ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 61

وَ اِلٰی ثَمُوۡدَ اَخَاہُمۡ صٰلِحًا ۘ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ ہُوَ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ وَ اسۡتَعۡمَرَکُمۡ فِیۡہَا فَاسۡتَغۡفِرُوۡہُ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ قَرِیۡبٌ مُّجِیۡبٌ ﴿۶۱﴾
اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا)، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، اسی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور تمھیں اس میں آباد کیا، سو اس سے بخشش مانگو ، پھر اس کی طرف پلٹ آئو، یقینا میرا رب قریب ہے، قبول کرنے والا ہے۔ En
اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اس میں آباد کیا تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بےشک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا (بھی) ہے
En
اور قوم ﺛمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا، اس نے کہا کہ اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے اور اسی نے اس زمین میں تمہیں بسایا ہے، پس تم اس سے معافی طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ بیشک میرا رب قریب اور دعاؤں کا قبول کرنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 61) ➊ { وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا:} قوم ثمود مقام حجر (حاء کے کسرہ کے ساتھ) میں رہتے تھے۔ یہ جگہ حجاز اور شام کے درمیان وادی القریٰ تک پھیلی ہوئی ہے۔ آج کل یہ علاقہ مدینہ اور تبوک کے درمیان ہے، جہاں ابھی تک ان لوگوں کے پہاڑوں کے اندر تراش کر بنائے ہوئے مکانات، جن میں وہ رہتے تھے، موجود ہیں اور یہ علاقہ مدائن صالح کہلاتا ہے۔ صالح علیہ السلام کا قبیلہ عرب قبیلہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک (شام) کی طرف جاتے ہوئے یہاں سے گزرے تھے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (وادی) حجر میں تھے تو فرمایا: [لاَ تَدْخُلُوْا عَلٰی هٰؤُلاَءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِيْنَ أَصْحَابِ الْحِجْرِ إِلاَّ أَنْ تَكُوْنُوْا بَاكِيْنَ، فَإِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا بَاكِيْنَ فَلاَ تَدْخُلُوْا عَلَيْهِمْ أَنْ يُّصِيْبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ] ان عذاب دیے ہوئے لوگوں، یعنی اصحاب حجر پر مت داخل ہو، مگر ایسی حالت میں کہ تم رونے والے ہو، اگر تمھیں رونا نہ آئے تو ان پر داخل نہ ہونا، کہیں تمھیں بھی اس جیسا عذاب نہ آ پہنچے جو ان کو پہنچا تھا۔ [مسند أحمد: 58/2، ح: ۵۲۲۴، و صححہ شعیب الأرنؤوط و الألبانی] قوم ثمود کا قصہ سورۂ اعراف، شعراء، نحل اور قمر وغیرہ میں بھی مذکور ہے۔ { اَخَاهُمْ صٰلِحًا } کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسی قبیلے کے فرد تھے، اس لیے ان کے خیر خواہ، ان کے مزاجوں کو سمجھنے والے اور ان میں مدت تک رہنے والے تھے۔
➋ { قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ …:} ان کی دعوت بھی وہی دعوتِ توحید تھی جو تمام انبیاء کی دعوت تھی۔
➌ {هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ …: اِنْشَاءٌ } کا معنی نئی چیز بنانا ہے۔ { اسْتَعْمَرَكُمْ عَمَرَ يَعْمُرُ } کسی جگہ کو آباد کرنا، سورۂ روم میں فرمایا: «{ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا [الروم: ۹] اور انھوں نے اسے آباد کیا اس سے زیادہ جو انھوں نے اسے آباد کیا۔ { أَعْمَرَ يُعْمِرُ } باب افعال کسی شخص کو کسی جگہ میں آباد کرنا۔ { اِسْتَعْمَرَ } میں حروف زائد ہیں، یعنی کسی کو کسی جگہ میں خوب آباد کرنا۔ صالح علیہ السلام ان الفاظ کے ساتھ انھیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور صرف اسی کے معبود برحق ہونے کی دلیل دے رہے ہیں کہ اسی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا، زمین کو بھی اسی نے بنایا، تمھاری ضرورت کی ہر چیز زمین سے اسی نے پیدا کی، اپنی زمین پر اس نے تمھیں خوب آباد کیا، پہاڑوں کو تراشنے کی صلاحیت اور عقل عطا فرمائی، نہایت ترقی یافتہ زراعت اور اس کے اسباب، زرخیز زمین اورچشمے عطا فرمائے۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۱۴۱ تا ۱۵۰) اب تک اس کی جو ناشکری اور اس کے ساتھ شرک کر چکے ہو اس کی معافی مانگ کر اس پر ایمان لے آؤ اور آئندہ کے لیے اس کے ساتھ کفر و شرک سے توبہ کرو۔ ساتھ ہی ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ کھلا ہونے کی امید دلانے کے لیے رب تعالیٰ کی دو صفات بیان کیں کہ وہ {قَرِيْبٌ } بھی ہے اور { مُجِيْبٌ } بھی۔ کوئی اسے پکارے تو اسے کسی واسطے کی ضرورت نہیں۔ آہستہ پکارے یا بلند آواز سے، اکیلا پکارے یا مجلس میں، میرا رب قریب بھی ہے اور قبول کرنے والا بھی۔ جب اس کے سوا یہ اوصاف کسی میں بھی نہیں تو کسی اور کی عبادت کیوں؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

61۔ 1 وَ اِلَیٰ ثَمُوْدَ عطف ہے ما قبل پر۔ یعنی وَ اَرْسَلنَا اِلَیٰ ثُمُوْدَ ہم نے ثمود کی طرف بھیجا۔ یہ قوم تبوک اور مدینہ کے درمیان مدائن (حجر) میں رہائش پذیر تھی اور یہ قوم عاد کے بعد ہوئی۔ حضرت صالح ؑ کو یہاں بھی ثمود کا بھائی کہا۔ جس سے مراد انہی کے خاندان اور قبیلے کا ایک فرد ہے۔ 61۔ 2 حضرت صالح ؑ نے بھی سب سے پہلے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی، جس طرح کہ انبیاء کا طریق رہا ہے۔ 61۔ 3 یعنی ابتدا میں تمہیں زمین سے پیدا کیا اس طرح کہ تمہارے باپ آدم ؑ کی تخلیق مٹی سے ہوئی اور تمام انسان صلب آدم ؑ سے پیدا ہوئے یوں گویا تمام انسانوں کی پیدائش زمین سے ہوئی۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم جو کچھ کھاتے ہو، سب زمین ہی سے پیدا ہوتا ہے اور اسی خوراک سے وہ نطفہ بنتا ہے۔ جو رحم مادر میں جا کر وجود انسانی کا باعث ہوتا ہے۔ 61۔ 4 یعنی تمہارے اندر زمین کو بسانے اور آباد کرنے کی استعداد اور صلاحیت پیدا کی، جس سے تم رہائش کے لئے مکان تعمیر کرتے، خوراک کے لئے کاشت کاری کرتے اور دیگر ضروریات زندگی مہیا کرنے کے لئے صنعت و حرفت سے کام لیتے ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

61۔ اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اس نے کہا: ”اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو جس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔ اس نے تمہیں زمین [70] سے پیدا کیا اور اس میں آباد کیا۔ لہذا اسی سے بخشش مانگو اور [71] اور اسی کی طرف رجوع کرو۔ بلا شبہ میرا پروردگار قریب ہے۔ (ہر ایک کی دعا) قبول کرنے والا [72] ہے“
[70] یعنی پہلے آدمؑ کو مٹی سے پیدا کیا پھر تمہاری تمام تر ضروریات زندگی اسی زمین سے وابستہ کر دیں اور اسی پر تمہاری آباد کاری کا بندوبست کیا۔
[71] یعنی یہ سب کام تو اللہ نے کیے ہیں بتاؤ کہ تمہارے معبودوں نے ان میں سے کون سا کام کیا ہے؟ جو تم ان کی پرستش کرتے ہو اگر تم اللہ کے خالق و رازق ہونے کو تسلیم کرتے ہو تو پھر تمہیں اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اسی کی اطاعت کرنا چاہیے اور اپنے گناہوں کے لیے اسی سے معافی مانگو کیونکہ تم یہ مشرکانہ افعال کرتے رہے ہو۔
[72] اللہ گناہ گاروں کی بھی دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے:۔
دنیا دار اور جاہ طلب مذہب کے ٹھیکیداروں نے عام لوگوں کے ذہن میں یہ عقیدہ راسخ کر دیا ہے کہ جس طرح ایک بادشاہ تک درخواست گزارنے کے لیے بادشاہ کے مقرب لوگوں کی ضرورت پیش آتی ہے انہی کے ذریعہ اپنی معروضات کو بادشاہ تک پیش کیا جاتا ہے اور بادشاہ نے جو کچھ جواب دینا ہو وہ بھی انھیں لوگوں کے ذریعہ مل سکتا ہے۔ سب سے بڑے بادشاہ اللہ تعالیٰ کی بھی یہی صورت ہے۔ لہٰذا اللہ کے حضور اپنی معروضات پیش کرنے کے لیے اللہ کے مقربین کا وسیلہ تلاش کرنا ضروری ہے اور ان مقربین سے مراد ان کی اپنی ذات یا معبودان باطل یا فوت شدہ بزرگ وغیرہ ہوتے ہیں جن کے یہ مجاور وغیرہ ہوتے ہیں یہ شیطانی عقیدہ اس قدر گمراہ کن ہے کہ شرک کی بے شمار اقسام اسی ایک عقیدہ سے پیدا ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے اس عقیدہ کی دو لفظوں میں تردید فرما دی۔ یعنی ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے قریب ہے وہ ہر ایک کی بات سن سکتا ہے اور سنتا ہے دوسرے یہ کہ وہ گنہگاروں کی دعائیں بھی ایسے ہی قبول کرتا ہے جیسے مقربین کی۔ بشرطیکہ دعا کے آداب کو ملحوظ رکھا جائے۔ واضح رہے کہ کسی نیک آدمی سے اپنے حق میں اللہ سے دعا کرانا اس ضمن میں نہیں آتا اور یہ شرعاً ثابت ہے بگاڑ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ گنہگاروں کی بات نہ سنتا ہے اور نہ اسے قبول کرتا ہے پھر جن لوگوں کو وسیلہ بنایا جاتا ہے ان کے لیے نذر و نیاز اور ان کی تعظیم ایسے ہی کی جاتی ہے جیسے اللہ کے لیے سزاوار ہے۔ مندرجہ بالا مفہوم کے لحاظ سے اس جملہ میں قریب اور مجیب دونوں اللہ تعالیٰ کی الگ الگ صفات ہیں لیکن بعض لوگوں نے قریب کو بھی مجیب ہی کی صفت قرار دیا ہے اس صورت میں ترجمہ یہ ہو گا: ”بلا شبہ میرا پروردگار جلد ہی (دعائیں) قبول کرنے والا ہے“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

صالح علیہ السلام اور ان کی قوم میں مکالمات ٭٭
صالح علیہ السلام ثمودیوں کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ قوم کو آپ علیہ السلام نے اللہ کی عبادت کرنے کی اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے باز آنے کی نصحیت کی، بتلایا کہ انسان کی ابتدائی پیدائش اللہ تعالیٰ نے مٹی سے شروع کی ہے۔ تم سب کے باپ بابا آدم علیہ السلام اسی مٹی سے پیدا ہوئے تھے۔ اسی نے اپنے فضل سے تمہیں زمین پر بسایا ہے کہ تم اس میں گزران کر رہے ہو۔ تمہیں اللہ سے استغفار کرنا چاہیئے۔‏‏‏‏
«وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ» [2-البقرة:186]‏‏‏‏ ’ اور (‏‏‏‏اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (‏‏‏‏کہہ دو کہ) میں تو (‏‏‏‏تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔ اس کی طرف جھکے رہنا چاہیئے۔ وہ بہت ہی قریب ہے اور قبول فرمانے والا ہے ‘۔