اس نے کہا اے میری قوم! کیا تم نے دیکھا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر (قائم) ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے بڑی رحمت عطا فرمائی ہو، پھر وہ تم پر مخفی رکھی گئی ہو، تو کیا ہم اسے تم پر زبردستی چپکا دیں گے، جب کہ تم اسے ناپسند کرنے والے ہو۔
En
انہوں نے کہا کہ اے قوم! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل (روشن) رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت بخشی ہو جس کی حقیقت تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ تو کیا ہم اس کے لیے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہو رہے ہو
نوح نے کہا، میری قوم والو! مجھے بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے کسی دلیل پر ہوا اور مجھے اس نے اپنے پاس کی کوئی رحمت عطا کی ہو، پھر وه تمہاری نگاہوں میں نہ آئی تو کیا زبردستی میں اسے تمہارے گلے منڈھ دوں، حاﻻنکہ تم اس سے بیزار ہو
En
(آیت 28) ➊ { قَالَيٰقَوْمِاَرَءَيْتُمْاِنْكُنْتُعَلٰىبَيِّنَةٍمِّنْرَّبِّيْ …:} نوح علیہ السلام نے ان کے تمام اعتراضات کا جامع جواب دیا، ایک تو یہ کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اپنی رسالت کے مضبوط دلائل اور پختہ یقین موجود ہے، یعنی {”وَاٰتٰىنِيْرَحْمَةًمِّنْعِنْدِهٖ“} دوسرا یہ کہ یہ نبوت کسی کی محنت کا نتیجہ یا کسی کے آبا و اجداد کی جائداد نہیں، یہ تو محض اللہ تعالیٰ کی اپنے پاس سے خاص عنایت ہے، اس کی تقسیم تمھارے ہاتھ میں نہیں۔ یہ اللہ جسے چاہے دیتا ہے، خواہ وہ غریب ہو یا امیر، جیسا کہ مکہ والوں نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا تھا: «وَقَالُوْالَوْلَانُزِّلَهٰذَاالْقُرْاٰنُعَلٰىرَجُلٍمِّنَالْقَرْيَتَيْنِعَظِيْمٍ»[الزخرف: ۳۱]”اور انھوں نے کہا کہ یہ قرآن ان دو بستیوں (مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟“ اللہ تعالیٰ نے ان کا جواب دیا: «{ اَهُمْيَقْسِمُوْنَرَحْمَتَرَبِّكَنَحْنُقَسَمْنَابَيْنَهُمْمَّعِيْشَتَهُمْفِيالْحَيٰوةِالدُّنْيَا }»[الزخرف: ۳۲]”کیا وہ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں؟ ہم نے خود ان کے درمیان ان کی معیشت دنیا کی زندگی میں تقسیم کی۔“ ➋ { فَعُمِّيَتْعَلَيْكُمْ:} اس کا مادہ {”عَمْيٌ“} ہے، اندھا ہونا، یعنی یہ بتاؤ کہ اگر تمھیں اس دلیل اور رحمت سے اندھا رکھا گیا ہو اور تمھاری بے وقوفی کی وجہ سے وہ تم پر ایسی مخفی رہی ہو کہ تم دیکھ ہی نہ سکے ہو تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ ➌ {اَنُلْزِمُكُمُوْهَاوَاَنْتُمْلَهَاكٰرِهُوْنَ:} یعنی کیا ہم زبردستی تمھیں اس دلیل کا قائل کر لیں اور اس رحمت کے سائے میں دھکے سے داخل کر لیں، جب کہ تم اس سے نفرت کرتے ہو اور دور بھاگتے ہو۔ {”اَنُلْزِمُكُمُوْهَا“} میں ایک لفظ کے اندر تین ضمیروں کو ایسے طریقے سے جمع کیا ہے کہ لفظ انتہائی خوبصورت اور واضح ہو گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
28 1 بینۃ سے مراد ایمان و یقین ہے اور رحمت سے مراد نبوت۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کو سرفراز کیا تھا۔ 28۔ 2 یعنی تم اس کے دیکھنے سے اندھے ہوگئے۔ چناچہ تم نے اس کی قدر پہچانی اور نہ اسے اپنانے پر آمادہ ہوئے، بلکہ اس کو جھٹلایا اور رد کے درپے ہوگئے۔ 28۔ 3 جب یہ بات ہے تو ہدایت و رحمت تمہارے حصے میں کس طرح آسکتی ہے؟
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
28۔ نوح نے کہا: ”اے میری قوم! (بھلا دیکھو) اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت (نبوت) بھی عطا کی ہو جو تمہیں نظر نہ آ رہی ہو [36] تو کیا ہم اسے زبردستی تم پر چپیک سکتے ہیں؟ (کہ تم ضرور ایمان لاؤ) درآنحالیکہ تم اسے ناپسند کر رہے ہو
[36] نبی اور عام کافروں کی زندگی کا فرق:۔
نوحؑ نے جواب دیا کہ امتیازی باتیں تو مجھ میں موجود ہیں یہ الگ بات ہے کہ تمہارے امتیاز کا معیار اور ہے اور میرے نزدیک دوسرا ہے۔ میں نے ایک اللہ کے سوا کسی کی پوجا نہیں کی ہمیشہ حق بات کہتا ہوں اور حق کی ہی دعوت دیتا ہوں ہر ایک شخص کا ہمدرد ہوں کسی کو دکھ نہیں پہنچاتا نہ دغا فریب کرتا ہوں۔ مزید یہ کہ اللہ نے مجھے نبوت عطا کر کے اپنی رحمت سے نوازا بھی ہے گویا میری اور تمہاری زندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے پھر بھی اگر تمہیں کوئی امتیازی فرق نظر نہیں آتا تو میں زبردستی تمہیں کیسے قائل کر سکتا ہوں؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بلااجرت خیر خواہ سے ناروا سلوک ٭٭
نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو جواب دیا کہ ”سچی نبوت یقین اور واضح چیز میرے پاس تو میرے رب کی طرف سے آ چکی ہے۔ بہت بڑی رحمت و نعمت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی اور وہ تم سے پوشیدہ رہی تم اسے نہ دیکھ سکے نہ تم نے اس کی قدر دانی کی نہ اسے پہنچانا بلکہ بےسوچے سمجھے تم نے اسے دھکے دے دئیے اسے جھٹلانے لگ گئے اب بتاؤ کہ تمہاری اس ناپسندیدگی کی حالت میں میں کسیے یہ کر سکتا ہوں کہ تمہیں اس کا ماتحت بنا دوں؟“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں