ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 65

وَ لَا یَحۡزُنۡکَ قَوۡلُہُمۡ ۘ اِنَّ الۡعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا ؕ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۶۵﴾
اور تجھے ان کی بات غمگین نہ کرے، بے شک عزت سب اللہ کے لیے ہے، وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
اور (اے پیغمبر) ان لوگوں کی باتوں سے آزردہ نہ ہونا (کیونکہ) عزت سب خدا ہی کی ہے وہ (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے
En
اور آپ کو ان کی باتیں غم میں نہ ڈالیں۔ تمام تر غلبہ اللہ ہی کے لیے ہے وه سنتا جانتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 65) ➊ { وَ لَا يَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ …:} اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کی دنیا اور آخرت کی سعادت بیان کرنے کے بعد اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی کہ دشمنوں کی باتوں، مثلاً جادوگر، دیوانہ اور کذاب وغیرہ کہنے سے آپ کو جو تکلیف پہنچی ہے اس سے آپ غم زدہ نہ ہوں۔ غم اگرچہ ایک طبعی چیز ہے مگر آپ نہ بد دل ہوں نہ مایوس، کیونکہ عزت یعنی غلبہ، اقتدار اور فتح تو سب اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہی جسے چاہے غالب اور جسے چاہے مغلوب کرتا ہے، لہٰذا آپ کو ان کافروں کی دھمکیوں، ان کے کفر و شرک اور طعن و تشنیع سے رنجیدہ خاطر ہونے کی ضرورت نہیں، آپ اللہ کے رسول ہیں، آخر کار غلبہ اور اقتدار آپ کو اور آپ کے پیش کردہ دین ہی کو حاصل ہو گا۔ نیز دیکھیے سورۂ مجادلہ (۲۱) اور منافقون (۸)۔
➋ {هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ: } وہ ان کی فضول باتیں سن رہا ہے اور آپ کے ساتھ ان کا سلوک بھی خوب جانتا ہے، وہ جلد ہی آپ کے مخالفین سے نپٹ لے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

65۔ (اے نبی) کافروں کی باتوں [80] سے آپ غمزدہ نہ ہوں۔ عزت تو تمام تر اللہ ہی کے لئے ہے اور وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے
[80] اولیاء اللہ کے بعد اب ساتھ ہی اعداء اللہ کا ذکر فرمایا جو حق کا انکار کرتے تھے پیغمبر اسلام اور مسلمانوں پر پھبتیاں کستے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اور انھیں تکلیفیں پہچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے تھے اس آیت میں پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کو یہ کہہ کر تسلی دی جا رہی ہے کہ غلبہ، قوت، اقتدار اور عزت تو سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تمہیں کبھی اس حال میں نہ رہنے دے گا بلکہ ایسے حالات پیدا کر دے گا کہ منکرین حق ذلیل اور رسوا ہوں اور عزت اور غلبہ اہل حق کو نصیب ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عزت صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے ٭٭
ان مشرکوں کی باتوں کا کوئی رنج و غم نہ کر۔ اللہ تعالیٰ سے ان پر مدد طلب کر اس پر بھروسہ رکھ، ساری عزتیں اسی کے ہاتھ میں، وہ اپنے رسول کو اور مومنوں کو عزت دے گا۔ وہ بندوں کی باتوں کو خوب سنتا ہے وہ ان کی حالتوں سے پورا خبردار ہے۔ آسمان و زمین کا وہی مالک ہے۔ اس کے سوا جن جن کو تم پوجتے ہو ان میں سے کوئی کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا کوئی نفع نقصان ان کے بس کا نہیں۔ پھر ان کے عبادت بھی محض بے دلیل ہے۔ صرف گمان، اٹکل، جھوٹ اور افترا ہے۔ حرکت، رنج و تعب، تکلیف اور کام کاج سے راحت و آرام سکون و اطمینان حاصل کرنے کے لیے اللہ نے رات بنا دی ہے۔ دن کو اس سے روشن اور اجالے والا بنا دیا ہے تاکہ تم اس میں کام کاج کرو۔ معاش اور روزی کی فکر، سفر تجارت، کاروبار کر سکو، ان دلیلوں میں بہت کچھ عبرت ہے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو ان آیتوں کو دیکھ کر ان خالق کی عظمت و جبروت کا تصور باندھتے اور اس خالق و مالک کی قدر عزت کرتے ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی جھٹلانے والوں کی باتوں میں سے کوئی بات، جن کے ذریعے سے وہ آپ پر اور آپ کے دین پر نکتہ چینی کرتے ہیں... آپ کو غم زدہ نہ کرے کیونکہ ان کی یہ باتیں ان کو عزت فراہم کر سکتی ہیں نہ آپ کو کوئی نقصان دے سکتی ہیں۔ ﴿ اِنَّ الْ٘عِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا بے شک عزت سب کی سب اللہ ہی کے لیے ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے عزت عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے عزت سے محروم کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْ٘عِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْ٘عِزَّةُ جَمِیْعًا (فاطر: 35؍10) جو کوئی عزت کا طلب گار ہے تو عزت تمام تر اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ جسے عزت چاہیے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اسے طلب کرے اور اس کی دلیل بعد میں آنے والا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جو اس کی تائید کرتا ہے ﴿ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْ٘عَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ (فاطر: 35؍10) پاک باتیں اسی کی طرف بلند ہوتی ہیں اور عمل صالح اس کو بلند کرتا ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عزت صرف آپ اور آپ کے متبعین کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلِلّٰهِ الْ٘عِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهٖ٘ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ۠ (المنافقون: 63؍8) عزت تمام تر اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے لیے ہے۔ ﴿ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ یعنی اس کی سماعت نے تمام آوازوں کا احاطہ کر رکھا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے اور اس کا علم تمام ظاہری اور باطنی چیزوں پر محیط ہے۔ آسمانوں اور زمین میں، کوئی چھوٹی یا بڑی ذرہ بھر بھی چیز اس سے اوجھل نہیں۔ وہ آپ کی بات سنتا ہے اور اس بارے میں آپ کے دشمنوں کی باتیں بھی سنتا ہے اور پوری تفصیل کا علم رکھتا ہے۔ پس آپ اللہ تعالیٰ کے علم اور کفایت کو کافی سمجھیے۔ اس لیے کہ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ولا يحزُنْك قول المكذِّبين فيك من الأقوال التي يتوصَّلون بها إلى القدح فيك وفي دينك؛ فإن أقوالهم لا تُعِزُّهم ولا تضرُّك شيئاً. {إنَّ العزَّة لله جميعاً}؛ يؤتيها من يشاء ويمنعها ممن يشاء، قال تعالى: {من كان يريد العزة فلله العزة جميعاً} أي: فليطلبها بطاعته؛ بدليل قوله بعده: {إليه يصعدُ الكَلِمُ الطِّيبُ والعمل الصالح يرفعُه}: ومن المعلوم أنك على طاعة الله، وأنَّ العزَّة لك ولأتباعك من الله. {ولله العزَّةُ ولرسوله وللمؤمنين}. وقوله: {هو السميع العليم}؛ أي سمعه قد أحاط بجميع الأصوات؛ فلا يخفى عليه شيء منها؛ وعلمه قد أحاط بجميع الظواهر والبواطن؛ فلا يَعْزُبُ عنه مثقالُ ذرة في السماوات والأرض ولا أصغر من ذلك ولا أكبر، وهو تعالى يسمعُ قولك وقول أعدائك فيك، ويعلم ذلك تفصيلاً؛ فاكتفِ بعلم الله وكفايته؛ فمن يتَّق الله فهو حسبه.