ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 53

قَالُوۡا یٰہُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَیِّنَۃٍ وَّ مَا نَحۡنُ بِتَارِکِیۡۤ اٰلِہَتِنَا عَنۡ قَوۡلِکَ وَ مَا نَحۡنُ لَکَ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۳﴾
انھوں نے کہا اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا اور ہم اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سے ہرگز چھوڑنے والے نہیں اور نہ کسی طرح تجھ پر ایمان لانے والے ہیں۔ En
وہ بولے ہود تم ہمارے پاس کوئی دلیل ظاہر نہیں لائے اور ہم (صرف) تمہارے کہنے سے نہ اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تم پر ایمان لانے والے ہیں
En
انہوں نے کہا اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی دلیل تو ﻻیا نہیں اور ہم صرف تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہم تجھ پر ایمان ﻻنے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 53) ➊ {قَالُوْا يٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ …:} یہ بات یقینی ہے کہ ہر پیغمبر اللہ کی طرف سے ایسے واضح دلائل اور یقینی آیات اور نشانیاں لے کر آتا ہے کہ سننے اور دیکھنے والوں کو اس کے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا، مگر یہ سب کچھ انھی کے لیے کار آمد ہوتا ہے جو دل کے کانوں اور آنکھوں سے سنتے اور دیکھتے ہیں۔ لیکن جب کوئی شخص یا قوم ضد اور عناد کی وجہ سے یہ طے کر لے کہ ہم نے ماننا ہی نہیں تو انھیں لاکھ دلیل سامنے ہونے کے باوجود ایک بھی نظر نہیں آتی اور ان کی حالت وہ ہو جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ (۶، ۷) میں بیان فرمائی ہے۔
➋ یہاں چار جملوں میں ہود علیہ السلام کی قوم نے سخت ترین لفظوں میں انھیں جھٹلا کر ان پر ایمان لانے سے صاف انکار کر دیا۔ پہلے جملے میں ان پر نبوت کی ایک بھی دلیل پیش نہ کرنے کا بہتان لگایا۔ دوسرے اور تیسرے جملے میں { مَا } نافیہ کی تاکید باء کے ساتھ کرکے کچھ بھی ہو جائے اپنے معبودوں کو چھوڑنے اور ہود علیہ السلام پر ایمان لانے سے انکار کر دیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

53۔ 1 ایک نبی دلائل وبراہین کی پوری قوت اپنے ساتھ رکھتا ہے لیکن شپرہ چشموں کو وہ نظر نہیں آتے قوم ہود ؑ نے بھی اسی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم بغیر دلیل کے محض تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو کس طرح چھوڑیں؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

53۔ وہ کہنے لگے: ”ہود! تو ہمارے پاس کوئی صریح معجزہ تو لایا [60] نہیں اور محض تیری باتوں سے ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ نہیں سکتے اور نہ ہی تجھ پر ایمان لا سکتے ہیں
[60] ویسے تو ہر نبی کو ایسے واضح دلائل دیئے جاتے ہیں جو ایمان لانے والوں کی تسلی اور تشفی کے لیے کافی ہوتے ہیں مگر ہٹ دھرم لوگ عموماً کسی ایسے حسی معجزے کے طالب ہوتے ہیں جو ان کی گردنیں پکڑ کر انھیں ایمان لانے پر مجبور کر دے اور وہ اس وقت تک ایمان لانے کو تیار نہیں، ہوتے جب تک ایسا معجزہ دیکھ نہ لیں۔ حالانکہ اس وقت ایمان لانے کا کچھ فائدہ بھی نہیں ہوتا اور ایسا معجزہ پیش کرنا ویسے بھی مشیت الٰہی کے خلاف ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قوم ہود کے مطالبات ٭٭
قوم ہود نے اپنے نبی علیہ السلام کی نصیحت سن کر جواب دیا کہ آپ علیہ السلام جس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل و حجت تو ہمارے پاس آپ علیہ السلام لائے نہیں۔ اور یہ ہم کرنے سے رہے کہ آپ علیہ السلام کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور ہم چھوڑ ہی دیں۔ نہ وہ آپ علیہ السلام کو سچا ماننے والے ہیں نہ آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والے۔ بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ چونکہ تو ہمیں ہمارے ان معبودوں کی عبادت سے روک رہا ہے اور انہیں عیب لگاتا ہے۔ اس لیے جھنجھلا کر ان میں سے کسی کی مار تجھ پر پڑی ہے تیری عقل چل گئی ہے۔
یہ سن کر اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا اگر یہی ہے تو سنو میں نہ صرف تمہیں ہی بلکہ اللہ کو بھی گواہ کر کے اعلان کرتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا جس جس کی عبات ہو رہی ہے سب سے بری اور بیزار ہوں اب تم ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ اوروں کو بھی بلا لو اور اپنے ان سب جھوٹے معبودوں کو بھی ملا لو اور تم سے جو ہو سکے مجھے نقصان پہنچا دو۔ مجھے کوئی مہلت نہ لینے دو۔‏‏‏‏
نہ مجھ پر کوئی ترس کھاؤ۔ جو نقصان تمہارے بس میں ہو مجھے پہنچانے میں کمی نہ کرو۔ میرا توکل ذات رب پر ہے وہ میرا اور تمہارا سب کا مالک ہے ناممکن کہ اس کی منشاء بغیر میرا بگاڑ کوئی بھی کر سکے۔ دنیا بھر کے جاندار اس کے قبضے میں اور اس کی ملکیت میں ہیں۔ کوئی نہیں جو اس کے حکم سے باہر اس کی باشاہی سے الگ ہو۔ وہ ظالم نہیں جو تمہارے منصوبے پورے ہونے دے وہ صحیح راستے پر ہے۔ بندوں کی چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں، مومن پر وہ اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جو مہربانی ماں باپ کو اولاد پر ہوتی ہے وہ کریم ہے اس کے کرم کی کوئی حد نہیں۔ اسی وجہ سے بعض لوگ بہک جاتے ہیں اور غافل ہو جاتے ہیں۔‏‏‏‏
ہود علیہ السلام کے اس فرمان پر دوبارہ غور کیجئے کہ آپ علیہ السلام نے عادیوں کے لیے اپنے اس قول میں توحید ربانی کی بہت سے دلیلیں بیان کر دیں۔ بتا دیا کہ جب اللہ کے سوا کوئی نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا جب اس کے سوا کسی چیز پر کسی کا قبضہ نہیں تو پھر وہی ایک مستحق عبادت ٹھہرا۔ اور جن کی عبادت تم اس کے سوا کر رہے ہو وہ سب باطل ٹھہرے۔ اللہ ان سے پاک ہے ملک تصرف قبضہ اختیار اسی کا ہے سب اسی کی ماتحتی میں ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔