فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَکۡرِہِنَّ اَرۡسَلَتۡ اِلَیۡہِنَّ وَ اَعۡتَدَتۡ لَہُنَّ مُتَّکَاً وَّ اٰتَتۡ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِّنۡہُنَّ سِکِّیۡنًا وَّ قَالَتِ اخۡرُجۡ عَلَیۡہِنَّ ۚ فَلَمَّا رَاَیۡنَہٗۤ اَکۡبَرۡنَہٗ وَ قَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ وَ قُلۡنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَا ہٰذَا بَشَرًا ؕ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا مَلَکٌ کَرِیۡمٌ ﴿۳۱﴾
تو جب اس عورت نے ان کے فریب کے بارے میں سنا تو ان کی طرف پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک تکیہ دار مجلس تیار کی اور ان میں سے ہر ایک کو ایک چھری دے دی اور کہا ان کے سامنے نکل۔ پھر جب انھوں نے اسے دیکھا تو اسے بہت بڑا پایا اور انھوں نے اپنے ہاتھ بری طرح کاٹ ڈالے اور کہا اللہ کی پناہ! یہ کوئی آدمی نہیں ہے، یہ نہیں ہے مگر کوئی نہایت معزز فرشتہ۔
En
جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے
En
اس نے جب ان کی اس پر فریب غیبت کا حال سنا تو انہیں بلوا بھیجا اور ان کے لئے ایک مجلس مرتب کی اور ان میں سے ہر ایک کو چھری دی۔ اور کہا اے یوسف! ان کے سامنے چلے آؤ، ان عورتوں نے جب اسے دیکھا تو بہت بڑا جانا اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے، اور زبان سے نکل گیا کہ حاشاللہ! یہ انسان تو ہرگز نہیں، یہ تو یقیناً کوئی بہت ہی بزرگ فرشتہ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 31) {فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَيْهِنَّ …:} اس آیت کی تفسیر اکثر بلکہ تقریباً سبھی مفسرین نے یہ کی ہے اور اس کے لیے جس تاویل کی ضرورت پڑی وہ بھی کرتے گئے ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب شہر میں اس واقعہ کی شہرت ہوئی تو عورتوں نے طعن و تشنیع اور ملامت کے تیر برسانا شروع کر دیے کہ عزیز مصر کی بیوی اپنے غلام کو پھسلا رہی ہے اور اس کی اتنی دیوانی ہو گئی ہے جو اس کی حیثیت کے خلاف ہے۔ جب عزیز کی بیوی نے ان کی ملامت کو سنا۔ (قرآن میں لفظ ہے کہ جب اس نے ان کے مکر کو سنا۔ مکر کا سیدھا سا معنی ”فریب، سازش، خفیہ تدبیر“ ہوتا ہے، مگر ہمارے مفسرین نے اسے درست کرنے کے لیے کہا کہ وہ ظاہر تو ملامت کر رہی تھیں مگر حقیقت میں وہ یوسف کا حسن دیکھنا چاہتی تھیں، ان کے مکر سے مراد یہ ہے) خیر جب اس نے ان کی ملامت کو سنا تو اس نے ان کی ملامت کے جواب میں اپنے فعل کا جواز پیش کرنے اور اپنے بے اختیار ہو جانے کے سبب کا مشاہدہ کروانے کے لیے چند خاص عورتوں کو دعوت دی اور ان کے لیے یہ مجلس آراستہ کی۔ اب جب مجلس جوبن پر تھی، چھریوں سے گوشت اور پھل کاٹے جا رہے تھے، تو یوسف علیہ السلام سے کہا، ان کے سامنے آؤ۔ جب انھوں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو ان کے حسن کو دیکھ کر ایسی بے خود ہوئیں کہ انھیں خیال ہی نہ رہا کہ ہم پھل کاٹ رہی ہیں یا اپنے ہاتھ، وہ انھیں دیکھتی ہی رہ گئیں اور چھریاں ان کے ہاتھوں پر چل گئیں، جس سے انھوں نے اپنے ہاتھ بری طرح کاٹ لیے ({قَطَّعْنَ }باب تفعیل مبالغہ کے لیے ہے) اور محویت میں انھیں درد کا احساس ہی نہیں ہوا اور کہنے لگیں، اللہ کی پناہ یہ کوئی آدمی نہیں، یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔ (یعنی حسن میں فرشتہ قرار دیا جس طرح بدصورتی میں شیطان کہا جاتا ہے) عزیز کی بیوی نے کہا کہ پھر یہی ہے وہ جس کے متعلق تم نے مجھے ملامت کی…۔ عام تفاسیر کا خلاصہ یہ ہے، مگر اصل صورت واقعہ کچھ اور معلوم ہوتی ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام بچے تھے، جب وہ ان کے گھر میں غلام کی حیثیت سے آئے تھے۔ غلام کا خدمت کے لیے اپنے آقا سے تعلق رکھنے والے تمام گھروں میں لین دین یا پیغام وغیرہ پہنچانے کے لیے عام آنا جانا ہوتا ہے۔ کئی سال بعد جب وہ پورے جوان ہوئے تو یہ واقعہ پیش آیا۔ اب آیا یہ ممکن ہے کہ اتنے سالوں تک عزیز مصر کی بیوی کی اتنی قریب ترین سہیلیوں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا ہی نہ ہو اور عزیز کی بیوی نے انھیں دکھانے کا اہتمام اب ہی کیا ہو؟ میں نے بیسیوں تفسیریں پڑھیں، بڑے بڑے باریک بین اہل علم جن کے علم و فضل کا یہ عاجز دل سے نہایت معترف ہے اور انھی کا خوشہ چین ہے، وہ اس سوال کے پاس سے خاموشی سے گزر گئے ہیں اور حسن یوسف سے بے خودی ہی کو ہاتھ کٹنے کا باعث قرار دیتے چلے گئے ہیں۔ البتہ چند ایک نے اس کی طرف توجہ کی ہے، انھوں نے اس کا جواب یہ تراشا ہے کہ عزیز مصر کی بیوی ہمیشہ یوسف علیہ السلام کو برقع پہنا کر رکھتی تھی، تاکہ کوئی انھیں دیکھ نہ لے۔ مجھے تعجب ہوا کہ بعض مفسرین نے حسن یوسف کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب وہ مصر کی گلیوں میں چلتے تھے تو ان کے چہرے کے حسن اور نور کا عکس دیواروں پر پڑتا تھا۔ اب کہاں برقع اور کہاں دیواروں پر چہرے کے حسن و نور کا عکس پڑنا۔ {”ضِدَّانِ مُفْتَرِقَانِ أَيَّ تَفَرُّقٍ “} سیدھی سی بات ہے کہ یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے عزیز مصر کے گھر اسی لیے جگہ دی تھی کہ وہ مشورے کی مجلسوں میں خدمت کرنے والے غلام یا عزیز مصر کے بیٹے کی حیثیت سے شریک ہو کر رموز مملکت سیکھیں، فرمایا: «{ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ }» [یوسف: ۲۱] ”اور تاکہ ہم اسے باتوں کی اصل حقیقت میں سے کچھ سکھائیں۔“ اس معاشرے میں مردوں اور عورتوں کا بے پردہ مل کر بیٹھنا معمول کی بات تھی، جس طرح آج کل مسلمانوں کی پارلیمنٹ اور دوسرے اداروں اور گھروں کا حال ہو گیا ہے، غیر مسلموں کا حال تو قابل بیان ہی نہیں۔ ایسے حالات میں اتنے سال تک ان خواتین کو کوشش کے باوجود یوسف علیہ السلام کے دیکھنے کا موقع نہ ملنا سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔ اصل بات جو صاف نظر آ رہی ہے، یہ تھی کہ جب ان چند عورتوں تک اندر کی یہ خبر کسی طرح پہنچی تو انھوں نے عزیز کی بیوی پر طعن و ملامت کی کہ اس کی نادانی دیکھو کہ اپنے غلام پر فریفتہ ہو چکی ہے اور اب تک کی مسلسل کوشش اور پھسلانے کے باوجود حصول مقصد میں ناکام ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنے حسن کا اور کسی کو اپنا دیوانہ بنانے کی چالوں میں مہارت کا دعویٰ بھی کیا کہ ہمارے پاس وہ مکر ہیں کہ کوئی بھی ہمارے مکر و فریب سے بچ کر نہیں جا سکتا، ایک غلام کی کیا مجال ہے۔ «{ فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ }» تو جب عزیز مصر کی بیوی نے ان کے مکر و فریب اور چالوں کا دعویٰ سنا تو انھیں دعوت دی کہ تم بھی اپنا ہنر آزما دیکھو، اگر وہ کسی ایک کو بھی دل دے بیٹھا تو میرے لیے بھی وجۂ جواز بن جائے گی۔ باقاعدہ ان کی چال کی تفصیل سن کر ہر عورت کو دعوت کے لوازمات کے ساتھ خصوصاً ایک ایک چھری بھی دی۔ اب یوسف علیہ السلام عزیز کی بیوی کے کہنے پر شہر کی منتخب حسیناؤں کے سامنے آئے تو ان میں سے ہر ایک نے انھیں اپنے حسن اور ناز و انداز سے متاثر کرنے کی کوشش کی۔ جب کوئی کوشش کامیاب نہ ہو سکی تو انھوں نے بے بس عاشقوں کا آخری حربہ آزمایا کہ اگر تم نے ہمارا دل توڑا تو ہم خودکشی کر لیں گی۔ یہ ایسا مرحلہ ہوتا ہے کہ آدمی رحم کے جذبے کے ہاتھوں پھنس جاتا ہے۔ کئی لڑکیاں اسی طرح برباد ہوئیں اور کئی لڑکے بھی۔ ضروری نہیں کہ سب عورتوں نے ایسا کیا ہو، بہرحال ان میں سے کچھ نے اپنے ہاتھ بری طرح زخمی کر کے اپنی خودکشی کی دھمکی دی۔ حسن و جمال کے ساتھ عفت و حیا کے اس پیکرنے اس کی بھی پروا نہ کی تو وہ بولیں، اللہ کی پناہ! اس شخص کے سینے میں آدمی کا دل نہیں، یہ تو ایک معزز فرشتہ ہے، جو عشق و حسن کے فتنوں سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھتا، جسے عشق کے معاملات سے کوئی واسطہ ہی نہیں، اس پر ہماری خود کشی کا بھی کیا اثر؟ ایک فارسی شاعر نے کہا ہے:
عاشق نہ شدی محنت الفت نہ کشیدی
کس پیش تو از قصۂ ہجراں چہ کشاید
”نہ تو عاشق ہوا، نہ تو نے عشق کی مصیبت اٹھائی۔ تیرے سامنے کوئی جدائی کا قصہ کھول کر کیا سنائے۔“ یہ حقیقت ہے کہ فرشتوں سے تشبیہ پاک بازی میں دی جاتی ہے، حسن میں نہیں، جس طرح ایک اردو شاعر نے ڈینگ ماری ہے:
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
اس کی کئی دلیلیں آئندہ آیات میں آ رہی ہیں، میں ان کا ترتیب وار ذکر کرتا ہوں: (1) یوسف علیہ السلام نے دعا کی: «{ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِمَّا يَدْعُوْنَنِيْۤ اِلَيْهِ }» [یوسف: ۳۳] ”اے میرے رب! مجھے قید خانہ اس سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ سب مجھے دعوت دے رہی ہیں۔“ معلوم ہوا وہ عورتیں یوسف علیہ السلام کو دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ دعوت گناہ دینے کے لیے آئی تھیں۔ (2) یوسف علیہ السلام نے مزید دعا کی: «{ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ }» [یوسف: ۳۳] ”اور اگر تو مجھ سے ان کے (مکر) فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور جاہلوں سے ہو جاؤں گا۔“ معلوم ہوا وہ سب عورتیں یوسف علیہ السلام کو اپنے مکر و فریب میں پھنسانے کے لیے آئی تھیں نہ کہ صرف جمال یوسف کے دیدار کے لیے۔ (3) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ }» [یوسف: ۳۴] ” تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول فرمائی، اس نے اس (یوسف) سے ان (عورتوں) کا فریب ہٹا دیا۔“ اللہ تعالیٰ نے بھی اس دعوت کی کار روائی کو ان سب عورتوں کا مکر و فریب قرار دیا ہے۔ (4) یوسف علیہ السلام نے جب بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتائی اور بادشاہ نے انھیں بلوایا تو یوسف علیہ السلام نے اس کے قاصد سے کہا کہ اپنے مالک کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو: «{ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِيْ قَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ اِنَّ رَبِّيْ بِكَيْدِهِنَّ عَلِيْمٌ }» [یوسف: ۵۰] ”ان عورتوں کا کیا حال ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے، یقینا میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے۔“ یہ آیت خصوصاً قابل غور ہے، جو لوگ کہتے ہیں کہ جہاں بھی عورتوں کے مکر کا ذکر ہے مراد صرف عزیز مصر کی بیوی ہے، دوسری عورتیں چونکہ اس کی ساتھی تھیں، اس لیے ان کا ذکر ساتھ آگیا۔ اب اس آیت پر غور کریں، عزیز کی بیوی نے تو ہاتھ کاٹے ہی نہیں تھے، وہ تو دوسری ہی عورتوں نے کاٹے تھے، یوسف علیہ السلام ان کے ہاتھ کاٹنے کو ان کا مکر و فریب قرار دے رہے ہیں۔ (5) بادشاہ نے ان تمام عورتوں کو بلا کر پوچھا: «{ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ }» [یوسف: ۵۱] ”تمھارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو اس کے نفس سے پھسلایا؟“ معلوم ہوا کہ بادشاہ نے بھی ان کے ہاتھ کاٹنے کو یوسف علیہ السلام کے حسن و جمال سے بے خود ہو کر ہاتھ کاٹنے کے بجائے اسے ان کی سوچی سمجھی پھسلانے کی سازش قرار دیا۔
اگر کوئی صاحب فرمائیں کہ یہ تفسیر تم نے اپنے پاس سے کی ہے، تو جواب یہ ہے کہ جہاں قرآن وحدیث کی تفسیر کی کوئی نص صریح نہ ہو وہاں قرآن مجید کے عجائبات ونکات قیامت تک ظاہر ہوتے رہیں گے۔ ویسے مجھ سے پہلے مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ نے یہی تفسیر کی ہے، مولانا امین احسن اصلاحی نے (ان کے تفسیر میں منہج کے تفرد سے قطع نظر) یہی تفسیر کی ہے اور تفسیر مواہب الرحمان کے مصنف علامہ امیر علی ملیح آبادی رحمہ اللہ نے دوسری تفسیروں کے ساتھ یہ تفسیر بھی لکھی ہے، ان کے الفاظ ہیں: ”اور شاید کہ (عزیز کی بیوی نے) ان عورتوں سے اپنی مراد کے لیے استعانت چاہی ہو، اس طرح کہ آنحضرت (یوسف) علیہ السلام نے کہا تھا: «{ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّيْۤ اَحْسَنَ مَثْوَايَ }» یعنی اپنی پرورش کرنے والے عزیز مصر کی جو رو سے بلحاظ مربی ہونے کے یہ کام نہ کریں تو یہ عورتیں طالب ہوں، پھر ان کی تلویث کے بعد کام آسان ہو۔ چنانچہ بعض مفسرین نے قصہ روایت کیا کہ ان عورتوں میں ہر ایک نے زلیخا کی حیلہ گری و اشارہ سے آنحضرت (یوسف) علیہ السلام سے تخلیہ میں یہ خواہش ظاہر کی اور ہر طرح کی زینت و مکر اور لجاجت وحیلہ کا خاتمہ کر دیا تھا اور کلام ما بعد میں اس کی طرف اشارہ بھی نکلتا ہے۔ چنانچہ جب یہ صورت معاملہ نظر آئی تو یوسف علیہ السلام نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! قید خانہ مجھے زیادہ پسند ہے، یعنی وہی مجھے منظور ہے «{ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ }» اس کام سے جس کی طرف یہ عورتیں مجھے بلاتی ہیں۔“ آیت کی یہ تفسیر اور بھی کئی مفسرین نے کی ہو گی مگر مجھے قدیم مفسرین میں سے جن بزرگوں سے یہ تفسیر ملی ہے وہ ہیں سلطان العلماء، شیخ الاسلام عز الدین ابن عبد السلام رحمہ اللہ، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ جس مرض میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اس مرض کا واقعہ ہے کہ نماز کا وقت ہو گیا، اذان ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ”ابوبکر غمگین آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔“ آپ نے دوبارہ یہی حکم دیا تو انھوں نے دوبارہ یہی کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری دفعہ یہی حکم دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوْسُفَ مُرُوْا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ] [بخاری، الأذان، باب حد المریض أن یشھد الجماعۃ: ۶۶۴] ”تم یوسف کے ساتھ والیاں ہو، ابوبکر سے کہو نماز پڑھائے۔“ صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت (۶۷۹) میں ہے کہ پہلی دو دفعہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے یہ بات کہی تھی، تیسری بار ان کے کہنے کے مطابق حفصہ رضی اللہ عنھا نے کہی تھی۔
اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن احجر رحمہ اللہ نے {” إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوْسُفَ“} كی شرح عام مفسرين كے مطابق كرنے كے بعد آخر ميں لكها ہے:{ ” وَ وَقَعَ فِيْ أَمَالِي ابْنِ عَبْدِ السَّلَامِ أَنَّ النِّسْوَةَ أَتَيْنَ امْرَأَةَ الْعَزِيْزِ يُظْهِرْنَ تَعْنِيْفَهَا وَ مَقْصُوْدُهُنَّ فِي الْبَاطِنِ أَنْ يَدْعُوْنَ يُوْسُفَ إِلٰي أَنْفُسِهِنَّ“ كَذَا قَالَ وَلَيْسَ فِيْ سِيَاقِ الْآيَةِ مَا يُسَاعِدُ مَا قَالَ“} [فتح الباری 153/2، ح: ۶۶۵] ”ابن عبد السلام کی امالی میں آیا ہے کہ وہ عورتیں عزیز کی بیوی کے پاس آئیں، وہ ظاہر تو اس پر طعن و ملامت اور سختی کر رہی تھیں، حالانکہ ان کا مقصود باطن میں یہ تھا کہ وہ یوسف کو اپنی اپنی طرف دعوت دیں۔“ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عبد السلام نے ایسے فرمایا، حالانکہ سیاق میں کوئی ایسی چیز نہیں جو ان کی تائید کرتی ہو۔“
ظاہر ہے کہ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کو سلطان العلماء کی بات سے اتفاق نہیں، کیونکہ ان کے خیال میں سیاق ان کی موافقت نہیں کرتا، مگر اس بندۂ عاجز نے سیاق قرآن میں سے پانچ دلیلیں اسی تفسیر کے صحیح ہونے کی بیان کی ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان {”صَوَاحِبُ يُوْسُفَ“ } بھی اس کی تائید کر رہا ہے۔ ({والله اعلم وعلمه اتم})
عاشق نہ شدی محنت الفت نہ کشیدی
کس پیش تو از قصۂ ہجراں چہ کشاید
”نہ تو عاشق ہوا، نہ تو نے عشق کی مصیبت اٹھائی۔ تیرے سامنے کوئی جدائی کا قصہ کھول کر کیا سنائے۔“ یہ حقیقت ہے کہ فرشتوں سے تشبیہ پاک بازی میں دی جاتی ہے، حسن میں نہیں، جس طرح ایک اردو شاعر نے ڈینگ ماری ہے:
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
اس کی کئی دلیلیں آئندہ آیات میں آ رہی ہیں، میں ان کا ترتیب وار ذکر کرتا ہوں: (1) یوسف علیہ السلام نے دعا کی: «{ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِمَّا يَدْعُوْنَنِيْۤ اِلَيْهِ }» [یوسف: ۳۳] ”اے میرے رب! مجھے قید خانہ اس سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ سب مجھے دعوت دے رہی ہیں۔“ معلوم ہوا وہ عورتیں یوسف علیہ السلام کو دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ دعوت گناہ دینے کے لیے آئی تھیں۔ (2) یوسف علیہ السلام نے مزید دعا کی: «{ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ }» [یوسف: ۳۳] ”اور اگر تو مجھ سے ان کے (مکر) فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور جاہلوں سے ہو جاؤں گا۔“ معلوم ہوا وہ سب عورتیں یوسف علیہ السلام کو اپنے مکر و فریب میں پھنسانے کے لیے آئی تھیں نہ کہ صرف جمال یوسف کے دیدار کے لیے۔ (3) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ }» [یوسف: ۳۴] ” تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول فرمائی، اس نے اس (یوسف) سے ان (عورتوں) کا فریب ہٹا دیا۔“ اللہ تعالیٰ نے بھی اس دعوت کی کار روائی کو ان سب عورتوں کا مکر و فریب قرار دیا ہے۔ (4) یوسف علیہ السلام نے جب بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتائی اور بادشاہ نے انھیں بلوایا تو یوسف علیہ السلام نے اس کے قاصد سے کہا کہ اپنے مالک کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو: «{ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِيْ قَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ اِنَّ رَبِّيْ بِكَيْدِهِنَّ عَلِيْمٌ }» [یوسف: ۵۰] ”ان عورتوں کا کیا حال ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے، یقینا میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے۔“ یہ آیت خصوصاً قابل غور ہے، جو لوگ کہتے ہیں کہ جہاں بھی عورتوں کے مکر کا ذکر ہے مراد صرف عزیز مصر کی بیوی ہے، دوسری عورتیں چونکہ اس کی ساتھی تھیں، اس لیے ان کا ذکر ساتھ آگیا۔ اب اس آیت پر غور کریں، عزیز کی بیوی نے تو ہاتھ کاٹے ہی نہیں تھے، وہ تو دوسری ہی عورتوں نے کاٹے تھے، یوسف علیہ السلام ان کے ہاتھ کاٹنے کو ان کا مکر و فریب قرار دے رہے ہیں۔ (5) بادشاہ نے ان تمام عورتوں کو بلا کر پوچھا: «{ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ }» [یوسف: ۵۱] ”تمھارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو اس کے نفس سے پھسلایا؟“ معلوم ہوا کہ بادشاہ نے بھی ان کے ہاتھ کاٹنے کو یوسف علیہ السلام کے حسن و جمال سے بے خود ہو کر ہاتھ کاٹنے کے بجائے اسے ان کی سوچی سمجھی پھسلانے کی سازش قرار دیا۔
اگر کوئی صاحب فرمائیں کہ یہ تفسیر تم نے اپنے پاس سے کی ہے، تو جواب یہ ہے کہ جہاں قرآن وحدیث کی تفسیر کی کوئی نص صریح نہ ہو وہاں قرآن مجید کے عجائبات ونکات قیامت تک ظاہر ہوتے رہیں گے۔ ویسے مجھ سے پہلے مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ نے یہی تفسیر کی ہے، مولانا امین احسن اصلاحی نے (ان کے تفسیر میں منہج کے تفرد سے قطع نظر) یہی تفسیر کی ہے اور تفسیر مواہب الرحمان کے مصنف علامہ امیر علی ملیح آبادی رحمہ اللہ نے دوسری تفسیروں کے ساتھ یہ تفسیر بھی لکھی ہے، ان کے الفاظ ہیں: ”اور شاید کہ (عزیز کی بیوی نے) ان عورتوں سے اپنی مراد کے لیے استعانت چاہی ہو، اس طرح کہ آنحضرت (یوسف) علیہ السلام نے کہا تھا: «{ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّيْۤ اَحْسَنَ مَثْوَايَ }» یعنی اپنی پرورش کرنے والے عزیز مصر کی جو رو سے بلحاظ مربی ہونے کے یہ کام نہ کریں تو یہ عورتیں طالب ہوں، پھر ان کی تلویث کے بعد کام آسان ہو۔ چنانچہ بعض مفسرین نے قصہ روایت کیا کہ ان عورتوں میں ہر ایک نے زلیخا کی حیلہ گری و اشارہ سے آنحضرت (یوسف) علیہ السلام سے تخلیہ میں یہ خواہش ظاہر کی اور ہر طرح کی زینت و مکر اور لجاجت وحیلہ کا خاتمہ کر دیا تھا اور کلام ما بعد میں اس کی طرف اشارہ بھی نکلتا ہے۔ چنانچہ جب یہ صورت معاملہ نظر آئی تو یوسف علیہ السلام نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! قید خانہ مجھے زیادہ پسند ہے، یعنی وہی مجھے منظور ہے «{ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ }» اس کام سے جس کی طرف یہ عورتیں مجھے بلاتی ہیں۔“ آیت کی یہ تفسیر اور بھی کئی مفسرین نے کی ہو گی مگر مجھے قدیم مفسرین میں سے جن بزرگوں سے یہ تفسیر ملی ہے وہ ہیں سلطان العلماء، شیخ الاسلام عز الدین ابن عبد السلام رحمہ اللہ، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ جس مرض میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اس مرض کا واقعہ ہے کہ نماز کا وقت ہو گیا، اذان ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ”ابوبکر غمگین آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔“ آپ نے دوبارہ یہی حکم دیا تو انھوں نے دوبارہ یہی کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری دفعہ یہی حکم دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوْسُفَ مُرُوْا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ] [بخاری، الأذان، باب حد المریض أن یشھد الجماعۃ: ۶۶۴] ”تم یوسف کے ساتھ والیاں ہو، ابوبکر سے کہو نماز پڑھائے۔“ صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت (۶۷۹) میں ہے کہ پہلی دو دفعہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے یہ بات کہی تھی، تیسری بار ان کے کہنے کے مطابق حفصہ رضی اللہ عنھا نے کہی تھی۔
اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن احجر رحمہ اللہ نے {” إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوْسُفَ“} كی شرح عام مفسرين كے مطابق كرنے كے بعد آخر ميں لكها ہے:{ ” وَ وَقَعَ فِيْ أَمَالِي ابْنِ عَبْدِ السَّلَامِ أَنَّ النِّسْوَةَ أَتَيْنَ امْرَأَةَ الْعَزِيْزِ يُظْهِرْنَ تَعْنِيْفَهَا وَ مَقْصُوْدُهُنَّ فِي الْبَاطِنِ أَنْ يَدْعُوْنَ يُوْسُفَ إِلٰي أَنْفُسِهِنَّ“ كَذَا قَالَ وَلَيْسَ فِيْ سِيَاقِ الْآيَةِ مَا يُسَاعِدُ مَا قَالَ“} [فتح الباری 153/2، ح: ۶۶۵] ”ابن عبد السلام کی امالی میں آیا ہے کہ وہ عورتیں عزیز کی بیوی کے پاس آئیں، وہ ظاہر تو اس پر طعن و ملامت اور سختی کر رہی تھیں، حالانکہ ان کا مقصود باطن میں یہ تھا کہ وہ یوسف کو اپنی اپنی طرف دعوت دیں۔“ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عبد السلام نے ایسے فرمایا، حالانکہ سیاق میں کوئی ایسی چیز نہیں جو ان کی تائید کرتی ہو۔“
ظاہر ہے کہ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کو سلطان العلماء کی بات سے اتفاق نہیں، کیونکہ ان کے خیال میں سیاق ان کی موافقت نہیں کرتا، مگر اس بندۂ عاجز نے سیاق قرآن میں سے پانچ دلیلیں اسی تفسیر کے صحیح ہونے کی بیان کی ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان {”صَوَاحِبُ يُوْسُفَ“ } بھی اس کی تائید کر رہا ہے۔ ({والله اعلم وعلمه اتم})
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
31۔ 1 زنان مصر کی غائبانہ باتوں اور طعن و ملامت کو مکر سے تعبیر کیا گیا، جس کی وجہ سے بعض مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ ان عورتوں کو بھی یوسف کے بےمثال حسن و جمال کی اطلاعات پہنچ چکی تھیں۔ چناچہ وہ اس پیکر حسن کو دیکھنا چاہتی تھیں چناچہ وہ اپنے اس مکر خفیہ تدبیر میں کامیاب ہوگئیں اور امرأۃ العزیز نے یہ بتلانے کے لیے کہ میں جس پر فریفتہ ہوئی ہوں، محض ایک غلام یا عام آدمی نہیں ہے بلکہ ظاہر و باطن کے ایسے حسن سے آراستہ ہے کہ اسے دیکھ کر نقد دل و جان ہار جانا کوئی انہونی بات نہیں، لہذا ان عورتوں کی ضیافت کا اہتمام کیا اور انھیں دعوت طعام دی۔ 31۔ 2 یعنی ایسی نشست گاہیں بنائیں جن میں تکئے لگے ہوئے تھے، جیسا کہ آج کل بھی عربوں میں ایسی فرشی نشست گاہیں عام ہیں۔ حتی کہ ہوٹلوں اور ریستورانوں میں بھی ان کا اہتمام ہے۔ 31۔ 3 یعنی حضرت یوسف ؑ کو پہلے چھپائے رکھا، جب سب عورتوں نے ہاتھوں میں چھریاں پکڑ لیں تو امراۃ العزیز (زلیخا) نے حضرت یوسف ؑ کو مجلس میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔ 31۔ 4 یعنی حسن یوسف ؑ کی جلوہ آرائی دیکھ کر ایک تو ان کے عظمت و جلال شان کا اعتراف کیا اور دوسرے، ان پر بےخودی کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ چھریاں اپنے ہاتھوں پر چلا لیں۔ جس سے ان کے ہاتھ زخمی اور خون آلودہ ہوگئے۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ کو نصف حسن دیا گیا ہے (صحیح مسلم) 31۔ 5 اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ فرشتے شکل وصورت میں انسان سے بہتر یا افضل ہیں۔ کیونکہ فرشتوں کو تو انسانوں نے دیکھا ہی نہیں ہے۔ علاوہ ازیں انسان کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں صراحت کی ہے کہ ہم نے اسے احسن تقویم بہترین انداز میں پیدا کیا ہے۔ ان عورتوں نے بشریت کی نفی محض اس لیے کی کہ انہوں نے حسن وجمال کا ایک ایسا پیکر دیکھا تھا جو انسانی شکل میں کبھی ان کی نظروں سے نہیں گزرا تھا اور انہوں نے فرشتہ اس لیے قرار دیا کہ عام انسان یہی سمجھتا ہے فرشتے ذات وصفات کے لحاظ سے ایسی شکل رکھتے ہیں جو انسانی شکل سے بالاتر ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ انبیاء کی غیر معمولی خصوصیات و امتیازات کی بناء پر انھیں انسانیت سے نکال کر نورانی مخلوق قرار دینا، ہر دور کے ایسے لوگوں کا شیوہ رہا ہے جو نبوت اور اس کے مقام سے ناآشنا ہوتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
31۔ جب اس (زلیخا) نے ان کی مکارانہ [29] باتیں سنیں تو انھیں بلاوا بھیج دیا اور ان کے لئے ایک تکیہ دار مجلس ضیافت تیار کی اور ہر عورت کے سامنے ایک ایک چھری رکھ دی [30] اور یوسف سے کہا کہ تم ان کے سامنے نکل آؤ۔ جب ان عورتوں نے انھیں دیکھا تو (حسن میں) فائق تر سمجھا اور (پھل کاٹتے کاٹتے) اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے اور بے ساختہ بول اٹھیں کہ یہ انسان نہیں یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے
[29] شہر کی عورتوں کی چہ میگوئیاں اور زلیخا کو طعنے:۔
جس بات کا عزیز مصر کو خطرہ تھا وہ ہو کے رہی۔ رفتہ رفتہ یہ بات شہر کی عورتوں میں پھیل ہی گئی کہ عزیز مصر کی بیوی زلیخا اپنے غلام پر عاشق ہے۔ اس نے اسے اپنے دام تزویر میں پھنسانا چاہا تھا۔ لیکن وہ اس کے ہتھے نہیں چڑھ سکا۔ اتنی بات تو حقیقت تھی، پھر اس بات پر عورتوں کے تبصرے کرنا بالخصوص عورتوں کا ہی میدان ہے۔ وہ کئی لحاظ سے زلیخا کو مطعون کر رہی تھیں۔ ایک یہ کہ وہ اس درجہ گھٹیا عورت ہے کہ اپنے غلام پر عاشق ہو گئی ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اتنی بدھو ہے کہ اگر وہ یوسف پر فریفتہ ہو ہی گئی تھی تو اسے اپنی طرف مائل بھی نہ کر سکی۔ ورنہ ایک نوجوان کو اپنی طرف مائل کر لینا ایک جوان عورت کے لیے کون سی بڑی بات ہے؟
[30] ضیافت کا اہتمام:۔
شہر کی عورتوں کی ایسی باتوں سے زلیخا کو بہت تکلیف ہوئی، تاہم وہ اپنے آپ کو اس معاملہ میں معذور سمجھتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ کوئی عورت ایسی نہیں ہو سکتی جو یوسف جیسے حسین و جمیل نوجوان کو دیکھ لے تو پھر اس پر فریفتہ نہ ہو اور دوسرے اسے یہ بھی یقین ہو چکا تھا کہ کوئی عورت خواہ کتنا ہی بن ٹھن کر یوسف کے سامنے آئے وہ اتنا عظیم اور پارسا انسان ہے کہ وہ اس کی طرف مائل نہیں ہو سکتا۔ اب انھیں دو باتوں کے تجربہ کے لیے اور باتیں بنانے والی عورتوں پر اتمام حجت اور انھیں جھوٹا ثابت کرنے کے لیے اس نے ایک تدبیر سوچی۔ اس نے ایک پر تکلف ضیافت کا اہتمام کیا اور پھل وغیرہ مہیا کیے، اور ساتھ ہی چاقو چھریاں بھی پھل چھیلنے اور کاٹنے کے لیے رکھ دیں اور اس طرح کی باتیں بنانے والی سب عورتوں کو اس ضیافت میں بلایا۔ جب عورتیں آگئیں اور کھانے پینے میں مشغول ہو گئیں تو زلیخا نے یوسفؑ کو اس مجلس میں بلا لیا عورتیں یوسفؑ کا حسن و جمال دیکھ کر اس قدر محو نظارہ اور بے خود ہو گئیں کہ ان کی چھریاں پھلوں پر چلنے کی بجائے ان کے اپنے ہاتھوں پر چل گئیں اور حدیث میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا واقعہ بیان کرنے کے دوران فرمایا: جب تیسرے آسمان کا دروازہ کھولا گیا تو وہاں سیدنا یوسفؑ سے ملاقات ہوئی۔ اللہ نے حسن کا آدھا حصہ انھیں عطا کیا تھا۔ [مسلم، كتاب الايمان، باب الاسراء برسول الله الي السموات وفرض الصلوات]
تبصرہ کرنے والی عورتوں کی شہادت:۔
پھر انہوں نے یہ بھی بچشم خود دیکھ لیا کہ ان کی ساری دلکشیوں اور رعنائیوں کے باوجود یوسفؑ کسی طرف نظر اٹھا کر دیکھتا بھی نہیں تو بے ساختہ پکار اٹھیں کہ یہ انسان نہیں بلکہ کوئی معزز فرشتہ ہے یہ بات نا ممکنات سے ہے ایک نوجوان انسان جنسی خواہشات سے اس قدر بالا تر ہو کہ وہ ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
داستان عشق اور حسینان مصر ٭٭
اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گزری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف علیہ السلام کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کر لی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف علیہ السلام دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کر دیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے یوسف علیہ السلام سے کہا کہ آپ آئے۔
انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہو سکتا تھا؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آ گئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ علیہ السلام کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بے خود ہو گئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہو چکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف علیہ السلام کو دیکھنا چاہتی ہو؟ سب یک زبان ہو کر بول اُٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت یوسف علیہ السلام سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ علیہ السلام آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ علیہ السلام چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ علیہ السلام کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آ گئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب یوسف علیہ السلام چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کر دیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہو گا
عورتوں نے کہا واللہ! یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے یوسف علیہ السلام جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ علیہ السلام کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چنانچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات یوسف علیہ السلام سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ [صحیح مسلم:162] اور روایت میں ہے کہ یوسف علیہ السلام اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف علیہ السلام کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:19237:منکر و باطل] آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑ جائے اور روایت میں ہے کہ کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں یوسف علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی والدہ سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔
سہیلی میں ہے کہ آپ کو آدم علیہ السلام کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ علیہ السلام کی اولاد میں آپ علیہ السلام کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور یوسف علیہ السلام کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ علیہ السلام کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔
سہیلی میں ہے کہ آپ کو آدم علیہ السلام کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ علیہ السلام کی اولاد میں آپ علیہ السلام کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور یوسف علیہ السلام کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ علیہ السلام کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔
اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے؟ میں نے اسے ہر چند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بے نظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔ اس وقت یوسف علیہ السلام نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کر سکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر دے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرما لی اور آپ کوعلیہ السلام بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بے انداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ علیہ السلام میں تھا، آپ علیہ السلام اپنی خواہش نفس کی بے جا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔
لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف کا سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔
بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہو گا۔ [١] مسلمان عادل بادشاہ [٢] وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری [٣] وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے [٤] وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں [٥] وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی [٦] وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں [٧] وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔ [صحیح بخاری:660]
بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہو گا۔ [١] مسلمان عادل بادشاہ [٢] وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری [٣] وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے [٤] وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں [٥] وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی [٦] وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں [٧] وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔ [صحیح بخاری:660]