تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ …:} ان کی دعوت بھی وہی دعوتِ توحید تھی جو تمام انبیاء کی دعوت تھی۔
➌ {هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ …: ” اِنْشَاءٌ“ } کا معنی نئی چیز بنانا ہے۔ {” اسْتَعْمَرَكُمْ “ ” عَمَرَ يَعْمُرُ “} کسی جگہ کو آباد کرنا، سورۂ روم میں فرمایا: «{ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا }» [الروم: ۹] ”اور انھوں نے اسے آباد کیا اس سے زیادہ جو انھوں نے اسے آباد کیا۔“ {” أَعْمَرَ يُعْمِرُ “} باب افعال کسی شخص کو کسی جگہ میں آباد کرنا۔ {” اِسْتَعْمَرَ “ } میں حروف زائد ہیں، یعنی کسی کو کسی جگہ میں خوب آباد کرنا۔ صالح علیہ السلام ان الفاظ کے ساتھ انھیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور صرف اسی کے معبود برحق ہونے کی دلیل دے رہے ہیں کہ اسی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا، زمین کو بھی اسی نے بنایا، تمھاری ضرورت کی ہر چیز زمین سے اسی نے پیدا کی، اپنی زمین پر اس نے تمھیں خوب آباد کیا، پہاڑوں کو تراشنے کی صلاحیت اور عقل عطا فرمائی، نہایت ترقی یافتہ زراعت اور اس کے اسباب، زرخیز زمین اورچشمے عطا فرمائے۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۱۴۱ تا ۱۵۰) اب تک اس کی جو ناشکری اور اس کے ساتھ شرک کر چکے ہو اس کی معافی مانگ کر اس پر ایمان لے آؤ اور آئندہ کے لیے اس کے ساتھ کفر و شرک سے توبہ کرو۔ ساتھ ہی ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ کھلا ہونے کی امید دلانے کے لیے رب تعالیٰ کی دو صفات بیان کیں کہ وہ {”قَرِيْبٌ “} بھی ہے اور {” مُجِيْبٌ “ } بھی۔ کوئی اسے پکارے تو اسے کسی واسطے کی ضرورت نہیں۔ آہستہ پکارے یا بلند آواز سے، اکیلا پکارے یا مجلس میں، میرا رب قریب بھی ہے اور قبول کرنے والا بھی۔ جب اس کے سوا یہ اوصاف کسی میں بھی نہیں تو کسی اور کی عبادت کیوں؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[71] یعنی یہ سب کام تو اللہ نے کیے ہیں بتاؤ کہ تمہارے معبودوں نے ان میں سے کون سا کام کیا ہے؟ جو تم ان کی پرستش کرتے ہو اگر تم اللہ کے خالق و رازق ہونے کو تسلیم کرتے ہو تو پھر تمہیں اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اسی کی اطاعت کرنا چاہیے اور اپنے گناہوں کے لیے اسی سے معافی مانگو کیونکہ تم یہ مشرکانہ افعال کرتے رہے ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ» [2-البقرة:186] ’ اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔ اس کی طرف جھکے رہنا چاہیئے۔ وہ بہت ہی قریب ہے اور قبول فرمانے والا ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {و} أرسلنا {إلى ثمودَ}: وهم عادٌ الثانية، المعروفون، الذين يسكنون الحِجْر ووادي القُرى، {أخاهم}: في النسب، {صالحاً}: عبد الله ورسوله - صلى الله عليه وسلم -، يدعوهم إلى عبادة الله وحده. فَـ {قَالَ يا قومِ اعبُدوا الله}؛ أي: وحِّدوه وأخلصوا له الدين، {ما لكُم من إلهٍ غيرُه}: لا من أهل السماء ولا من أهل الأرض، {هو أنشأكم من الأرض}؛ أي: خلقكم فيها، فقال: {واستعمَرَكم فيها}؛ أي: استخلفكم فيها وأنعم عليكم بالنِّعم الظاهرة والباطنة، ومكَّنكم في الأرض؛ تَبْنون وتغرسون وتزرعون وتحرثون ما شئتم وتنتفعون بمنافعها وتستغلون مصالحها؛ فكما أنَّه لا شريك له في جميع ذلك؛ فلا تشركوا به في عبادته. {فاستغفروه}: مما صَدَرَ منكم من الكفر والشِّرْك والمعاصي وأقلعوا عنها، {ثمَّ توبوا إليه}؛ أي: ارجِعوا إليه بالتوبة النصوح والإنابة. {إنَّ ربِّي قريبٌ مجيبٌ}؛ أي: قريبٌ ممَّن دعاه دعاء مسألة أو دعاء عبادة يجيبه بإعطائِهِ سؤاله وقَبول عبادتِهِ وإثابته عليها أجلَّ الثواب.
واعلم أنَّ قُرْبَهُ تعالى نوعان: عامٌّ وخاصٌّ: فالقربُ العامُّ: قربُه بعلمه من جميع الخلق، وهو المذكور في قوله تعالى: {ونحنُ أقربُ إليه من حبل الوريدِ}.
والقربُ الخاصُّ: قربُه من عابديه وسائليه ومحبِّيه، وهو المذكورُ في قوله تعالى: {فاسجُدْ واقْتَرِبْ}، وفي هذه الآية، وفي قوله: {وإذا سألك عبادي عنِّي فإنِّي قريبٌ أجيبُ دعوةَ الدَّاعي}، وهذا النوع قربٌ يقتضي إلطافه تعالى وإجابته لدعواتهم وتحقيقه لمراداتهم، ولهذا يقرن باسمه القريب اسمه المجيب.