ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 21

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۱﴾
یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا اور ان سے گم ہو گیا جو کچھ وہ جھوٹ گھڑا کرتے تھے۔ En
یہی ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اور جو کچھ وہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہا
En
یہی ہیں جنہوں نے اپنا نقصان آپ کر لیا اور وه سب کچھ ان سے کھو گیا، جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 22،21){ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ …:} یعنی جھوٹے دعوے سب گم ہو گئے، اللہ کی گرفت آنے پر دنیا میں کوئی داتا، کوئی دستگیران کی مدد کو نہیں پہنچا اور اس میں شک نہیں کہ آخرت میں بھی یہی سب سے زیادہ خسارے والے ہوں گے، کیونکہ جن کو یہ سمجھ کر پکارتے تھے کہ وہ ہمیں بچائیں گے انھیں اپنی پڑی ہو گی۔ وہ سب ان سے غائب ہو جائیں گے، اگر سامنے ہوئے بھی تو ان سے بری ہونے کا اعلان کریں گے، بلکہ ان کے دشمن بن جائیں گے۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۵، ۶)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

21۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور جو کچھ وہ افترا [26] پردازیاں کرتے تھے، سب انھیں بھول جائیں گی
[26] یہاں افتراء پردازیوں سے مراد وہی سستی نجات کے عقیدے ہیں کہ مثلاً اگر ہم فلاں بزرگ کی بیعت میں منسلک ہو جائیں گے تو وہ ہمیں اللہ کی گرفت اور باز پرس سے بچا لیں گے اور ایسی بہت سی حکایات آج بھی اولیاء کے تذکروں میں موجود ہیں۔ جب اس قسم کے لوگ قیامت کی ہولناکیوں اور اللہ تعالیٰ کے دربار عدالت اور شہادتوں کی بنا پر تحقیق جرائم کا نقشہ دیکھیں گے تو ایسے سب عقائد از خود ان کے ذہن سے محو ہو جائیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔