ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 44

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظۡلِمُ النَّاسَ شَیۡئًا وَّ لٰکِنَّ النَّاسَ اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۴۴﴾
بے شک اللہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا اور لیکن لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ En
خدا تو لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں
En
یہ یقینی بات ہے کہ اللہ لوگوں پر کچھ ﻇلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 44) {اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْـًٔا …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو دوسرے انسانوں کی طرح پورے حواس دیے ہیں، پھر یہ ضد اور ہٹ دھرمی سے ایمان نہ لائیں تو ان کا اپنا قصور ہے، اللہ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔ مزید دیکھیے سورۂ عنکبوت (۴۰)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

44۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں ساری صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ آنکھیں بھی دی ہیں، جن سے وہ دیکھ سکتے ہیں، کان دیئے ہیں، جن سے سن سکتے ہیں، عقل و بصیرت دی ہے جن سے حق اور باطل اور جھوٹ اور سچ کے درمیان تمیز کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر ان کی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرکے وہ حق راستہ نہیں اپناتے، تو پھر یہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے تو ان پر ظلم نہیں کیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

44۔ اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود ہی اپنے [59] آپ پر ظلم کرتے ہیں
[59] یعنی اللہ نے انہیں سننے کو کان، دیکھنے کو آنکھیں اور فہم و بصیرت کے لیے دل و دماغ سب کچھ عطا کیا تھا تاکہ وہ حق اور باطل میں تمیز کر سکیں پھر اگر وہ ان سے کام نہ لے کر عذاب کے مستحق بنتے ہیں تو یہ ان کا اپنا ہی قصور ہے اللہ کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔