تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس کے وعدے اٹل ہیں۔ عدل کے ساتھ وہ اپنے نیک بندوں کو اجر دے گا اور پورا پورا بدلہ عنایت فرمائے گا۔ کافروں کو بھی ان کے کفر کا بدلہ ملے گا۔ طرح طرح کی سزائیں ہوں گی۔
«فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ» [56-الواقعة:42،43] ’ گرم پانی، گرمی، گرم لو ان کے حصے میں آئیں گے اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوتے رہیں گے ‘۔
«هَـذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ» ۱؎ [38-ص:57،58] ’ یہ ہے، پس اسے چکھیں، گرم پانی اور پیپ اس کے علاوہ اور طرح طرح کے عذاب۔ وہ جہنم جسے یہ جھٹلا رہے تھے ان کا اوڑھنا بچھونا ہوگی۔ اس کے اور گرم پگھلے ہوئے تانبے جیسے پانی کے درمیان یہ حیران و پریشان ہوں گے ‘۔
«هَـذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ ـ يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ» ۱؎ [55-الرحمن:43،44] ’ یہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھوٹا جانتے تھے۔ اس کے اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان چکر کھائیں گے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما ذكر حكمه القدريَّ، وهو التدبيرُ العامُّ، وحكمَهُ الدينيَّ، وهو شرعه الذي مضمونه ومقصوده عبادته وحده لا شريك له؛ ذكر الحكمَ الجزائيَّ، وهو مجازاته على الأعمال بعد الموت، فقال: {إليه مرجِعُكم جميعاً}؛ أي: سيجمعكم بعد موتكم لميقاتِ يوم معلوم. {إنه يبدأ الخلق ثم يعيدُه}: فالقادر على ابتداء الخلق قادرٌ على إعادته، والذي يرى ابتداءه بالخلق ثم ينكِرُ إعادته للخلق؛ فهو فاقدُ العقل، منكرٌ لأحد المثلين؛ مع إثبات ما هو أولى منه؛ فهذا دليلٌ عقليٌّ واضحٌ على المعاد. ثم ذكر الدليل النقليَّ، فقال: {وَعْدَ الله حقًّا}؛ أي: وعدُه صادِقٌ لا بُدَّ من إتمامه، {ليجزِيَ الذين آمنوا}: بقلوبهم بما أمرهم الله بالإيمان به، {وعملوا الصالحاتِ}: بجوارِحِهم من واجباتٍ ومستحبَّاتٍ {بالقِسْطِ}؛ أي: بإيمانهم وأعمالهم جزاءً قد بيَّنه لعباده وأخبر أنه لا تعلم نفسٌ ما أخْفِيَ لهم من قُرَّةِ أعينٍ. {والذين كفروا}: بآيات الله، وكذَّبوا رسل الله {لهم شرابٌ من حميم}؛ أي: ماء حارٌّ يشوي الوجوه ويقطع الأمعاء، {وعذابٌ أليمٌ}: من سائر أصناف العذاب، {بما كانوا يكفُرون}؛ أي: بسبب كفرهم وظلمهم، وما ظَلَمَهُمُ الله ولكن أنْفُسَهم يظلِمون.