں جھک کر اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں ‘۔