تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ:} اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ تم تو خاندان میں بڑے بردبار اور نہایت سمجھ دار سمجھے جاتے ہو، تمھیں کیا ہو گیا کہ ایسی اکھڑی اکھڑی باتیں کرنے لگے ہو۔ دوسرا یہ کہ دراصل وہ انھیں ٹھٹھے اور مذاق سے یہ کہہ رہے تھے، مقصد ان کا انھیں نہایت بے حوصلہ اور نادان کہنا تھا۔ صاحب کشاف نے اس کی مثال دی کہ جیسے کوئی شخص کسی سخت بخیل آدمی کو کہے کہ تمھاری سخاوت کا کیا کہنا، اگر تمھیں حاتم طائی دیکھے تو وہ بھی تمھارے آگے سر جھکا دے۔ ایک معنی یہ ہے کہ بس تو ہی ایک عقل مند اور نیک چلن رہ گیا ہے؟ باقی ہم اور ہمارے باپ دادا جاہل اور احمق ہی رہے؟ یہ بھی استہزا اور تمسخر کی ایک صورت تھی۔ (ابن کثیر) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”جاہلوں کا دستور ہے کہ نیکوں کے کام آپ نہ کر سکیں تو انھی کو لگیں چڑانے، یہی خصلت ہے کفر کی۔“ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”واللہ واقعہ یہی ہے کہ شعیب علیہ السلام کی نماز کا حکم یہی تھا کہ آپ علیہ السلام انہیں غیر اللہ کی عبادت اور مخلوق کے حقوق کے غصب سے روکیں۔“
ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ان کے اس قول کا مطلب کہ جو ہم چاہیں، اپنے مالوں میں کریں یہ ہے کہ زکوٰۃ کیوں دیں؟ نبی اللہ علیہ السلام کو ان کا حلیم و رشید کہنا ازراہ مذاق و حقارت تھا۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قالوا يا شُعيبُ أصلاتُكَ تأمُرُك أن نَتْرُكَ ما يعبدُ آباؤنا}؛ أي: قالوا ذلك على وجه التهكُّم بنبيِّهم والاستبعاد لإجابتهم له، ومعنى كلامهم: أنَّه لا موجب لنهيك لنا إلاَّ أنك تصلي لله وتتعبَّد له؛ أفإنْ كنتَ كذلك؛ أفيوجِبُ لنا أن نتركَ ما يعبدُ آباؤنا لقولٍ ليس عليه دليلٌ إلاَّ أنه موافقٌ لك؟! فكيف نتَّبعك ونترك آباءنا الأقدمين أولي العقول والألباب؟! وكذلك لا يوجِبُ قولُك لنا أن نفعلَ في أموالنا ما قلتَ لنا من وفاء الكيل والميزان وأداء الحقوق الواجبة فيها، بل لا نزالُ نفعل فيها ما شئنا؛ لأنَّها أموالُنا، فليس لك فيها تصرُّف، ولهذا قالوا في تهكُّمهم: {إنَّك لأنتَ الحليمُ الرشيدُ}؛ أي: أئنك أنت الذي الحلم والوَقارُ لك خُلُقٌ والرُّشْدُ لك سجيَّةٌ؛ فلا يصدُرُ عنك إلا رشدٌ، ولا تأمرُ إلاَّ برشدٍ، ولا تنهى إلاَّ عن غيٍّ؟! أي: ليس الأمر كذلك، وقصدُهم أنَّه موصوفٌ بعكس هذين الوصفين: بالسَّفه والغواية؛ أي: أن المعنى: كيف تكونُ أنت الحليم الرشيد، وآباؤنا هم السفهاء الغاوين؟! وهذا القول الذي أخرجوه بصيغة التهكُّم وأنَّ الأمر بعكسه ليس كما ظنُّوه، بل الأمر كما قالوه: إنَّ صلاته تأمُرُه أن ينهاهم عمَّا كان يعبدُ آباؤهم الضالُّون وأن يفعلوا في أموالهم ما يشاؤون؛ فإنَّ الصلاة تنهى عن الفحشاء والمنكر، وأيُّ فحشاء ومنكرٍ أكبر من عبادة غير الله، ومن منع حقوق عباد الله، أو سرقتها بالمكاييل والموازين، وهو عليه الصلاة والسلام الحليم الرشيد؟!