فَلَعَلَّکَ تَارِکٌۢ بَعۡضَ مَا یُوۡحٰۤی اِلَیۡکَ وَ ضَآئِقٌۢ بِہٖ صَدۡرُکَ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ کَنۡزٌ اَوۡ جَآءَ مَعَہٗ مَلَکٌ ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ نَذِیۡرٌ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ ﴿ؕ۱۲﴾
پھر شاید تو اس کا کچھ حصہ چھوڑ دینے والا ہے جو تیری طرف وحی کی جاتی ہے اور اس کی وجہ سے تیرا سینہ تنگ ہونے والا ہے کہ وہ کہیں گے اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا، یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا؟ تو توُ صرف ڈرانے والا ہے اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔
En
شاید تم کچھ چیز وحی میں سے جو تمہارے پاس آتی ہے چھوڑ دو اور اس (خیال) سے کہ تمہارا دل تنگ ہو کہ (کافر) یہ کہنے لگیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ نازل ہوا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ اے محمدﷺ! تم تو صرف نصیحت کرنے والے ہو۔ اور خدا ہر چیز کا نگہبان ہے
En
پس شاید کہ آپ اس وحی کے کسی حصے کو چھوڑ دینے والے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی جاتی ہے اور اس سے آپ کا دل تنگ ہے، صرف ان کی اس بات پر کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اترا؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہی آتا، سن لیجئے! آپ تو صرف ڈرانے والے ہی ہیں اور ہر چیز کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 12) ➊ {فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰۤى اِلَيْكَ …:} کفار ہر وقت کوئی نہ کوئی معجزہ لانے کی فرمائش کرتے رہتے تھے کہ آپ پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ چلیے آپ احد پہاڑ ہی سونے کا بنا دیجیے، یا کوئی فرشتہ ہی ساتھ لے آئیے۔ ان کی عجیب و غریب فرمائشوں کا ذکر سورۂ بنی اسرائیل (۹۰ تا ۹۳) اور سورۂ فرقان (۷،۸) میں کچھ تفصیل کے ساتھ ہے۔ ان آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ ان کے شبہات، مطالبات اور طعن و تشنیع سے تنگ آ کر آپ پریشان اور غم زدہ نہ ہو جائیں، بلکہ شرک کی مذمت کے لیے اور توحید کے اثبات کے لیے جو بھی وحی آئے آپ کسی بھی کمی بیشی کے بغیر ان تک پہنچاتے رہیں۔ یہ نہ ہو کہ وحی کا وہ حصہ حذف کر دیں جس میں بتوں کی عیب جوئی اور شرک کی مذمت ہے۔
➋ { اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِيْرٌ:} یعنی آپ کو اللہ تعالیٰ نے محض عذاب سے ڈرانے کے لیے بھیجا ہے، لہٰذا کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا کیے بغیر آپ اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہیں۔
➌ {وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ: } یعنی ان کے مطالبات کو پورا کرنا یا نہ کرنا اللہ کا کام ہے، ہر چیز اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ اگر چاہے گا تو آپ کو ایک خزانہ کیا روئے زمین کے تمام خزانے دے دے گا اور ایک فرشتہ کیا آپ پر سیکڑوں فرشتے اتار دے گا۔ بہرحال جیسی اس کی مصلحت اور حکمت ہو گی ویسا ہی کرے گا، آپ کو ان چیزوں سے کیا غرض؟ ہر چیز کا نگران وہ خود ہے۔ آپ تو اللہ تعالیٰ کا جو حکم آئے بے دھڑک ان کو سناتے رہیں۔
➋ { اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِيْرٌ:} یعنی آپ کو اللہ تعالیٰ نے محض عذاب سے ڈرانے کے لیے بھیجا ہے، لہٰذا کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا کیے بغیر آپ اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہیں۔
➌ {وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ: } یعنی ان کے مطالبات کو پورا کرنا یا نہ کرنا اللہ کا کام ہے، ہر چیز اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ اگر چاہے گا تو آپ کو ایک خزانہ کیا روئے زمین کے تمام خزانے دے دے گا اور ایک فرشتہ کیا آپ پر سیکڑوں فرشتے اتار دے گا۔ بہرحال جیسی اس کی مصلحت اور حکمت ہو گی ویسا ہی کرے گا، آپ کو ان چیزوں سے کیا غرض؟ ہر چیز کا نگران وہ خود ہے۔ آپ تو اللہ تعالیٰ کا جو حکم آئے بے دھڑک ان کو سناتے رہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 مشرکین نبی کی بابت کہتے رہتے تھے کہ اس کے ساتھ کوئی فرشتہ نازل کیوں نہیں ہوتا، یا اس کی طرف سے کوئی خزانہ کیوں نہیں اتار دیا جاتا، ایک دوسرے مقام پر فرمایا گیا ' ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ آپ کی بابت جو باتیں کہتے ہیں ' ان سے آپ کا سینہ تنگ ہوتا ہے۔ سورة الحجر اس آیت میں انہی باتوں کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ شاید آپ کا سینہ تنگ ہو اور کچھ باتیں جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہیں اور وہ مشرکین پر گراں گزرتی ہیں ممکن ہے آپ وہ انھیں سنانا پسند نہ کریں آپ کا کام صرف انذار و تبلیغ ہے، وہ آپ ہر صورت میں کئے جائیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ (اے نبی) ایسا نہ ہو کہ آپ کی طرف جو وحی کی جاتی ہے آپ اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیں اور اس وجہ سے آپ کا دل تنگ [15] ہو کہ کافر یہ کہیں گے کہ: اس شخص پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا؟“ آپ تو محض ڈرانے والے ہیں اور ہر چیز پر مختار تو اللہ تعالیٰ ہے
[15] آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش مکہ کے معبودوں کو نہ کوئی گالی دیتے تھے اور نہ ہی انھیں برا بھلا کہتے تھے بلکہ صرف یہ کہتے تھے کہ تمہارے یہ معبود نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں اور اسی بات پر مشرکین چڑ جاتے تھے کیونکہ اس بات کو وہ اپنے معبودوں کی بھی توہین تصور کرتے تھے اپنی بھی اور اپنے آباء و اجداد کی بھی۔ اس بات کا کوئی معقول جواب تو ان کے پاس تھا نہیں اس کے بجائے وہ یہ کرتے کہ کبھی اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑانے لگتے، کبھی تکذیب کرتے اور کبھی کچھ اعتراضات یا مطالبے شروع کر دیتے ممکن ہے ان کی مسلسل اس قسم کی حرکات کے نتیجہ میں آپ کے دل میں یہ خیال آیا ہو کہ انھیں ایسی آیات سنانے کا کیا فائدہ ہے جبکہ وہ ایمان لانے کے بجائے الٹا چڑ جاتے ہیں اور پھبتیاں کسنے لگتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ان باتوں سے آپ کو رنجیدہ خاطر اور تنگ دل نہ ہونا چاہیے جو وحی آپ پر نازل ہو رہی ہے آپ انھیں سنا دیا کریں۔ آپ کی اتنی ہی ذمہ داری ہے اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ ان سے خود نمٹ لے گا۔ قریش کی معجزہ طلبیاں:۔
قریش مکہ کے اعتراضات یا مطالبات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اگر تم واقعی اللہ کے پیغمبر ہو تو تم پر اللہ کی طرف سے کوئی خزانہ بھی نازل ہونا چاہیے تھا جس سے تمہاری مالی حالت بہتر ہو جاتی اور اس مادی قوت کے بل بوتے پر ہی تم لوگوں کو اپنا ہم نوا بنا سکتے یا کوئی فرشتہ ہی تمہارے ساتھ موجود رہنا چاہیے تھا جس سے تمہیں روحانی طاقت بھی حاصل ہو جاتی اور لوگوں کو بھی تمہاری نبوت کا یقین ہو جاتا اور وہ تم پر ایمان لے آتے جب ان میں سے کوئی بھی چیز تمہیں میسر نہیں تو ہم تم پر کیسے ایمان لے آئیں؟ آپ کافروں کی ان باتوں سے دل گرفتہ نہ ہوں کیونکہ معجزے دکھلانا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے آپ کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ اللہ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیں اور انھیں ان کے برے انجام سے ڈرائیں۔ رہی معجزے کی بات تو معجزے دکھلانا اللہ کا کام ہے جو ہر چیز کا مالک و مختار ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کافروں کی تنقید کی پراہ نہ کریں ٭٭
کافروں کی زبان پر جو آتا وہی طعنہ بازی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے سچے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو دلاسا اور تسلی دیتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ اس سے کام میں سستی کریں، نہ تنگ دل ہوں یہ تو ان کا شیوہ ہے ‘۔
اور آیت میں ہے کہ «وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:7،8] ’ کبھی وہ کہتے ہیں اگر یہ رسول ہے تو کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ بازاوں میں کیوں آتا جاتا ہے؟ اس کی ہم نوائی میں کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتر؟ اسے کوئی خزانہ کیوں نہیں دیا گیا؟ اس کے کھانے کو کوئی خاص باغ کیوں نہیں بنایا گیا؟ مسلمانوں کو طعنہ دیتے ہیں کہ تم تو اس کے پیچھے چل رہے ہو۔ جس پر جادو کر دیا گیا ہے ‘۔
پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ۱؎ [15-الحجر:97-99] ’ اے پیغمبر! آپ ملول خاطر نہ ہوں، آزردہ دل نہ ہوں، اپنے کام سے نہ رکئے، انہیں حق کی پکار سنانے میں کوتاہی نہ کیجئے، دن رات اللہ کی طرف بلاتے رہیئے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان کی تکلیف دہ باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بری لگتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم توجہ بھی نہ کیجئے۔ ایسا نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مایوس ہو جائیں یا تنگ دل ہو کر بیٹھ جائیں کہ یہ آوازے کستے، پھبتیاں اڑاتے ہیں۔ اپنے سے پہلے کے رسولوں کو دیکھئیے سب جھٹلائے گئے ستائے گئے اور صابر و ثابت قدم رہے یہاں تک اللہ کی مدد آپہنچی ‘۔
اور آیت میں ہے کہ «وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:7،8] ’ کبھی وہ کہتے ہیں اگر یہ رسول ہے تو کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ بازاوں میں کیوں آتا جاتا ہے؟ اس کی ہم نوائی میں کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتر؟ اسے کوئی خزانہ کیوں نہیں دیا گیا؟ اس کے کھانے کو کوئی خاص باغ کیوں نہیں بنایا گیا؟ مسلمانوں کو طعنہ دیتے ہیں کہ تم تو اس کے پیچھے چل رہے ہو۔ جس پر جادو کر دیا گیا ہے ‘۔
پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ۱؎ [15-الحجر:97-99] ’ اے پیغمبر! آپ ملول خاطر نہ ہوں، آزردہ دل نہ ہوں، اپنے کام سے نہ رکئے، انہیں حق کی پکار سنانے میں کوتاہی نہ کیجئے، دن رات اللہ کی طرف بلاتے رہیئے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان کی تکلیف دہ باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بری لگتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم توجہ بھی نہ کیجئے۔ ایسا نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مایوس ہو جائیں یا تنگ دل ہو کر بیٹھ جائیں کہ یہ آوازے کستے، پھبتیاں اڑاتے ہیں۔ اپنے سے پہلے کے رسولوں کو دیکھئیے سب جھٹلائے گئے ستائے گئے اور صابر و ثابت قدم رہے یہاں تک اللہ کی مدد آپہنچی ‘۔
پھر قرآن کا معجزہ بیان فرمایا کہ ’ اس جیسا قرآن لانا تو کہاں؟ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی ساری دنیا مل کر بنا کر نہیں لا سکتی اس لیے کہ یہ اللہ کا کلام ہے ‘۔ جیسی اس کی ذات مثال سے پاک، ویسے ہی اس کی صفتیں بھی بے مثال۔ اس کے کلام جیسا مخلوق کا کلام ہو یہ ناممکن ہے۔
اللہ کی ذات اس سے بلند بالا پاک اور منفرد ہے معبود اور رب صرف وہی ہے۔ جب تم سے یہی نہیں ہو سکتا اور اب تک نہیں ہو سکا تو یقین کر لو کہ تم اس کے بنانے سے عاجز ہو اور دراصل یہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس کا علم، اس کے حکم احکام اور اس کی روک ٹوک اسی کلام میں ہیں اور ساتھ ہی مان لو کہ معبود برحق صرف وہی ہے بس آؤ اسلام کے جھنڈے تلے کھڑے ہو جاؤ۔
اللہ کی ذات اس سے بلند بالا پاک اور منفرد ہے معبود اور رب صرف وہی ہے۔ جب تم سے یہی نہیں ہو سکتا اور اب تک نہیں ہو سکا تو یقین کر لو کہ تم اس کے بنانے سے عاجز ہو اور دراصل یہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس کا علم، اس کے حکم احکام اور اس کی روک ٹوک اسی کلام میں ہیں اور ساتھ ہی مان لو کہ معبود برحق صرف وہی ہے بس آؤ اسلام کے جھنڈے تلے کھڑے ہو جاؤ۔