تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ اِنَّنَا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ:} ”شک“ ذہن کی وہ کیفیت ہے جس میں آدمی دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو ترجیح نہ دے سکے۔ {” مُرِيْبٍ “ ” أَرَابَ يُرِيْبُ إِرَابَةً “} ({رَيْبٌ} سے باب افعال) بے چین کر دینا، بے قرار رکھنا۔ {” مُرِيْبٍ “} بے چین رکھنے والا۔ یہاں انھوں نے اپنی حقیقی حالت بیان کی ہے۔ صالح علیہ السلام کی دلیل اور حجت پر مبنی دعوت نے ان کے دل و دماغ میں ہلچل مچا دی تھی اور اگرچہ انھوں نے اسے نہیں مانا مگر اس دعوت نے انھیں اپنے بارے میں ایک بے چین رکھنے والے شک میں مبتلا کر دیا تھا۔ اگر تقلید آباء کی شامت نہ ہوتی تو وہ لوگ چند لمحوں میں ہر طرح کے شک اور بے چینی سے نکل کر ایمان و یقین کی ٹھنڈک اور اطمینان سے سرفراز ہو چکے ہوتے۔ مگر دیکھیے کتنی بڑی حماقت تھی کہ شرک پر نہ تو مطمئن تھے اور نہ ان کے پاس اس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہی تھی، مگر پھر بھی آبائی تقلید کی وجہ سے شرک کو چھوڑ کر توحید کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہ تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”سنو میں اعلیٰ دلیل پر ہوں۔ میرے پاس رب کی نشانی ہے، مجھے اپنی سچائی پر دلی اطمینان ہے میرے پاس اللہ کی رسالت کی رحمت ہے۔ اب اگر میں تمہیں اس کی دعوت نہ دوں اور اللہ کی نافرمانی کروں اور اس کی عبادت کی طرف تمہیں نہ بلاؤں تو کون ہے جو میری مدد کر سکے اور اللہ کے عذاب سے مجھے بچا سکے؟ میرا ایمان ہے کہ مخلوق میرے کام نہیں آ سکتی تم میرے لیے محض بےسود ہو۔ سوائے میرے نقصان کے تم مجھے اور کیا دے سکتے ہو۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما أمرهم نبيُّهم صالحٌ عليه السلام ورغَّبهم في الإخلاص لله وحده؛ ردُّوا عليه دعوته، وقابلوه أشنع المقابلة. و {قالوا يا صالحُ قد كنتَ فينا مرجُوًّا قبلَ هذا}؛ أي: قد كنَّا نرجوك ونؤمِّل فيك العقل والنفع، وهذا شهادةٌ منهم لنبيِّهم صالح: أنَّه ما زال معروفاً بمكارم الأخلاق ومحاسن الشيم، وأنَّه من خيار قومه، ولكنَّه لمَّا جاءهم بهذا الأمر الذي لا يوافِقُ أهواءهم الفاسدة؛ قالوا هذه المقالة التي مضمونُها أنَّك قد كنتَ كاملاً، والآن أخلفتَ ظنَّنا فيك، وصرتَ بحالةٍ لا يُرجى منك خيرٌ، وذنبه ما قالوه عنه، [وهو قولهم]: {أتَنْهانا أن نعبُدَ ما يعبُدُ آباؤنا}: وبزعمهم أنَّ هذا من أعظم القدح في صالح؛ كيف قَدَحَ في عقولهم وعقول آبائهم الضالِّين؟! وكيف ينهاهم عن عبادة مَنْ لا ينفع ولا يضرُّ ولا يغني شيئاً من الأحجار والأشجار ونحوها، وأمرهم بإخلاص الدِّين لله ربِّهم الذي لم تزلْ نِعَمُهُ عليهم تَتْرى وإحسانُهُ عليهم دائماً ينزِلُ، الذي ما بهم من نعمةٍ إلا منه، ولا يدفع عنهم السيئات إلا هو؟! {وإنَّنا لفي شكٍّ مما تدعونا إليه مُرِيبٍ}؛ أي: ما زلنا شاكِّين فيما دعوتَنا إليه شكًّا مؤثِّراً في قلوبنا الريب.