تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ مَاۤ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ …:} یعنی میں جو تمھیں اللہ کے ساتھ شرک سے اور ماپ تول میں کمی سے منع کر رہا ہوں، اس کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے کہ تمھیں تو اس سے باز رہنے کی تلقین کروں اور خود اس کا ارتکاب کرتا رہوں، بلکہ میں تم سے جو بات بھی کہتا ہوں، پہلے خود اس پر عمل کرتا ہوں۔ تمام انبیاء علیھم السلام کا اور سلف صالحین کا بھی یہی شیوہ رہا ہے۔ اس کے برعکس کرنے والوں کا انجام حدیث میں یوں ہے، اسامہ بن زید رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يُجَاءُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَی فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُهٗ فِي النَّارِ، فَيَدُوْرُ كَمَا يَدُوْرُ الْحِمَارُ بِرَحَاهٗ فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ عَلَيْهِ فَيَقُوْلُوْنَ يَا فُلَانُ! مَا شَأْنُكَ؟ أَلَيْسَ كُنْتَ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ؟ قَالَ كُنْتُ آمُرُكُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَلاَ آتِيْهِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيْهِ] [بخاری، بدء الخلق، باب صفۃ النار و أنھا مخلوقۃ: ۳۲۶۷] ”ایک آدمی کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ اس کی انتڑیاں تیزی سے باہر نکل پڑیں گی تو وہ اس طرح گھومے گا جیسے گدھا اپنی چکی کے گرد گھومتا ہے، تو جہنمی اس پر اکٹھے ہو جائیں گے اور کہیں گے، اے فلاں! تیرا کیا معاملہ ہے؟ کیا تو ہمیں نیکی کا حکم نہیں دیتا تھا اور ہمیں برائی سے منع نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا، میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا تھا اور خود وہ نیکی نہیں کرتا تھا اور تمھیں برائی سے منع کرتا تھا اور خود اس کا ارتکاب کرتا تھا۔“
➌ { اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ:} تاکہ تمھارا دنیا و آخرت میں بھلا ہو۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یہ خصلت ہے اللہ کے نیک لوگوں کی کہ چڑانے سے برا نہ مانا اور اپنے مقدور بھر سمجھاتے رہے۔“
➍ { وَ مَا تَوْفِيْقِيْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ:} یعنی آج میں تمھیں جو نصیحت کر رہا ہوں یا کرنا چاہتا ہوں، اس کو جاری رکھنے اور اس کی کامیابی کا دارو مدار اللہ ہی پر ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسند امام احمد میں ہے { حکیم بن معاویہ اپنے باپ سے راویت کرتے ہیں کہ اس کے بھائی مالک نے کہا کہ ”اے معاویہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پڑوسیوں کو گرفتار کر رکھا ہے، تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہاری بات چیت بھی ہو چکی ہے اور تمہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہچانتے بھی ہیں۔ پس میں اس کے ساتھ چلا۔ اس نے کہا کہ میرے پڑوسیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رہا کر دیجئیے وہ مسلمان ہو چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھر لیا۔ وہ غضب ناک ہو کر اُٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا واللہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا جواب دیا تو لوگ کہیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تو پڑوسیوں کے بارہ میں اور حکم دیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کے خلاف کرتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا لوگوں نے ایسی بات زبان سے نکالی ہے؟ اگر میں ایسا کروں تو اس کا وبال مجھ پر ہی ہے ان پر تو نہیں، جاؤ اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو }۔ ۱؎ [مسند احمد:447/4:حسن]
اسی قبیل سے وہ حدیث بھی ہے جسے امام احمد رحمہ اللہ لائے ہیں کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { جب تم میری جانب سے کوئی ایسی حدیث سنو کہ تمہارے دل اس کا انکار کریں اور تمہارے بدن اور بال اس سے علیحدگی کریں یعنی متاثر نہ ہوں اور تم سمجھ لو کہ وہ تم سے بہت دور ہے تو میں اس سے اس سے بھی زیادہ دور ہوں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:497/3:قال الشيخ الألباني:صحیح] اس کی اسناد صحیح ہے۔
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”ایک عورت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کیا آپ رضی اللہ عنہ بالوں میں جوڑ لگانے کو منع کرتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں۔“ اس نے کہا آپ رضی اللہ عنہ کے گھر کی بعض عورتیں تو ایسا کرتی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر ایسا ہو تو میں نے اللہ کے نیک بندے کی وصیت کی حفاظت نہیں کی۔ میرا ارادہ نہیں کہ جس چیز سے تمہیں روکوں اس کے برعکس خود کروں۔“
ابو سلیمان ضبی کہتے ہیں کہ ”ہمارے پاس امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے رسالے آتے تھے جن میں «الْأَمْرُ وَالنَّهْيُ» لکھے ہوئے ہوتے تھے اور آخر میں یہ لکھا ہوتا تھا کہ میں بھی اس میں ہی ہوں جو اللہ کے نیک بندے نے فرمایا کہ ’ میری توفیق اللہ ہی کے فضل سے ہے۔ اسی پر میرا توکل ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قال} لهم شعيبٌ: {يا قوم أرأيتُم إن كنتُ على بيِّنةٍ من ربِّي}؛ أي: يقين وطمأنينة في صحَّة ما جئت به، {ورَزَقَني منه رزقاً حسناً}؛ أي: أعطاني الله من أصناف المال ما أعطاني، {و} أنا لا {أريدُ أن أخالِفَكم إلى ما أنهاكم عنه}: فلستُ أريدُ أنْ أنهاكم عن البَخْس في المكيال والميزان وأفعله أنا حتى تتطرق إليَّ التُّهمة في ذلك، بل ما أنهاكم عن أمر إلا وأنا أول مبتدرٍ لتركِهِ. {إن أريدُ إلاَّ الإصلاح ما استطعتُ}؛ أي: ليس لي من المقاصد إلاَّ أن تَصْلُحَ أحوالكم وتستقيم منافعكم، وليس لي من المقاصد الخاصَّة لي وحدي شيءٌ بحسب استطاعتي. ولما كان هذا فيه نوعُ تزكيةٍ للنفس؛ دَفَعَ هذا بقوله: {وما توفيقي إلاَّ بالله}؛ أي: وما يحصل لي من التوفيق لفعل الخير و الانفكاك عن الشرِّ إلاَّ بالله تعالى، لا بحولي ولا بقوَّتي. {عليه توكلتُ}؛ أي: اعتمدتُ في أموري ووثقتُ في كفايته. {وإليه أنيبُ}: في أداء ما أمرني به من أنواع العبادات، وفي هذا التقرُّب إليه بسائر أفعال الخيرات، وبهذين الأمرين تستقيمُ أحوال العبد، وهما الاستعانةُ بربِّه والإنابة إليه؛ كما قال تعالى: {فاعبُدْه وتوكَّلْ عليه}. وقال: {إيَّاك نعبدُ وإيَّاك نستعينُ}.