ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 27

فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ مَا نَرٰىکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثۡلَنَا وَ مَا نَرٰىکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا الَّذِیۡنَ ہُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاۡیِ ۚ وَ مَا نَرٰی لَکُمۡ عَلَیۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭ بَلۡ نَظُنُّکُمۡ کٰذِبِیۡنَ ﴿۲۷﴾
تو اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے کہا جنھوں نے کفر کیا تھا، ہم تجھے نہیں دیکھتے مگر اپنے جیسا ایک بشر اور ہم تجھے نہیں دیکھتے کہ ان لوگوں کے سوا کسی نے تیری پیروی کی ہو جو ہمارے سب سے رذیل ہیں، سطحی رائے کے ساتھ اور ہم تمھارے لیے اپنے آپ پر کوئی برتری نہیں دیکھتے، بلکہ ہم تمھیں جھوٹے گمان کرتے ہیں۔ En
تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں۔ اور وہ بھی رائے ظاہر سے (نہ غوروتعمق سے) اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں
En
اس کی قوم کے کافروں کے سرداروں نے جواب دیا کہ ہم تو تجھے اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں اور تیرے تابعداروں کو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ واضح طور پر سوائے نیچ لوگوں کے اور کوئی نہیں جو بے سوچے سمجھے (تمہاری پیروی کر رہے ہیں)، ہم تو تمہاری کسی قسم کی برتری اپنے اوپر نہیں دیکھ رہے، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھ رہے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 27) ➊ {فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ: } آلوسی نے فرمایا:{ الْمَلَاُ } کا لفظ اسم جمع ہے، جیسا کہ {رَهْطٌ } (گروہ) ہے۔ اس لفظ سے اس کا واحد کوئی نہیں آتا۔ { مَلَأَ يَمْلَأُ } کا معنی بھرنا ہے، یعنی ایک رائے پر متفق لوگوں کی جماعت، جس کے رعب و جلال اور ظاہری شکل و صورت سے آنکھیں بھر رہی ہوں۔ (راغب)
➋ {مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا:} نوح علیہ السلام اور دوسرے پیغمبروں کی امتوں کے کافروں کی طرح مکہ کے کافر بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہی بات کہا کرتے تھے کہ جو شخص ہماری طرح کا بشر ہو، جو کھاتا پیتا، بازاروں میں چلتا پھرتا، سوتا جاگتا، بیویاں اور بال بچے رکھتا ہو، آخر وہ اللہ کا رسول کیسے ہو سکتا ہے۔ (دیکھیے فرقان: ۷) مطلب یہ ہے کہ رسالت اور بشریت میں تضاد ہے اور ان دونوں کا ایک شخص میں جمع ہونا ناممکن ہے، حالانکہ تمام انبیاء میں دونوں اوصاف جمع تھے، جیسا کہ فرمایا: «{ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا [بنی إسرائیل: ۹۳] تو کہہ میرا رب پاک ہے، میں تو ایک بشر کے سو اکچھ نہیں جو رسول ہے۔ اور دیکھیے سورۂ فرقان (۲۰) اور مومنون (۳۳، ۳۴) کفار آپ کا بشر ہونا جانتے تھے، کیونکہ آپ انھی میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے انھوں نے آپ کو رسول ماننے سے انکار کر دیا۔ افسوس کہ کچھ جدی پشتی مسلمان باپ دادا سے سن کر آپ کو رسول مانتے ہیں، مگر آپ کے بشر ہونے سے انکار کرتے ہیں۔ درحقیقت یہ ایک ہی ذہن ہے کہ انسان رسول نہیں ہو سکتا۔
➌ {وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ …: اَرَاذِلُ اَرْذَلُ} کی جمع ہے، یعنی کم تر درجے کے لوگ۔{ بَادِيَ بَدَا يَبْدُوْ } (ظاہر ہونا) سے اسم فاعل ہو تو معنی ہو گا ظاہر دیکھنے میں اور {بَدَءَ يَبْدَءُ} (شروع ہونا) سے ہو تو معنی ہو گا پہلی نظر میں، یعنی اس وجہ سے بھی ہم آپ کی پیروی اختیار نہیں کر سکتے کہ کچھ لوگ جو آپ کے متبع ہو گئے ہیں وہ تو دیکھنے ہی سے نظر آتے ہیں کہ ہمارے رذالے یعنی کم تر درجے کے لوگ ہیں۔ گویا ان کی نظر میں اس شخص کے تابع ہونا، جس کے پیروکار معاشرے میں نچلے درجے کے لوگ ہوں، ان کی شان کے منافی ہے۔ (دیکھیے شعراء: ۱۱۱) بعینہٖ یہی بات مکہ کے کھاتے پیتے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ان کی پیروی ہماری قوم کے غلام اور نچلے طبقے کے لوگ کرتے ہیں۔ (دیکھیے انعام: ۵۲ تا ۵۴) حالانکہ حق کی تاریخ سے ثابت ہے کہ اس کے ابتدائی پیروکار دنیوی لحاظ سے کمزور لوگ ہی ہوئے ہیں، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہرقل اور ابوسفیان کے سوال و جواب میں مذکور ہے کہ جب ابوسفیان نے بتایا کہ اس کی پیروی ضعفاء نے کی ہے تو ہرقل نے کہا، یہی لوگ تمام رسولوں کے پیروی کرنے والے رہے ہیں۔ [بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی …: ۷]
➍ { وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ:} ہم تمھارے لیے اپنے آپ پر کوئی برتری نہیں دیکھتے قوم کا یہ خطاب نوح علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں سے ہے کہ کسی بھی چیز میں تم ہم سے بڑھ کر نہیں ہو۔
➎ { بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ:} یعنی اس بات میں کہ تم کہتے ہو نوح علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

27۔ 1 یہ وہی شبہ ہے، جس کی پہلے کئی جگہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ کافروں کے نزدیک بشریت کے ساتھ نبوت و رسالت کا اجتماع بڑا عجیب تھا، جس طرح آج کے اہل بدعت کو بھی عجیب لگتا ہے اور وہ بشریت رسول کا انکار کرتے ہیں۔ 27۔ 2 حق کی تاریخ میں یہ بات بھی ہر دور میں سامنے آتی رہی ہے کہ ابتداء میں اس کو اپنانے والے ہمیشہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں معاشرے میں بےنوا کم تر سمجھا جاتا تھا اور صاحب حیثیت اور خوش حال طبقہ اس سے محروم رہتا۔ حتی کہ پیغمبروں کے پیروکاروں کی علامت بن گئی۔ چناچہ شاہ روم ہرقل نے حضرت ابو سفیان سے نبی کی بابت پوچھا تو اس میں ان سے ایک بات یہ بھی پوچھی کہ ' اس کے پیروکار معاشرے کے معزز سمجھے جانے والے لوگ ہیں یا کمزور لوگ ' حضرت ابو سفیان نے جواب میں کہا ' کمزور لوگ ' جس پر ہرقل نے کہا ' رسولوں کے پیروکار یہی لوگ ہوتے ہیں (صحیح بخاری)۔ قرآن کریم میں بھی وضاحت کی گئی ہے کہ خوش حال طبقہ ہی سب سے پہلے پیغمبروں کی تکذیب کرتا رہا ہے۔ (سورة زخرف۔ 23) (وَكَذٰلِكَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّذِيْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَآ ۙاِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰٓي اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ 23؀) 43۔ الزخرف:23) اور یہ اہل ایمان کی دنیاوی حیثیت تھی اور جس کے اعتبار سے اہل کفر انھیں حقیر اور کم تر سمجھتے تھے، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ حق کے پیروکار معزز اور اشراف ہیں چاہے وہ مال و دولت کے اعتبار سے فروتر ہی ہوں اور حق کا انکار کرنے والے حقیر اور بےحیثیت ہیں چاہے وہ دنیوں اعتبار سے مال دار ہی ہوں۔ 27۔ 3 اہل ایمان چونکہ، اللہ اور رسول کے احکام کے مقابلے میں اپنی عقل و دانش اور رائے کا استعمال نہیں کرتے، اس لئے اہل باطل یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بےسوچ سمجھ والے ہیں کہ اللہ کا رسول انھیں جس طرف موڑ دیتا ہے، یہ مڑ جاتے ہیں جس چیز سے روک دیتا ہے، رک جاتے ہیں۔ یہ بھی اہل ایمان کی ایک بڑی بلکہ ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ لیکن اہل کفر و باطل کے نزدیک یہ خوبی بھی " عیب " ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ تو اس کی قوم کے کافر سرداروں نے جواب دیا: ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا [34] دمی خیال کرتے ہیں اور جو تیرے پیروکار ہیں [35] وہ بادی النظر میں ہمیں کمینے معلوم ہوتے ہیں۔ پھر تم لوگوں کو ہم پر کسی طرح کی فضیلت بھی نہیں بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا ہی سمجھتے ہیں“
[34] یہ وہی اعتراض ہے جو کہ منکرین حق کی طرف سے تمام انبیاء پر ہوتا رہا ہے جن کے خیال میں نبی کو یا تو مافوق البشر مخلوق ہونا چاہیے یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہر وقت رہنا چاہیے یا کم از کم دنیوی وجاہت کے لحاظ سے یعنی مال و دولت اور شان و شوکت کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر ہونا چاہیے۔ جب تک ان کے نظریہ کے مطابق نبی کو ان چیزوں میں سے کوئی امتیازی چیز حاصل نہ ہو وہ نبی نہیں ہو سکتا۔
[35] کسی نبی کے ابتدائی پیرو کاروں کے خصائل:۔
منکرین حق کا دوسرا بڑا اعتراض یہی ہوتا ہے کہ کیونکہ نبی پر سب سے پہلے ایمان لانے والے لوگ وہ ہوتے ہیں جو معاشرہ اور قوم کے چودھریوں کے ہاتھوں ستم رسیدہ ہوں، غریب ہوں، نوجوان اور با ہمت ہوں اور جو ایسے ظالمانہ معاشرہ کے سامنے ڈٹ جانے کی کچھ جرأت بھی رکھتے ہوں ایسے ہی لوگ ہر نبی کا ابتدائی سرمایہ ہوتے ہیں اور یہی لوگ قوم کے چودھریوں کی نظروں میں کھٹکتا خار بن جاتے ہیں حتیٰ کہ چودھری لوگ ان کی موجودگی میں نبی کے پاس بیٹھنا اور کوئی بات سننا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ان چودھریوں کے نظریات چونکہ خالصتاً مادہ پرستانہ ہوتے ہیں لہٰذا نبی کی دعوت کو رد کرنے کا انھیں یہ بہانہ بھی ہاتھ لگ جاتا ہے کہ اس نبی کے ہم نشین تو رذیل قسم کے لوگ ہیں لہٰذا ہم اسے سچا کیسے سمجھ سکتے ہیں کچھ شریف لوگ اس کے پیروکار ہوتے تو ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھتے اور اس نبی کی بات سنتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔