(آیت 5) {فَوَسَطْنَبِهٖجَمْعًا: ”وَسَطْنَ“”وَسَطَيَسِطُوَسْطًا“ (ض) ”اَلْقَوْمَأَوِالْمَكَانَ“} ”کسی چیز کے درمیان میں ہونا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 فوسطن، درمیان میں گھس جاتے ہیں۔ اس وقت، یا حالت گرد و غبار میں۔ جمعا دشمن کے لشکر۔ مطلب ہے کہ اس وقت، یا جبکہ فضا گردوغبار سے اٹی ہوئی ہے یہ گھوڑے دشمن کے لشکروں میں گھس جاتے ہیں اور گھمسان کی جنگ کرتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ پھر اسی حالت میں وہ لشکر [5] میں جا گھستے ہیں
[5] یعنی ہم نے خیرو شر کی تمیز کو انسان کی فطرت میں داخل کر دینے پر ہی اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ اس کی پوری رہنمائی کرنا بھی ہمارے ذمے ہے اور یہ ذمہ داری ہم نے رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے پوری کر دی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔