(آیت 86) ➊ {بَقِيَّتُاللّٰهِخَيْرٌلَّكُمْ …: } یعنی بے ایمانی سے جمع کردہ مال سے اتنی بچت اور منافع ہر طرح سے بہتر ہے جو اللہ کے حکم کے مطابق حاصل ہو۔ {”اِنْكُنْتُمْمُّؤْمِنِيْنَ“} (بشرطیکہ تم مومن ہو) کیونکہ کافر کے نیک اعمال بھی قیامت کے دن اس کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ دیکھیے سورۂ کہف (۱۰۵)۔ ➋ {وَمَاۤاَنَاعَلَيْكُمْبِحَفِيْظٍ:} یعنی میں تم پر نگران تو نہیں ہوں جو ہر وقت تمھارے ناپ تول کو دیکھتا رہوں اور نہ یہ میرے بس میں ہے۔ ہر ایک کے ایک ایک لمحہ پر نظر تو صرف رب تعالیٰ کی ہے، میرا کام تو تمھیں سمجھا دینا اور اللہ کے عذاب سے ڈرا دینا ہے، ماننا نہ ماننا تمھارا کام ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
86۔ 1 (بَقِیَّتُاللّٰہِ) سے مراد جو ناپ تول میں کسی قسم کی کمی کئے بغیر، دیانتداری کے ساتھ سودا دینے کے بعد حاصل ہو۔ یہ چونکہ حلال و طیب ہے اور خیرو برکت بھی اسی میں ہے، اس لئے اللہ کا بقیہ قرار دیا گیا ہے۔ 86۔ 2 یعنی میں تمہیں صرف تبلیغ کرسکتا ہوں اور اللہ کے حکم سے کر رہا ہوں۔ لیکن برائیوں سے میں تمہیں روک دوں یا اس پر سزا دوں، یہ میرے اختیار میں نہیں ہے، ان دونوں باتوں کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
86۔ تمہارے لئے اللہ کی دی ہوئی بچت [96] ہی بہتر ہے اگر تم مومن ہو اور میں تم پر کوئی محافظ تو نہیں
[96] یعنی اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگ ہو تمہیں بد دیانتی کرنے کی کچھ ضرورت بھی نہیں لہٰذا جتنا منافع حلال ذرائع سے حاصل ہوتا ہے اسے کافی سمجھو اسی میں اللہ برکت عطا فرمائے گا۔ اگر تم یہ باتیں مان کر ان پر عمل کرو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور یہ سب کام اللہ سے ڈرتے ہوئے کرو میں تمہارا محتسب نہیں ہوں کہ یہ دیکھتا رہوں کہ کون کم تولتا ہے اور کون پورا ماپتا ہے اور کون سودے بازی میں بد دیانتی کر رہا ہے اور کون نہیں کر رہا۔ اس جملے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور میری بس اتنی ہی ذمہ داری تھی تمہیں راہ راست پہ لا کے چھوڑنا میری ذمہ داری نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ناپ تول میں انصاف کرو ٭٭
پہلے تو اپنی قوم کو ناپ تول کی کمی سے روکا۔ اب لین دین کے دونوں وقت عدل و انصاف کے ساتھ پورے پورے ناپ تول کا حکم دیتے ہیں۔ اور زمین میں فساد اور تباہ کاری کرنے کو منع کرتے ہیں۔ ان میں رہزنی اور ڈاکے مارنے کی بد خصلت بھی تھی۔ لوگوں کے حق مار کر نفع اٹھانے سے اللہ کا دیا ہوا نفع بہت بہتر ہے۔ اللہ کی یہ وصیت تمہارے لیے خیریت لیے ہوئے ہے۔ عذاب سے جیسے ہلاکت ہوتی ہے اس کے مقابلے میں رحمت سے برکت ہوتی ہے۔ ٹھیک تول کر پورے ناپ کر حلال سے جو نفع ملے اسی میں برکت ہوتی ہے۔ «قُللَّايَسْتَوِيالْخَبِيثُوَالطَّيِّبُوَلَوْأَعْجَبَكَكَثْرَةُالْخَبِيثِ»۱؎[5-المائدہ:100] ’ خبیث و طیب میں کیا مساوات؟ دیکھو میں تمہیں ہر وقت دیکھ نہیں رہا۔ تمہیں برائیوں کا ترک اور نیکیوں کا فعل اللہ ہی کے لیے کرنا چاہیئے نہ کہ دنیا دکھاوے کے لیے ‘۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔