تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ …: ” يَدْعُوْنَ “} کی ضمیر مشرکین کے لیے ہے، یعنی اللہ کے سوا کسی کو بھی پکارنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے، اب پانی نہ اس کی بات سنتا ہے، نہ سمجھتا ہے اور نہ یہ طاقت رکھتا ہے کہ خود بخود اس کے منہ تک پہنچ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر ان خود ساختہ خداؤں کی بے بضاعتی اور بے بسی بڑی تفصیل سے بیان فرمائی۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۹۱ تا ۱۹۸)، سبا (۲۲)، فاطر (۱۳، ۱۴)، احقاف (۵) اور حج (۷۳) قارئین سے درخواست ہے کہ وہ یہ مقامات نکال کر ترجمہ ضرور پڑھیں، ان شاء اللہ توحید کی ٹھنڈک دل میں محسوس کریں گے۔
➌ { وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ:} یعنی کافروں کا غیر اللہ کو پکارنا سراسر بے سود ہے، جس سے کچھ حاصل نہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”کافر جن کو پکارتے ہیں بعض محض خیال ہیں، بعض جن اور بعض ایسی چیزیں ہیں کہ ان میں کچھ خواص ہیں، لیکن وہ اپنے خواص کی مالک نہیں، پھر ان کے پکارنے سے کیا حاصل۔ جیسے آگ یا پانی اور شاید ستارے بھی اسی قسم میں ہوں، یہ اس کی مثال فرمائی۔“ (موضح) اس کی مختصر سی تفصیل سمجھ لیں کہ فرشتے ہر وقت ہمارے ساتھ ہیں، سنتے بھی ہیں، طاقت بھی رکھتے ہیں مگر وہ اللہ کے اذن کے بغیر کچھ بھی نہ کر سکتے ہیں اور نہ کرتے ہیں۔ تو انھیں پکارنا ایسے ہی ہے جیسے پانی کو اشارے سے یا زبان سے کہا جائے کہ وہ منہ میں آ جائے، حالانکہ اس میں یہ قدرت ہی نہیں اور بالفرض ہو بھی تو وہ یہ اختیار نہیں رکھتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر مشرکوں کافروں کی مثال بیان ہوئی کہ ’ جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منہ میں خودبخود پہنچ جائے تو ایسا نہیں ہونے کا۔ اسی طرح یہ کفار جنہیں پکارتے ہیں اور جن سے امیدیں رکھتے ہیں، وہ ان کی امیدیں پوری نہیں کرنے کے ‘۔
اور یہ مطلب بھی ہے کہ ’ جیسے کوئی اپنی مٹھیوں میں پانی بند کرلے تو وہ رہنے کا نہیں ‘۔ پس باسط قابض کے معنی میں ہے۔
عربی شعر میں «فَإِنِّي وَإيَّاكُمْ وَشَوْقًا إِلَيْكُمُ كَقَابِضِ مَاءٍ لَمْ تَسْقِهِ أَنَامِلُهُ» «فَأَصْبَحْتُ ممَّا كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا» «مِنَ الوُدِّ مِثْلَ الْقَابِضِ الْمَاءَ بِالْيَدِ» بھی «قَابِضِ الْمَاءَ» آیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:364/7:]
پس جیسے پانی مٹھی میں روکنے والا اور جیسے پانی کی طرف ہاتھ پھیلانے والا پانی سے محروم ہے، ایسے ہی یہ مشرک اللہ کے سوا دوسروں کو گو پکاریں لیکن رہیں گے محروم ہی دین دنیا کا کوئی فائدہ انہیں نہ پہنچے گا۔ ان کی پکار بےسود ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: لله وحده {دعوةُ الحقِّ}: وهي عبادته وحده لا شريك له، وإخلاص دعاء العبادة ودعاء المسألة له تعالى؛ أي: هو الذي ينبغي أن يُصرف له الدعاء والخوف والرجاء والحبُّ والرغبة والرهبة والإنابة؛ لأنَّ ألوهيَّته هي الحقُّ، وألوهيَّة غيره باطلة. فَـ {الذينَ يدعونَ من دونه}: من الأوثان والأنداد التي جعلوها شركاء لله، {لا يستجيبون لهم}؛ أي: لمن يَدْعوها ويعبُدها بشيء قليل ولا كثير، لا من أمور الدُّنيا ولا من أمور الآخرة. {إلاَّ كباسط كفَّيه إلى الماء}: الذي لا تناله كفَّاه لبعدِهِ؛ {ليبلغَ}: ببسط كفَّيه إلى الماء {فاه}؛ فإنَّه عطشان، ومن شدَّة عطشه يتناول بيده ويبسطها إلى الماء الممتنع وصولها إليه؛ فلا يصلُ إليه؛ كذلك الكفار الذين يدعون معه آلهةً لا يستجيبون لهم بشيء ولا ينفعونهم في أشدِّ الأوقات إليهم حاجةً؛ لأنَّهم فقراء؛ كما أنَّ من دعوهم فقراء {لا يملكون مثقال ذرَّة في السموات ولا في الأرض وما لهم فيهما من شِرْك وما له منهم من ظهير}، {وما دعاءُ الكافرين إلاَّ في ضلال}: لبطلان ما يَدْعون من دون الله، فبطلت عبادتُهم ودعاؤُهم؛ لأنَّ الوسيلة تَبْطُلُ ببطلان غايتها، ولما كان اللهُ تعالى هو الملك الحق المبين؛ كانت عبادتُه حقًّا متَّصلة النفع بصاحبها في الدنيا والآخرة.
وتشبيه دعاء الكافرين لغير الله بالذي يبسط كفَّيه إلى الماء ليبلغ فاه من أحسن الأمثلة؛ فإنَّ ذلك تشبيهٌ بأمرٍ مُحال؛ فكما أن هذا محالٌ؛ فالمشبَّه به محالٌ، والتعليق على المحال من أبلغ ما يكون في نفي الشيء؛ كما قال تعالى: {إنَّ الذين كذَّبوا بآياتنا واستكبروا عنها لا تُفَتَّحُ لهم أبوابُ السماء ولا يدخلونَ الجنَّةَ حتى يَلِجَ الجَمَلُ في سَمِّ الخِياط}.