تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ …:} یعنی چاند کی منزلیں مقرر فرمائیں کہ ہر روز گھٹتا اور بڑھتا ہے، اگرچہ سورج کی بھی منزلیں مقرر ہیں، جس کا ذکر اگلی آیت میں آ رہا ہے، مگر چاند کا اٹھائیس منزلوں میں روزانہ شکل بدل کر آنا، پھر ایک یا دو دن چھپ کرنئے سرے سے طلوع ہونا تاریخ اور ماہ و سال کی تعیین کے لیے زیادہ آسان اور قابل عمل ہے۔ اس لیے شریعت کے تمام احکام مثلاً حج، روزہ اور کفارہ وغیرہ بھی اسی سے متعلق ہیں۔ دیکھیے «{ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ }» [البقرۃ: ۱۸۹] کی تفسیر۔
➌ { مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ بے فائدہ اور بے مقصد پیدا نہیں فرمایا۔ یہ تفصیل علم و فہم رکھنے والوں کے لیے ہے، کیونکہ بے علم اور بے سمجھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں کے بیان سے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿ وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّيٰ عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِيْمِ﴾ [36: 39]
سے ماخوذ ہے جس کے آخر میں ہلال (نئے یا پہلی رات کے چاند) کا ذکر کیا گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چاند شروع میں چھوٹا ہوتا ہے۔ چمک کم ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ بڑھتا ہے اور روشن بھی ہوتا ہے پھر اپنے کمال کو پہنچ کر گھٹنا شروع ہوتا ہے واپسی اگلی حالت پر آ جاتا ہے۔ ہر مہینے میں اس کا یہ ایک دور ختم ہوتا ہے نہ سورج چاند کو پکڑ لے، نہ چاند سورج کی راہ روکے، نہ دن رات پر سبقت کرے نہ رات دن سے آگے بڑھے۔ ہر ایک اپنی اپنی جگہ پابندی سے چل پھر رہا رہے۔ دور ختم کر رہا ہے۔
«وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَـهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالعُرجُونِ الْقَدِيمِ ـ لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» ۱؎ [36-يس:39،40] ’ اور چاند کی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں کہ وہ لوٹ کر پرانی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پر آگے بڑھ جانے والی ہے اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں ‘۔
«وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالاٌّرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـطِلاً ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ النَّارِ» ۱؎ [38-ص:27] ’ اور ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو ناحق پیدا نہیں کیا یہ گمان تو کافروں کا ہے سو کافروں کے لیے خرابی ہے آگ کی ‘۔
’ تم یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے تمہیں یونہی پیدا کر دیا ہے اور اب تم ہمارے قبضے سے باہر ہو، یاد رکھو میں اللہ ہوں، میں مالک ہوں، میں حق ہوں، میرے سوا کسی کی کچھ چلتی نہیں، عرش کریم بھی منجملہ مخلوق کے میری ادنیٰ مخلوق ہے ‘۔
«أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَـكُمْ عَبَثاً وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لاَ تُرْجَعُونَ ـ فَتَعَـلَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ۱؎ [23-المؤمنون:115،116] ’ کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یونہی بے کار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ سچا بادشاہ ہے وہ بڑی بلندی والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بزرگ عرش کا مالک ہے ‘۔
’ حجتیں اور دلیلیں ہم کھول کھول کر بیان فرما رہے ہیں کہ اہل علم لوگ سمجھ لیں ‘۔
«يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا» ۱؎ [7-الأعراف:54] ’ وہ رات سے دن ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ کہ وہ رات اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے ‘۔
«لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ» ۱؎ [36-يس:40] ’ نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے ‘۔
«فَالِقُ الإِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَناً» ۱؎ [6-الأنعام:96] ’ وہ صبح کا نکالنے والا اس نے رات کو راحت کی چیز بنایا ہے اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے ان سے منہ پھیر لینا کوئی عقلمندی کی دلیل نہیں یہ نشانات بھی جنہیں فائدہ نہ دیں انہیں ایمان کیسے نصیب ہو گا؟ تم اپنے آگے پیچھے اوپر نیچے بہت سی چیزیں دیکھ سکتے ہو ‘۔
«وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ» ۱؎ [12-يوسف:105] ’ آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں ‘۔
«قُلِ انظُرُواْ مَاذَا فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا تُغْنِى الآيَـتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لاَّ يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [10-يونس:101] ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئیے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو نشانیاں اور دھمکیاں کچھ فائدہ نہیں پہنچاتیں ‘۔
«أَفَلَمْ يَرَوْاْ إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ» ۱؎ [34-سبأ:9] ’ کیا پس وہ اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں؟ ‘، «إِنَّ فِى خَلْقِ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَاخْتِلَـفِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لاّيَـتٍ لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ» ۱؎ [3-آل عمران:190] ’ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں عقلمندوں کے لیے یہ بڑی بڑی نشانیاں ہیں، کہ وہ سوچ سمجھ کر اللہ کے عذابوں سے بچ سکیں اور اس کی رحمت حاصل کر سکیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما قرَّر ربوبيَّته وإلهيَّته؛ ذكر الأدلة العقليَّة الأفقيَّة الدالَّة على ذلك وعلى كماله في أسمائه وصفاته؛ من الشمس والقمر والسماوات والأرض: وجميع ما خلق فيهما من سائر أصناف المخلوقات، وأخبر أنها آياتٌ {لقوم يعلمون} و {لقوم يتَّقون}؛ فإنَّ العلم يهدي إلى معرفة الدِّلالة فيها وكيفيَّة استنباط الدلائل على أقرب وجه، والتقوى تُحْدِثُ في القلب الرغبة في الخير والرهبة من الشرِّ، الناشِئَيْن عن الأدلَّة والبراهين وعن العلم واليقين.
وحاصل ذلك أنَّ مجرَّد خلق هذه المخلوقات بهذه الصفة دالٌّ على كمال قدرة الله تعالى وعلمه وحياته وقيُّوميته، وما فيها من الإحكام والإتقان والإبداع والحُسْن دالٌّ على كمال حكمة الله وحسن خَلْقه وسعة علمِهِ، وما فيها من أنواع المنافع والمصالح - كجَعْل الشمس ضياءً والقمر نوراً يحصل بهما من النفع الضروريِّ وغيره مما يحصُلُ - يدلُّ ذلك على رحمة الله تعالى واعتنائه بعبادِهِ وسَعَة برِّه وإحسانه، وما فيها من التخصيصات دالٌّ على مشيئة الله وإرادته النافذة، وذلك دالٌّ على أنه وحده المعبودُ المحبوبُ المحمودُ ذو الجلال والإكرام والأوصاف العظام، الذي لا تنبغي الرغبةُ والرهبةُ إلا إليه، ولا يُصْرَفُ خالصُ الدُّعاء إلا له لا لغيره من المخلوقات المربوبات المفتقِرات إلى الله في جميع شؤونها.
وفي هذه الآيات الحثُّ والترغيب على التفكر في مخلوقات الله والنظر فيها بعين الاعتبار؛ فإنَّ بذلك تنفسح - البصيرة ويزدادُ الإيمان والعقل وتقوى القريحة، وفي إهمال ذلك تهاونٌ بما أمر الله به، وإغلاقٌ لزيادة الإيمان، وجمودٌ للذهن والقريحة.