ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 64

لَہُمُ الۡبُشۡرٰی فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿ؕ۶۴﴾
انھی کے لیے دنیا کی زندگی میں خوش خبری ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی باتوں کے لیے کوئی تبدیلی نہیں، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ En
ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ خدا کی باتیں بدلتی نہیں۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے
En
ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوش خبری ہے اللہ تعالیٰ کی باتوں میں کچھ فرق ہوا نہیں کرتا۔ یہ بڑی کامیابی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 64) ➊ {لَهُمُ الْبُشْرٰى فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا …: لَهُمُ } پہلے آنے کی وجہ سے حصر کا معنی پیدا ہو گیا، یعنی دنیا کی زندگی میں خاص خوش خبری انھی کے لیے ہے۔ اس میں کئی چیزیں شامل ہیں: (1) پاکیزہ اور صاف ستھری زندگی، جیسا کہ فرمایا: «{ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً [النحل: ۹۷] جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی۔ (2) تقدیر پر ایمان کی وجہ سے کفار جیسی بے صبری اور خوف و غم سے محفوظ رہنا، جیسا کہ اوپر گزرا ہے اور فرمایا: «{ اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا (19) اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًا (20) وَ اِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوْعًا (21) اِلَّا الْمُصَلِّيْنَ [المعارج: ۱۹ تا ۲۲] بلاشبہ انسان تھڑدلا بنایا گیا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔ اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت روکنے والا ہے۔ سوائے نماز ادا کرنے والوں کے۔ پھر ان نمازیوں کی چند صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا: «{ اُولٰٓىِٕكَ فِيْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ [المعارج: ۳۵] یہی لوگ جنتوں میں عزت دیے جانے والے ہیں۔ 3 اچھے خواب، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: [لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الْمُبَشِّرَاتُ، قَالُوْا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ] [بخاری، التعبیر، باب المبشرات: ۶۹۹۰] نبوت میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی مگر مبشرات (بشارت والی چیزیں)۔ لوگوں نے پوچھا: مبشرات کیا ہیں؟ فرمایا: اچھے خواب۔ 4 وہ بشارت بھی اس میں شامل ہو سکتی ہے جو دنیا کے آخری وقت میں فرشتے اسے موت کے وقت دیتے ہیں۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں: [اَلْمُؤْمِنُ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللّٰهِ وَكَرَامَتِهٖ فَلَيْسَ شَيْئٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللّٰهِ وَأَحَبَّ اللّٰهُ لِقَاءَهُ] [بخاری، الرقاق، باب من أحب لقاء اللہ…: ۶۵۰۷] مومن کے پاس جب موت حاضر ہوتی ہے تو اسے اللہ کی رضا اور اس کی طرف سے عزت عطا ہونے کی خوش خبری دی جاتی ہے۔ اس وقت مومن کو کوئی چیز اس سے زیادہ عزیز نہیں ہوتی جو اس کے آگے (جنت اور اللہ کی رضا کی صورت میں) ہوتی ہے، تو وہ اللہ کی ملاقات محبوب رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے (جبکہ کافر کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے)۔ 5 لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے محبت ہونا اور لوگوں کا اس کی تعریف اور مدح و ثنا کرنا، اگرچہ وہ عبادت اس لیے نہیں کرتا بلکہ محض اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے، مگر اللہ نیک لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے محبت رکھ دیتا ہے۔ دیکھیے سورۂ مریم (۹۶) ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یہ بتائیں کہ آدمی خیر کا کوئی عمل کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَی الْمُؤْمِنِ] [مسلم، البر والصلۃ، باب إذا أثنی علی الصالح …: ۲۶۴۲] یہ مومن کو جلد ملنے والی خوش خبری ہے۔ 6دعاؤں کی قبولیت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللّٰهِ مَنْ لَّوْ أَقْسَمَ عَلَی اللّٰهِ لَأَبَرَّهُ] [بخاری، الصلح، باب الصلح في الدیۃ: ۲۷۰۳] اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں کہ اگر اللہ پر قسم ڈال دیں تو وہ اسے پورا کر دے۔
➋ { وَ فِي الْاٰخِرَةِ:} اس سے وہ تمام بشارتیں مراد ہیں جو مومنوں کو آخرت میں دی گئی ہیں۔ دیکھیے سورۂ زمر (۲۰) اور شوریٰ (۲۲، ۲۳) اور بہت ہی بڑی نعمتیں، مثلاً موت کا ذبح کر دیا جانا، ہمیشہ جنت میں رہنا، اللہ تعالیٰ کا ان سے راضی ہونا اور اللہ تعالیٰ کا دیدار۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی یہ نعمتیں عطا فرمائے۔ (آمین) یہ تمام چیزیں قرآن مجید اور صحیح احادیث میں موجود ہیں۔
➌ {لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ:} لہٰذا اس کے وہ وعدے پورے ہو کر رہیں گے جو اس نے اہل ایمان سے کر رکھے ہیں۔
➍ {ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ: هُوَ } ضمیر فصل کہلاتی ہے۔ اس کے تین فائدے ہوتے ہیں، ایک تاکید، دوسرا حصر اور تیسرا موصوف صفت اور مبتدا و خبر میں فرق۔ محلاً اس کا اعراب کچھ نہیں ہوتا، اس لیے ترجمہ ہے یہی بہت بڑی کامیابی ہے اس کے سوا اول تو کوئی کامیابی وجود ہی نہیں رکھتی، اگر مان بھی لی جائے تو وہ بے حیثیت ہے، اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

64۔ 1 دنیا میں خوشخبری سے مراد، رؤیائے صادقہ ہیں یا وہ خوشخبری ہے جو موت کے فرشتے ایک مومن کو دیتے ہیں، جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

64۔ ان کے لئے دنیا میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں [79] ہوتی۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے
[79] اللہ تعالیٰ کی یہ بشارت ایسی ہے کہ جو حتمی، یقینی اور ناقابل تغیر و تبدل ہے بالفاظ دیگر جو اللہ کے دوست ہوں یا جن کا دوست اللہ تعالیٰ ہو وہ کہیں بھی اور کسی حال میں بھی پریشان نہ ہوں گے اور ان کے لیے یہی بات سب سے بڑی کامیابی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اسی لیے فرمایا: ﴿ لَهُمُ الْ٘بُشْرٰؔى فِی الْحَؔیٰؔوةِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَةِ ان کے لیے خوش خبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں دنیا کے اندر بشارت سے مراد، ثنائے حسن، مومنوں کے دلوں میں محبت و مودت، سچے خواب، بندۂ مومن کا اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم سے بہرہ ور ہونا، اللہ تعالیٰ کا بہترین اعمال و اخلاق کے راستوں کو آسان کر دینا اور بندے کو برے اخلاق سے دور کر دینا ہے اور آخرت کی بشارتوں میں اولین بشارت یہ ہے کہ روح قبض کیے جانے کے موقع پر ان کو بشارت دی جاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ (حم السجدۃ: 41؍30) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے پھر وہ اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خوف نہ کرو اور نہ غم زدہ ہو اور جنت کی خبر سے خوش ہو جاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اور قبر میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کی خوشخبری دی جائے گی اور قیامت کے روز نعمتوں بھری جنت میں دخول اور دردناک عذاب سے نجات کے ساتھ اس خوشخبری کا اتمام ہوگا۔
﴿ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ اللہ کے کلمات بدلتے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا ہے وہ حق ہے جس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں کیونکہ وہ اپنے قول میں سچا ہے اور اس کی مقرر کی ہوئی قضا و قدر میں کوئی شخص اس کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ ﴿ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ یہی ہے بڑی کامیابی کیونکہ یہ تمام محذورات سے نجات اور ہر محبوب چیز کے حصول میں ظفریابی پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فوز کو حصر کے ساتھ بیان کیا ہے کیونکہ فوز و فلاح اہل ایمان اور اہل تقویٰ کے سوا کسی کے لیے نہیں۔ اس کا ماحصل یہ ہے کہ بشارت ہر خیر و ثواب کو شامل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں ایمان اور تقویٰ پر مرتب فرمایا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کو تقیید کے ساتھ نہیں بلکہ مطلق بیان کیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

و {لهم البُشرى في الحياة الدنيا وفي الآخرة}: أما البشارة في الدُّنيا؛ فهي الثناء الحسن والمودَّة في قلوب المؤمنين والرؤيا الصالحة وما يراه العبد من لطف الله به وتيسيره لأحسن الأعمال والأخلاق وصرفه عن مساوئ الأخلاق، وأما في الآخرة؛ فأولها البشارة عند قبض أرواحهم؛ كما قال تعالى: {إنَّ الذين قالوا ربُّنا الله ثم استقاموا تتنزَّلُ عليهم الملائكة ألا تخافوا ولا تحزنوا وأبشروا بالجنَّة التي كنتُم توعَدون}: وفي القبر ما يُبَشَّر به من رضا الله تعالى والنعيم المقيم، وفي الآخرة تمام البشرى بدخول جنات النعيم والنجاة من العذاب الأليم. {لا تبديلَ لكلماتِ الله}: بل ما وعد الله؛ فهو حقٌّ لا يمكن تغييره ولا تبديله؛ لأنَّه الصادق في قيله، الذي لا يقدر أحدٌ أن يخالفه فيما قدره وقضاه. {ذلك هو الفوزُ العظيمُ}: لأنه اشتمل على النجاة من كلِّ محذور، والظَّفر بكل مطلوب محبوب، وحَصَرَ الفوز فيه؛ لأنه لا فوز لغير أهل الإيمان والتقوى.

والحاصل أنَّ البُشرى شاملةٌ لكل خير وثواب رتَّبه الله في الدنيا والآخرة على الإيمان والتقوى، ولهذا أطلق ذلك فلم يقيِّده.