ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 4

اِلَیۡہِ مَرۡجِعُکُمۡ جَمِیۡعًا ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقًّا ؕ اِنَّہٗ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ لِیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالۡقِسۡطِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَہُمۡ شَرَابٌ مِّنۡ حَمِیۡمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ بِمَا کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ ﴿۴﴾
اسی کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے، اللہ کا وعدہ ہے سچا۔ بے شک وہی پیدائش شروع کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا، تاکہ جولوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، انھیں انصاف کے ساتھ جزا دے اور جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے لیے نہایت گرم پانی سے پینا ہے اور دردناک عذاب ہے، اس کے بدلے جو وہ کفر کیا کرتے تھے۔ En
اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لیے پینے کو نہایت گرم پانی اور درد دینے والا عذاب ہوگا کیوں کہ (خدا سے) انکار کرتے تھے
En
تم سب کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے، اللہ نے سچا وعده کر رکھا ہے۔ بیشک وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوباره بھی پیدا کرے گا تاکہ ایسے لوگوں کو جو کہ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک کام کیے انصاف کے ساتھ جزا دے اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے واسطے کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور دردناک عذاب ہوگا ان کے کفر کی وجہ سے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4){اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا …:} اس میں قیامت، یعنی سب لوگوں کے دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے حضور پیش ہونے کا بیان ہے۔ یہ اللہ کا پکا سچا وعدہ ہے کیونکہ دنیا میں نیک و بد کی جزا و سزا نہ ضروری ہے نہ ممکن، نہ یہاں اس کے لیے مطلوب فرصت میسر ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ہر حال میں اپنے سچے وعدے کو پورا کرتے ہوئے تمھیں دوبارہ زندہ کرکے ایمان والوں کو انصاف کے ساتھ جزا دے گا اور کافروں کو ان کے کفر کا بدلہ دے گا۔ اگر کوئی اسے ناممکن سمجھے تو سوچ لے کہ جو ذات تمھیں شروع میں پیدا کرتی ہے، یعنی عدم سے وجود میں لاتی ہے، کیا اس کے لیے یہ مشکل ہے کہ تمھارے مر جانے کے بعد تمھیں دوبارہ زندگی دے۔ مزید دیکھیے سورۂ روم (۲۷) { حَمِيْمٍ } وہ پانی جو گرمی کی انتہا کو پہنچا ہوا ہو۔ دیکھیے سورۂ رحمن (۴۴) اور سورۂ محمد (۱۵)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 اس آیت میں قیامت کے وقوع، بارگاہ الٰہی میں سب کی حاضری اور جزا سزا کا بیان ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں مختلف اسلوب سے متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یہ اللہ کا پختہ وعدہ ہے، وہی خلقت کی ابتدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ [6] پیدا کرے گا تاکہ ان لوگوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے جو ایمان لائے اور جو نیک عمل کرتے رہے۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہو گا۔ یہ اس انکار حق کا بدلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے
[6] اخروی زندگی کا مقصد:۔
پہلی دلیل اللہ کے مالک و مختار ہونے سے متعلق تھی اور یہ دوسری دلیل دوسری زندگی کے حشر و نشر سے متعلق ہے اور وہ دلیل یہ ہے کہ جس اللہ نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے وہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ بھی پیدا کر سکتا ہے بلکہ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے پہلے کی نسبت زیادہ آسان ہے اور تمہیں دوبارہ پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس دار فانی میں جس کسی نے ایمان لا کر اچھے کام کیے ہوں انہیں اس کا بدلہ دیا جائے اور جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہو انہیں اس کا بدلہ دیا جائے کیونکہ اس دنیا میں نہ تو انسان کے ایمان کا بدلہ دیا جانا ضروری ہے اور نہ ہی یہ دنیا کی زندگی اتنی طویل ہے کہ اس میں اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جا سکے لہٰذا دوسری زندگی کا قیام ناگزیر ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قیامت کا عمل اسی تخلیق کا اعادہ ہے ٭٭
قیامت کے دن ایک بھی نہ بچے گا سب اپنے اللہ کے پاس حاضر کئے جائیں گے «وَهُوَ الَّذِى يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27]‏‏‏‏ ’ جیسے اس نے شروع میں پیدا کیا تھا۔ ایسے ہی دوبارہ اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہو گا ‘۔
اس کے وعدے اٹل ہیں۔ عدل کے ساتھ وہ اپنے نیک بندوں کو اجر دے گا اور پورا پورا بدلہ عنایت فرمائے گا۔ کافروں کو بھی ان کے کفر کا بدلہ ملے گا۔ طرح طرح کی سزائیں ہوں گی۔
«فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ» [56-الواقعة:42،43]‏‏‏‏ ’ گرم پانی، گرمی، گرم لو ان کے حصے میں آئیں گے اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوتے رہیں گے ‘۔
«هَـذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ» ۱؎ [38-ص:57،58]‏‏‏‏ ’ یہ ہے، پس اسے چکھیں، گرم پانی اور پیپ اس کے علاوہ اور طرح طرح کے عذاب۔ ‏ وہ جہنم جسے یہ جھٹلا رہے تھے ان کا اوڑھنا بچھونا ہوگی۔ اس کے اور گرم پگھلے ہوئے تانبے جیسے پانی کے درمیان یہ حیران و پریشان ہوں گے ‘۔
«هَـذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ ـ يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ» ۱؎ [55-الرحمن:43،44]‏‏‏‏ ’ یہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھوٹا جانتے تھے۔ ‏ اس کے اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان چکر کھائیں گے ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حکم کونی و قدری، یعنی تدبیر عام اور اپنے حکم دینی یعنی اپنی شریعت، جس کا مضمون اور مقصود صرف اسی کی عبادت ہے جس کا کوئی شریک نہیں، کا ذکر فرمایا تو اپنے حکم جزائی کا ذکر بھی فرمایا، یعنی انسان کے مرنے کے بعد اس کے تمام اعمال کی جزا دینا، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے یعنی وہ تمھارے مرنے کے بعد ایک مقررہ وقت پر تم سب کو جمع کرے گا ﴿ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ یعنی اس کا وعدہ سچا ہے اور اس کا پورا ہونا لابدی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وہی پیدا کرتا ہے پہلی بار، پھر دوبارہ پیدا کرے گا اس کو پس جو تخلیق کی ابتدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ اس کے اعادے پر بھی قادر ہے، لہٰذا وہ شخص جو ابتدائے تخلیق کو تسلیم کرتا ہے پھر وہ اعادۂ تخلیق کا انکار کر دیتا ہے، عقل سے عاری ہے جو دو مماثل اشیاء میں سے ایک کا انکار کرتا ہے حالانکہ وہ اس تخلیق کا اقرار کر چکا ہے جو زیادہ مشکل ہے... یہ زندگی بعد موت کی نہایت واضح عقلی دلیل ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نقلی دلیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تاکہ بدلہ دے ان کو جو ایمان لائے جو صدق دل سے ان تمام امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ اور عمل کیے نیک وہ اپنے جوارح کے ذریعے سے واجبات و مستحبات پر عمل کرتے ہیں۔ ﴿ بِالْقِسْطِ انصاف کے ساتھ یعنی اللہ تعالیٰ عدل کے ساتھ ان کے ایمان و اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ جزا اپنے بندوں کے سامنے بیان کر دی ہے اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ یہ ایسی جزا ہے کہ کوئی نفس یہ نہیں جانتا کہ اس جزا میں اس کے لیے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ ﴿ وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا اور وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسول کی تکذیب کی۔ ﴿ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ ان کے لیے پینے کو نہایت گرم پانی ہوگا۔ جو چہروں کو جھلسا کر رکھ دے گا اور انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ ﴿ وَّعَذَابٌ اَلِیْمٌ اور دردناک عذاب انھیں دردناک عذاب کی تمام اصناف میں مبتلا کیا جائے گا۔ ﴿ بِمَا كَانُوْا یَكْ٘فُرُوْنَؔ اس لیے کہ وہ کفر کرتے تھے یعنی یہ عذاب ان کے کفر اور ظلم کے سبب سے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما ذكر حكمه القدريَّ، وهو التدبيرُ العامُّ، وحكمَهُ الدينيَّ، وهو شرعه الذي مضمونه ومقصوده عبادته وحده لا شريك له؛ ذكر الحكمَ الجزائيَّ، وهو مجازاته على الأعمال بعد الموت، فقال: {إليه مرجِعُكم جميعاً}؛ أي: سيجمعكم بعد موتكم لميقاتِ يوم معلوم. {إنه يبدأ الخلق ثم يعيدُه}: فالقادر على ابتداء الخلق قادرٌ على إعادته، والذي يرى ابتداءه بالخلق ثم ينكِرُ إعادته للخلق؛ فهو فاقدُ العقل، منكرٌ لأحد المثلين؛ مع إثبات ما هو أولى منه؛ فهذا دليلٌ عقليٌّ واضحٌ على المعاد. ثم ذكر الدليل النقليَّ، فقال: {وَعْدَ الله حقًّا}؛ أي: وعدُه صادِقٌ لا بُدَّ من إتمامه، {ليجزِيَ الذين آمنوا}: بقلوبهم بما أمرهم الله بالإيمان به، {وعملوا الصالحاتِ}: بجوارِحِهم من واجباتٍ ومستحبَّاتٍ {بالقِسْطِ}؛ أي: بإيمانهم وأعمالهم جزاءً قد بيَّنه لعباده وأخبر أنه لا تعلم نفسٌ ما أخْفِيَ لهم من قُرَّةِ أعينٍ. {والذين كفروا}: بآيات الله، وكذَّبوا رسل الله {لهم شرابٌ من حميم}؛ أي: ماء حارٌّ يشوي الوجوه ويقطع الأمعاء، {وعذابٌ أليمٌ}: من سائر أصناف العذاب، {بما كانوا يكفُرون}؛ أي: بسبب كفرهم وظلمهم، وما ظَلَمَهُمُ الله ولكن أنْفُسَهم يظلِمون.